61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

آج اتوار تھا اسی لیے التمش گھر پر ہی تھا۔۔۔مشال دوپہر کا کھانا بنا رہی تھی تبھی وہ کچن میں داخل ہوا۔۔۔مشال تھوڑی محتاط ہوئی تھی۔۔۔۔اب تو اسکی موجودگی سے بھی مشال کو ڈر لگنے لگا تھا کہ کب کچھ کر دے۔۔۔۔وہ فریج سے بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔۔۔
پانی پی کر اس نے ایک نگاہِ غلط مشال پر ڈالی جو کپکپاتے ہاتھوں سے مرچیں کاٹ رہی تھی۔۔۔اب التمش کی موجودگی میں اسکی یونہی جان پر بن آتی۔۔۔اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر التمش نے ایک نظر اسکے بوکھلائے ہوئے چہرے کو دیکھا پھر آہستگی سے اسکی طرف بڑھنے لگا۔۔۔مشال نے ترچھی نظروں سے اسے اپنی طرف آتا دیکھا تو اندر امڈتے ڈر پر قابو پاتے ہوئے وہ اپنا دھیان کام پر لگانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
تبھی التمش نے مشال کے پیچھے آکر اسکے مرچی کاٹتے ہاتھ کے اوپر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔اسنے گھبرا کر التمش کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔پر اچانک اپنے پیٹ پر اسکا رینگتا ہاتھ محسوس کر کے وہ سانس روک گئی۔۔۔۔التمش کے بازو کی گرفت تھوڑی سخت ہوئی تو مشال کسمسا کر اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔اسے اپنی گردن پر التمش کی گرم سانسیں محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔التمش نے اپنی ناک اسکی صراحی دار گردن پر ہلکی سی رگڑی تو مشال سانس کھینچ کے رہ گئی۔۔۔
تبھی اس نے مشال کو جھٹکے سے اپنی طرف موڑا اور اسکے چُھری تھامے ہاتھ کو پکڑ کر اسکی پشت پر لے گیا۔۔گھبراہٹ سے مشال کے لب جیسے پیوست ہی ہوگئے۔۔۔بھوری آنکھیں خوف سے اسکے اگلے اقدام کی منتظر تھیں۔۔۔التمش نے اسکا دوسرا ہاتھ تھام کر ایک مرچی اٹھائی اور اسکے چہرے کے سامنے لائی۔۔۔مشال سفید پڑتے چہرے سے پہلے مرچی کو دیکھنے لگی پھر التمش کو۔۔۔۔
کھاؤ سوئیٹی۔۔۔
التمش نے پیار بھرے لہجے میں کہا تو مشال گھبراکر نفی میں سر ہلانے لگا لیکن اگلے ہی پل اسے اپنی کمر پر چھبن کا احساس ہوا۔۔۔وہ اسکے چھری تھامے ہاتھ سے اسکی کمر پر دباؤ ڈال رہا تھا۔۔۔مشال خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
کھاؤ۔۔۔
اب کے التمش نے سرد لہجے میں کہا ساتھ ہی چھری کا دباؤ اسکی نازک کمر پر اور بڑھایا تو مشال نے جلدی سی آدھی مرچی منہ میں لے کر کھالی۔۔۔کمر پر ہوتی تکلیف کے ڈر سے وہ جلدی جلدی اسکی دی ہوئی مرچیں کھانے لگی۔۔۔تیسری مرچی بمشکل کھا کر مشال رک گئی۔۔۔جلن سے اسکی جان نکلنے کو تھی۔۔۔آنسو بھل بھل آنکھوں سے نکل رہے تھے۔۔۔چہرہ بلکل سرخ پڑگیا تھا۔۔تبھی التمش نے جھک کر اسکے بھیگے گال پر اپنے لب رکھے۔۔۔مشال کو اپنی دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دینے لگیں۔۔۔اسنے التمش کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا۔۔۔۔تکیف دینے کے ساتھ اسکی یہ جسارتیں۔۔۔۔مشال کا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔
