61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اس نے گاڑی اپنے فلیٹ کے پارکنگ ایریا میں پارک کی پھر نکل کر لفٹ کی طرف گیا۔۔۔اپنے فلور پر پہنچ کر وہ شروع کے دو تین روم چھوڑ کراپنے روم کے دروازے پر پہنچا۔۔۔پھر لاکڈ کھول کر اندر داخل ہوا اور لاؤنج کے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔۔۔۔آج مشال کے دھکا دینے پر اسکا پارہ ہائی ہوا تھا۔۔آخر اسکی ہمت کیسے ہوئی وجدان علی کو دھتکارنے کی۔۔۔لیکن خیر۔۔۔اسکی سزا بھی وہ مشال کو دے آیا تھا۔۔۔
اس نے مشال کا فون اپنی جیب سے نکالا۔۔۔جو اسنے مشال کی بے خبری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکے پرس سے نکالا تھا۔
یہ مجھے دھتکارا نے کی چھوٹی سی سزا ہے مشال ایجاز۔۔۔۔اب بھٹکتے رہو ساری رات جنگل میں۔۔۔
مشال کا موبائل ہاتھ میں گھماتے ہوئے وہ طنزیہ مسکراہٹ سمیت بولا
اب اسکا خیال تھوڑا “ریلکس” کرنے کا تھا۔اسنے اپنا فون نکالا پھر نمبر ڈائل کیا۔
ہیلو۔۔
ریسیو کرنے پر وجدان نے کہا
ہیلو ہنی۔۔
پُر کشش نسوانی آواز آئی
ڈارلنگ۔۔۔آج رات میرے ساتھ بتانا۔۔۔میں اپنے فلیٹ میں تمھارا ویٹ کررہا ہوں۔۔۔
وجدان نے مشال کا موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
اوکے سوئیٹی۔۔۔
کھلکھلاتی آواز میں جواب آیا
جلدی آؤ۔۔۔
وجدان نے کہہ کر فون رکھا پھر صوفے کی پشت سے ٹیک لگاکر آنکھیں موند گیا۔۔۔یہی تو اسکا معمول تھا جب وہ بور یا پھر غصہ ہوتا تو ریشم بائی کے کوٹھے سے کسی بھی ایک لڑکی کو اپنے پاس بلا لیتا۔۔۔”ریلیکس” ہونے کے لیے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌼🌼🌼🌼۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌼🌼🌼🌼۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پچھلے دس منٹ سے ایک ہی جگہ پر کھڑی بار بار اپنے دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اب تک کوئی ٹیکسی تو کیا انسان بھی نہیں دِکھا تھا اسے وہاں پر۔۔۔۔۔جیسے جیسے اندھیرا بڑھ رہا تھا اسکی خوف سے جان نکل رہی تھی۔۔۔
ہم کیسے گھر جائیں گے۔۔۔
اس نے روتے ہوئے خود سے کہا
اسے نہیں پتا تھا کہ التمش جانے سے پہلے اسے فون اپنے ساتھ رکھنے کی تاکید کیوں کررہا تھا پر اب وہ پچھتارہی تھی۔۔۔کاش وہ التمش کی بات پر تھوڑا غور کرلیتی۔۔۔تو ابھی فون اسکے پاس ہوتا اور وہ اسے کال کر کے بلالیتی۔۔۔
اسکے دماغ میں ایک ہی بات گونج رہی تھی کہ اگر التمش اسکے ساتھ ہوتا تو کبھی اسے اسطرح اکیلا نہ چھوڑتا۔۔۔۔
التمش کی سوچ آتے ہی وہ ایک بار پھر سسکی۔۔
“التمش”
اُدھر دیکھ کر کیا پُکار رہی ہے۔۔۔۔اِدھر ہوں میں۔۔۔
مانوس سی آواز پر مشال نے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا تو بے یقینی سے اسکی آنکھوں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌻🌻🌻🌻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌻🌻🌻🌻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈور بیل کی آواز پر نیہا جو فون یوز کرنے میں مصروف تھی جھٹکے سے اٹھی۔۔۔اس نے فیاض میر کو اشارہ کیا تو وہ جلدی سے خود پر کمبل سیٹ کرتے ہوئے لیٹ گئے۔۔۔۔
