61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

کیا ہوا ریحانہ سب خیریت ہے؟
عالیہ بیگم اور ریحانہ بیگم دوپہر کا کھانا تیار کررہی تھیں جب عالیہ بیگم نے ریحانہ بیگم کو پریشان دیکھ کر پوچھا۔۔۔
جی بھابھی۔۔۔۔۔۔۔وہ رخسانہ ہے نہ رشتے والی۔
ہاں!
اس نے مشال کے لیے ایک رشتہ بتایا ہے۔۔۔لڑکا ڈاکٹر ہے۔۔۔۔فیملی بھی کافی اچھی ہے۔۔۔۔وہ لوگ کل آنا چاہ رہے ہیں مشال کو دیکھنے۔۔۔ریحانہ بیگم نے انہیں تفصیلاً بتایا
یہ تو اچھی بات ہے پھر تم پریشان کیوں ہورہی ہو؟
عالیہ بیگم نے پوچھا۔۔
کیونکہ بھابھی پریشان ہونے کی بھی تو وجہ ہے نا۔۔
ریحانہ بیگم نے پریشانی سے کہا
کیا وجہ؟
بھابھی التمش۔۔۔!!
ریحانہ بیگم کی بات پر عالیہ بیگم چپ ہوگئیں۔۔۔۔جانتی تھیں انکی بات کا مطلب۔۔۔۔گھر میں سب التمش کی اس عادت سے پریشان تھے کہ جب مشال کے لیے کوئی رشتہ آتا،التمش کسی نہ کسی بہانے سے یا پھر جان بوجھ کر کچھ ایسا کرتا کہ اسکا رشتہ پکّا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا۔۔۔آمنہ بیگم کںٔی بار اپنے پوتے کو وارننگ دے چکی تھیں۔۔۔۔مگر وہ التمش ہی کیا جو کسی کی سُن لے۔۔۔۔سواںٔے مشال کے۔۔۔
بتائیں نہ بھابھی میں کیا کروں 20 سال کی ہوگئی ہے مشال پر ابھی تک اسکا رشتہ ہی نہیں لگ رہا۔۔۔التمش کی وجہ سے۔۔۔ریحانہ بیگم نے پریشان ہو کر کہا
ریحانہ میں تو خود اپنی اس نالاںٔق اولاد کی حرکتوں سے پریشان ہوں۔۔۔
عالیہ بیگم نے تائیدی انداز میں کہا
ایک کام کرو۔۔عالیہ بیگم نے اچانک کہا
جی بھابھی۔۔۔۔۔
تم کل مشال کی یونی سے چھٹی کرالو،التمش یونی میں ہوگا تو کوئی مسلئہ بھی نہیں ہوگا۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک ہے بھابھی۔۔۔۔ریحانہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا
اتنے میں باہر سے شور کی آواز آئی۔۔
لو۔۔۔! آگئے یہ لوگ۔۔۔۔کبھی جو سکون سے آئیں۔۔۔ہر وقت بچوں کی طرح لڑتے رہتے ہیں۔۔۔عالیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
باہر نور اور ہادی میں کسی بات پر بحث ہورہی تھی جسے مشال ختم کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو سب کے کھانا کھانے کے بعد ریحانہ بیگم نے آمنہ بیگم کو مشال کے رشتے کی بابت بتا کر ساتھ ہی عالیہ بیگم کے خیال سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے مثبت جواب دیا۔۔وہاں سے وہ مشال کے کمرے میں گئیں جو پڑھائی میں مگن تھی۔۔
مشال بیٹا۔۔۔پڑھ رہی ہو؟انہوں نے محبت سے پوچھا
جی امّی،آئیں نہ اندر۔۔مشال نے مسکراتے ہوئے انہیں اندر بلایا
نہیں بیٹا آپ پڑھو۔۔۔۔میں صرف یہ کہنے آںٔی تھی کہ کل آپ یونی مت جانا۔۔وہ سیدھا مدعے پر آئیں
پر امی کیوں۔۔۔۔مشال نے حیران ہو کر پوچھا
بیٹا کل کچھ مہمان آرہے ہیں آپکو دیکھنے۔۔۔
امی!ہم کیسے چھٹی کر لیں،آپکو پتا ہے پیپر سر پر ہیں۔۔۔ہم نہیں کر سکتے چھٹی۔۔۔مشال نے ٹینشن سے کہا
بیٹا صرف ایک دن کی بات ہے۔۔۔ویسے بھی آپ کی تیاری مکمل ہی ہوتی ہے۔۔۔ایک دن یونیورسٹی نہیں جاؤں گی تو کیا ہوجاںٔے گا۔۔۔اپنی امی کی بات مان لو۔۔۔
