61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

تامی رات کو گھر پر نہیں آیا تھا کیا؟
عالیہ بیگم نے ناشتہ لگاتی نسرین سے پوچھا
آئے تو تھے بیگم صاحبہ۔۔۔
نسرین کے بولنے پر عالیہ بیگم کو تشویش ہوئی۔۔اب تک تو وہ آفس کے لیے تیار ہوکر نیچے ہوتا تھا۔۔۔۔۔کچھ سوچ کر وہ التمش کے روم میں گئیں۔۔۔۔پر روم خالی دیکھ انہیں حیرت ہوئی۔۔۔
انہوں نے التمش کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔بار بار بیل جانے پر بھی کال ریسیو نہیں کی گئی۔۔۔یکدم انہیں پریشانی نے آگھیرا۔۔۔مگر تبھی انکے دماغ میں ایک کوندا سا لپکا۔۔۔ساتھ ہی انکی پیشانی پر شکنیں پڑی۔۔۔۔وہ لب بھنچتے ہوئے واپس نیچے چلی گئیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند سے بوجھل آنکھیں کُھلنے پر اس نے خود کو التمش کے حصار میں پایا۔۔۔اسے سوتا دیکھ کر بےساختہ مشال کا دل دھڑکا تھا۔۔۔رات کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا تو ایک سکون اسکے وجود میں سرایت کرگیا۔۔۔۔وہ واقعی ٹوٹ چکی تھی اندر سے۔۔۔۔مگر کل التمش نے جس طرح اسے سنبھالا۔۔۔اس وجہ سے اب اسکا دل کافی حد تک ہلکا ہوچکا تھا۔۔۔۔
وہ اسکے کندھے پر سر رکھے خاموشی سے اُسے سوتا دیکھے گئی۔۔۔۔وہ ستمگر۔۔۔کبھی اسکا عزیز دوست ہوا کرتا تھا۔۔۔پھر بعد میں اس سے شدید نفرت کا دعویدار ہوا۔۔۔۔کتنی تکلیف دیتا تھا وہ اسے ہرپل۔۔۔۔اور اب وہی انسان اسکا ہمدرد تھا۔۔۔
وہ گہری سانس لیتے ہوئے اسکا بازو ہٹا کر اٹھنے لگی تبھی التمش نے اسے پھر اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔مشال حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
جب سے خود دیکھو مجھے۔۔۔تو ٹھیک۔۔۔اب میری باری۔۔۔
وہ کہتے ساتھ آنکھیں کھول کر اسے پیاربھری نظروں سے دیکھنے لگا پھر آہستگی سے اسے خود کے قریب کیا
چھوڑیں ہمیں۔۔
اسکی مضبوط ہوتی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے وہ پریشان سی بولی۔۔۔مگر وہ مشال کے مچلنے کو نظر انداز کرتا ہوا جھکا اور اسکی تھوڑی پر اپنے لب رکھ گیا۔۔۔مشال نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔تبھی وہ نظر اٹھا کر اسکا خوبصورت چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔جو کل تک زردی مائل تھا مگر اب اس میں سرخی پھیلی تھی۔۔۔
