61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

مطلب؟
وجدان نے آہستگی سے پوچھا
مطلب صاف ہے،مجھے زرا بھی خوشی نہیں ہوئی تم سے مل کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی ملاقات میں۔۔
التمش کی بات پر سب جو پریشان ہوکر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اسکے آخری جملے پر حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
اوہہہ۔۔۔۔۔۔تو آپ اس بحث کی بات کررہے ہیں۔۔۔ویسے ایسا ہی کچھ میری طرف سے بھی ہے۔۔۔مجھے بھی آپ پہلی ملاقات میں کچھ عجیب لگے۔
وجدان نے ہنستے ہوئے کہا
میں عجیب ہی ہوں۔۔۔
التمش نے ہلکی مسکراہٹ لیے کہا
ایک منٹ۔۔۔کیا تم دونوں پہلے بھی مل چکے ہو؟
نیہا نے ان دونوں کے پاس آتے ہوئے حیرت سے پوچھا
جی بلکل۔۔۔۔کچھ گھنٹے پہلے ہی ہماری ملاقات ہوئی تھی اور میری کار پر وہ عنایت بھی انہیں کی کار سے ہوئی تھی۔۔۔۔۔
وجدان کا اشارہ کار کی ہیڈ لائٹ ٹوٹنے پر تھا۔۔۔جس کے بارے میں حیدر ولا آنے کے بعد سب نے اس سے پوچھا تھا۔
اسکی بات پر التمش کی پیشانی پر بل پڑے۔
چلو اچھی بات ہے کہ پہلے ہی ملاقات ہوگئی تم دونوں کی۔۔۔۔اب آؤ تم لوگ بیٹھوں اور التمش بیٹا تم مطمئن ہو جاؤ پہلے۔۔۔۔۔۔۔تبھی ہم آگے بات بڑھائیں گے۔
ریحانہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔انہیں لگ رہا تھا کہ آج التمش اس رشتے کو لے کر کوئی آڑ نہیں ڈالے گا۔۔۔
اور وہیں ہوا۔۔۔پہلے تو التمش نے وجدان سے گھوما پھرا کر کئی سوال کیے۔۔۔۔۔۔اسے اپنے سوالوں میں الجھایا۔۔۔پر وجدان یا تو پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا یا پھر وہ فطری طور پر التمش کی طرح ڈھیٹ تھا۔۔۔۔جو اسکے ہر سوال کا جواب بہت تحمل اور طریقے سے دے رہا تھا۔۔
پھر التمش مطمئن تو نہیں ہوا پر مشال کے اقرار کی وجہ سے خاموش ہوگیا کیونکہ وہ مشال کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
نیہا کے گھر والے مشال اور وجدان کا رشتہ پکا کر کے چلے گئے تو التمش بھی آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔
وہ راستے میں ہی تھا کہ نیہا کی کال آگئی۔۔
تامی تم بلکل ٹینشن مت لینا۔۔۔۔۔۔۔وجدان بیسٹ چوائس ہے مشال کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی میں تمھیں گارنٹی دیتی ہوں۔۔۔
نیہا نے اسے تسلی دی۔۔۔جانتی تھی التمش مشال کے معاملے میں کافی ٹچی تھا۔۔
تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ آج تم مشی کے لیے اپنے کزن کا رشتہ لے کر آرہی ہو۔۔۔۔
التمش نے سنجیدگی سے پوچھا
اوہ کم آن تامی کل رات میں تمہیں بتانے والی تھی پر تم نے بعد میں بات کرنے کا کہہ کر میری کال کٹ کردی اور صبح بھی تم میری کال ریسیو نہیں کررہے تھے۔
نیہا نے اسے وضاحت دی جس پر وہ خاموش ہوگیا
اچھا چلو نا اپنا موڈ ٹھیک کرو۔۔۔میں بور ہورہی ہوں ایسا کرتے ہیں آج کہیں باہر لنچ کرتے ہیں اور پھر گھومیں گے پھر اینڈ میں سی سائیڈ پر چلیں گے۔
نیہا نے اسے پورا پلین بتایا جس پر التمش نے بھنویں اچکائی۔
میڈم کیا میں آپکا اسسٹنٹ ہوں کہ جب آپ بور ہونگی تو شاپنگ کرواونگا۔۔۔بور ہونگی تو گھوماونگا۔۔۔۔پھر بور ہونگی تو لنچ پر لے کر چلونگا۔۔۔
