No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
اتنی جلدی اٹھ گئے تم۔۔۔آج تو آفس بھی نہیں جانا۔۔
نور کمرے میں آئی تھی پر ہادی کو ڈریسنگ مرر کے آگے بال سنوارتا دیکھ حیرت سے پوچھنے لگی۔
تم سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔
ہادی کے اگنور کرنے پر اس نے سامنے آتے ہوئے مسکراکر پوچھا وہ ایک نظر اسے دیکھ کر سائیڈ سے نکلنے لگا تبھی نور پھر اسکے سامنے آئی
کیا ہوا۔۔۔
ہادی کا موڈ سیریس دیکھ کر اس نے اب آرام سے پوچھا
کچھ نہیں۔۔
مختصر جواب دے کر وہ روم سے نکل گیا۔نور کو شدید حیرت ہوئی اسکے رویے پر۔۔۔۔
کل تک تو بلکل ٹھیک تھا۔۔۔
وہ پریشانی میں باآواز بڑبڑارہی تھی جبکہ ہادی نے ایک نظر گیٹ سے اندر جھانک کر اسکی پشت کو دیکھا پھر مسکراہٹ چھپاتے ہوئے واپس چلاگیا
بیٹا سب ٹھیک ہے؟
عالیہ بیگم ناشتے پر جب سے نوٹ کررہی تھیں۔۔۔ہادی کا نور کو اگنور کرنا یا اسکی کسی بات کا بھی جواب نہ دینا۔۔۔تبھی وہ نرمی سے نور سے پوچھنے لگیں۔۔
جی تائی امی۔۔۔
اس نے بوکھلا کر جلدی سے سر اثبات میں ہلایا اور نظر جھکاگئی
وہ عالیہ بیگم سے آنکھ بچا کر ایک اور مرتبہ ہادی کو دیکھنے لگیں۔۔جو ناشتہ کرنے میں اسطرح مصروف تھا۔۔جیسے اس سے بڑھ کر کوئی ضروری کام نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی دھوپ اسکے سفید چہرے پر سرخائی گُھلانے لگی تو وہ آنکھیں میچتے ہوئے دوسری کروٹ پر ہوئی۔۔۔اور التمش کے سینے پر ہاتھ رکھ دی۔۔۔پر یہ کیا۔۔۔اسکی جھٹکے سے آنکھ کھلی۔۔۔وہ وہاں پر تھا ہی نہیں۔۔۔پل میں اسکی نیند غائب ہوئی۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھی اور گھڑی پر نظر دوڑائی۔۔۔آٹھ بج رہے تھے۔۔۔تو کیا آج وہ اسے بنا بتائے چلاگیا تھا۔۔۔بے ساختہ مشال کی آنکھوں میں نمی اتری۔۔۔دل میں غصہ ابھرا جس کا اظہار اس نے تکیہ زور سے پھینک کر کیا پر وہ تکیہ سیدھا روم میں انٹر ہوتے التمش کے سینے پر لگا۔۔۔۔وہ حیرت سے مشال کو دیکھنے لگا۔۔۔اور مشال
وہ بھی بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ نہیں گیا تھا۔۔۔وہ یہیں پر تھا اسکے پاس۔۔۔
صبح صبح جنگ کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔سوئیٹی
اس نے شرارتاً پوچھا تو مشال سبکی فیل کرتے ہوئے اپنے لب دانتوں میں دباگئی پھر اٹھ کر جلدی سے واشروم میں غائب ہوگئی۔
کچھ دیر بعد نہاکر وہ بالوں کو خشک کرتے ہوئے روم میں آئی تو التمش کو کال پر بات کرتا پایا
اس نے جلدی جلدی بال سنوارے اور دوپٹہ اوڑھتے ہوئے کچن میں ناشتہ بنانے کے غرض سے گئی۔۔۔پر ڈائیننگ ٹیبل پر پہلے سے ہی ناشتہ تیار دیکھ اسے اچھنبا ہوا۔۔۔تبھی پیچھے سے التمش نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا
کیسا لگا۔۔۔
وہ گردن گھوما کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی
التمش آپ نے کیوں۔۔۔
کیوں اچھا نہیں لگا۔۔
اسکی بات کاٹتے ہوئے التمش نے مصنوعی خفگی سے پوچھا تو مشال جلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی
اچھا ہے پر آپ نے کیوں بنایا۔۔
اس نے پھر ڈائننگ ٹیبل پر سجے ناشتے کو دیکھ کر کہا
ارے ڈرو نہیں اس بار اچھا بنایا ہے۔۔۔ٹیسٹ کر کے دیکھ لیا تھا پہلے ہی۔۔۔
اسکے دلاسہ دینے پر مشال کو التمش کا بنایا پاستہ یاد آیا تو وہ بےساختہ ہنس دی۔۔۔اسے ہنستا دیکھ التمش بھی مسکرادیا۔۔۔پھر اسے چئیر پر بیٹھا کر ناشتہ سروو کیا۔۔۔۔ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد التمش نے اسے گود میں اٹھایا اور روم میں لے کر آگیا پھر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولنے لگا
چلو۔۔۔ایسا کرو کہ تم ڈسٹنگ کرو۔۔۔زبیدہ(ماسی) تو آنے والی ہوگی۔۔۔اور آج کھانا میں بناؤں گا۔۔
اسکے آئیڈیے پر مشال بوکھلا کر کھڑی ہوگئی
نہیں التمش اتنا کافی ہے۔۔۔کھانا ہم بنالیں گے۔۔
وہ جلدی سے کہہ کر کمرے سے نکلنے لگی
کیا مطلب۔۔۔ناشتہ اچھا نہیں لگا کیا تمہیں۔۔
اس نے مشال کو بازو سے پکڑکر روکا
نہیں۔۔نہیں ناشتہ اچھا تھا لیکن۔۔
لیکن ویلن کچھ نہیں اگر اچھا نہیں بھی بنا تو کیا ہوا۔۔۔میں پھر بھی کھانا بناؤں گا۔۔۔
اس نے روعب جماتے ہوئے کہا تو مشال منہ بناگئی
ماسی کے صفائی کرکے جانے کے بعد سے اب تک وہ ڈسٹنگ کر کے روم میں بیٹھی بور ہورہی تھی۔۔۔پتا نہیں وہ کچن میں کیا کررہا ہوگا۔۔۔یہ سوچ کر اسے تجسس ہورہا تھا کچن میں جانے کا۔۔۔مگر التمش کے ڈر سے ہمت نہیں تھی۔۔۔جب بوریت بڑھنے لگی۔۔۔تبھی وہ کچھ سوچتے ہوئے اٹھی۔۔اور روم سے نکل کر کچن کی طرف گئی۔
ایک چولہے پر چاول چڑھائے جبکہ دوسرے پر وہ موبائل میں ریسیپی دیکھتے ہوئے مصالحے ڈال رہا تھا۔۔۔اسکو کچن میں اسطرح مصروف دیکھ مشال کو شرارت سُوجھی
تمہں منع کیا تھا میں نے۔۔
مشال کو کچن میں داخل ہوتا دیکھ التمش نے خفگی سے کہا
التمش۔۔ہم تو آپ کو یہ بتانے آئے تھے کہ ہمارا کیا دل کررہا ہے کھانے کو۔۔
وہ معصوم سا منہ بنا کر بولی تو التمش کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ایک تو پہلے سے معصوم دکھتی اوپر سے ایسا چہرہ بنانے پر اور کیوٹ لگ رہی تھی۔۔۔
میری سوئیٹی کا کیا کھانے کو دل کررہا ہے۔۔۔
محبت سے اسکے معصوم چہرے کو دیکھ کر التمش نے پیار سے پوچھا
اسکے لہجے پر بہت کوشش کے باوجود بھی مشال کے گال سرخی مائل ہوگئے۔۔۔
وہ۔۔۔ہاں۔۔۔ہمارا آج روٹی کھانے کو دل کررہا ہے۔۔۔
اس نے سنبھلتے ہوئے جلدی سے کہا تو التمش کی مسکراہٹ غائب ہوئی
روٹی۔۔۔
اس نے دہرایا
ہاں ہاں روٹی کھانی ہے ہمیں۔۔۔آپ بنائیں گے نا التمش۔۔۔
اس نے پھر بھولپن سے کہا اور اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیے نگاہ پھیر گئی۔۔۔اب کے التمش کو یہ فکر لگ گئی کہ وہ روٹی کیسے بناپائے گا
مشال ایسا کرو۔۔۔ابھی تو میں نے چاول بنادیے۔۔۔تو روٹی پھر کبھی کھالینا۔۔۔اور روٹی کے ساتھ جو بولو گی وہ بناؤں گا میں اپنی سوئیٹی کے لیے۔۔۔ابھی جلدی سے یہ چکھ کر بتاؤ۔۔۔کیسا بنا ہے۔۔۔
وہ بات بدلتے ہوئے بولنے لگا
نہیں۔۔۔ہمیں آج ہی روٹی کھانی ہے۔۔۔
وہ نروٹھے پن سے بولی تو التمش بےبسی سے اسے دیکھنے لگا
