No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
آئیے،میں آپکو راستہ دکھادوں۔۔۔
سمیع جو پریشان سا کھڑا اپنی داغدار شرٹ دیکھ رہا تھا۔۔التمش کے کہنے پر اس سے پوچھنے لگا
کدھر کا؟
جہنم کا۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے واشروم کا،
التمش کے دانت پیس کر کہنے پر سب نے جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا۔۔
سب کو اپنی طرف دیکھتا پاکر اسنے جلدی سے مسکراتے ہوئے اپنا جملہ درست کیا۔
آئیے نہ آپ صاف کر لیجیے اپنی شرٹ کافی خراب ہوگئی ہے۔۔
التمش جتنی عزت اور احترام سے سمیع کو لے کر جارہا تھا۔۔عالیہ بیگم اتنی ہی ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
ویسے باجی۔۔یہ لڑکا کون ہے؟
سمیع کی ماں نے التمش کی پشت کو دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ میرا بیٹا ہے۔۔
عالیہ بیگم نے انہیں بتانے سے زیادہ خود کو دلاسہ دیا کہ وہ نالائق انہی کا بیٹا ہے۔۔
بڑا ہی تمیزدار اور شریف بیٹا ہے آپکا بہن۔۔
سمیع کی ماں کو التمش کا اسطرح سمیع کو عزت دینا کافی بھایا۔
جی! کتنا تمیزدار ہے ابھی تھوڑی دیر میں ہی پتہ چل جائے گا۔۔۔
عالیہ بیگم آہستہ آواز میں بڑبڑائیں مگر انکی بڑبڑاہٹ مشال نے بخوبی سنی۔۔۔۔اور اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیے چہرا جھکالیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہمم۔۔۔۔۔۔نام کیا ہے آپکا؟
سمیع التمش کے ہمقدم چلتا ہوا فارملی اس سے پوچھنے لگا جس پر التمش نے اسے سنجیدہ نظروں سے دیکھا پھر آگے منہ کر لیا۔۔۔
سمیع کو وہ بندہ کچھ عجیب لگا۔۔۔۔کہاں وہ لاونج میں اسے اتنی عزت دے رہا تھا۔۔۔۔اور اب یہاں اسے مکمل نظر انداز کیا ہوا تھا،
واشروم۔۔
التمش کے کہنے پر سمیع اپنی سوچوں سے نکلتا ہوا سامنے دیکھنے لگا پھر چشمہ درست کرتے ہوئے اندر چلاگیا۔
چلیں۔۔۔
شرٹ صاف کرکے وہ جب باہر نکلا تو التمش کو اسی طرح دروازے کے پاس کھڑا دیکھ کر کہا
نام کیا ہے تیرا؟
التمش نے سیریس انداز میں پوچھا
سمیع اور اپکا؟
سمیع کو التمش کے ساتھ ساتھ اسکا لہجہ بھی عجیب لگا
کرتا کیا ہے؟
التمش نے اسکے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے پھر پوچھا
جی ڈاکٹر ہوں۔۔
جس طرح سمیع بار بار اپنا چشمہ تو کبھی کالر درست کر رہا تھا التمش کو وہ کہیں سے بھی ڈاکٹر نہیں لگا۔۔
بات سُن،ابھی تو یہاں سے لاونج میں جا۔۔۔۔وہاں جاکر سب کو بول کہ تجھے یہ رشتہ پسند نہیں۔۔۔جا
جتنے آرام سے التمش اسے کہہ رہا تھا،سمیع اتنا ہی حیران ہو کر اسے دیکھ رہا تھا
پر میں ایسا کیوں بولوں؟
اسنے حیرت سے پوچھا
کیونکہ میں تجھے بول رہا ہوں۔۔۔
التمش نے نارملی کہا
آپ کون ہوتے ہو۔۔۔۔۔مجھے ایسا بولنے والے
تیرا باپ۔۔۔۔!