دیکھو صحیح سے ایکٹنگ کرنا۔۔۔
نیہا نے فیاض میر کو آنکھ دکھاتے ہوئے کہا
پھر انکے روم سے نکلتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف گئی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے وہ نیچے پہنچی پھر جلدی سے اپنے گال کھینچ کر انہیں تھوڑا سُرخ کیا پھر رونے والا چہرہ بناتے ہوئے گیٹ کھولا۔۔۔
پر سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر اسے شدید حیرت ہوئی۔۔۔
تم؟
نیہا نے آنکھیں مکمل کھولے حیرت سے پوچھا
جی بھابھی میں۔۔۔۔آپکا دیور۔۔۔اندر نہیں بلائنگی کیا۔۔
ہادی کہتے ساتھ نیہا کے سائیڈ سے ہوتے ہوئے اندر آیا۔
ہادی کسی کے بھی گھر بغیر اجازت اندر نہیں جاتے۔۔۔۔ہیلو بھابھی کیا میں اندر آجاؤں؟
ابھی نیہا اسے ہی حیرت سے دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے نسوانی آواز پر اسنے مڑ کر گیٹ کی طرف دیکھا جہاں ہانیہ ہادی کو ڈانٹنے کے بعد بتیسی نکالے نیہا کے سامنے کھڑی تھی۔۔نیہا کو ڈبل حیرت ہوئی۔۔پر جلد ہی اس نے خود کو کنٹرول کیا۔۔
بھابھی۔۔۔کیا۔۔۔میں۔۔۔اندر۔۔۔آجاؤں۔۔؟
نیہا کو خاموش کھڑا دیکھ کر ہانیہ نے مسکرے پن سے رک رک کر پوچھا تو نیہا نے زبردستی مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
جی تو بھابھی کہاں ہیں انکل۔۔؟
ہادی جو پورے گھر کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہا تھا مڑ کر اب نیہا سے پوچھنے لگا
کہاں ہیں انکل۔۔۔۔مطلب؟
نیہا نے ناسمجھی سے پوچھا
ارے ہم انکل کو لینے آئے ہیں۔۔۔ہادی کے پاس تامی بھائی کی کال آئی تھی۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ انکل کی طبیعت خراب ہوگئی ہے انہیں ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا۔۔۔۔تامی بھائی خود آتے پر وہ ابھی کہیں دور نکلے ہوئے ہیں۔۔۔۔انہیں آنے میں دیر ہو جائے گی۔۔تبھی انہوں نے ہادی کو بھیجا۔۔۔
ہانیہ کے تفصیل سے بتانے پر نیہا کو ایک اور جھٹکا لگا حیرت کا۔۔۔اسکا خون کھول گیا۔۔۔
اب بتائیں بھابھی کہاں ہیں انکل۔۔۔
ہادی نے پھر پوچھا
آ۔۔۔ہادی ایکچولی۔۔۔پاپا کی طبیعت اب ٹھیک ہوگئی ہے۔۔۔۔وہ اب آرام کر رہے ہیں تو ہوسپٹل لے جانے کی ضرورت نہیں ہے اب۔۔۔
سارا پلین تو چوپٹ ہوگیا تھا۔۔۔اب کیا فائدہ ایکٹنگ کا اسی لیے نیہا نے ان دونوں کو بھیجنے کے لیے کہا
تو ہم انہیں دیکھ لیتے ہیں ایک نظر۔۔۔ویسے آنٹی کہاں ہیں؟
ہادی کہنے کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں طے کرتا ہوا اوپر جانے لگا اسکے ساتھ ہانیہ بھی ہولی تو نیہا جلدی سے ان دونوں کے پیچھے گئی۔۔
ارے کہاں جارہے ہو تم دونوں؟
نیہا نے ان دونوں کے سامنے آتے ہوئے پوچھا
اوپر جارہے ہیں۔۔
ہانیہ نے جیسے اسکی نالج میں اضافہ کیا
نیہا سمجھ گئی کہ یہ دونوں فیاض میر سے ملے بنا نہیں جائینگے تبھی مصنوعی مسکراہٹ لیے ان دونوں سے کہا
پاپا سے ملنا ہے نا۔۔۔آؤ ان کے روم میں چلتے ہیں۔۔۔۔
نیہا ان دونوں کو لے کر فیاض میر کے روم میں آئی تو فیاض میر سینے پر ہاتھ رکھ کر زوروں سے چیخنے لگے۔
ہائے میں مرگیا۔۔۔ہائے۔۔