وہ کیوں اتنی پیاری تھی۔۔۔التمش کو بےساختہ اس پر پیار آیا۔۔۔وہ پھر جھکا۔۔۔اب کی بار اس نے نرمی سے اسکی دونوں آنکھیں باری باری چوم لیں۔۔۔مشال کا نازک وجود لرزنے لگا تھا۔۔۔تبھی اس پر رحم کرتے ہوئے التمش نے اسے نرمی سے چھوڑا۔۔۔۔وہ بنا اس سے نظریں ملائے تیزی سے اٹھ کر واشروم کی طرف بھاگی۔۔۔التمش کا قہقہہ بلند ہوا تھا اسکی حرکت پر۔۔۔۔۔اندر جاکر اس نے دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔۔۔پھر وہیں ٹیک لگائے کھڑی گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔کٹاؤ دار لبوں پر خودبخود کھوئی ہوئی مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔جسے وہ کوئی نام نہ دے سکی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں عالیہ بیگم نماز کے بعد اپنے روم میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں تبھی نور دروازہ نوک کرتے ہوئے اندر آئی۔۔۔اسکے ہاتھ میں چائے تھی۔۔۔۔سائیڈ ٹیبل پر چائے رکھ کر وہ وہیں پر کھڑی رہی۔۔۔۔اسے تزبز کا شکار دیکھ کر عالیہ بیگم نے تسبیح برابر میں رکھی۔۔۔
بیٹھو۔۔
انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
کیا ہوا۔۔۔کوئی بات ہے کیا؟
اسکے بیٹھنے پر انہوں نے نرمی سے پوچھا تو نور نے ہونٹوں پر زبان پھیری
تائی امی۔۔۔وہ۔۔۔آپ آپی کو معاف کردینا۔۔۔
وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی جس پر عالیہ بیگم کے چہرے پر پتھریلے تاثرات نمودار ہوئے
یہ فضول بات کہنے آئی ہو تم یہاں؟
اب کی بار انکے لہجے میں ناگواری تھی۔۔نور سر جھکاگئی
تائی امی۔۔۔آپی اتنی بھی غلط نہیں تھیں۔۔۔وہ بس گمراہ ہوگئی تھی۔۔۔مانتی ہوں انکی غلطی بڑی تھی پر اب سزا بھی تو کافی ہے۔۔۔
اس نے ہمت کر کے پھر کہا
ہم لوگ بہت مِس کرتے ہیں انہیں۔۔۔وہ پتا نہیں کیسے اکیلے رہتی ہوں گی وہاں۔۔۔اور امی بھی رورہی تھی انہیں یاد کر کے۔۔۔
انہیں چپ دیکھ کر نور نے اور بولا۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ عالیہ بیگم ریحانہ بیگم کو بہت مانتی ہیں اسی لیے انکا نام لیا تھا اس نے۔۔۔
جس کو اسکی یاد آرہی ہے وہ جاکر مل لے اس سے لیکن آئندہ پھر مجھ سے تعلق رکھنے کا نہ سوچے وہ۔۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے اٹل لہجے میں کہا
تائی امی۔۔۔
تمہیں جو کہنا تھا کہہ دیا نا۔۔۔اب جاؤ یہاں سے مجھے کچھ دیر اکیلے رہنا ہے۔۔۔
انکی سخت آواز پر نور شرمندہ سی ہوکر اٹھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمش کے آفس جانے کے بعد اس نے بچے کام نپٹائے پھر نور کو کال کرنے کا سوچا۔۔۔۔۔سب سے دور اکیلے رہنے کی وجہ سے چِڑ میں اتنے دنوں تک وہ سب سے لاتعلق رہی تھی۔۔۔۔لیکن اب التمش نے اس سے واپسی پر یہی آنے کا وعدہ کیا تو اسے تسلی ہوئی ورنہ اسے لگا تھا کہ صرف وہ کل رات کے لیے آیا تھا۔۔۔۔اب اسکا دل کیا نور سے بات کرنے کو۔۔۔۔ابھی وہ اسکا نمبر ہی ڈائل کررہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ فلیٹ کا دروازہ کُھلا ہے۔۔۔۔وہ تھوڑی حیران ہوئی۔۔۔التمش اتنی جلدی کیسے آگیا۔۔۔۔موبائل رکھ کر وہ روم سے نکلی۔۔۔۔