انکے اسطرح مان سے کہنے پر مشال بے بس ہوگئی اسی لیے آہستگی سے سر اثبات میں ہلادیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کے بعد التمش نے مشال کو یونی نہ جاتے دیکھ وجہ پوچھی تو ریحانہ بیگم نے یہ کہتے ہوئے بات ٹال دی کہ وہ مشال کو کسی قریبی عزیز کے گھر لے جانا چاہتی ہیں۔۔۔مشال نے حیران ہوکر اپنی ماں کو دیکھا ابھی وہ کچھ بولتی کہ عالیہ بیگم نے اسے کچن سے آواز دی۔۔۔۔وہ کنفیوز سی کچن میں چلی گئی۔۔۔۔۔یہ بات التمش سےکچھ ہضم نہیں ہوںٔی مگر خلافِ توقع وہ خاموش رہا۔۔۔
نکلتے ہوئے نور نے اچانک سر درد کا کہہ کر یونی جانے سے انکار کردیا۔۔۔جس پر مشال کو اعتراض ہوا۔۔۔مگر نور کا روہانسا چہرہ دیکھ کر اسنے زیادہ زور نہ دیا۔۔۔
التمش لوگوں کے یونی جانے کے تین گھنٹے بعد ہی مہمان آگںٔے۔۔مشال نسرین (ماسی)کے ساتھ مل کر کچن میں ریفریشمنٹ تیار کر کے لاؤنج میں لے آئی۔۔
نور اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آںٔی اور آہستے سے اندر جھانکا پھر جلدی سے التمش کا نمبر ملایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمش یونیورسٹی کی کینٹین میں بیٹھا چیونگم چبارہا تھا جب اسکے موبائل پر نور کی کال آئی۔۔
اسنے کال ریسیو کی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
بولو نور۔۔
تامی بھائی!آپ نے صحیح کہا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔۔۔مشال آپی کو دیکھنے کچھ لوگ آئے ہیں۔۔۔
صبح ریحانہ بیگم کے ٹال مٹول کرنے پر التمش کو گڑبڑ کا احساس ہوا پر اس وقت وہ چُپ ہو گیا پر نکلتے ہوئے اسنے آہستگی سے نور کو کوئی بھی بہانہ بنا کر گھر پر رکنے۔۔۔اور گھر کی خبر فون پر دینے کا کہا جس پر نور نےاثبات میں سر ہلا کر سر درد کا بہانہ بنالیا۔۔۔
کتنے لوگ ہیں۔۔۔؟ التمش نے پوچھا
رخسانہ آنٹی کے ساتھ دو موٹی موٹی آنٹیاں۔۔۔
نور نے لاونج میں جھانکتے ہوئے کہا جہاں دو عورتیں جن میں سے ایک جو لڑکے کی ماں لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ناشتے سے بھرپور انصاف کر رہی تھی جبکہ لڑکے کی بہن انکے محل نما گھر کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
اور لڑکا۔۔؟
ہاں !وہ بھی ہے۔۔۔
دکھنے میں کیسا ہے؟ التمش نے تجسس سے پوچھا
بلکل عجیب ہے چمپو،چشمش اور۔۔۔۔۔۔شرما تو لڑکیوں کی طرح رہا ہے۔۔۔
نور نے پہلے اس لڑکے کو دیکھا جو بار بار اپنا چشمہ درست کر رہا تھا اور مشال کے چاںٔے سرو کرنے پر شرماتے ہوئے اس سے کپ لیا۔۔۔
پھر منہ بگاڑ کر کہا
اوکے۔۔۔
یہ کہہ کر التمش نے فون رکھا پھر تیز قدم اٹھاتا ہوا یونی سے نکلنے لگا۔۔
مین گیٹ سے گزرتے ہوئے اس کا کسی سے زوردار تصادم ہوا۔۔۔جس سے مقابل کی کتابیں نیچے گر گئی۔۔۔۔التمش نے جلدی سے جھک کر کتابیں اٹھائیں پھر مقابل کھڑی لڑکی کو پکڑاتے ہوئے دیکھا۔۔۔جو ٹوپ اور جینز میں مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
سوری!!
