61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

وہ معمول کے مطابق آج بھی بالکونی میں کھڑی تھی۔۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔۔۔اندھیرے میں چمکتا چاند اور اسکے ارد گرد ستارے دکھے۔۔۔۔اسنے اپنے آپ کو چاند سے تشبیہ دی۔۔۔۔جس کے ساتھ ستارے تو بہت تھے پر وہ پھر بھی دکھتا اکیلا تھا۔۔۔۔اسی طرح تو ہوگئی تھی وہ بھی۔۔۔اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی بلکل اکیلی۔۔۔۔اپنا آپ اسے بلکل بےکار لگنے لگا تھا۔۔۔۔جسکی شاید اب کسی کو ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔دل میں ایک بار پھر ٹیس اٹھی تھی یہ سوچ آتے ہی۔۔۔۔اس نے تکلیف سے اپنی دُکھتی آنکھیں موندلیں۔۔۔
تبھی اچانک کچھ گرنے کی آواز پر اسکی آنکھیں جھٹکے سے کھلیں۔۔۔وہ بالکونی سے نکل کر کمرے میں آئی۔۔۔۔آواز لاؤنج سے آئی تھی۔۔۔خود میں ہمت پیدا کر وہ چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی لاؤنج میں گئی۔۔۔۔وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔لیکن پتا نہیں کیوں اسے اپنے علاؤہ کسی اور کی موجودگی کا بھی احساس ہوا۔۔۔۔اسے لگا کوئی اور بھی ہے فلیٹ میں۔۔۔بےساختہ مشال کا دل گھبرایا تھا۔۔۔۔
کوئی ہے؟
اس نے اندر امڈتے ڈر پر قابو پاتے ہوئے پوچھا پر آگے سے کوئی آواز نہ آئی۔۔۔۔مشال نے جلدی سے لاؤنج کی ساری لائٹس آن کیں پھر ہر طرف نظر دوڑانے لگی۔۔۔۔کافی دیر تک خاموشی رہنے پر اسے تھوڑی تسلی ہوئی۔۔۔۔
ہمارا وہم ہوگا؟
وہ ہلکی آواز میں بڑبڑاکر واپس روم میں جانے لگی۔۔۔تبھی لاؤنج میں لگا پردہ ہلکا سا سِرکا۔۔۔۔کسی نے جھانک کر مشال کو روم میں جاتے دیکھا۔۔۔چہرے پر مخصوص کمینگی مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات دیر سے وہ گھر پہنچا تھا۔۔۔۔سبھی گھر والے سوچکے تھے۔۔۔نشے کی وجہ سے اس نے خود کے قدموں پر ہوتی لڑکھڑاہٹ پر بمشکل قابو پایا۔۔۔پھر مشکل سے اپنے روم تک پہنچا۔۔۔روم میں انٹر ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور واشروم کی طرف گیا۔۔۔۔پانی کی تین چار چھینٹے چہرے پر مارنے سے وہ تھوڑا سنبھلا۔۔۔۔پھر واپس روم میں آکر وہ گرنے کے انداز میں بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔۔۔
آنکھ بند ہوتے ہی اس معصوم کا چہرہ سامنے آیا۔۔۔دل میں شدت سے خواہش ابھری کہ اسے خود میں سمالے۔۔۔۔بےساختہ التمش نے تکیہ پکڑ کر خود میں سختی سے بھینچ لیا۔۔۔۔۔آج کس قدر وہ اسے یاد آرہی تھی کوئی یہ التمش زمان سے پوچھتا۔۔۔۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔۔دل کو کسی طور قرار نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔تبھی اس نے پوکٹ سے موبائل نکالا۔۔۔۔اور گیلری کھول کر اسکی پِک نکالی۔۔۔۔وہ کتنی حسین اور معصوم تھی۔۔۔۔التمش اسکی تصویر کو دیکھا گیا۔۔۔۔پھر موبائل کو اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمش چھوڑیں نا ہمیں۔۔۔