فلیٹ کا دروازہ ہنوز بند دیکھ اسے اچھنبے ہوا۔۔۔ابھی وہ روم میں واپس جارہی تھی کہ کچن میں کسی چیز کی گرنے کی آواز آئی۔۔۔مشال بوکھلائی تھی۔۔۔۔کل رات کی طرح اسے پھر محسوس ہوا کہ کوئی ہے فلیٹ میں۔۔۔ڈرتے ڈرتے وہ کچن میں گئی۔۔۔۔وہاں شیشے کا جگ نیچے ٹوٹ کر گرا دیکھ اسے حیرت کا جھٹکا۔۔۔۔ابھی وہ اسی الجھن سے نہیں نکلی تھی کہ اسے اپنی پشت پر کسی کی گہری نظریں محسوس ہوئیں۔۔۔وہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔مگر کوئی نہ تھا۔۔۔بھوری آنکھوں میں خوف کی لکیریں ابھریں۔۔۔۔بھاگتے ہوئے وہ اپنے روم میں گئی۔۔۔۔اور زور سے دروازہ بند کر کے وہیں پر بیٹھ گئی۔۔۔۔دل خوف سے نکلنے کو تھا۔۔۔۔مشال جلدی سے التمش کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔۔پر اسکا نمبر بند ہونے پر اسے شدت سے رونا آیا۔۔۔۔غصے میں اس نے موبائل پھینک دیا پھر گھٹنوں پر سر رکھ کر رونے لگی۔۔۔کل تک وہ اگنور کررہی تھی پر اب اسے بہت ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔۔اتنے دن تک اکیلے رہنے پر یہ سب نہیں ہوا تھا پھر کل سے کیوں ہورہا تھا۔۔
ہا۔۔۔میری ڈرپوک سی محبت۔۔۔
اسکے کمرے میں جانے کے بعد وہ لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ کر ہنسنے لگا۔۔۔وہ محضوظ ہوا تھا مشال کے ڈرنے پر۔۔۔۔اس نے ٹائم دیکھا۔۔۔کل کی طرح اب اسے پھر ایک گھنٹہ یہاں رُک کر واپس جانا تھا۔۔۔اسے یقین تھا کہ مشال اتنا تو ضرور ڈر گئی ہے کہ ابھی کمرے سے کافی دیر تک نکلے گی نہیں اسی لیے تسلی سے صوفے پر ٹیک لگائے واپسی کے لیے ٹائم پورا ہونے کا ویٹ کرنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں آفس سے واپسی پر وہ ہادی کے ساتھ زمان صاحب کی قبر پر گیا تھا۔۔۔۔وہاں کافی دیر رکنے کے بعد وہ دونوں حیدر ولا پہنچے۔۔۔کھانا کھاکر وہ آغاجان اور بی جان کے پاس کچھ دیر بیٹھا تھا۔۔۔التمش جب سے آیا تھا اسے عالیہ بیگم کا لہجہ خود سے روکھا لگا تھا۔۔۔اسی لیے تھوڑی دیر بعد وہاں سے اٹھ کر وہ سیدھا انکے روم میں جانے لگا۔۔۔مگر بیچ میں ہی اسے نور نے روک لیا۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے نور کو دیکھا جو تھوڑی شرمندہ لگ رہی تھی۔
تامی بھائی۔۔۔سوری وہ اس دن میں کچھ زیادہ ہی۔۔۔
وہ بول ہی رہی تھی کہ التمش ان سنا کرتے ہوئے اسکے برابر سے نکل گیا۔۔۔۔اسے سبکی فیل ہوئی۔۔۔اس دن غصے میں اس نے سنایا تو تھا التمش کو۔۔۔پر اتنے دنوں سے اسے مشال کی وجہ سے یوں خاموش دیکھ اسے اپنی حرکت پر شرمندگی ہوئی تھی۔۔۔۔
عالیہ بیگم کا روم نوک کر کے وہ اندر داخل ہوا۔۔۔۔روم میں زمان صاحب کی کمی محسوس کر کے بےساختہ اسکے دل میں ٹیس اٹھی تھی۔۔۔۔دانتوں تلے لب دبا کر اس نے خود پر قابو کیا۔۔۔عالیہ بیگم بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگائے خاموش بیٹھیں تھیں۔۔۔