نیہا کو انکی فضول سی ایکٹنگ پر جی بھر کر غصہ آیا۔۔
کیا ہوا انکل؟
ہادی نے فکر مندی سے فیاض میر کے پاس آکر پوچھا تو وہ اور زور وشور سے ایکٹنگ کرنے لگے۔۔
لگتا ہے انکا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔۔
ہادی نے پر سوچ لہجے میں کہا تو نیہا نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا
ہادی ایسا تو مت بولو۔۔۔ہوسکتا ہے ہارٹ اٹیک ہوگیا ہو۔۔
یا پھر فالج کا اٹیک بھی تو ہوتا ہے۔۔۔
ہانی کے کہنے پر نیہا نے جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا
جبکہ فیاض صاحب بھی اپنی ایکٹنگ بھول کر اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگے جو ان پر فضول کے تُکے لگا رہی تھی۔۔
نہیں ہانیہ۔۔۔پاپا کا شوگر لیول لو ہوگیا تھا میں نے انہیں چوکلیٹ دے دی۔۔۔۔اب وہ ٹھیک ہیں۔۔۔
نیہا نے تحمل سے کہتے ہوئے آخر میں فیاض صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اسکا اشارہ سمجھ کر جلدی سے سیدھے ہوتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگے۔
ہاں ہاں ٹھیک ہوگیا میں۔۔۔
ان کے جلدی سے کہنے پر ہادی نے چونک کر انکی طرف دیکھا
چوکلیٹ۔۔۔۔بھابھی اور ہیں کیا چوکلیٹ آپکے پاس؟
ہانیہ نے ندیدے پن سے کہا
ہانی بھابھی کے گھر پر نو ندیدہ پن۔۔۔گھر چلو راستے میں دلادونگا تمھیں۔۔۔
ہادی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو ہانیہ کا منہ بن گیا
اچھا بھابھی ہم چلتے ہیں۔۔۔بھائی کو بتادیں گے انکل کی طبیعت بہتر ہے اب۔۔۔
ہادی نے نیہا سے اجازت لی تو اس نے مسکراتے ہوئے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا
ان دونوں کے جانے کے بعد نیہا اپنا سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔دونوں بھائی بہن نے تھوڑی ہی دیر میں اسکا دماغ خراب کردیا تھا۔۔۔۔سوچا کیا تھا ہوا کیا۔۔
کیسی لگی میری ایکٹنگ؟
فیاض میر نے ہنستے ہوئے اس سے تعریف سننی چاہی
بلکل بکواس۔۔۔تمہاری طرح۔۔۔بڈھے۔۔۔
نیہا ان پر چیخ کر روم سے باہر چلی گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌼🌼🌼🌼۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌼🌼🌼🌼۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کار کے بونٹ سے ٹیک لگائے وہ اس ہی کی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔مشال کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اسکے سامنے کھڑا ہے۔۔
وہ بھاگتی ہوئی اسکے پاس گئی۔۔۔
التمش آپ؟
مشال نے بے یقینی سے کہا
ہاں میں۔۔۔
التمش نے اسکو دیکھتے ہوئے کہا
کار واپسی کے رستے پر موڑتے ہوئے اسکے دماغ میں بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ لوکیشن جنگل کے بیچوں بیچ کیوں سٹاپ ہے۔۔۔اس نے ایک اور مرتبہ اپنا موبائل چیک کیا مگر اس بار لوکیشن شو نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔اس نے کار روکی۔۔۔پھر مشال کے نمبر پر کال کی لیکن نمبر بند جارہا تھا۔۔۔اسے شدید حیرت ہوئی۔۔۔۔۔پھر کچھ سوچتے ہوئے التمش نے ہادی کے نمبر پر کال کر کے اسے نیہا کے گھر جانے کا کہا۔۔۔