مشال نے ہنستے ہوئے کہا
ایسے کیسے۔۔۔۔جب سے چھوڑرہا ہوں۔۔۔اب نہیں۔۔۔
التمش نے بول کر پھر گدگدی کی۔۔۔اب کے مشال اور کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔۔
نہیییں۔۔
وہ ہنستے ہوئے اس سے دور ہونے لگی تو التمش نے اسے کمر سے پکڑ اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔پھر اسکے کندھے پر سر رکھے آنکھیں بند کرگیا۔۔۔
ارے ہاں۔۔۔التمش۔۔۔چھوڑیں جلدی۔۔۔
کچھ یاد آنے پر مشال نے اچانک کہا تو التمش کی گرفت ڈھیلی ہوئی
ہم کچن میں چائے چڑھاکر آئے تھے۔۔۔۔کہیں جل نہ گئی ہو۔۔۔
وہ بولتے ہوئے جلدی سے اٹھی اور روم سے نکل گئی۔۔۔۔اسکے جانے کے بعد التمش نے مسکراکر موبائل نکالا اور یوز کرنے لگا۔۔۔۔وہ خوش تھا کہ اب سب ٹھیک ہوچکا تھا۔۔۔۔
مشال۔۔۔
کافی دیر بعد بھی مشال کچن سے نہ آئی تو اس نے مشال کو پکارا مگر آواز نہ آنے پر التمش کو تشویش ہوئی۔وہ موبائل جیب میں رکھ کر اٹھا اور روم سے نکل کر کچن کی طرف جانے لگا۔۔۔۔ناجانے کیوں دل عجیب طرح سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔
مشا۔۔۔
کچن میں مشال کو نہ پاکر اس نے ٹینشن میں پھر اسے پکارا پر اسکی آواز منہ میں ہی رہ گئی۔۔۔۔سلیپ کے دوسری طرف کچھ محلول گرا ہوا تھا۔۔۔لال رنگ کا۔۔۔شاید خون۔۔۔وہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا اس پار گیا۔۔۔۔پر اسکی آنکھیں مکمل کھلی رہ گئیں۔۔۔۔خون سے لت پت مشال کا بےجان وجود نیچے پڑا ہوا تھا۔۔۔۔اور اسکی آنکھیں۔۔۔وہ بلکل خالی تھیں۔۔۔جیسے مردہ ہوگئی ہوں۔۔۔
مشال۔۔۔
وہ چیختے ہوئے اٹھا۔۔۔۔پورا وجود پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔۔۔التمش نے نگاہ دوڑائی۔۔۔وہ اپنے کمرے میں تھا۔۔۔اتنا بھیانک خواب۔۔۔اسکی جان نکلنے کو تھی۔۔۔دل کی رفتار بہت تیز تھی۔۔۔۔تبھی اس نے ٹائم دیکھا۔۔۔۔رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔۔اس خواب کا کیا مطلب۔۔۔۔وہ سوچنے لگا۔۔۔تبھی سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے فیصلہ کیا۔۔۔اور جلدی سے اٹھتے ہوئے روم سے نکلا۔۔۔۔۔پورچ میں آکر وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھا۔۔۔۔اسے جلد سے جلد مشال کے پاس جانا تھا۔۔۔۔اور برداشت کرنے کی سکت نہیں تھی اب اس میں۔۔۔۔دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔بہت رش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ فلیٹ تک پہنچا۔۔۔۔
اپنے فلور پر پہنچ کر اس نے جیب سے چابی نکالی۔۔۔۔پھر لوک کھول کر ناب گھماتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