ایک تو کیوٹ اتنی لگتی ہو کہ سمجھ نہیں آتا کہ کام کروں یا تمہیں دیکھوں۔۔۔
بے ساختہ اسکے منہ سے جملہ نکلا جو مشال کے سرخ چہرے کو مزید ٹماٹر بنا گیا۔۔
یہ۔۔۔مکھن کسی اور کو لگائیں۔۔روٹی اگر نہیں بنانی تو کوئی بات نہیں ہم خود بنالیں گے۔۔۔
اسکا یہ طریقہ کام کر گیا۔۔التمش نے اس کے کچھ کرنے سے پہلے ہی کیبنٹ کھول ہر جگہ آٹے کا ڈبہ ڈھونڈا پھر ملنے پر اس نے جلدی سے آٹا نکالا۔۔۔
کچھ دیر بعد مشال اپنی ہنسی بمشکل روکے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جو آٹا گُوند کم اور خود پر لگا زیادہ رہا تھا۔۔پانی ڈال ڈال کر اسنے آٹے کا حشر خراب کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔
یہ تو نہیں ہورہا یار۔۔۔
وہ لاچاری سے بولتے ہوئے مشال کو دیکھنے لگا جسکا چہرہ ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوچکا تھا۔۔۔
تمہیں ہنسی آرہی ہے مجھ پر۔۔۔
وہ تیکھے نقوش سے اسے گھورتا ہوا بولا
ارے نہیں التمش۔۔۔بہت اچھا گوندھ رہے ہیں۔۔۔اور کریے ہوجائے گا۔۔۔
باوجود کوشش وہ یہ جملہ بولتے ساتھ کھلکھلا کر ہنس دی
بڑی ہنسی آرہی ہے نا۔۔۔لڑکی۔۔۔میں تمہیں بخشوں گا نہیں۔۔۔
وہ غصے میں بولتا ہوا سنک میں ہاتھ دھونے لگا مشال اسکا ارادہ بھانپ کر کچن سے رفوچکر ہوگئی۔۔
رکو لڑکی۔۔۔تم اب بچ کے دکھاؤ۔۔
التمش اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے بول رہا تھا
سوری۔۔۔سوری۔۔التمش اب پکا نہیں ہنسیں گے۔۔
وہ اس سے بچنے کے لیے لاؤنج کے صوفے کے گرد گھومتے ہوئے بولنے لگی پھر جلدی سے روم کی طرف بھاگی۔۔۔یکایک التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
بول بھی رہی ہو اور ہنس بھی رہی ہو۔۔۔
التمش نے اسے مسلسل ہنستا دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
اچھا نا۔۔اب نہیں ہنس رہے۔۔دیکھے۔۔
اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش جب ناکام لگی تب مشال چہرہ بلکل سیریس بناکر بولی مگر آنکھوں میں شرارت صاف واضح تھی۔
پہلے سوری۔۔۔
التمش نے گردن اکڑا کر کہا
سوری۔۔۔ٹھیک۔۔اب چھوڑیں۔۔
وہ کہہ کر اس سے دور ہونے لگی
ایسے سوری نہیں چلے گا۔۔
وہ اسے ایک جھٹکے میں اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا
تو پھر کیسے۔۔
اب کے مشال مچلی تھی اسکی کافی سے زیادہ سخت گرفت پر اسی لیے چڑ کر بولی۔۔۔اسکے پوچھنے پر التمش نے ایک انگلی اپنے لب پر رکھی۔۔۔اسکا اشارہ سمجھتے ہی مشال نے بوکھلا کر نفی میں سر ہلایا اور التمش کے سینے پر غصے سے مکے مارنے لگی۔
مجھے کچھ نہیں ہونے والا سوئیٹی۔۔۔تماری اس مزاحمت سے۔۔۔
اپنے کندھے پر مشال کے ناخن گڑتے دیکھ التمش نے مسکراکر کہا اور اسکے بھرے بھرے گلابی ہونٹوں کو دیکھنے لگا
التمش چھوڑیں۔۔۔درد ہورہا ہے ہمیں۔۔