التمش کے سوال پر نیہا ہلکا سا ہنسی پھر کہا
اہاااں۔۔۔التمش چلو نا پلیز۔۔
نیہا نے بچکانہ انداز میں ضد کی تو التمش نے گہرا سانس لیا۔۔
آتا ہوں ریڈی رہو۔۔
التمش نے مسکراتے ہوئے کہا
اوو۔۔۔تھینک کیو سو مچ تامی۔۔۔لو یو۔
نیہا نے خوشی سے کہہ کر فون رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال رات کو بیڈ پر بیٹھے ناول پڑھ رہی تھی تبھی اسکا فون رنگ کرنے لگا اسنے کتاب پر نظریں جمائے ہی فون ریسیو کیا۔
کیسی ہیں آپ؟
بھاری آواز مشال کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اسنے چونک کر سکرین کو دیکھا،انجانا نمبر دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔۔
کون؟
اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے پوچھا
اتنی جلدی بھول گئی مجھے۔۔۔۔۔چلیں میں بتا دیتا ہوں۔۔۔میں وہ ہوں جس کے ساتھ آپکو اپنی شادی شدہ زندگی گزارنی ہے۔۔۔
اسکی مسکاتی آواز میں کہے گئے جملے پر مشال کا دل زور سے دھڑکا
وجدان!
مشال نے آہستگی سے کہا
بلکل صحیح پہچانا۔۔۔۔اب بتائیں کیسی ہیں آپ؟
وجدان نے اپنا سوال دہرایا
میں تو ٹھیک ہوں پر آپکے پاس میرا نمبر کیسے آیا؟
مشال نے ذہن میں اُمڈتا سوال پوچھا
اس صدی میں اگر آپ کسی دوسرے سے یہ سوال کرینگی تو بیوقوف لگینگی۔۔۔۔۔کم آن مشال اس دور میں کسی کا بھی نمبر نکلوانا مشکل تھوڑی ہے۔۔۔
وجدان کی بات پر مشال کچھ دیر خاموش رہی پھر آہستہ آواز میں پوچھا
آپ کیسے ہیں؟
اسکے سوال پر وجدان نے آنکھیں گھومائیں
اب تک تو بس ٹھیک تھا پر جب سے آپ کو دیکھا ہے تب سے بہت خوش رہنے لگا ہوں۔
اسکے ڈرامائی انداز میں کہی گئی بات پر مشال کی پلکیں جھک گئی تبھی اسکے روم کا دروازہ دھڑام سے کھلا مشال نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔جہاں سے التمش تیزی میں آیا اور گرنے کے انداز میں منہ کے بل بیڈ پر لیٹ گیا۔۔
آہہہ۔۔۔مشی تھک گیا میں۔۔
التمش نے چہرا اٹھا کر کہا تو مشال نے وجدان کی کال کاٹ دی جبکہ دوسری طرف وجدان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔پھر اچانک استہزیاء مسکراہٹ اسکے لبوں پر آگئی۔
دیکھتے ہیں کب تک چلتی ہے انکی دوستی۔۔۔۔
کس کی کال تھی۔۔
مشال کا گھبرا کر فون رکھنا التمش نے نوٹ کر لیا تبھی اس نے ایک آئیبرو اٹھا کر پوچھا
التمش کے پوچھنے پر مشال سر جھکائے لب کاٹنے لگی
اوئے ادھر۔۔۔۔کس کا فون تھا۔۔جو چہرے کی ہوائیاں اڑ رہی ہیں
التمش نے اسکے چہرے کے آگے ہاتھ ہلاتے ہوئے مسکراکر پوچھا
وجدان کا۔۔
مشال کے آہستگی سے کہنے پر التمش کی مسکراہٹ سمٹی
اوہ اچھا۔۔۔۔تو اتنا گھبرا کیوں رہی ہے۔۔۔۔۔جیسے کوئی جرم کر دیا ہو۔۔۔۔خیر چھوڑ۔۔۔۔ایسا کر سر دبا دے میرا۔۔۔۔۔بہت درد ہورہا ہے۔
التمش نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا اور سیدھا ہوکر سر تکیے پر رکھ لیا۔۔
مشال آہستہ آہستہ اسکا سر دبانے لگی۔
تجھے وجدان سچ میں پسند ہے۔۔۔
کچھ دیر بعد التمش نے پوچھا تو مشال کا چلتا ہوا ہاتھ رک گیا۔