تبھی التمش تھوڑا پیچھے ہوا اور اسکے دوسرے گال پر بھی جھک کر لب رکھ دیے۔۔۔وہ سختی سے آنکھ میچ گئی۔۔
یہ لو۔۔۔
التمش نے لب اسکے گال سے ہٹا کر چوتھی مرچی اٹھائی تو مشال اذیت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔اسکے لب جلن تیز ہونے کے باعث کپکپانے لگے تھے۔۔۔۔التمش نے اسکے ہونٹوں پر آہستگی سے انگوٹھا پھیرا۔۔۔۔تو مشال تڑپ کر منہ پھیر گئی۔۔۔۔جب سے کیا ضبط ٹوٹا تھا اور وہ پھر ہچکیوں سے رودی۔۔۔۔کیوں وہ اسکے ساتھ ایسا کررہا تھا۔۔۔کیوں اسکو تکلیف میں دیکھ کر بھی وہ لاپرواہ بنا ہوا تھا۔۔۔۔
روتے روتے وہ اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی تبھی التمش کی آواز اسکے کان میں پڑی۔
تمہیں پتا ہے۔۔۔کل میں نے ڈیڈ سے بہت باتیں کی۔۔۔پر۔۔انہوں نے آگے سے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔دیتے بھی کیسے۔۔۔
وہ زخمی سا ہنسا۔۔۔
ابھی تمہیں ان مرچوں سے جتنی جلن ہورہی ہے نا کل اس سے بھی زیادہ جلن اور تکلیف میرے سینے میں ہورہی تھی۔۔۔بابا کو اس حالت میں دیکھ کر۔۔۔
بولتے بولتے التمش رکا اور مشال کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اسکا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اوپر کیا۔۔
تم نے کہا تھا نا کہ صرف ایک غلطی کی ہے۔۔۔اس پر بھی کوئی تمہیں معاف نہیں کر رہا۔۔۔پر مشال تم نے کبھی یہ سوچا کہ۔۔۔بقول تمہارے صرف ایک غلطی کی وجہ سے۔۔۔۔ہمارا ہنستا کھیلتا گھر کس طرح ٹوٹ گیا ہے۔۔۔کتنے خوش رہتے تھے ہم لوگ۔۔۔پر تم نے۔۔۔
مشال اگر تم ایک دفعہ بھی مجھ سے آکر پوچھتی نا کہ کیا میں نے ایسا کیا۔۔۔تو میں اسی وقت تمہیں سب ایکسپلین کرتا بٹ تم نے کیا کیا۔۔۔۔سب کے سامنے مجھے عیاش پسند،گرا ہوا انسان ٹہرا دیا۔۔۔اس وقت لوگوں کی تمسخر اڑاتی نظروں سے بھی مجھے اتنا فرق نہیں پڑا جتنا تمہاری بے اعتباری نے مجھے توڑا۔۔۔میں ختم ہوگیا تھا اسی دن۔۔۔جب تم کراہیت آمیز نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ایک دفعہ بھی تم نے یہ نہیں سوچا کہ سامنے کھڑا انسان جس پر تم اتنا بڑا الزام لگا رہی ہو وہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ ہے جس کے ساتھ تم نے اپنا پورا بچپن گزارا ہے۔۔۔۔پندرہ سال پرانی دوستی بھلا کر تم نے کیسے کسی غیر کی بات پر بھروسہ کر لیا۔۔۔پر خیر۔۔۔میں یہ سب تمہیں کیوں بتارہا ہوں۔۔۔تمہیں میں صرف اتنا کہوں گا کہ دعا کرو۔۔۔کہ بابا صحیح ہو جائیں۔۔۔کیونکہ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہونگے تب تک میرے ساتھ حیدر ولا کا کوئی فرد بھی تمہیں معاف نہیں کرے گا۔۔۔