اسکی جھنجھلاتی آواز میں جملہ مکمل ہوتے ہی التمش نے مشال کے کٹاؤ دار لب پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔مشال کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں تھیں۔۔۔۔وہ بےخودی میں اس پر جھکا رہا۔۔۔مشال کی ہارٹ بیٹ جیسے بند ہونے لگی تھی۔۔۔اپنی پشت پر اسکے ہاتھ کا بڑھتا دباؤ محسوس کرکے وہ التمش کو دھکا دینے لگی۔۔۔جو اپنی شدتیں اس پر لٹانے میں مصروف تھا۔۔۔ہونٹ پر شدید جلن ہوتے ہی مشال نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔وہ اسی لیے التمش کی قربت سے ڈرتی تھی۔۔۔اس ستمگر کی قربت جان لیوا ہی ثابت ہوتی تھی اسکے لیے۔۔۔چاہے وہ نفرت سے اسکے قریب آئے یا محبت سے۔۔۔
تبھی التمش نے آہستگی سے اسکے لبوں کو چھوڑا۔۔۔وہ اپنی منتشر دھڑکنوں کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نڈھال ہونے لگی۔۔۔آنکھیں تکلیف برداشت کرنے کی وجہ سے حد سے زیادہ سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔
کچھ سنبھلنے پر مشال نے اپنے نچلے ہونٹ پر انگلی رکھی۔۔۔خون کی بوندیں دیکھ وہ نم آنکھوں سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔جو اب کافی حد تک خود کے بےلگام ہوتے جذبات پر قابو پاچکا تھا۔۔۔اور اب اسکے چہرے پر تھوڑی شرمندگی کے آثار نمودار ہوئے تھے۔۔
سوری۔۔۔
وہ خود حیران تھا۔۔۔کیوں اتنا آؤٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے وہ اسکے سامنے
ہمیں بات ہی نہیں کرنی آپ سے۔۔۔
مشال نے بھرائی ہوئی آواز میں بولتے ہوئے اسے دھکادیا۔۔۔اور بھاگتے ہوئے روم میں گئی پھر زور سے دروازہ بند کرلیا
مشال۔۔۔سوری یار۔۔۔سو سوری۔۔
وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا اسکے پیچھے گیا۔۔۔پر گیٹ بند دیکھ کر کھٹکھٹاتا ہوا بولنے لگا
سوری مشال۔۔یار پتا نہیں کیسے میں۔۔
وہ شرمندہ ہوا تھا اسے ہرٹ کرنے پر۔۔۔اتنی مشکل سے تو وہ ہنسنے لگی تھی پر اب۔۔۔التمش نے خود پر غصہ ہوتے ہوئے زور سے دیوار پر مکا مارا۔۔۔تبھی جلنے کی اسمیل پر وہ بوکھلاتے ہوئے کچن میں بھاگا۔۔۔
سالن اور چاول دونوں جل کر پتیلے سے چپک چکے تھے۔۔۔
ابے یار۔۔
اسکا غصہ بڑھا تھا اپنی بےخودی پر۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی ابھی آغاجان اور بی جان کے پاس سے اٹھ کر اپنے روم میں جارہا تھا۔۔۔تبھی کوریڈور میں نور نے اسے روک لیا۔۔۔
موڈ کیوں خراب ہے صبح سے۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کو کمر پر رکھ کر پوچھنے لگی تو ہادی نے چند پل اسے دیکھا پھر اسے پکڑ کر سائیڈ میں کرتا ہوا روم میں چلا گیا۔
ارے۔۔۔ہادی سنو تو۔۔کیا ہوا ہے بتاؤ نا۔۔۔ناراض ہوکیا۔۔
وہ اسکے پیچھے روم میں آتے ہوئے بنارکے اس سے پوچھنے لگی
تمہیں کیا پرواہ شوہر ناراض ہو یا جو بھی۔۔
وہ ترچھی نظروں سے اسے دیکھتا ہوا ناراض لہجے میں بولا
تم بتاؤ گے تو پرواہ کروں گی نا۔۔۔بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔
وہ چڑگئی تھی صبح سے وہ اس سے لاتعلق بنا گھوم رہا تھا
شوہر کے حقوق پورے نہ کرنے والی بیوی کو گناہ ملتا ہے بہت۔۔۔
اس نے منہ بنا کر کہا جبکہ نور اسکے ایک جملے سے ہی باقی کا مطلب سمجھ گئی۔۔وہ گھور کے رہ گئی اس انسان کو