امی۔۔۔
وہ انکے پاس بیٹھتا ہوا پکارا لیکن وہ چپ رہیں
تم نے قسم توڑدی نا۔۔۔
کچھ دیر بعد انکے کہنے پر التمش نے نگاہ چرائی
کیوں تامی۔۔۔ماں کی یہ اہمیت ہے تمہاری نظروں میں۔۔۔کہ اس لڑکی کے لیے جسکی وجہ سے تمہارا باپ مرا۔۔۔اسکی وجہ سے تم نے ماں کی دی ہوئی قسم توڑدی۔۔۔
عالیہ بیگم نے تکلیف دہ لہجے میں کہا
بابا کی موت کی ذمہ دار مشال نہیں ہے امی۔۔۔بس کردیں۔۔۔دل صاف کرلیں اسکی طرف سے پلیز۔۔۔
وہ التجاء کررہا تھا انکے سامنے بیٹھا مگر عالیہ بیگم اسکی بات پر ناگوار نظروں سے اسے دیکھنے لگیں
وہ ذمہ دار نہیں تھی تو کون تھا۔۔۔۔بولو۔۔۔اسکی وجہ سے یہ حال ہوا تھا تمہارے باپ کا۔۔۔۔اگر وہ اس دن تم پر الزام نہ لگاتی۔۔۔ بھروسہ کرتی تم پر۔۔۔تو آج یہ سب نہ ہوتا نا۔۔۔
وہ پھٹ پڑیں تھیں اسکی بات پر،
التمش نے لب بھینچ لیے
امی۔۔۔
بس تامی۔۔۔۔مجھے اور کچھ اس لڑکی کی حمایت میں نہیں سننا۔۔۔کل تو تم چلے گئے تھے۔۔۔مگر آج نہیں جاؤ گے سنا تم نے۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے آج اسکے پاس جانے کی۔۔۔
انہوں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا
امی۔۔۔بیوی ہے وہ میری۔۔۔
التمش نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں
اور میں تمہاری ماں ہوں۔۔۔۔جو کہہ رہی ہوں وہ سنو۔۔۔
ان کے سختی سے کہنے پر التمش غصے میں اٹھتا ہوا انکے روم سے نکلا تھا اور سیدھا اپنے روم میں چلاگیا۔۔۔
دروازہ غصے میں دھاڑ سے بند کر کے وہ بیڈ پر بیٹھا۔۔۔مشال سے واپس آنے کا کیا وعدہ یاد آیا تو دل بےچین ہوا تھا۔۔۔پر عالیہ بیگم کی بات سوچ کر دماغ کی رگیں تنی تھیں۔۔۔وہ بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹ کر اپنی مٹھی کو آہستہ آہستہ پیشانی پر مارنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر سے اب تک وہ روم میں ڈر کے بیٹھی تھی ہمت نہیں تھی باہر جانے کی۔۔۔رات دیڑھ بجنے کو تھے مگر وہ اب تک نہیں آیا تھا۔۔۔مشال بےبسی سے رودی۔۔۔مطلب اس نے جھوٹ کہا تھا اس سے۔۔۔جھوٹا دلاسہ دے کر گیا تھا وہ اسے کہ آئے گا مگر اب تک نہیں آیا تھا۔۔۔۔تو کیا کل وہ اپنے مطلب سے آیا تھا اسکے پاس۔۔۔۔وہ جتنا اُسے یاد کررہی تھی اتنا رونا آرہا تھا اسے۔۔۔تبھی روم کا دروازہ اچانک زور سے بجنے لگا۔۔۔مشال کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔۔وہ ڈر کر اٹھتے ہوئے دروازے سے دور ہوئی جو مسلسل بج رہا تھا۔۔۔۔خوف سے وہ بلکل سفید پڑنے لگی تھی۔۔۔۔رونا الگ آرہا تھا۔۔۔۔جبکہ دروازہ بنارکے بجے جارہا تھا۔۔۔۔مشال روتے ہوئے دعائیں پڑھنے لگی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کھولے یا نہ کھولے۔۔۔تبھی دروازہ بجنا اچانک رکا تھا۔۔۔۔پھر کوئی لوک کھولنے لگا تھا۔۔۔مشال ڈر کر جلدی سے چھپنے کی جگہ ڈھونڈنے لگی مگر تب تک دروازہ جھٹکے سے کُھلا۔۔۔وہ خوف سے چیختے ہوئے منہ کو دونوں ہاتھوں سے چھپاگئی۔۔۔