التمش نے لہو رنگ آنکھیں اسکے سرخ چہرے پر گاڑ کر اذیت سے کہا پھر اسے دھکیلتا ہوا وہاں سے واک آؤٹ کرگیا۔۔۔اسکے دھکیلنے پر مشال کی پشت سلیپ سے ٹکرائی۔۔وہ نیچے گر کر بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔
پچھتاوا ختم ہوکے نہیں دے رہا تھا۔۔۔کاش کے وقت پلٹ جائے کاش۔۔۔وہ تکلیف سے روتی ہوئے سوچ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔💔💔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن یونہی بے کیف سے گزرنے لگے۔۔۔التمش اس سے بلکل بےنیاز ہوچکا تھا۔۔۔آفس سے وہ روز رات کو حیدر ولا چلے جاتا پھر وہاں سے دیر میں فلیٹ پر آتا۔۔۔اس نے مشال سے بات تک ترک کردی تھی۔۔۔بس ضرورت کے تحت کبھی کوئی بات ہوجاتی ورنہ وہ یوں رہنے لگا تھا جیسے اسکے علاوہ فلیٹ میں کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔
مشال کو اسکی بےرخی اندر ہی اندر ماررہی تھی۔۔۔مگر خود کے کیے گئے پر وہ مجبوراً یہ سب برداشت کررہی تھی۔۔۔فون نہ ہونے کی وجہ سے وہ نور سے بات کر کے بھی دل نہیں بہلاسکتی تھی۔۔۔اکیلے اکیلے اسکا دم گھٹنے لگا تھا اس فلیٹ میں۔۔۔اپنوں کی یاد اسے بہت رلاتی تھی۔۔۔
دوسری طرف حیدر ولا میں شادی کی تیاری زور و شور پر تھی مگر اس بار گھر میں پہلے جیسی رونق نہیں تھی۔۔۔بس ہانیہ کچھ کزنس کے ساتھ مل کر تھوڑی بہت مستی کرلیتی سب کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے۔۔۔
آج چھ مہینے بعد نور اور ہادی کی بارات تھی۔۔۔ایک دفعہ پھر حیدر ولا کو سجایا گیا تھا۔۔۔ہر طرف گہما گہمی کا سماں تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌺🌺🌺🌺۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں جارہے ہیں آپ؟
مشال نے اسے تیار ہوتا دیکھ آہستہ آواز میں پوچھا
تم سے مطلب۔۔
التمش نے سپاٹ لہجے میں الٹا سوال کیا تو وہ چپ ہوگئی۔۔۔اسے دکھ ہوا تھا۔۔۔اتنے مہینوں سے تو وہ اسکی لاتعلقی برداشت کررہی تھی۔۔۔اس امید پر کہ شاید کبھی وہ ٹھیک ہو جائے اسکے ساتھ۔۔۔
فون بیل بجنے پر التمش نے کال ریسیو کی اور سپیکر پر رکھ کر بالوں میں برش کرنے لگا۔۔۔
بھائی کب تک آئیں گے سب ویٹ کررہے ہیں۔۔۔
ہادی کی آواز پر مشال چونکی
کیوں۔۔۔میری شادی ہے جو سب ویٹ کررہے ہیں۔۔۔
التمش نے مصروف انداز میں پوچھا
بھائی۔۔۔سب کیا کہیں گے دلہے کا بڑا بھائی ہی غائب ہے۔۔۔کچھ تو میری عزت کا خیال کریں اور جلدی آجائیں۔۔۔۔سب پوچھ رہے ہیں آپ لوگوں کا۔۔۔
ہادی نے تھوڑا چڑتے ہوئے کہا تو مشال نے لپک کر التمش کا فون اٹھایا۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہادی کیا بول رہا ہے۔۔
ہادی۔۔کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔کس کی شادی؟
مشال نے الجھ کر پوچھا
ارے۔۔۔مشال ایسے کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔تمہیں نہیں پتا کیا۔۔۔نور اور میری شادی۔۔۔اور ایک منٹ۔۔تم آرہی ہو نا۔۔۔
