61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

حیدر ولا کے پورچ پر اس نے کار روکی تو مشال نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔
تم اندر جاؤ۔۔۔میں آتا ہوں۔۔
التمش کے کہنے پر مشال نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا پھر کار سے نکل کر اس نے اندر کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔
اسکے جانے کے بعد التمش نے سیٹ سے ٹیک لگائے تھکان زدہ آنکھیں موند لیں۔۔۔ایک آنسو لڑھک کر آنکھوں سے نکلا۔۔۔۔اسے خود پر کنٹرول کرنا تھا۔۔۔۔کیونکہ اسے ہی اب سب سنبھالنا تھا۔۔۔وہ رونا نہیں چاہتا تھا پر دل میں درد بڑھتے جارہا تھا۔۔۔
اندر داخل ہونے پر اسے سامنے ہی سب نظر آئے۔۔۔اس نے عالیہ بیگم کو دیکھا جن کے قریب ریحانہ بیگم سمیت اور بھی عورتیں بیٹھیں انہیں دلاسے دے رہی تھیں۔۔۔مگر وہ صدمے سے بلکل خاموش تھیں۔۔۔مشال کو رونا آیا انکی حالت پر۔۔۔وہ آنسو پونچھ کر چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی ان کے قریب جانے لگی۔۔۔
تم۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔
عالیہ بیگم کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی وہ بھپر کر اٹھیں اور اسکی طرف بڑھتے ہوئے چیخ کر کہنے لگیں۔۔
انکے چیخنے پر سبھی مشال کی طرف متوجہ ہوئے
تائی ام۔۔۔
مت بولو مجھے تائی امی۔۔۔کچھ نہیں لگتی تم میری۔۔۔اتنا سب کچھ کر کے بھی سکون نہیں ملا جو اب پھر آگئی۔۔۔
اس نے بولنا چاہا مگر عالیہ بیگم زہرخندہ لہجے میں کہتے ہوئے اسکے قریب آئی۔۔۔جبکہ مشال انکے الفاظوں پر اپنی آنکھیں میچ گئی
عالیہ چپ ہو جائیں۔۔
آغاجان نے دھیمے لہجے میں کہا
نہیں آغاجان۔۔۔آپ لوگوں نے میرے تامی سے اس لڑکی کی شادی کرواکر پہلے بھی مجھے چپ کروادیا تھا پر اب نہیں۔۔۔اس لڑکی کی وجہ سے میرا شوہر اس دنیا میں نہیں رہا اور آپ کہہ رہیں کہ چپ ہو جاؤں۔۔۔
عالیہ بیگم نے حقارت سے مشال کو دیکھ کر کہا
اتنی نخوست پھیلائی تم نے کہ میرا شوہر چلا گیا۔۔۔اب کیا چاہتی ہو۔۔۔۔بولو۔۔
اس کے خاموش رہنے پر وہ چیخیں۔۔۔مشال روتے ہوئے چند قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔سب گھر والے عالیہ بیگم کی تکلیف سمجھتے ہوئے اس وقت خاموش تھے۔۔۔
نکلو اس گھر سے فوراً نکلو۔۔۔
وہ اسے بولتے ہوئے باہر کی طرف اشارہ کرنے لگیں۔۔۔
تائی امی۔۔۔پلیز۔۔
وہ بھبھک کر روئی تھی۔۔۔نہیں جانتی تھی ایک غلط فہمی کتنی بڑی سزا بن کے رہ جائے گی اسکے لیے۔۔
سنا نہیں تم نے۔۔۔کیا کہہ رہی ہوں میں۔۔۔نکلو ادھر سے۔۔۔
اب کی بار انہوں نے بولتے ساتھ مشال کا بازو پکڑ کر اسے باہر دھکیلا۔۔۔اس سے پہلے وہ نیچے گرتی التمش جو اندر داخل ہورہا تھا اسے تھام گیا۔۔۔مشال نے آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اٹھا کر التمش کو دیکھا جو چہرے پر کمال کا ضبط لیے عالیہ بیگم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
تامی۔۔۔بیٹا اسے نکالو اس گھر سے۔۔
عالیہ بیگم نے اب التمش کو کہا
امی۔۔۔ابھی چپ ہوجائیں پلیز۔۔۔۔ہم سب
کیوں چپ ہوجاؤں میں۔۔۔نہیں ہونگی چپ۔۔۔کہا نا نکالو اسے یہاں سے۔۔۔میں اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
التمش کی بات کاٹ کر انہوں نے تلخی سے چلاکر کہا۔۔التمش نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر مشال کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس لے جانے لگا۔