مشال۔۔۔
کچھ دیر بعد مانوس سی آواز پر اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹایا۔۔۔سامنے التمش کو کھڑا دیکھ اسے سکتہ لگا تھا
کیا ہوا ہے؟
اسکا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ دیکھ کر التمش تشویش سے اسکے پاس آیا۔۔۔۔ابھی وہ اسے کندھوں سے تھاما ہی تھا کہ مشال اسے دھکا دیتے ہوئے دور ہوئی
ہاتھ مت لگائیں ہمیں۔۔۔
وہ چیخ کر بولتے ہوئے روئی تھی،التمش حیران تھا اسکے عمل پر
مشال۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔اسطرح کیوں کررہی ہو؟
وہ بولتے ہوئے اسکے قریب آرہا تھا جبکہ مشال روتے ہوئے اپنے قدم پیچھے لینے لگی۔
برے ہیں آپ۔۔۔بہت برے۔۔۔۔نہیں کرنی ہمیں آپ سے کوئی بات۔۔۔کیا کہا تھا آپ نے کہ رات کو آئیں گے۔۔۔۔مگر جاتے ہی اس طرح لاتعلق ہوگئے کہ فون تک بند کرلیا۔۔۔ایک بار بھی نہیں سوچا کے ہم پر کیا گزرے گی۔۔۔
دوپہر سے جتنا وہ ڈری تھی۔اب اس پر اپنی بھڑاس نکالنے لگی۔دوسری طرف اسکی بات سے التمش کے چہرے پر مسکراہٹ درآئی۔
اچھا۔۔۔تو مطلب تم مجھے مِس کررہی تھی۔۔۔
پیچھے دیوار ہونے کی وجہ سے وہ رُکی تھی تبھی التمش نے دونوں ہاتھوں سے اسکا راستہ بلاک کرتے ہوئے شرارتاً پوچھا
جی نہیں۔۔۔اتنے اچھے نہیں ہیں آپ کہ یاد آئے گی ہمیں۔۔۔
مشال اپنا رونا بھول کر اسکی بےباک نظروں سے بوکھلاتے ہوئے کہنے لگی
تو پھر اتنا غصہ کس لیے۔۔۔۔اگر میں نہ بھی آتا تو تمہیں فرق تو نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔
التمش نے لہجے کو بےپرواہ بناتے ہوئے کہا
مشال نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔التمش کو اسکی یہ نشیلی آنکھیں ہمیشہ گھائل کردیتی تھیں۔۔۔اور آج بھی وہیں ہوا۔وہ اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھا گیا۔۔
تبھی مشال نے غصے میں اسکے ایک بازو کو اپنے ہاتھوں سے ہٹانا چاہا۔۔۔پہلی کوشش میں مشال کو وہ کوئی لوہا لگے۔۔۔جھنجھلا کر وہ مسلسل اسے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔مگر اگلے ہی پل اسکی جان ہوا ہوئی جب التمش نے دوسرے ہاتھ سے دوپٹہ ہٹا کر اسکے کندھے پر سے قمیض سرکائی۔۔۔وہ ساکت سی اسکے عمل کا سوچ رہی تھی۔۔۔۔کہیں وہ پھر اسے سگریٹ سے تو نہیں داغے گا۔۔۔یہ سوچ اسکا چہرہ زرد کرنے لگی۔۔۔لیکن اچانک اپنے کندھے پر اسکا نرم گرم لمس محسوس کرکے وہ اپنے لب دانتوں میں دباگئی۔۔۔۔وہ مکمل زور لگا کر اسکا بازو ہٹانے کی ناکام کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔تو دوسری طرف التمش نے کندھے سے گردن تک کا سفر طے کیا تھا۔۔۔پھر نرمی سے اسنے مشال کا چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔۔اس معصوم کے آگے وہ بےخود سا ہونے لگا۔۔۔
