No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
حیدر ولا میں کچھ دنوں سے سنجیدہ ماحول تھا،پیپرز شروع ہوچکے تھے اور نوجوان پارٹی سب کچھ بھلاںٔے پڑھائی میں مگن تھی سوائے مشال کے، وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ روٹین کے مطابق التمش کا اسی طرح سے خیال رکھ رہی تھی جیسے پہلے رکھتی تھی،،،البتہ التمش کی روٹین میں تھوڑا چینج آگیا تھا۔وہ پیپرز کی تیاری کے ساتھ نیہا کو بھی ٹائم دینے لگا تھا،شروع میں تو وہ اسکی کالز اور میسجز کو اگنور کرتا رہا مگر آہستہ آہستہ وہ اس سے بات کرنے لگا،اور اب۔۔۔۔۔وہ نیہا کو پسند کرنے لگا تھا۔اسے وہ بولڈ لڑکی اچھی لگنے لگی تھی۔۔۔اور پیپرز کے بعد وہ مشال کو اسکے بارے میں بتانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپرز کے بعد یونیورسٹی میں فئیرویل پارٹی منعقد کی گئی۔جس میں مشال نے جانے سے صاف انکار کردیا اور التمش نے بھی اسے زیادہ ضد نہیں کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مشال کو یونی کی پارٹیز بلکل پسند نہیں تھیں،چونکہ فئیرویل لاسٹ ائیر والوں کے لیے تھا اس لیے ہادی،ہانیہ اور نور بھی نہیں گئے،تو التمش اکیلا ہی پارٹی میں گیا۔۔۔
بس کر کمینے۔۔
وہ تینوں پارٹی میں ایک کورنر پر کھڑے باتیں کررہے تھے جب التمش نے بلال کو لڑکیوں کو گھورتے دیکھ غصے سے ٹوکا
التمش کے ٹوکنے پر بلال نے زوردار قہقہہ لگایا
یار دیکھنے دے۔۔۔آج تو قیامت لگ رہی ہیں یہ حسین تتلیاں۔۔۔
بلال نے لڑکیوں کے ایک گروپ کو گھورتے دیکھ کمینگی سے کہا
تامی ٹھیک کہہ رہا ہے بلال،یہاں چھوڑ۔۔۔۔۔ابھی پارٹی کے بعد کلب جاکر اپنا یہ شغل پورا کرینگے۔۔
سفیان نے جس انداز میں اسکی بات کی تائید کی۔۔۔التمش نے ناگوار نظروں سے اسے دیکھا
ہیلو!
نسوانی آواز پر تینوں نے پلٹ کر دیکھا۔۔
او۔۔۔ہاںٔے کیسی ہو؟
نیہا کو دیکھتے ہی التمش کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی،،بلیک سکرٹ اور مہارت سے کیے گئے میک اپ میں وہ باقی دنوں سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
ایکچولی مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی تامی۔
ہاں کرو۔۔
یہاں نہیں۔۔۔کہیں اور۔۔۔۔میرا مطلب اکیلے میں۔
نیہا کے کہنے پر التمش نے مڑ کر بلال اور سفیان کو دیکھا جو نیہا کو گھورنے میں لگے ہوئے تھے۔۔مگر التمش کے دیکھنے پر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔۔
میں ابھی آتا ہوں۔
التمش نے ان دونوں کو غصے سے گھورتے ہوئے چبا کر کہا
پھر نیہا کے ساتھ چل دیا۔
نیہا اسے یونی کے بیک سائیڈ ایریا میں لے آئی۔۔۔وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔
ہم یہاں کیوں آئیں ہیں نیہا؟
نیہا نے پلٹ کر التمش کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کچھ پل کی خاموشی کے بعد نیہا نے بولنا شروع کیا
میں نہیں جانتی یہ کیسے ہوا۔۔۔۔کب ہوا۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیسے بولوں۔۔۔۔
بولتے ہوئے وہ رکی پھر گہری سانس لی۔
میں بس اتنا کہونگی کہ پہلے میں تم سے فرینڈ بن کر بات کرتی تھی پر اب میری فیلینگز تمھارے لیے الگ ہیں۔۔۔
نیہا آخری جملہ کہتے ساتھ ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التمش کو شاکڈ کر گئی۔
Can I be your girlfriend?