تاکہ وہ انکل کو ہوسپٹل لے جائے۔۔۔ہادی سے بات کر کے اس نے کار واپس جنگل کی طرف موڑی۔۔۔وہ جلد سے جلد مشال کے پاس جانا چاہتا تھا۔۔۔عجیب واہمیں اسے ستارہے تھے۔۔۔۔کچھ دور جاکر اسے بیچ رستے میں کوئی کھڑا نظر آیا۔۔۔اسے تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔۔وہ مشال ہی تھی۔۔۔پر وہ وہاں پر اکیلی کیوں کھڑی تھی۔۔۔وجدان کہاں تھا۔۔۔یہ سوچتے ہوئے التمش نے کار وہیں پر روک دی۔۔
ہمیں یقین نہیں آرہا التمش آپ؟
مشال سے خوشی سے کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا۔۔۔
وجدان کہاں ہے؟
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا
اسکے سوال پر مشال کی مسکراہٹ معدوم ہوگئی۔۔
میں نے کچھ پوچھا ہے مشی؟
التمش کے دہرانے پر مشال نے اسکی طرف دیکھا
وہ۔۔۔انہیں کچھ ضروری کام تھا۔۔۔اسی وجہ سے وہ چلے گئے۔۔
مشال نے آہستگی سے کہا
التمش کے ماتھے پر بل پڑے۔
تجھے اس جنگل میں اکیلے چھوڑ کر۔۔
التمش نے غصہ ضبط کر تے ہوئے پوچھا تو مشال نے آہستگی سے سر ہلایا۔
اور تیرا موبائل کہاں ہے؟
التمش کے پھر پوچھنے پر مشال نے سر جھکالیا
شاید ہم وجدان کی کار میں بھول گئے۔۔
اس نے ہلکی آواز میں کہا
میں تو بکواس کررہا تھا تجھ سے کہ اپنا موبائل ہاتھ میں رکھنا۔۔۔
التمش نے اسے ہلکا سا جھڑکا تو مشال کا رونے والا منہ بن گیا
اچھا رو تو مت۔۔۔۔میں کونسا غصہ ہورہا ہوں۔۔۔۔چل کار میں بیٹھ۔۔
اسکا رونے والا موڈ دیکھ کر التمش نے تحمل سے کہا اسے کہاں برداشت تھا مشال کا زرا سا بھی رونا اسکی بات پر مشال خاموشی سے کار میں جاکر بیٹھ گئی۔۔راستے میں التمش بلکل خاموش رہا مشال نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا اسکے چہرے پر بھر پور سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔شاید وہ کسی سوچ میں گم تھا۔۔
ویسے آپ پہنچے کیسے وہاں پر؟
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مشال نے جب سے ذہن میں اُمڈتا سوال پوچھ لیا
اسکے سوال پر التمش نے اسے دیکھا جو مکمل التمش کی طرف متوجہ تھی۔۔۔
تُو نے کیسے سوچ لیا کہ تُو جب مشکل میں ہوگی تو میں نہیں پہنچونگا۔۔؟
التمش نے الٹا اس سے سوال کیا تو مشال کو حیرت ہوئی
مطلب اگر ہم کہیں بہت دور بھی ہوئے اور کسی تکلیف یا مشکل میں ہوں تو آپ وہاں بھی آجائیں گے۔۔۔
مشال کے معصومانہ سوال پر التمش ہلکا سا ہنس دیا
پہلی بات۔۔تجھے میں کبھی خود سے بہت دور نہیں جانے دوں گا اور اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو یاد رکھنا مشال ایجاز کی ہر مشکل میں التمش زمان اسکے ساتھ کھڑا رہے گا۔۔
التمش نے جس یقین سے کہا مشال کو خود کی قسمت پر غرور سا ہونے لگا۔۔۔خدا نے کس قدر قیمتی تحفہ دیا تھا اسے التمش کے روپ میں۔۔۔مشال کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔
کیا ہوا مشی؟
اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر التمش بوکھلایا
کچھ نہیں۔۔۔
مشال نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