سمیع کو التمش کا طرزِ تخاطب بہت ناگوار گزررہا تھا،تبھی اسنے زچ ہوکر کہا
دیکھئے بھاںٔی،پہلی بات تو آپکو بات کرنے کی تمیز نہیں حالانکہ میں آپکو بتا چکا ہوں کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں،دوسری بات میں ویسا کچھ نہیں کرنے والا جیسا آپ نے کہا ہے کیونکہ مجھے مشال جی بہت پسنننند۔۔۔۔۔۔
ابے او۔۔۔۔ڈاکٹر کی اولاد تیری اتنی ہڈیاں توڑونگا نہ کہ اپنی نرسوں سے جڑوا جڑوا کر تھک جاںٔے گا۔۔۔۔اسے لیے جتنا کہا ہے اتنا کر۔۔۔چل
التمش نے اسکی بات کاٹتے ہوئے اسکا کالر اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی میں پکڑ کر کہا اور آخری جملہ بولتے ہوئے اس کو جھٹکے سے چھوڑا
سمیع نے بر وقت خود کو سنبھالا اور سامنے کھڑے اپنے ہم عمر لڑکے کو دیکھا جو چھ فٹ سے نکلتے قد اور کسرتی جسم کی وجہ سے اس سے عمر میں بڑا لگ رہا تھا۔۔۔۔پھر خود کو دیکھا دبلا پتلا جسم،پانچ فٹ دو انچ قد۔۔۔
پھر اچانک وہاں سے بھاگا
ممااا۔۔۔۔
سمیع کی ماں جو سمیع کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں اسکے اسطرح چیخ کر آنے پر ہڑبڑا کر اٹھیں
کیا ہوا میرا بچہ؟
انہوں نے بوکھلاتے ہوئے پوچھا
مما چلو یہاں سے۔۔۔مجھے یہاں شادی نہیں کرنی ورنہ وہ میری ھڈیاں توڑدیگا۔۔۔
ارے کون توڑے گا ہڈیاں؟
سمیع کی بہن نے پوچھا
میں۔۔۔!
التمش نے پیچھے سے آتے ہوئے کہا
کیوں بھلا۔۔۔کیوں توڑوگے میرے بچے کی ہڈیاں؟
سمیع کی ماں نے حیرت سے پوچھا
کیونکہ مجھے یہ زرا پسند نہیں آیا۔۔۔اپنے اس بچے کو گھر لے جائیں۔۔۔۔پہلے اسے بڑا کریں۔۔۔۔پھر اسکی شادی کا سوچیے گا
التمش جتنی بد لحاظی سے بول رہا تھا۔۔۔سمیع کی ماں کی آنکھیں تقریباً ابلنے کو تھیں۔۔۔۔انہیں یقیں نہیں آرہا تھا کہ یہ لڑکا وہی ہے جو کچھ دیر پہلے اتنی تمیز سے بات کررہاتھا
بڑا ہی کوئی بد تمیز لڑکا ہے بولو تو بھلا کوئی گھر آئے مہمان کے ساتھ یہ رویہ رکھتا ہے۔۔۔۔ہمیں نہیں کرنا یہاں رشتہ۔۔۔۔۔میرے بچے کو مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔۔۔
سمیع کی ماں اسے اور بھی صلواتیں سناکر وہاں سے چلیں گیئں۔۔
ریحانہ بیگم نے غصے سے التمش کو دیکھا جو انہیں ایسے مسکراکر دیکھ رہا تھا جیسے کوئی داد دینے والا کام کیا ہو۔۔۔
بیٹا تمہارے ساتھ مسںٔلہ کیا ہے۔۔۔۔کیوں کرتے ہو ایسا؟
انہوں نے تنگ آکر پوچھا
چاچی میں نے جو بھی کیا صحیح کیا،وہ لڑکی نما لڑکا کہیں سے بھی ڈاکٹر نہیں لگ رہا تھا،مجھے تو شک تھا اسکا جینڈر(Gender) کلئیر ہے بھی یا نہیں۔
التمش کے کہنے پر ریحانہ بیگم زچ ہوتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
فلحال تو مجھے شک ہوتا ہے کہ تم میرے بیٹے ہوبھی کہ نہیں۔۔
عالیہ بیگم کے تاسف سے کہنے پر التمش نے انکی طرف دیکھا
امی۔۔۔آپ ہی کی اولاد ہوں غور سے دیکھیں۔۔۔
التمش نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
سدھر جاؤ التمش!!!