فلیٹ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔سوائے ایک کونے والے روم کے۔۔۔۔وہ روم روشن تھا۔۔۔۔گیٹ لوک کر کے وہ بھاری قدم اٹھاتا ہوا روم تک گیا۔۔۔۔ایک ایک قدم من بھر کا ہورہا تھا۔۔۔۔روم کے باہر پہنچ کر اس نے ادھ کھلے دروازے کو مکمل کھول دیا۔۔۔
اندر کا منظر دیکھ اسکے اندر تک سکون اترا تھا۔۔۔۔وہ بیڈ پر دوسری کروٹ پر سورہی تھی۔۔۔۔التمش خود کے جذبات پر قابو پاتا ہوا اس کے پاس پہنچا۔۔۔۔
بالوں سے اسکا چہرہ چھپا ہوا تھا۔۔۔اس نے مشال کے پاس بیٹھتے ہوئے اسکے بالوں کو آہستگی سے کانوں کے پیچھے کیا۔۔۔۔مشال کا سرخ و سفید خوبصورت چہرہ اب زردی کی طرح پیلا پڑگیا تھا۔۔۔۔بےساختہ اسکے آنکھوں میں نمی جھلکی۔۔۔۔ایک مہینے میں وہ جتنا تڑپا تھا۔۔۔۔اسکے مقابل پھر اسکا کیا حال ہوا ہوگا۔۔۔۔وہ بےاختیار ہوکر اس پر جھکا تھا۔۔۔اور اسکے کندھے پر اپنا سر رکھ گیا۔۔۔۔اتنے دنوں بعد اس نے سکون محسوس کیا تھا۔۔۔۔جسم کے اندر جیسے سرشاری کی ایک خوبصورت لہر دوڑی تھی۔۔۔۔تبھی مشال کسمسائی۔۔۔عجیب سی الجھن پر اس نے سیدھے ہونے کی کوشش کی مگر خود پر بھاری وزن ہونے کی وجہ سے ہل تک نہ سکی۔۔۔۔
اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔التمش بھی اسکی بےچینی سمجھ کر اٹھا اور آسودہ مسکراہٹ لیے اسے دیکھنے لگا۔۔۔مگر مشال صرف خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔چہرے پر خوشی کی کوئی رمق بھی نہ تھی۔
میں نے۔۔۔تمہیں بہت مِس کیا۔۔۔
وہ بولتے ہوئے پھر اس پر جھکنے لگا۔۔۔تو مشال اسے دور کرتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی۔۔۔۔پھر اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد کھڑی ہونے لگی۔
کہاں جارہی ہو۔۔۔مشال۔۔
اسے دکھ ہوا تھا مشال کے اگنور کرنے پر تبھی اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے التمش نے بے قراری سے پوچھا
کہیں بھی جائیں۔۔۔آپ سے مطلب۔۔۔
اسکا روکھا لہجہ التمش کا دل چیر گیا۔۔تو کیا وہ خوش نہیں تھی اسکے آنے سے
اسکی ہاتھ پر گرفت ڈھیلی محسوس ہوئی تو مشال جانے لگی۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے بیٹھالیا۔۔
کیا مسئلہ ہے آپکے ساتھ۔۔۔دور رہیں ہم سے۔۔۔
وہ غصے میں چیخی۔۔۔۔جب سے خشک آنکھوں میں تیزی سے نمی اتری تھی۔۔۔۔اب کیوں آیا تھا وہ۔۔۔اتنے دنوں سے جب پرواہ نہیں تھی تو اب کیوں۔۔۔
ناراض ہو۔۔۔
اس نے مشال کا چہرہ تھامتے ہوئے جزبےلٹاتی نظروں سے اسے دیکھا مگر بروقت اس نے التمش کا ہاتھ جھٹکا
مت چھوا کریں ہمیں۔۔۔اور ہماری ناراضگی سے کیا فرق پڑتا ہے کسی کو۔۔۔
وہ سرکشی سے بولنے لگی۔۔۔۔اندر دکھ کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی۔
کسی کو نہیں پڑتا۔۔۔۔مجھے پڑتا ہے۔۔۔