جواب نہ ملنے پر التمش نے سر اٹھا کر دیکھا تو مشال کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔
پتا نہیں کیوں اسکو مشال کا مسکرانا اچھا نہیں لگا۔۔
اس نے ٹوپک چینج کر دیا اور دوسری باتیں کرنے لگا مشال سے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے مہینے مشال وجدان اور التمش نیہا کی ایک ہی دن منگنی رکھا دی گئی۔۔حیدر ولا میں سب ہی بہت دل جمعی سے منگنی کی تیاریوں میں لگے تھے۔۔۔نوجوان پارٹی میں خاص کر نور ہانیہ اور ہادی تو بہت ایکسائیٹڈ تھے۔۔۔آخر کو گھر میں دو دو شادیاں تھیں۔۔۔
نیہا التمش کے ساتھ اکیلے جاکر منگنی کی شاپنگ کرنا چاہتی تھی پر التمش ہر جگہ نیہا کے ساتھ مشال کو بھی لے لے کر جارہا تھا جس کی وجہ سے نیہا کا موڈ کافی خراب ہوتا۔۔۔۔اسے وجدان پر بھی غصہ آتا کہ اس نے اب تک ایسا کچھ نہیں کیا تھا جس سے مشال اور التمش کے بیچ تھوڑی بہت ہی دراڑ آگئی ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌸🌸🌸🌸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگنی کی شام حیدر ولا کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا۔۔۔۔۔ سب ہی بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔۔آخر کو حیدر صاحب کے پہلے پوتے اور پوتی کی منگنی تھی۔۔
کیسا لگ رہا ہوں میں ٹڈی۔۔
ہادی بالوں کو ہاتھ سے سنوارتا ہوا نور سے پوچھنے لگا۔۔نور نے ایک نظر اسکو دیکھا۔۔۔۔۔جو نک سک سا تیار باقی دنوں سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
بہت ہی خوبصورت۔۔۔۔۔۔۔۔گدھے لگ رہے ہو۔۔۔
نور نے کہہ کر زور سے قہقہہ لگایا
اسکی بات پر ہادی نے آبرو بھنچتے ہوئے نور کو دیکھا جو پنک کلر کے پیپلم میں شانوں پر ڈوپٹہ پھیلائے سادہ سے میک پر بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
خود کو کبھی غور سے دیکھا ہے۔۔۔۔۔ساری خوبصورتی تو قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے دب جاتی ہے اور آئیں بڑی مجھ کو جج کرنے والی۔۔۔
وہ غصے سے کہتا حساب بے باک کرتا ہوا چلا گیا۔۔
جبکہ نور اپنی خوبصورتی کا تازیانہ نکلتے دیکھ منہ پھاڑے اسکی پشت کو دیکھتے رہ گئی
گدھا کہیں کا۔۔
اس نے کلس کر کہا
التمش بلو کلر کی قمیض شلوار پر واسکوٹ پہنے بالوں کو جیل سے پیچھے کی طرف سیٹ کیے،کچھ بال ماتھے پر بکھرے سب سے بے نیاز اپنی بھر پور وجاہت کی وجہ سے لڑکیوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔
جبکہ وجدان بھی گرے شلوار قمیض پر بلیک واسکوٹ پہنے کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
ہے تامی۔۔
نیہا کی آواز پر التمش نے پلٹ کر سامنے دیکھا تو اسکے چہرے پر خود بخود مسکراہٹ آگئی
جبکہ نیہا التمش کے اس خوبصورتی سے مسکرانے پر ہوائوں میں اڑنے لگی۔۔
گولڈن گرارے پر شورٹ قمیض پہنے دوپٹہ ایک کندھے پر ڈالے،بالوں کا جوڑا بنائے مہارت سے کیے گئے میک اپ میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔
التمش کے مسکرانے پر اسے اپنی تیاری وصول ہوتی نظر آئی وہ چہرے پر مسکان سجائے التمش کے قریب آئی پر اسکے چہرے سے مسکراہٹ تب غائب ہوئی جب اس نے دیکھا کہ التمش اسکی موجودگی سے بے خبر ابھی بھی مسکراتے ہوئے سامنے دیکھ رہا تھا۔