اور التمش۔۔۔۔وہ تھم سا گیا تھا۔۔۔آنسوؤں سمیت بھوری آنکھیں اور کٹاؤ دار گلابی لبوں پر مسکراہٹ کا جوڑ کافی حسین لگ رہا تھا۔۔۔اسکی ایک بیٹ مِس ہوئی۔۔۔۔
وہ مبہوت سا اسے دیکھے گیا۔۔
التمش سامنے دیکھیں۔۔۔
مشال کی آواز پر وہ ہوش میں آیا اور جھٹکے سے گاڑی روکی۔۔یہ کیا ہورہا تھا اُسے۔۔۔۔مشال کے لیے اسکی فیلنگس عجیب کیوں ہورہی تھیں۔۔۔
کیا ہوا التمش۔۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔۔
مشال نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا تو وہ اپنی سوچ سے نکلتے ہوئے مشال کو دیکھنے لگا مگر جلد ہی اسکے چہرے سے نظریں چراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا پھر کار سٹارٹ کی۔۔۔
گھر پہنچ کر مشال نے اسے کسی کو بھی وجدان کی حرکت نہ بتانے کا کہا جس پر اسے حیرت تو ہوئی پر وہ خاموش رہا۔۔۔۔اندر جانے پر ہادی نے اسے بتادیا تھا کہ فیاض صاحب کی طبیعت زیادہ خراب نہیں تھی جس پر وہ مطمئن ہوتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔
اپنے روم میں آکر اس نے نیہا کو کال کر کے فیاض صاحب کی طبیعت پوچھنے کا سوچا
دوسری بیل پر نیہا نے کال ریسیو کی۔
طبیعت کیسی ہے اب انکل کی؟
التمش نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
تم سے مطلب۔۔۔تمھیں اگر اتنی ہی فکر تھی تو آتے نا خود ہی۔۔۔میرے بلانے پر۔۔
نیہا جیسے بھری پڑی تھی۔
ہادی نے بتایا۔۔طبیعت زیادہ خراب نہیں تھی۔۔
التمش کو اسکا لہجہ برا لگا مگر وہ اگنور کرتے ہوئے پھر بولا
تم پہلے مجھے یہ بتاؤ تم تھے کہاں۔۔؟
نیہا نے اسی ٹون میں پوچھا
ضروری کام سے گیا تھا۔۔
التمش نے تحمل سے کہا تبھی مشال روم نوک کر کے اندر آئی۔
التمش آپکی کافی۔۔۔
مشال نے اسے کال پر مصروف دیکھ آہستہ سے کہا پھر روم بند کر کے چلی گئی۔
نیہا نے مشال کی آواز سنی تو اسے حیرت ہوئی اس کو لگا اس نے غلط سنا۔۔۔کیونکہ اسکے جاننے میں مشال کو وجدان اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔۔۔اور وجدان نے اسے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آج وہ تھوڑا بہت ہی سہی مگر مشال کو یوز ضرور کرے گا۔۔۔تبھی التمش کو بیچ سے ہٹانے کے لیے نیہا نے فیاض صاحب کی طبیعت خرابی کا ناٹک کیا تھا۔۔۔۔
پر اب۔۔۔مشال کا گھر پر ہونا اسے حیرت میں مبتلا کر گیا۔۔
یہ مشال تھی؟
نیہا اپنا غصہ بھول کر التمش سے پوچھنے لگی
ہمم۔۔
التمش کے کہنے پر اسکو اور حیرت ہوئی
پر وہ گھر پر کیسے ہے؟
نیہا کی زبان سے پھسلا
مطلب۔۔
التمش کے پوچھنے پر نیہا گڑبڑائی
آ۔۔میرا مطلب وہ گھر پر کیسے ہے۔۔۔۔وہ تو آج وجدان کے ساتھ کہیں جانے والی تھی نا۔۔
اس نے سنبھلتے ہوئے کہا
جانے والی نہیں تھی بلکہ گئی تھی۔۔لیکن تمہارے اس کزن نے ضروری کام کا بول کر اسے بیچ جنگل میں چھوڑ دیا۔۔۔اگر میں وہاں نہ پہنچتا تو پتا نہیں کیا ہوتا مشی کا۔۔۔۔
التمش وجدان پر آیا غصہ اس پر اتار گیا
اوہ تو یہ ضروری کام تھا تمہیں۔۔؟
نیہا نے اسکی پوری بات سنتے ہوئے التمش سے غصے سے پوچھا
نیہا تمہیں اندازہ بھی ہے اگر میں وہاں نہ پہنچتا تو مشی کا کیا ہوتا۔۔
التمش نے ٹہرے ہوئے لہجے میں نیہا سے پوچھا
مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مشال کا کیا ہوتا کیا نہیں۔۔۔مجھے بس اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ تم نے میری بات کو امپورٹنس نہ دے کر مشال کو امپورٹنس دی۔۔
نیہا نے تلخی سے کہا تو التمش کا دماغ گھوم گیا
یہ تم کیا بکواس کررہی ہو۔۔آئندہ تم نے خود کو مشی سے کمپیئر کیا تو بہت برا ہوگا نیہا۔۔۔اور اتنا ہی غصہ چڑھا ہے نا تمہیں اس بات پر تو سنو۔۔۔۔میرے لیے ہمیشہ سے میری فرسٹ پرییورٹی مشی ہی رہے گی۔۔۔۔دین یو۔۔
التمش کے سخت لہجے پر نیہا کی ساری اکڑ نکل گئی۔۔وہ بوکھلاگئی تھی۔
ارے تامی۔۔۔میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا جو تم سمجھ رہے ہو۔۔۔میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ۔۔۔
اسکی پوری بات سنے بنا التمش نے کال کٹ کردی
جبکہ نیہا تامی تامی کرتے رہ گئی۔
مجھے اگنور کیا۔۔۔آخر اس مشال میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں ہے۔۔۔۔۔
نیہا نے اپنے فون کو دیکھتے ہوئے تلخی سے کہا
میں تمہیں برباد کر کے رکھ دونگی مشال ایجاز۔۔۔
نیہا نے کہتے ساتھ اپنا موبائل بیڈ پر زور سے پٹخا
پھر کچھ یاد آنے پر اسنے موبائل اٹھا کر وجدان کا نمبر ڈائل کیا۔
ہیلو۔۔
وجدان کی نشے میں دھت آواز سن کر اسکا غصہ اور بڑھ گیا۔۔
مرو تم اپنے نشے میں۔۔۔وہاں مشال گھر پر کیا کر رہی ہے۔۔۔
نیہا نے چیختے ہوئے کہا
اسکی بات پر وجدان کا نشہ چھومنتر ہوگیا وہ خود سے لپٹی اس لڑکی کو دور کرتے ہوئے بیڈ پر سیدھا ہوکر بیٹھا
واٹ۔۔۔کیا مطلب ہے تمھارا۔۔۔۔مشال گھر پر ہے۔۔۔پر میں تو اسے جنگل میں چھوڑ کر آیا تھا۔
اس نے اچھنبے سے کہا
ابھی التمش سے کال پر بات ہوئی ہے میری۔۔۔وہ ہی مشال کو گھر لے کر آیا ہے۔۔۔۔تم پر کافی غصہ ہے وہ۔۔۔۔
نیہا کے بتانے پر وجدان کا شدت سے دل کیا التمش کی جان لینے کا۔۔۔۔
وہ کیسے پہنچا وہاں پر؟
وجدان نے دانت کچکچاتے ہوئے نیہا سے پوچھا
مجھے کیا پتا۔۔۔
نیہا نے جھنجھلاکر کہا پھر فون رکھ دیا
جبکہ وجدان اپنے بال جکڑ کر رہ گیا۔۔۔آخر کیا تھا یہ التمش زمان جو اسکے ہر پلین کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا۔
بہت ہوا التمش زمان۔۔۔نہ میں نے تم دونوں کی دوستی نفرت میں بدلی تو میرا نام بھی وجدان علی نہیں۔۔۔
وجدان نے سرخ آنکھوں سمیت غراتے ہوئے خود سے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن دوپہر میں ہادی گھر سے نکلنے لگا تو اسے لان کی چئیر پر نور خاموش بیٹھی نظر آئی۔۔۔
کیا ہوا ٹڈی۔۔۔اتنی خاموش کیوں بیٹھی ہو؟
ہادی نے اسکے پاس آتے ہوئے پوچھا تو نور نے ٹڈی لفظ پر پھر گھور کر اسے دیکھا مگر اچانک ایک خیال نور کے ذہن میں آیا۔۔۔اس نے اپنی پریشانی ہادی کو بتانے کا سوچا
ہادی میری بات سنو۔۔مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔۔
نور چئیر سے اٹھ کر ہادی کے پاس آئی
ابے یار،میں نے صرف اتنا پوچھا کہ تم خاموش کیوں بیٹھی ہو نہ کہ تمہاری فضول بات سنانے کا کہا ہے۔۔
ہادی نے چڑتے ہوئے کہا
ارے ہادی تم سنو تو پہلے۔۔۔