تو تم صبح سے اس بات پر ناراض ہو۔۔۔
اس نے آنکھیں پھاڑے پوچھا تو ہادی نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا
چھچھورے۔۔۔ان سب کے علاؤہ بھی تمہیں کچھ سوجھتا ہے۔۔۔
وہ بھپر کر بولنے لگی
او ہیلو۔۔۔تمیز سے بات کیا کرو۔۔۔شوہر ہوں میں تمہارا۔۔
ہادی نے کالر جھاڑتے ہوئے کہا
شوہر ہو تو کیا کروں۔۔۔میں نے کہا تھا بیوی بناؤ مجھے اپنی۔۔۔صبح سے اتنا ایٹیٹیوڈ دکھا رہے ہو۔۔۔سمجھ کیا رکھا ہے تم نے خود کو۔۔۔
وہ مسلسل اسے صلواتیں سنائے جارہی تھی جبکہ ہادی جو کچھ بولنے لگا تھا۔۔۔گیٹ پر ریحانہ بیگم کو کھڑا دیکھ خاموش ہوگیا اور انکے سامنے معصوم سی شکل بنائے بظاہر نور کی باتیں سننے کی ایکٹنگ کرنے لگا
نور۔۔
ریحانہ بیگم کی غصے سے بھری آواز پر نور کی چلتی زبان رکی تھی۔۔وہ دانتوں میں لب دباگئی۔۔۔تبھی ریحانہ بیگم روم میں انٹر ہوئیں
یہ کیا طریقہ ہے شوہر سے بات کرنے کا۔۔۔سارے لحاظ بھول گئی ہو کیا۔۔
وہ غصے میں نور کے سامنے کھڑی پوچھ رہی تھی
امی اس کو بھی تو بولیں۔۔یہ بھی تنگ کررہا تھا۔۔
وہ بچنے کے لیے اس پر الزام لگاگئی
جو بھی ہو۔۔۔طریقے سے بات کیا کرو۔۔۔اب شوہر ہے وہ تمہارا۔۔۔اور یہ کیا ہوتا ہے “کررہا تھا”۔۔۔لہجہ درست کرو اپنا۔۔
انکی سختی سے کی گئی تاکید پر جہاں ہادی نے اپنی ہنسی ضبط کی وہیں نور نظریں جھکا گئی
سوری کہو فوراً اسے۔۔
اسکے چپ رہنے پر ریحانہ بیگم نے کہا
امی۔۔۔
وہ چڑتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔مگر انکے آنکھ دکھانے پر نور خفگی سے ہادی کو دیکھتے ہوئے سوری بول دی۔۔
اسکے سوری بولنے پر ہادی ہنسا تھا۔
ہادی۔۔بیٹا میں تمہیں بتانے آئی تھی کہ کل شام میں ہمیں کہیں نکلنا ہے تو تم آفس سے جلدی آجانا۔۔۔
انہوں نے اب ہادی کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا
جی چاچی۔۔
وہ تابعداری سے بولا تو ریحانہ بیگم مسکراتے ہوئے اسکے سر پر چپت لگاتی ہوئی چلی گئیں۔۔۔
انکے جانے کے بعد ہادی نے نور کو دیکھا جو منہ بنائے کھڑی تھی۔۔ہادی کے دیکھنے پر وہ بنا اس سے کوئی اور بات کیے باہر نکل گئی۔۔صاف ناراضگی کا اظہار تھا۔۔۔ہادی نے مسکراتے ہوئے اپنے کان جھکائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاونج کے صوفے پر بیٹھے اس نے ٹائم دیکھا ایک گھنٹہ ہوچکا تھا مشال کو روم میں بند ہوئے۔۔۔اب اس سے اور صبر نہ ہوا تو وہ جیب سے چابی نکالتا ہوا روم کھولنے کے غرض سے گیا۔۔
اندر آکر اس نے دیکھا وہ بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔۔۔التمش ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اسکے پاس گیا۔۔
مشال نے بیڈ پر اسے بیٹھتا محسوس کیا تو تھوڑا سائیڈ پر کھسکی۔۔۔تبھی التمش نے نرمی سے اسکا چہرہ اوپر کیا تو وہ منہ موڑ گئی۔۔۔اسکا روٹھنے کا انداز بھی پیارا لگا التمش کو۔۔۔
سوری۔۔۔
اس نے ہلکی آواز میں کہا
اسکے لہجے میں گِلٹ کا انثر محسوس کر کے بھی مشال نے منہ پھیر کر ہی رکھا
مشی سوری یار۔۔