نیہا نے اسی طرح بیٹھے ہی اپنی دائیں ھتیلی التمش کے آگے پھیلائی۔
التمش کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر آہستگی سے اسکے دونوں بازو کو تھامتے ہوئے اسے کھڑا کیا۔
سوری نیہا۔۔میں تمہیں پسند تو کرتا ہوں پر گرلفرینڈ۔۔۔۔نہیں میں تمہیں اپنی گرلفرینڈ نہیں بناسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی ضرور بنا سکتا ہوں۔
نیہا جو التمش کے جملوں پر مایوسی سے سر جھکارہی تھی اسکے آخری کہے الفاظوں پر جھٹکے سر اٹھا کر اُسکی طرف دیکھنے لگی۔جو چہرے پر مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
پھر خوشی سے چیختے ہوئے اچانک اسکے گلے لگ گئی۔
Oh! thank you so much Taami.
التمش کو نیہا کا یوں گلے لگنا تھوڑا عجیب لگا۔کیونکہ وہ آج تک کسی لڑکی کے کلوز نہیں ہوا تھا۔مشال کے بیسٹ فرینڈ ہونے کے باوجود اسکے اور مشال کے درمیان ایک سپیس رہتا تھا۔
میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کتنی خوشی ہورہی ہے ابھی۔۔۔
نیہا کی مسکاتی آواز پر وہ سوچ سے نکلا پھر مسکراتے ہوئے اسکی پشت کو آہستہ سے تھپکا
چلوایسا کرتے ہیں کہ پارٹی کے بعد ڈنر پر چلیں گے۔
التمش نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا
پارٹی کے بعد کیوں۔۔۔ابھی چلتے ہیں نہ
نیہا نے فرمائشی انداز میں کہا
چلو پھر۔۔
التمش نے کچھ دیر سوچ کر سفیان کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا
ہاں،سفیان میں آج کلب نہیں جاونگا۔۔۔تم دونوں چلے جانا۔
سفیان کے کال ریسیو کرنے پر التمش نے کہا
پر کیوں!
سفیان نے حیرت سے پوچھا
بس کہہ دیا نا کہ نہیں آرہا۔۔۔زیادہ سوال مت کر۔
التمش نے کہتے ساتھ ہی کال ڈسکنیکٹ کردی
تم کلب بھی جاتے ہو؟
نیہا نے پوچھا کیونکہ پیپرز کے دوران دونوں کی بات چیت شروع ہوئی تھی،اور اس وقت التمش نے کلب جانا بند کیا ہوا تھا تو اسے نہیں معلوم تھا کہ التمش کلب جاتا ہے۔
ہاں،جاتا ہوں۔۔۔تمہیں کوئی اعتراز ہے کیا؟
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا
نہیں بھئی،مجھے کیا اعتراض۔۔مجھے تو ایسے لڑکے بہت پسند ہیں جو کلب جاتے ہیں۔۔۔۔۔اسموکنگ کرتے ہیں۔
نیہا نے اسکے ایک بازو کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لے کر پیار سے کہا
میڈم،آپکو اچھے سے پتا ہے کہ میں اسموکنگ کرتا ہوں تو زیادہ مکھن مت لگاؤ۔۔
التمش کے کہنے پر نیہا ہنسنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے گھر میں رات کے دوسرے پہر سُن سناٹا سا ماحول تھا۔۔ہادی،ہانیہ وغیرہ ایگزیمز کی تھکن سے جلدی سو گئے تھے اور آغاجان کو اس نے زبردستی دواںٔی کھلا کر سونے کا بول دیا تھا کہ ہر دفعہ اسطرح جاگنے سے انکی طبیعت خراب ہوجاںٔے گی جبکہ خود وہ پریشان سی اکیلی لاؤنج میں بیٹھی تھی عادت کے مطابق ڈوپٹے کو اپنی مخروطی سرخ و سفید انگلیوں میں مڑوڑ رہی تھی۔۔جبکہ نظریں کبھی دروازے پر تو کبھی گھڑی پر۔۔۔
آخر تنگ آکر اس نے التمش کا نمبر ڈائل کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈنر کے بعد نیہا کی فرمائش پر وہ اسکے ساتھ سی سائیڈ پر آیا تھا۔
دونوں وہاں کھڑے سمندروں کی لہروں کو دیکھتے ہوئے باتیں کررہے تھے۔
نیہا نے بات کرتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا جو جیکٹ اتار کر اپنے ایک بازو پر ڈال چکا تھا۔بلیک شرٹ پر جینز کی پینٹ پہنے ہوئے،ہلکی داڑھی اور کشادہ پیشانی پر بکھرے بال۔۔وہ واقعی شاندار پرسنیلٹی کا مالک تھا۔
التمش نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے نیہا سے کچھ پوچھا۔۔۔جواب نہ ملنے پر اسنے نیہا کی طرف دیکھا۔۔جو چہرے پر نرم مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔
کیا ہوا؟
التمش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو تامی؟
نیہا نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے تھوڑا قریب ہو کر پوچھا
رات کا دوسرا پہر۔۔۔۔وہ دونوں وہاں تنہا کھڑے تھے۔۔۔اور وہ اسکے اس قدر قریب۔۔۔۔۔۔التمش اسکی آنکھوں کے سحر میں الجھنے ہی لگا تھا کہ اچانک اسکا فون رنگ کرنے لگا۔۔
وہ فوراً سے پہلے نیہا سے دور ہوا پھر اپنا فون دیکھا
“مشی کالنگ” پر اس نے جھٹ سے فون ریسیو کیا اور سیگریٹ پھینکی۔
نیہا کو اسکا دور ہونا اور جلدی سے کال ریسیو کرنا برا لگا اسکا موڈ خراب ہوگیا۔۔۔مگر اسنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے رکھی
ہیلو،التمش کہاں ہیں آپ؟
مشال کے پوچھنے پر التمش نے ایک نظر نیہا کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
مشی میں پارٹی کے بعد کسی کام سے نکلا تھا ابھی وہی ہوں۔۔
کیسا کام،آپکو پتا ہے ٹائم کیا ہورہا ہے،مانا کہ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ پارٹی سے آتے ہوئے آپ لیٹ ہوجائینگے۔۔۔۔۔۔۔مگر التمش ڈھائی بجے چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اب گھر آتے آتے آپکو تین بج جائینگے اور کتنا لیٹ ہوتا ہے۔۔
مشال کے نان سٹاپ شروع ہونے پر التمش ہولے سے ہنس دیا
ارے بابا،میں نکل رہا ہوں تو بس ٹائم دیکھ۔۔۔میں پندرہ منٹ میں پہنچ جاؤنگا۔۔۔
یہ کہتے ہوئے التمش نے فون رکھا تو نیہا نے لاڈ سے کہا
ابھی تو ہم آںٔے ہیں۔۔اور ویسے بھی میرا دل نہیں کررہا جانے کا۔۔۔تھوڑی دیر اور رک جاتے ہیں۔۔۔
نہیں یار نیہا،مشی کی کال آگںٔی۔۔۔۔۔۔۔وہ کب سے پریشان ہورہی ہے اور میں جب تک گھر نہیں پہنچونگا وہ سوںٔے گی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔اسی لیے ابھی چلو ہم پھر کسی دن آجائینگے۔۔۔۔
یہ کہہ کر التمش گاڑی کی طرف چل دیا۔۔۔جبکہ نیہا کی مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی۔۔۔آنکھوں میں صاف ناگواریت جھلک رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا کو ڈراپ کرنے کے بعد وہ گھر پہنچا۔۔۔اندر آنے پر سامنے ہی وہ اسے لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی نظر آںٔی۔۔۔۔اسے بے اختیار اپنی اس کزن پر پیار آیا۔۔۔۔۔جو اس سے پانچ سال چھوٹی ہونے کے باوجود اسکا بڑی اماؤں کی طرح خیال رکھتی تھی۔۔۔
اسے دیکھتے ہی مشال کھڑی ہوگئی اور مصنوعی ناراضگی سے اسے دیکھنے لگی۔
سوری!
التمش نے اپنا ایک کان پکڑتے ہوئےکہا
اسکے ایسا کرنے پر مشال مسکرادی
ہم ناراض نہیں ہیں آپ سے۔۔۔۔ہم جانتے ہیں کوئی ضروری کام ہوگا۔۔۔اسی لیے آپ لیٹ ہوگئے
مشال کے کہنے پر التمش کو اسکا خود پر اتنا بھروسہ دیکھ کر خفت سی ہوئی۔۔
اچھا اب آپ اپنے روم میں جائیں۔۔۔ہم دودھ لے کر آتے ہیں آپکے لیے۔۔
مشال نے کچن کی طرف جاتے ہوئے کہا۔۔
وہ سر اثبات میں ہلاتا ہوا اپنے روم میں چلاگیا۔
تھوڑی دیر بعد مشال دودھ کا گلاس لے کر روم میں آںٔی تو التمش نے اس سے گلاس لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا
ارے،آپ دودھ کیوں نہیں پی رہے؟
مشال نے حیرت سے پوچھا
مشی مجھے تجھ سے کچھ بات کرنی ہے۔
اس نے یہی وقت مناسب سمجھا،مشال کو بتانے کے لیے
جی کہیے۔۔
مشال کے کہنے پر التمش نے ہمت جمع کی پھر دونوں آنکھیوں کو بھینچ کر سپیڈ میں کہا
مشی میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔
کچھ دیر تک جواب نہ ملنے پر التمش نے ایک آنکھ کو آہستگی سے کھول کر سامنے دیکھا جہاں مشال عالمِ حیرت میں اُسے ایسے تک رہی تھی جیسے کوئی مجسمہ بن گئی ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸
See translation