نور نے منت بھرے لہجے میں کہا مگر ہادی اسے اگنور کرتا ہوا باہر چل دیا
کوئی میری بات سنتا ہی نہیں۔۔۔کس کو بتاؤ کہ مجھے وجدان بھائی صحیح نہیں لگ رہے۔۔۔۔ان میں ضرور کچھ غلط ہے۔۔۔
نور نے پریشانی سے کہا
کیا غلط ہے مجھ میں لٹل گرل؟
وجدان کی آواز پر نور نے سامنے دیکھا جہاں وہ سرد نظروں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔
یہ کب آئے یہاں پر۔۔
نور نے حیرت سے سوچا
بتاؤ نہ کیا غلط ہے مجھ میں؟
وجدان نے اسکے قریب آتے ہوئے پھر پوچھا تو نور نے تھوک نگلتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور اندر کی طرف بھاگی۔۔۔
یہ ضرور کچھ گڑبڑ کریگی۔۔۔۔کچھ تو کرنا پڑے گا اسکا۔۔
وجدان بڑبڑاتے ہوئے اندر گیا۔۔۔سامنے ہی اسے ریحانہ بیگم نظر آئی۔۔سلام کر کے وجدان نے ان سے مشال سے اکیلے میں بات کرنے کی اجازت لی۔۔۔پھر اسکے روم کا پوچھ کر اوپر کی طرف چلا گیا۔۔۔
گیٹ نوک کر کے وہ اندر داخل ہوا۔۔
آپ؟
اسے دیکھ کر مشال نے حیرت سے پوچھا
مشال میں تم سے سوری کرنے آیا ہوں۔۔۔
وجدان کے کہنے پر مشال چپ رہی
آ۔۔۔مشال میں کل سے کافی گلٹ میں ہوں۔۔۔کل آفس میں بھی تمھاری ہی فکر لگی تھی مجھے کہ پتہ نہیں تم گھر پہنچی بھی یا نہیں۔۔۔اسی لیے ابھی تمھارے پاس آیا ہوں۔۔۔معافی مانگنے۔۔۔
وجدان نے لہجے کو شرمندہ بناتے ہوئے کہا
وجدان آپ کو پتا ہونا چاہیے۔۔۔اتنا ویران جنگل تھا۔۔۔ٹیکسی تو کیا ہمیں کوئی انسان بھی نہیں دکھ رہا تھا وہاں پر اور آپ ہمیں اس طرح وہاں اکیلا چھوڑ کر چلے آئے۔۔اگر التمش نہ آتے تو ہم تو پوری رات وہیں رہ جاتے۔۔۔
مشال نے رُوڈلی کہا تو وجدان کچھ پل خاموش ہوگیا
سوری۔۔
اسکے شرمندہ لہجے پر مشال نے تاسف سے اسے دیکھا
اچھا چھوڑیں۔۔۔
مشی میری فائل۔۔۔۔۔
مشال ابھی بول ہی رہی تھی جب التمش روم میں آتے ہوئے مشال سے کچھ کہنے لگا مگر وجدان کو وہاں دیکھ کر اسکا رات کا غصہ پھر عود آیا۔۔۔
تو۔۔۔تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔
التمش نے وجدان کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
التمش وہ شرمندہ ہیں۔۔
مشال نے التمش کو غصہ میں دیکھ کر وجدان کی طرف سے کہا
اسکے شرمندہ ہونے سے کیا فائدہ ہوجائے گا۔۔۔۔اگر میں کل وہاں پر نہ پہنچتا تو۔۔۔
التمش نے وجدان کو گھورتے ہوئے کہا
میں واقعی بہت شرمندہ ہوں التمش۔۔۔میرا کوئی ارادہ نہیں تھا مشال کو وہاں چھوڑنے کا۔۔۔۔۔پر ضروری کام تھا۔۔۔
وجدان کا کوئی ارادہ نہیں تھا التمش سے معافی مانگنے کا مگر مشال کے سامنے اسے اچھا بھی نظر آنا تھا۔
ضروری کام تھا تو تُو اسطرح سے مشی کو بیچ جنگل میں چھوڑ کر چلا جائے گا۔۔۔۔
التمش نے غصے سے دانت پیس کر کہا
ایم سوری۔۔
وجدان نے شرمندہ ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کی
اپنا سوری اپنے پاس رکھ۔۔
التمش نے غصے سے کہا
التمش۔۔۔۔وہ سوری کہہ رہے ہیں نہ۔۔
مشال کو التمش کا وجدان کے ساتھ اتنا روڈ رویہ بلکل پسند نہ آیا مگر التمش اسکی بات اگنور کرتا ہوا پھر وجدان سے بولا
آئندہ اگر ایسی گھٹیا حرکت کی نا۔۔۔۔تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔سالے
التمش!!!