انہوں نے غصے سے کہا
چھوٹے صاحب آپکو بی جان بلارہی ہیں۔۔۔
نسرین نے آکر کہا
چلئےصاحبزادے بلاوا آیا ہے۔
عالیہ بیگم کہتے کے ساتھ ہی اسے آمنہ بیگم کے کمرے میں لے جانے لگیں۔۔۔۔جاتےجاتے التمش نے پیچھے مڑکر دیکھا جہاں مشال چہرے پر مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
التمش اسے آنکھ مارتے ہوئے آگے منہ کر کے چلاگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عالیہ بیگم کے ساتھ آمنہ بیگم کے روم میں گیا جہاں حیدر صاحب اور آمنہ بیگم کے ساتھ ریحانہ بیگم بیٹھی خفگی سے اُسے دیکھ رہی تھیں۔۔
وہ سر کجھاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا
ہمیں صرف اتنا بتادو کہ تم چاہتے کیا ہو؟
آمنہ بیگم نے بات کا آغاز کیا
بی جان میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشال کی شادی میرے ساتھ ہو۔
التمش کے کہنے پر سب کو حیرت کا جھٹکا لگا
سب نے ایک دوسرے کو خوش گوار حیرت سے دیکھا
مگر اسکے اگلے جملے پر سب کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
میں چاہتا ہوں کہ مشال کے لیے کوئی ڈیسنٹ ٹائپ بندہ ڈھونڈوں جو اسکی کئیر کرے۔۔۔۔۔اور اپنے لیے کوئی اچھی لڑکی پھر دونوں بیسٹ کی ایک ساتھ شادی ہو۔۔۔
تو جب تک تمہیں لڑکی نہیں ملے گی تم مشال کا بھی رشتہ نہیں ہونے دوگے۔۔
آغاجان نے سنجیدگی سے پوچھا
میں نے یہ نہیں کہا۔۔۔میں نے کہا جب تک مشال کے لیے کوئی ڈیسنٹ اور کئیرنگ لڑکا نہیں مل جاتا تب تک۔۔۔۔۔
تو پھر تمہیں ڈھونڈو اسکے لیے کوئی خیال رکھنے والا شوہر۔۔۔۔
بی جان نے نرمی سے کہا
شوہر نہیں لڑکا،شادی کے بعد شوہر کہلاںٔے گا۔۔
التمش کے کہنے پر سب مسکرادیے۔۔۔۔پھر وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔۔
التمش کے جانے کے بعد عالیہ بیگم نے بی جان سے کہا
کتنی خواہش تھی میری کہ مشال میری بہو بنے۔۔
اس پر آغاجان نے کہا
میں نے التمش سے ڈھکے چھپے لفظوں میں پوچھا تھا مگر اسکا کہنا ہے کہ شادی کی وجہ سے ان دونوں کی دوستی خراب ہوجاںٔے گی۔۔۔۔اور وہ ایسے کسی فیصلے کی وجہ سے مشال اور اپنی دوستی میں جھجھک تک پیدا نہیں کرنا چاہتا اور اس نے مشال سے بھی اس ٹاپک پر بات کرنے منا کیا ہے۔۔
پتا نہیں اس لڑکے کی کیا تُک ہے۔۔۔۔۔شادی سے دوستی بھلا کیسے خراب ہوگی۔۔
بی جان نے عاجز آکر کہا
چلیں چھوڑیں اس بات کو ہو سکتا ہے اس میں بھی کوئی مصلحت ہی ہو۔
ریحانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو عالیہ بیگم بھی آسودگی سے مسکرادیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر میں مشال ہادی،ہانیہ اور نور کو لے کر پیپر کی تیاری کروارہی تھی اور ساتھ ہی انہیں یاد نہ ہونے پر ڈانٹ رہی تھی۔
کیا آپی آپ صرف ہمیں ہی ڈانٹتےرہتی ہیں۔بھاںٔی سے بھی تو پوچھیں کہ ان کا ٹیسٹ کیسا ہوا۔
التمش جو ان تینوں کو مشال سے ڈانٹ سنتے دیکھ وہیں کھڑا ہو کر چڑارہا تھا۔۔۔ہانیہ کے اسطرح اپنی طرف اشارہ کر کے کہنے پر سٹپٹا کر اوپر کی طرف بھاگنے لگا۔۔۔۔
مشال نے ہانیہ کے کہنے پر پلٹ کر دیکھا تو وہ اُسے اوپرجاتا ہوا نظر آیا۔۔۔
التمش!!!