اس نے پھر مشال کا چہرہ تھامتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔۔اب کے گرفت مضبوط تھی۔۔۔مشال کوشش کے باوجود جھٹک نہیں پائی۔۔۔
نہیں پڑتا۔۔۔کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ہماری ناراضگی سے تو کیا ہماری موجودگی سے بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔تبھی ایک فالتو شے کی طرح ہمیں ایک کونے میں پھینک دیا گیا ہے۔۔۔
اسکا لہجہ بھراگیا تھا دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے
جبکہ التمش کو تکلیف ہوئی اسکے خود کو فالتو شے بولنے پر
تم کتنی خاص ہو۔۔۔یہ میرے دل سے پوچھو مشال التمش زمان حیدر۔۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا
نہیں ہیں ہم خاص۔۔۔جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔۔۔۔بلکل بےکار ہیں ہم۔۔۔بہت برے ہیں۔۔۔ہماری وجہ سے ہر جگہ نحوست پھیلتی ہے۔۔۔تبھی سب نے ہمیں دور کردیا ہے۔۔۔
اسکا کالر دبوچے وہ روتے ہوئے اسے اپنے دل کا حال بتارہی تھی۔۔۔۔کیا کچھ نہیں تھا اسکے الفاظ میں۔۔۔اذیت،تکلیف،بےبسی۔۔۔۔التمش نے لب بھینچ لیے۔۔۔۔اسے لگا تھا۔۔۔صرف وہ ہی اکیلا تڑپتا تھا۔۔۔۔پر یہاں یہ معصوم جان۔۔۔کس قدر تکلیف میں تھی۔۔۔
ششش۔۔۔ادھر دیکھو۔۔۔بلکل چپ۔۔۔کوئی بری نہیں ہو تم۔۔۔
اس نے پیار سے ڈپٹتے ہوئے مشال کے آنسو اپنے پوروں سے چُنے۔۔۔۔
سب نفرت کرتے ہیں ہم سے التمش۔۔۔ہم سے نہیں رہا جاتا یہاں پر اکیلے۔۔۔
اسکا لہجہ بلکل تھکا ہوا تھا۔۔۔وہ جس بری طرح رورہی تھی۔۔۔۔التمش نے اسکے آنسو اپنے دل پر گرتے محسوس کیے۔۔۔۔
نہیں نفرت کرتا کوئی تم سے مشال۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔تم رو تو مت۔۔۔
وہ اسکی پیشانی سے اپنی کشادہ پیشانی ٹکائے اسے دلاسہ دینے لگا۔۔۔مگر مشال روتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلارہی تھی۔۔۔اسکی بری ہوتی حالت کو سمجھتے ہوئے التمش نے نرمی سے اسکی پیشانی چومی پھر اسے مکمل خود میں بھینچ کر مشال کی پشت سہلانے لگا۔۔۔
جبکہ مشال کو اتنے دنوں بعد کوئی مانوس سہارا ملا تھا۔۔۔۔وہ اس سے لگ کر ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔۔۔تکلیف ختم ہونے والی نہیں تھی۔۔۔مگر اس ستمگر کی باہوں میں کافی حد تک اسکے درد میں کمی آئی تھی۔۔۔ایک سکون سا ملا تھا۔۔
کافی دیر تک جب اسکا لرزتا وجود ساکت رہا تو التمش سمجھ گیا کہ وہ سوچکی ہے۔۔۔تبھی مشال کو خود سے الگ کر کے آرام سے اسے بیڈ پر لیٹایا۔۔۔پھر شوز اتارتا ہوا خود بھی اسکے برابر میں لیٹ گیا۔۔۔لیٹ کر اسکے نازک وجود کو التمش نے مکمل اپنی مضبوط پناہوں میں بھینچ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔آج مہینے بعد اسے سکون کی نیند آئی تھی۔۔۔جب سے بےچین دل کو جیسے قرار مل گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