اس نے التمش کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو سامنے مشال پیچ کلر کی لمبی فراک پر دوپٹہ شانوں پر ٹھیک سے سیٹ کیے،ہالف بالوں کا ہئیر سٹائل بنائے جبکہ ہالف بال پشت پر کھلے چھوڑے لائٹ سے میک اپ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی،آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے اتر رہی تھی۔۔
آخری سیڑھی پر پہنچنے پر ایک ہاتھ مشال کے آگے آیا مشال نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی وجدان مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا مشال نے گھبراتے ہوئے آہستگی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا۔۔
یہ منظر دیکھ التمش کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔اسکی آنکھوں میں ناپسندیدگی چھاگئی جبکہ نیہا نے بے یقینی سے التمش کا اس منظر کو دیکھ کر مسکراہٹ سمٹنا دیکھا۔۔۔
بہت سی سوچیں اسکے دماغ میں آئیں جسکی وجہ سے وہ بنا التمش کو مخاطب کیے گارڈن میں آگئی پھر وجدان کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
وجدان جو مشال سے محو گفتگو تھا۔نیہا کی کال پر اسے ایکسکیوز کر کے کورنر پر آیا۔۔پھر کال ریسیو کی
کیا مصیبت ہے؟
اس نے ناگواری سے پوچھا
تمہیں میں نے کس لیے بلایا تھا۔۔۔۔بھول گئے ہو کیا۔۔۔۔اب تک زرا سی بھی غلط فہمی کا بیج تک نہیں بویا تم نے ان دونوں کے درمیان۔۔۔۔
نیہا نے تلخی سے پوچھا
سوئیٹ ہارٹ۔۔۔میں نے ابھی اپنا پلین شروع نہیں کیا ہے۔۔۔۔پہلے اس بکری کو اپنے جال میں پھنسانا ہے جو زیادہ مشکل تو نہیں لگ رہا۔۔۔۔فلحال تم مجھے حکم دینا بند کرو مجھے جب صحیح لگے گا تبھی پلین سٹارٹ کرونگا۔۔
وجدان نے شیطانی مسکراہٹ لیے کہا
جو بھی کرنا ہے جلدی کرو۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر نیہا نے فون رکھ دیا۔۔اسکی آنکھوں سے وہ منظر نہیں ہٹ رہا تھا جب التمش مشال کو دیکھ کر مسکرارہا تھا۔۔۔۔آج التمش کی آنکھوں میں اسے مشال کے لیے الگ ہی چمک دکھی۔
فون رکھ کر وجدان نے آہستگی سے کہا
بکری!!!
پھر دھیمی آواز میں کمینگی سے ہنسنے لگا۔
کون بکری؟
پیچھے سے آتی آواز پر وجدان نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے ہی نور کھڑی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
وجدان بھائی کون بکری؟
اس نے پھر پوچھا تو وجدان آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب آیا پھر غور سے نور کو دیکھا
اسے اندازہ تھا کہ مشال جتنی بھولی اور بے وقوف ہے اسکی چھوٹی بہن اتنی ہی تیز ہے۔۔۔
سالی صاحبہ! آپکو کسی نے سکھایا نہیں کے کسی کی باتیں چھپ کر نہیں سنتے۔۔۔
وجدان کے سنجیدگی سے پوچھنے پر نور کچھ دیر چپ ہوگئی۔۔
میں نے کچھ نہیں سنا۔۔
اس نے دھیرے سے کہا
ویری گڈ۔۔
وجدان استہزاء انداز میں کہہ کر چلاگیا
جبکہ نور نے اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے کچھ دیر سوچا
کچھ تو گڑ بڑ ہے وجدان بھائی میں۔۔۔۔۔۔۔ہانی کو بتاتی ہوں۔۔
یہ کہہ کر نور ہانیہ کو ڈھونڈنے لگی۔