مشال کے پکارنے پر اس کے قدم رُکے اور چہرے پر گھبراہٹ کے تاثرات کو بہت مشکل سے زبردستی کی مسکراہٹ میں ڈھال کر مُڑا۔۔
مجھے بلایا ہے کیا تُو نے مشی؟
اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہایت معصومیت سے التمش نے پوچھا
ظاہر سی بات ہے۔۔۔یہاں ان تین نالائقوں کے علاوہ آپ ہی ہیں تو ہم آپ ہی سے مخاطب ہونگے نا۔۔۔۔
مشال نے غصے سے کہا
نہیں۔۔تُو بھی تو ہے یہاں۔۔۔
معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے التمش نے کہا
التمش ہم خود کو بلائنگے؟
مشال نے جھنجھلا کر پوچھا
نہیں تو کیسے خود کو بلاسکتی ہے۔۔۔۔۔خود کو تو ویسے لوگ بلاتے ہیں نہ جو پاگل ٹائپ ہوتے ہیں اور تُو تھوڑی پاگل۔۔۔۔۔۔۔
بسس!!!
مشال جو منہ کھولے اسکی فضول سی تُک سن رہی تھی۔۔۔چڑ کر اسکی بات کاٹی
جبکہ ہانیہ،ہادی اور نور بمشکل اپنی ہنسی ضبط کر رہے تھے۔۔۔۔مشال نے مُڑ کر ان تینوں کو گھورا تو تینوں جلدی سے سر جھکائے بظاہر اپنا پڑھنے میں مگن ہوگںٔے۔۔
اب اسنے چہرا واپس موڑ کر التمش کو دیکھا جو بتیسی نکالے کھڑا تھا۔۔۔
ٹیسٹ کیسا ہوا آج آپکا؟
دونوں بازوؤں کو باندھ کر مشال نے پوچھا
مشال۔۔ٹیسٹ کیسا ہوا نہیں بلکہ یہ پوچھو کہ ٹیسٹ دیا بھی تھا یا نہیں۔۔۔
مشال کے پوچھنے پر جہاں التمش کے چہرے پر بارہ بجے تھے وہی ہادی کے اسطرح کہنے پر اس کے تاثرات بدلے تھے م۔۔۔اب وہ کھاجانے والی نظروں سے ہادی کو گھور رہا تھا۔
کیا مطلب انہوں نے آج ٹیسٹ نہیں دیا کیا؟
مشال نے حیران ہوکر ہادی سے پوچھا جو مسکراہٹ دبائے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اےے!تجھے زیادہ پتـہ ہے کیا۔۔۔۔
ابھی ہادی کچھ اور بولتا کہ التمش نے اسے چپ کرا دیا۔
تُو اسکی بات مت سُن مشی یـہ تو جونںٔیر ہے ابھی یونی میں بھلے ہی عورتوں کی طرح مجھ پر نظر رکھتا ہے پر میری کلاس کا تو مجھے ہی پتـہ ہے۔۔۔۔
تُو یقین کر آج فزکس کا ٹیسٹ اتنا زبردست دیا ہے تیرے اس دوست نے۔۔۔ایک لائین بھی نہیں چھوڑی۔
التمش ہادی پر طنز کرتا ہوا اب مشال کو فخریہ انداز میں اپنے ٹیسٹ کا بتانے لگا۔
اسکی بات پر ہادی کا منـہ بن گیا
جبکہ مشال نے پہلے تو التمش کو حیرانی سے دیکھا پھر تحمل سے کہا
جہاں تک ہمیں یاد ہے کل آپ نے ہمیں جس سبجیکٹ کے ٹیسٹ کا بتایا تھا وہ فزکس نہیں کیمسٹری تھا،،