ہادی کو حیرت ہوئی۔۔اسے لگا تھا مشال کو بتایا ہوگا التمش نے۔۔
اسکی بات پر مشال بے یقینی سے التمش کو دیکھنے لگی۔۔۔جو تنے ہوئے جبڑوں سمیت اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔مشال۔۔۔آرہے ہو نا آپ لوگ جلدی۔۔۔
ہادی نے پھر پوچھا تو التمش نے مشال کے ہاتھ سے موبائل لے کر کان سے لگایا۔
آرہا ہوں میں۔۔
یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اور باہر جانے لگا
ہماری نور کی شادی ہورہی ہے اور آپ نے ہمیں بتایا بھی نہیں۔۔
مشال کے بےیقین الفاظ اسکے کان پر پڑے مگر وہ اگنور کرتے ہوئے نکلنے لگا تبھی مشال اسکے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔
ہماری بہن کی شادی ہورہی ہے اور آپ نے ہمیں بتایا بھی نہیں۔۔۔
اب کی بار اس نے غم وغصے کی وجہ سے چیخ کر کہا تو التمش نے ناگواریت سے اسے دیکھا
ٹائم نہیں ہے ابھی۔۔۔آکر بات کرونگا۔۔ابھی دماغ خراب مت کرو۔۔۔
التمش سرد لہجے میں بول کر نکلنے لگا مگر اگلے ہی پل مشال نے اسکا گریبان پکڑ لیا۔۔
آخر سمجھتے کیا ہیں آپ خود کو۔۔۔جب چاہتے ہیں تکلیف دے دیتے ہیں۔۔۔جیسے چاہ رہے ہیں ویسے رہ تو رہے ہیں ہم۔۔۔پھر بھی ہمیں غیروں کی طرح سے ٹریٹ کیا جارہا ہے۔۔
وہ اذیت سے چیخی تو التمش نے اپنا گریبان چھڑوا کر اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا
جو تم نے کیا تھا نا۔۔وہ غیر بھی نہیں کرتے۔۔
اسنے دانت پیس کر کہا تو مشال بھبھک کر رودی
التمش۔۔بہن ہے وہ ہماری۔۔
اس نے التمش کے کندھے پر دونوں ہاتھ رکھ کر سر جھکائے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تو التمش نے گہرا سانس لیا
دیکھو مشال۔۔ابھی پہلے ہی دیر ہوچکی ہے۔۔۔میں آکر بات کروں گا تم سے۔۔۔۔اوکے
التمش نے تحمل سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر سمجھانا چاہا مگر مشال نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا
کیا بات کریں گے۔۔۔ہاں۔۔۔اتنی بڑی بات ہم سے چھپائی اب اور کیا رہ گیا ہے بات کرنے کو۔۔۔اور آکر کیا بات۔۔ہم بھی چلیں گے آپکے ساتھ۔۔۔
وہ آپے سے باہر ہوئی تھی اسکی بات سن کر
کچھ چھپایا نہیں ہے بس بتانا ضروری نہیں سمجھا میں نے اور اب اگر میرا راستہ روکا تو بہت برا ہوگا۔۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے چلنے کی۔۔۔
التمش غصے میں کہہ کر کمرے سے نکلا۔۔مشال کو اسکے الفاظ ساکت کرگئے۔۔کیا وہ اتنی عرزاں ہوگئی تھی۔۔۔کچھ دیر بعد ہوش میں آنے پر وہ بھاگی تھی التمش کے پیچھے مگر تب تک وہ جاچکا تھا۔۔۔مشال روتے ہوئے وہیں لاؤنج میں بیٹھ گئی۔۔۔سب نے جس طرح اسے غیر سمجھ کر ہر چیز سے دور کردیا تھا۔۔۔۔وہ ٹوٹ گئی تھی۔۔کیا اتنی سزا کم تھی اسکے لیے کہ اتنے مہینوں سے اپنوں سے دور رہ رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد اچانک ڈور بیل بجنے پر مشال نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