مشال نے غصے سے کہا تو التمش نے اسکی طرف دیکھا
یہ کس لہجے میں آپ بات کررہے ہیں وجدان کے ساتھ۔۔۔۔۔وہ اپنی غلطی مان رہے ہیں نہ۔۔۔سوری کررہے ہیں پھر کیوں اتنا روڈ ہورہے ہیں آپ۔۔۔
مشال نے جھنجھلا کر اس سے پوچھا تو التمش نے حیران کن نظروں سے مشال کو دیکھا
مشی میں اس کمینے کو اسکی غلطی بتارہا ہوں۔۔
التمش نے مشال سے کہا تو مشال نے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کرادیا
بس۔۔
غلطی بتانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خود بھی لحاظ بھول جائیں۔۔۔۔یہ کیا آپ انہیں بار بار گالیاں دے رہے ہیں۔۔
مشال نے تاسف سے کہا
مشی تجھے نظر نہیں آرہا۔۔۔یہ غلط ہے۔۔
التمش نے تھوڑا سختی سے بولا
وجدان غلط نہیں ہیں۔۔۔بس ان سے کچھ چیزیں ایسی ہوجاتی ہیں جسکی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں غلط ہوجاتے ہیں۔۔۔
مشال نے جس یقین سے کہا وجدان نے چونک کر مشال کو دیکھا جو بنا مطلب کے اسکی حمایت میں بول رہی تھی۔۔۔
جبکہ التمش کو حیرت کر ساتھ ساتھ غصہ بھی آیا۔۔۔مشال کیوں اسکی حمایت میں اتنا بول رہی تھی یہ جانتے ہوئے کہ وہ غلط ہے۔۔۔۔وہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے روم سے باہر چلا گیا۔۔
التمش۔۔
مشال پکارتے رہ گئی مگر وہ ان سنی کر گیا۔جبکہ وجدان کے لیے یہ منظر خوش آئند تھا۔
سوری مشال میری وجہ سے تم دونوں کی بات خراب ہوگئی۔۔
وجدان نے پھر شرمندگی سے کہا تو مشال اسکی طرف متوجہ ہوئی
نہیں وجدان۔۔۔آپ شرمندہ نہ ہوں۔۔۔انکا غصہ ایسا ہی ہے جتنی جلدی آتا ہے اتنی جلدی چلا جاتا ہے۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔
مشال نے اسے تسلی دی پر وہ خود گھبرا گئی تھی التمش کے غصے سے
اچھا مشال اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔آفس کے لیے نکلنا ہے۔۔۔یہ تمھارا موبائل۔۔۔کل میری کار میں چھوٹ گیا تھا۔۔۔
وجدان نے مشال کو اسکا فون دیتے ہوئے کہا تو مشال نے فون لے کر اثبات میں سر ہلایا۔۔
وہ سیڑھیوں سے نیچے کی طرف آرہا تھا کہ اسکی نظر نور پر پڑی جو ریحانہ بیگم سے کچھ کہہ رہی تھی۔اس نے اسی طرف اپنے قدم بڑھائے۔
امی میری بات سنیں۔۔۔کوئی نہیں سن رہا ہے یار۔۔
نور نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے کہا تو سبزیاں کاٹتی ریحانہ بیگم نے اسے خفگی سے دیکھا
لڑکی مجھے اور بھی کام ہیں۔۔۔۔اچھا بتاؤ کیا بات ہے۔۔
انہوں نے آخر کار سبزیاں سائیڈ پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا
امی آپ کو پتا ہے۔۔۔۔یہ جو وجدان بھائی ہے نا۔۔
نور نے بولنا شروع کیا
جی میں ہوں۔۔۔
اسکی آواز پر نور نے ہڑبڑاتے ہوئے پلٹ کر دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے ان ہی لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔
کیا بتانے جارہی ہیں سالی صاحبہ آپ میرے بارے میں۔۔۔
اس نے ان لوگوں کے پاس آتے ہوئے شرارت سے نور کو کہا
ارے بیٹا اسے چھوڑو۔۔۔یہ تو ایسے ہی کچھ بھی بولتی رہتی ہے۔۔۔آپ بیٹھو۔۔۔میں آپکے لیے چائے لے کر آتی ہوں۔۔۔
ریحانہ بیگم نے وجدان کو دیکھ کر اپنائیت سے کہا تو وہ مصنوعی مسکراہٹ سمیت بولا
جی بلکل آنٹی۔۔۔کیوں نہیں۔۔
اسکے کہنے پر ریحانہ بیگم نے کچن کا رخ کیا
انکے جانے کے بعد وجدان کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔۔اس نے نور کو دیکھا جو خوفزدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا اسکے قریب آیا۔
لٹل گرل۔۔۔کتنی بار تمہیں سمجھانا پڑے گا کہ اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔
وجدان نے کہتے ساتھ ہاتھ بڑھا کر نور کے چہرے پر آئی لٹ کو آہستگی سے اسکے کان کے پیچھے اڑسا تو نور بدک کر اس سے دور ہوئی۔۔۔
ورنہ بہت پچھتاؤ گی۔۔۔
وجدان کے سرد لہجے پر نور نے وحشت سے اسکی طرف دیکھا جسکی سرد نظریں اسے اپنے جسم کے آرپار ہوتی نظر آئیں۔۔۔وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بھاگ کر اپنے روم کی طرف گئی۔
وجدان نے ناگوار نظروں سے اس چھوٹی مگر چالاک لڑکی کی پشت کو گھورا۔