تم کیوں جارہے ہو؟
وہ غصے میں اسکے سامنے آکر بولیں
تو امی کیا کروں میں۔۔۔چھوڑ دوں اسے اکیلے۔۔۔
التمش نے تنگ آکر کہا پھر سب کا لحاظ کرتے ہوئے خود پر کنٹرول کیا۔۔۔باپ کا دکھ کم تھا جو اب ماں کا رویہ اسے ٹھیس پہنچارہا تھا۔۔۔دوسری طرف مشال نے روتے ہوئے التمش کے بازو کو تھاما۔۔۔دل میں عجیب ڈر سر اٹھائے بیٹھا تھا۔۔۔
امی۔۔۔یا تو مشال یہی پر رہے گی یا پھر میں بھی اسکے ساتھ جاؤں گا۔۔۔
اس نے تحمل سے کہا
تو ٹھیک ہے پھر سمجھ جانا کہ آج تمہارے باپ کے ساتھ ساتھ تمہاری ماں بھی مر گئی۔۔۔
وہ روتے ہوئے غصے سے کہنے لگیں۔۔۔التمش تڑپ کر رہ گیا انکے جملے پر۔۔۔
ہادی۔۔۔اس لڑکی کو پہنچا کر آؤ۔۔۔یہ اب آئندہ یہاں نہیں آئے گی۔۔۔اور خبردار تامی۔۔۔اگر تم اب اس سے ملے۔۔۔تمہیں قسم ہے میری۔۔۔
انکے سنگ دلانہ فیصلے پر جہاں مشال کی آنکھیں ساکت ہوئیں وہی التمش بھی بےیقینی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔وہ کیسے اتنی بڑی بات کہہ سکتیں ہیں۔۔۔ریحانہ بیگم نے تڑپ کر مشال کو دیکھا۔۔نور نے بھی روتے ہوئے سر جھکالیا۔۔۔۔
ہادی۔۔۔
انکے پھر چیخنے پر خاموش کھڑا ہادی آہستہ قدم اٹھاتا ہوا ان لوگوں کے قریب آیا۔۔۔بے ساختہ التمش کی گرفت مشال کے ہاتھ پر مضبوط ہوئی۔۔۔۔
بھائی پلیز۔۔۔ابھی چھوڑدیں۔۔۔سب کے سامنے تماشہ بنے گا۔۔۔
التمش کے ہاتھ نہ چھوڑنے پر ہادی نے بھاری ہوتی آواز میں کہا
اس نے تکلیف سے مشال کو دیکھا جو آنکھوں میں آس اور ڈر لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر لب بھینچ کر آنکھیں میچتے ہوئے مشال کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔مشال نے دکھ سے اسے دیکھا۔۔۔کیوں سب اسے ہی قصوروار مانتے تھے۔۔۔آخر جب اس نے غلط فہمی میں آکر وہ سب کیا تھا۔۔۔تب سب بھی تو اسکے ساتھ التمش کے خلاف ہوئے تھے۔۔۔پھر وہ ہی اکیلی ذمہ دار کیوں تھی ہر سزا کی۔۔۔
فقط مجھ پر اٹھیں انگلیاں،
شہر سارا گنہگار تھا لیکن،
سب پر ایک دھندلائی نظر ڈال کر وہ ہادی کے ساتھ باہر نکل گئی۔۔۔۔اپنوں سے اس قدر دھتکار اور نفرت کی امید نہیں تھی اسے۔۔۔۔۔التمش کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوگیا۔۔۔۔اسکے جانے کے بعد وہ بنا کچھ کہے تیز قدم اٹھاتا ہوا اوپر اپنے روم میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صوفے پر خاموشی سے بیٹھی تھی۔۔۔ہادی ابھی اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔کتنی بڑی سزا دی گئی تھی اسے ایک غلط فہمی کی۔۔۔۔اتنا سب کچھ برداشت کرنے کے بعد بھی اسے معافی نہیں ملی تھی۔۔۔۔بلکہ سب کے سامنے ذلیل کر کے نکال دیا گیا۔۔۔اور التمش۔۔۔تو اب کیا وہ کبھی نہیں آئے گا اسکے پاس۔۔۔عالیہ بیگم کی دی ہوئی قسم یاد کر کے اسے نئے سرے سے رونا آیا۔۔۔۔۔آنکھیں سُوج چکی تھیں مگر آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔
دوسری طرف التمش کا حال بھی عجیب ہورہا تھا۔۔۔۔رات کا آخری پہر تھا پر اسکی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہ تھا اور ہوتا بھی کیوں۔۔۔باپ کے مرنے کا دکھ الگ تھا تو دوسرا مشال کی جدائی۔۔۔اسے بہت شدت سے اسکی یاد آرہی تھی۔۔وہ بانٹنا چاہتا تھا اپنا غم اس سے۔۔۔پر ماں کی قسم پیروں پر زنجیر کی طرح لگی ہوئی تھی۔۔۔اس نے بےبسی میں اپنا غصہ پورا کمرے پر اتار دیا۔۔۔ڈریسنگ کا شیشہ الگ ٹوٹا ہوا تھا بیڈ کا حال بگڑا ہوا تھا۔۔۔سبھی سامان اردگرد پڑے تھے۔۔۔اور وہ بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگائے بیٹھا چھت کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر ولا میں سبھی پر جیسے ایک بار پھر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔۔۔بی جان بیٹے کے غم میں اب کے بستر سے لگ چکی تھیں۔۔۔آغاجان بھی خاموش سے ہوگئے تھے۔۔۔ہانیہ تو جیسے ہنسنا بھول گئی تھی۔۔۔۔عالیہ بیگم بھی حسبِ ضرورت بات کرلیا کرتی ورنہ زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی۔۔۔نور اور ہادی نے بمشکل گھر کا ماحول تھوڑا ٹھیک رکھنے کی اپنی سی کوشش کی ہوئی تھی۔۔۔۔ریحانہ بیگم بیٹی کی یاد میں تڑپتی مگر سب کو دیکھ کچھ نہ کہتیں۔۔۔انکا دل کرلاتا کہ پہلے تو التمش تھا اسکے ساتھ پر اب۔۔۔اب تو وہ اکیلے پتا نہیں کیسے رہتی ہوگی۔۔۔کس حال میں ہوگی۔۔۔اس سب کا سب سے زیادہ اثر جس پر ہوا تھا وہ التمش زمان تھا۔۔۔۔اس نے تقریباً سب سے بات ترک کی ہوئی تھی سوائے آغاجان اور بی جان کے۔۔۔۔عالیہ بیگم سے بھی وہ دوائی دینے کی حد تک بات کرتا ورنہ اکثر و بیشتر وہ اسے کھانے پر یا کسی بات کے لیے روکتیں تو وہ آگے سے خاموش رہتا۔۔۔۔انہیں دکھ بھی ہوتا اسکی دن بدن بڑھتی خاموشی سے پر مجبور تھیں۔۔۔مشال کی طرف سے انکا دل صاف ہی نہیں ہوکے دے رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک مہینہ ہوچکا تھا اسے اس فلیٹ میں اکیلے رہتے ہوئے۔۔۔۔وہ اب تک ایک بھی بار نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔ہاں پر روز اسکی کال ضرور آتی۔۔۔۔جسے مشال ریسیو نہیں کرتی۔۔۔کیوں نہیں کرتی یہ شاید وہ بھی نہیں جانتی تھی شاید کہ اب اسکا دل نہیں کرتا تھا کسی سے بات کرنے کو۔۔۔۔۔سب کی بے رخی نے اسے جیسے اندر سے ختم کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔وہ اکثر اپنا دل بہلانے کے لیے بالکونی میں خاموش کھڑی رہتی۔۔۔۔آنکھیں سوکھ چکیں تھیں۔۔۔۔اسے لگتا تھا بس اب یہیں تنہائی اسکی زندگی ہے۔۔۔زندگی۔۔۔ایسی زندگی سے بہتر وہ خود کے لیے موت مانگتی تھی۔۔۔
وہ کلب میں بیٹھا سموک پر سموک کیے جارہا تھا۔۔۔۔سبھی رنگین روشنیوں میں جہاں سب خوشی سے ناچ رہے تھے۔۔۔وہیں اسکا دل جیسے بلکل خالی تھا۔۔۔۔ایک مہینے میں اس نے کب کب اسے یاد نہ کیا۔۔۔۔ہر پل تو اسکا دل تڑپتا اسے دیکھنے کو۔۔۔۔مشال کو دی گئی ہر تکلیف کا اسے اس ایک مہینے میں جب جب احساس ہوا تھا تب اس نے اپنے ہاتھ کو داغا یا خود کو ایسی ایسی اذیت دیتا کہ دل کو تھوڑا سکون ملے۔۔۔کس طرح وہ اسے ٹورچر کرتا تھا۔۔۔کتنا روتی تھی وہ اسکی بے رخی پر لیکن وہ اس پر زرا رحم نہ کرتا۔۔۔۔۔اور آج۔۔۔آج جب اسے احساس ہوا اپنے کیے گئے رویے کا تو وہ نہیں تھی اسکے پاس۔۔۔۔وہ اس سے معافی چاہتا تھا اپنے دیے گئے زخموں کی مگر ماں کی قسم کے آگے مجبور تھا۔۔۔۔اندر کی گھٹن ختم ہی نہیں ہورہی تھی۔۔۔تبھی اس نے بےبسی سے غصے میں آکر ڈرنک کرنی شروع کردی۔۔۔دو گلاس پینے پر ہی اسکی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔۔۔دل میں اٹھتی شدید تکلیف پر اس نے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔بار بار دل کی دھڑکنیں اس معصوم کا ورد کررہی تھی۔۔۔آج اور دنوں سے بڑھ کر اسکی یاد آرہی تھی۔۔۔