التمش جو ہادی کو دل جلانے والی مسکراہٹ لیے تپا رہا تھا،مشال کی بات نہیں سن پایا اور اب ناسمجھی سے اسے کچھ پل دیکھتا رہا پھر آہستگی سے پوچھا۔
“کون سا مِستری؟”
اسکی بات پر جہاں ہادی،ہانیہ اور نور کی ایک ساتھ ہنسی چھوٹی وہی مشال پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔
پھر اچانک پھٹ پڑی۔
حد ہوگئی لاپرواہی کی۔۔۔مطلب ہم ایک دن یونی نہیں جائینگے تو آپ کلاسس بنک کرتے پھرینگے۔۔۔۔۔۔پیپر سر پر ہیں پر فکر بلکل ہی نہیں آپکو۔۔۔
التمش نے ان تین نمونوں کو دیکھا جو پیچھے سے اسے چڑا رہے تھے پھر خفگی سے کہا
مشی تُو مجھے ان لوگوں کے سامنے مت ڈانٹا کر۔
التمش کے کہنے پر مشال کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے مطلب وہ اسکے لیکچر پر بجاںٔے شرمندہ ہونے کے اس سے اپنی خفگی ظاہر کررہاتھا۔۔
وہ پیر پٹختی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
اسے اسطرح جاتا دیکھ التمش بوکھلا کر اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس کے روم میں گیا جہاں وہ اپنا سر پکڑے بیٹھی تھی
مشی کیا ہوا یار میں مزاق کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔تُو سیریس ہوگئی
وہ مشال کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا بولا۔
التمش آپکو اب بھی مزاق سوجھ رہا ہے،آپ تین سال سے فیل ہوتے آرہے ہیں،تایا ابّو کس قدر پریشان رہتے ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ آپ پڑھائی کے بعد انکا بزنس میں ساتھ دیں۔۔۔۔پر آپکا FSC ہی کلئیر نہیں ہورہا۔۔
دیکھئے التمش پڑھائی کو سیریسلی لیں۔۔۔۔۔ویسے بھی یہ لاسٹ ائیر ہے۔
مشال کے ٹینشن سے کہنے پر التمش کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر کہا
اگر میں پاس ہوا تو تُجھے خوشی ہوگی؟
جی بلکل۔۔۔بہت خوشی ہوگی۔۔
بس پھر تُو اب ٹینشن فری ہوجا۔۔۔۔میں تجھے پاس ہو کر دکھاؤنگا۔۔۔۔۔۔لیکن ایک شرط پر
مشال التمش کے کہنے پر خوش ہوگئی پر آخری جملے پر حیرت سے پوچھنے لگی
کیسی شرط؟
یہی کہ تُو ہر وقت مسکراتی رہا کر۔۔۔۔ٹینشن میں چڑیل لگتی ہے۔۔
مشال اسے آنکھ دکھاتے ہوئے مسکرادیں
اب جا۔۔۔۔۔جاکر اپنے نالاںٔقوں کو پڑھا۔۔۔
جارہے ہیں مگر اپنی بات یاد رکھیے گا۔۔۔
مشال کہہ کر چلی گئی
چل بیٹا۔۔اب تو پڑھائی کرنی پڑیگی۔۔۔مشی کو خوش کرنے کے لیے۔۔۔۔
التمش منہ ہی منہ میں بڑبڑایا