التمش یہ کہتے ہوئے بنا کوںٔی دوسری نظر اس پر ڈالے یونی سے نکل گیا۔۔جبکہ نیہا میر کی مسکراتی نظروں نے دور تک اس ہینڈسم مگر بے نیاز شہزادے کا پیچھا کیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھںٔی ہمیں تو مشال بیٹی بہت پسند آئی۔۔۔
لڑکے کی ماں نے سموسے کھاتے ہوئے ایسے کہا جیسے انہیں مشال سے زیادہ سموسے پسند آئے۔۔۔
انکی بات پر ریحانہ بیگم نے مسکراکر عالیہ بیگم کو دیکھا
مشال نے نظر اٹھا کر اُس شرمیلے لڑکے کو دیکھا جو اسے کچھ خاص پسند نہیں آیا۔۔۔اسنے نگاہ جھکا لیں۔۔۔التمش بھی نہیں تھا جو اسکی بھوری آنکھوں میں ناپسندیدگی دیکھ کر فوراً رشتہ ختم کروادیا کرتا تھا۔۔۔۔۔اسنے دعا کی کہ کچھ ایسا ہوجاںٔے کہ رشتہ پکّا ہی نہ ہو پائے۔۔۔۔۔
ہولللووو لیڈیییز۔۔۔۔۔!!
اچانک آنے والی آواز پر سب نے چونک کر ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔جہاں وہ جینز کی پاکٹ میں اپنے ہاتھ گھساںٔے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسے دیکھ کر ریحانہ بیگم اور عالیہ بیگم نے پریشان ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا
جبکہ مشال کو خوش گوار حیرت ہوئی۔۔۔بھوری آنکھوں میں واضح چمک تھی۔۔۔۔۔اسنے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔۔۔۔جانتی تھی اب وہ کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دے کر ہی دم لے گا۔۔۔
بیٹا تم اتنی جلدی یونی سے آگئے۔۔۔۔اچھا تم ایسا کرو اپنے روم میں جاؤ۔۔۔۔میں نسرین سے تمھارا کھانا بھجواتی ہوں۔۔۔
عالیہ بیگم نے مہمانوں کا لحاظ کرتے ہوئے جلدی سے کہا تاکہ وہ اندر جاںٔے۔۔۔
ارے امی کیسی باتیں کررہی ہیں۔۔۔مہمان آئیں ہیں ہمارے گھر پر۔۔۔پہلے ملنے تو دیں۔۔۔۔کھانا بعد میں کھالونگا۔
گرمجوشی سے کہتے ہوئے التمش اس سمیع نامی لڑکے کی طرف بڑھا جو چاںٔے پی رہا تھا۔۔۔۔لیکن التمش کو اپنی طرف آتا دیکھ کپ ٹیبل پر رکھنے لگا۔۔۔۔۔مگر التمش نے جلدی سے آگے بڑھ کر کپ پر ایسے ہاتھ مارا کہ دیکھنے میں لگے کہ وہ سلام کے لیے ہاتھ بڑھارہا ہو اور ہاتھ غلطی سے کپ پر لگ گیا۔۔۔چاںٔے سمیع کی شرٹ پر گر گئی۔۔
اُوپس سوری۔۔!!!
التمش نے معصوم بنتے ہوئے کہا
جبکہ ریحانہ بیگم نے اپنے ماتھے کو چھوا یعنی یہ رشتہ بھی گیا۔۔۔