تقریباً کوئی ایک سال بعد وہ اسے پرانے نام سے بلایا تھا۔۔۔مشال نے جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔سرخ آنکھیں،آنسو سے تر گال اور۔۔۔اسکے کٹاؤ دار لب پر چوٹ دیکھ کر التمش کو مزید شرمندگی نے آگھیرا
آپ بہت برے ہیں التمش۔۔۔
کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد وہ نم آواز میں بولتے ہی اسکے سینے پر سر رکھ گئی۔۔۔اس ستمگر سے تو روٹھنا بھی اب سوہانِ روح ثابت ہوتا تھا۔
میں مجبور ہوں مشی۔۔۔تمہارے سامنے خود کو بےبس محسوس کرتا ہوں۔۔۔
وہ اسکی پشت سہلاتے ہوئے بول رہا تھا
اچھا چلو۔۔۔ایسا کرتے ہیں۔۔۔آج کھانا باہر کھاتے ہیں۔۔۔ویسے بھی وہ آٹا بہت خراب تھا۔۔۔۔میں کسی اچھے آٹے سے تمہیں پھر کبھی روٹی بناکر کھلاؤں گا۔۔
وہ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بات بدلتا ہوا بولا اور وہی ہوا۔۔۔۔مشال روتے روتے ہنس دی۔
آٹا صحیح تھا۔۔آپ کو گوندھنا نہیں آتا۔۔۔
وہ آنسو پوچھتے ہوئے مسکراکر بولی ساتھ ہی التمش کے سینے پر ہلکی سی چپت لگائی تو التمش نے ہنستے ہوئے اسے خود میں بھینچ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نور کا موڈ ٹھیک کرنے کے غرض سے اسے اپنے ساتھ ریسٹورنٹ لے کر آیا تھا۔۔۔۔پر وہاں التمش اور مشال کو ایک ٹیبل پر بیٹھا دیکھ خوشگوار حیرت سے انکی طرف بڑھا۔
آپی۔۔۔
نور جو اسکے پیچھے خاموشی سے چل رہی تھی۔۔۔مشال کو دیکھ کر خوشی سے کِھل گئی مشال نے بھی جب اسے دیکھا تو بے ساختہ اسکی آنکھیں بھرائیں تھیں خوشی سے۔۔۔
میرا پیچھا کررہا تھا۔۔۔
التمش نے ان دونوں بہنوں کو یوں روتے ہوئے گلے لگا دیکھ ہادی کو دانت پیس کر کہا تو وہ ہنسا
اپنی بیوی کو منانے کا واحد یہی طریقہ سمجھ آیا تھا مجھے۔۔
اسکے لہجے میں بےچارگی محسوس کر کے التمش مسکرایا
خوشگوار ماحول میں ان لوگوں نے کھانا کھایا پھر نور کی ضد پر وہ چاروں شاپنگ کرنے نکل گئے۔۔۔شاپنگ مال میں اِدھر مشال التمش کو منع کررہی تھی ہر چیز پر تو دوسری طرف ہادی کے ہاتھ بھر گئے تھے شاپنگ بیگ سے۔۔۔اسکی خراب حالت دیکھ التمش کی ہنسی چُھوٹی۔۔۔۔
تم لوگ کرو شاپنگ۔۔۔میں مشال کو لے کر جارہا ہوں۔۔۔اوکے
اس نے نور کو مگن دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہادی سے کہا مشال بھی ہنس دی ہادی کی روہانسی شکل دیکھ کر
ٹڈی رحم کرو اپنے معصوم شوہر پر۔۔۔
ان دونوں کے بعد بھی اسکے لگاتار کچھ نہ کچھ خریدنے پر ہادی نے ہاتھ میں اٹھائے شاپنگ بیگ اسکے سامنے کر کے لاچاری سے کہا
اچھا نا بس۔۔۔یہ لاسٹ۔۔۔
وہ مصروف انداز میں بولتے ہوئے پھر کچھ لینے لگی
تقریباً دو گھنٹے سے تم یہی جملہ سنا کر مجھے دلاسے دے رہی ہو۔۔۔
ہادی نے تپ کر بولتے ہوئے شاپنگ بیگ وہیں پر رکھ دیے۔۔۔نور منہ کھولے اسے دیکھنے لگی جو اب بےفکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔۔۔
مجھے بات ہی نہیں کرنی چاہیے تھی تم سے۔۔۔
وہ غصے میں کہہ کر اسکے شوز پر اپنی سینڈل سے مارتے ہوئے باہر چلی گئی
آہ۔۔۔ظالم لڑکی۔۔۔
ہادی نے کراہ کر کہا پھر شاپنگ بیگز اٹھائے اسکے پیچھے چل دیا۔