ہے برو۔۔
تبھی سائیڈ سے آتی نشے بھری آواز پر اس نے گردن موڑ کر دیکھا نشے میں دھت ایک لڑکا سامنے ہی کھڑا اس سے مخاطب تھا
ایسا بھی کیا دکھ لگا ہے برو۔۔۔کہ اتنی خوبصورت جگہ پر میں سب سے لاتعلق ہوکر بیٹھے ہو۔۔۔
اس نے التمش کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو وہ خاموش رہا
کیا ہوا۔۔۔۔کوئی چھوڑ کر چلا گیا۔۔
اس نے پھر پوچھا تو التمش نے آہستگی سے نفی میں سر ہلایا
پھر۔۔۔کیا بیوی سے جھگڑا ہوگیا ہے؟
وہ فرینکلی ہوکر پوچھ رہا تھا
بیوی۔۔۔
التمش کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔مشال کا خوبصورت چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوما تھا۔۔۔۔جبکہ وہ لڑکا اسکی بڑبڑاہٹ سن کر اپنی طرف سے اسکا مطلب نکالتا ہنسنے لگا
ابے یار۔۔۔برو یہ بیویاں تو ہوتی ہی ایسی ہیں۔۔۔زرا زرا سی بات پر لڑنے والی۔۔۔میں بھی پریشان ہوں اپنی والی سے اسی لیے یہاں آتا ہوں ریلیکس ہونے۔۔تُو پریشان مت ہو چِل کر یہاں۔۔۔ایسا کر یہاں میں تجھے آج رات کو ریلیکس کرنے کے لیے کسی کو بُک کر دیتا ہوں۔۔۔
وہ کمینگی سے بولتا ہوا وہاں سے گیا۔۔التمش کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔پہلے کبھی ڈرنک کی نہیں تھی۔۔۔۔اور اب ایک ساتھ دو گلاس پینے پر اسکی حالت خراب ہونے لگی تھی۔۔۔تبھی کچھ دیر میں وہ لڑکا پھر آیا مگر اس بار اسکے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔۔۔جو باریک کپڑوں میں میک اپ سے بھری ستائشی نظروں سے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اسکی پرسنیلٹی تھی ہی ایسی۔۔۔۔ہر کسی کو معیوب کر دینے والی۔۔۔
یہ لو برو۔۔۔بیوی کو بھولو۔۔۔۔اور آج رات ریلیکس کرو۔۔۔میری طرح۔۔۔
وہ خباثت سے ہنستا ہوا کہنے لگا۔۔التمش نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اس لڑکے کو دیکھا۔۔۔دماغ ماؤف ہونے لگا تھا۔۔۔۔تبھی اسکے ساتھ کھڑی لڑکی مسکراتے ہوئے التمش کے قریب ہوئی۔۔۔۔اس سے پہلے وہ اپنا ہاتھ اسکے مضبوط کندھے پر رکھتی۔۔۔۔التمش نے اس لڑکے کو گریبان سے پکڑا اور ایک گھونسا اسکے منہ پر جڑا۔۔۔۔وہ جو اس حملے کے لیے تیار نہ تھا سیدھا نیچے گرا۔۔۔۔
اسکے گرتے ہی التمش نے اس کی گھونسوں سے ٹھیک ٹھاک تواضع کی۔۔۔کلب میں الگ شور برپا ہوگیا۔۔۔۔سب کے بیچ میں آنے پر وہ رُکا تھا۔۔۔۔پھر کالر جھٹکتا ہوا جانے لگا۔۔۔۔اس لڑکے نے خود کو بمشکل بےہوش ہونے سے سنبھالا اور ناک منہ سے نکلتا خون صاف کیا۔۔۔کچھ نشے کی وجہ سے اور کچھ التمش کے مارنے پر اسکی ہمت نہیں ہورہی تھی اٹھنے کی۔۔۔تبھی التمش جاتے جاتے رکا اور جھک کر اسے پھر گریبان سے پکڑا۔۔۔
تجھ جیسے غلیظ مردوں کی وجہ سے باقی مرد بدنام ہوتے ہیں،میں تم نیچ مردوں میں سے نہیں جو بیوی کو دھوکا دے کر ان لڑکیوں سے اپنا دل بہلاؤں۔۔۔۔کیونکہ چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔التمش زمان اپنی بیوی سے نفرت تو کرسکتا ہے مگر بے وفائی کبھی نہیں۔۔۔
التمش نے تحقیر سے بول کر اسے سائیڈ میں دھکیلا پھر اٹھ کر تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔وہ جلد سے جلد اس جگہ سے نکلنا چاہتا تھا۔
جبکہ اس لڑکے نے ہانپ کر باہر جاتے ہوئے اس عجیب انسان کو دیکھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