نہیں۔۔
اسے اپنے لبوں پر جھکتا دیکھ مشال نے جلدی سے کہا۔۔۔اس ستمگر کی قربت جان نکالتی تھی۔۔۔۔
اسکی گھبرائی آواز پر التمش رکا تھا اور اسکے آنسوؤں سے بھیگے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا پھر آہستگی سے گود میں اسکے نازک وجود کو بھرا۔۔۔مشال اسکے سینے پر سر رکھے سختی سے آنکھیں میچی ہوئی تھی۔۔۔اسے بیڈ پر لٹا کر التمش اسی کے ساتھ لیٹ گیا پھر اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے آنکھیں موند گیا۔۔۔
عالیہ بیگم کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھا۔۔۔۔وہ ہرٹ نہ ہوں اسی لیے التمش انکے سامنے تو روم میں چلا گیا تھا پر سب کے سونے کے بعد وہ مشال کے پاس آیا تھا۔۔اب اسے صبح سویر سب کے اٹھنے سے پہلے گھر کے لیے نکلنا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور۔۔۔
آدھی رات کو ہادی کی پیاس سے آنکھ کھلی تھی۔۔۔پانی پی کر وہ پھر سونے لگا تھا تبھی اسے محسوس ہوا کہ نور اٹھی ہوئی ہے۔۔۔۔
اسکے پکارنے پر نور نے پلٹ کر اسے دیکھا
تم سوئی نہیں۔۔
وہ حیرت سے پوچھنے لگا
نہیں۔۔
اسنے مختصر جواب دیا
کیوں۔۔
ہادی یہ سب کب ختم ہوگا؟
اسکے پوچھنے پر نور نے الٹا سوال کیا
کیا۔۔
تائی امی آپی کو کب معاف کریں گی۔۔۔
وہ پریشان زدہ سی ہادی کو دیکھ کر بولی۔۔۔اسکے بولنے پر ہادی ایک گہرا سانس لیتے ہوئے لیٹا
نور بابا کے جانے کے بعد امی اور اداس رہنے لگی ہیں۔۔۔وہ ہرٹ ہیں بہت۔۔۔پر دعا کرو جلد سب ٹھیک ہو جائے۔۔۔
وہ چھت کو گھورتا ہوا کہنے لگا
اور ہادی۔۔۔اس دن میں نے تامی بھائی سے کچھ زیادہ ہی بدتمیزی کی تھی۔۔۔میں ان سے سوری کہنا چاہتی تھی پر وہ اب مجھ سے بات ہی نہیں کررہے۔۔۔
وہ اور پریشان ہوئی تھی
بدتمیزی تو خیر تم نے واقعی بہت کی تھی۔۔۔اب یہ بھائی پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کب تمہیں معاف کریں فلحال تم ابھی مجھے معاف کرو۔۔۔اور تھوڑا سا تو اپنا حق یوز کرنے دو مجھ مظلوم کو۔۔۔
وہ بات بدلتا ہوا بےچارگی سے بولا ساتھ ہی اسے خود کے قریب کرنے لگا
او ہیلو۔۔۔زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے انگلی پکڑاؤ تو ہاتھ پکڑ لیتے ہو۔۔۔
وہ اسے گھورتے ہوئے دور ہوئی اور دوسری کروٹ پر لیٹ گئی
ظالم لڑکی۔۔۔ٹڈی نہ ہوتو۔۔
ہادی نے کلس کر کہا جبکہ نور نے اپنی مسکراہٹ چھپائی اسکی آواز سُن کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