61.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

Episode #16
انتہا درجے کے نِیچ اور عیاش پسند انسان ہیں آپ۔۔۔
نہایت نفرت سے مشال نے چیخ کر یہ الفاظ ادا کیے۔اسکے التمش کے ساتھ اس رویے پر سبھی حیرتوں میں گِھرے ہوئے تھے۔
مشال!
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔کس طریقے سے آپ بات کررہی ہیں التمش سے اور یہ تھپڑ۔۔۔
آمنہ بیگم نے غصے میں کہا
بی جان بدتمیزی نہیں۔۔۔بلکل صحیح کررہے ہیں ہم۔۔۔اگر آپ لوگوں کو ہم نے ان کی اصلیت بتائی نا تو آپ لوگ بھی یوں ہی تھپڑ مارینگے انہیں۔۔۔
لہجہ درست کرو مشال اپنا۔۔اور ایسا کیا کِیا ہے التمش نے جو تم نے اسے یوں تھپڑ مارا؟
عالیہ بیگم کو بھی اسکا لہجہ ناگوار گزرا تبھی انہوں نے سامنے آکر سختی سے بولا
تائی امی۔۔۔ہم نہیں بتائیں گے۔۔۔آپ خود پوچھیے ان سے۔۔۔کیا گُل کھلارہے ہیں یہ باہر۔۔۔
مشال نے التمش کو سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہا
التمش نے ایک نظر سائیڈ پر کھڑے وجدان کو دیکھا جس کے چہرے پر تمسخر اڑاتی مسکان تھی۔۔۔پھر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود میں ابلتے غصے کو نارمل کیا اور تحمل سے پوچھا
مشی۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔کیوں اسطرح سے ریئکٹ کررہی ہے؟
ہم کس طرح سے ریئکٹ کررہے ہیں۔۔آپ بتائیے نا سب کو اپنی اصلیت کہ کیا کرتے ہیں آپ باہر۔۔۔کوٹھے میں جاکر وہاں کی وحشیاوں سے اپنی راتیں رنگین کرتے ہیں،گِھن آرہی ہے ہمیں آپکو اپنا دوست کہتے ہوئے۔۔۔
مشال کے جملوں نے سب کو ساکت کردیا۔۔۔اب سبھی کی نظریں التمش پر گئیں جبکہ وہ حیرت سے مشال کو دیکھ رہا تھا۔یہ کیا کہہ رہی تھی وہ۔۔۔
تجھے یہ کس نے کہا؟
التمش نے تھوڑا سختی سے پوچھا
کسی نے کہا نہیں۔۔۔بلکہ ہم نے خود آج اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔بتائیے سب کو آپ کہاں سے آرہے ہیں ابھی اور وہ لڑکی کون تھی۔۔۔جس کو آپ نے گلے لگائے رکھا تھا۔
مشال نے پھر چیختے ہوئے کہا تو التمش کو سمجھ آیا کہ اسکا اشارہ کس طرف تھا مطلب مشال اس بات کو غلط وے میں لے رہی تھی۔۔مگر وہ ریڈ لائٹ ایریا میں آئی کیسے۔۔
بولیے نا۔۔چپ کیوں ہیں۔۔
اسے چپ دیکھ کر مشال پھر چیخی
دیکھ مشی میری بات سُن۔۔تُو جیسا سوچ رہی ہے ویسا کچھ نہیں ہے۔۔۔تجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔۔میں سب کلئیر کردونگا۔۔۔پر ابھی تُو چپ ہوجا۔۔پلیز
التمش نے جلدی سے مہمانوں کا لحاظ کرتے ہوئے مشال کا بازو پکڑ کر کہا تو اس نے زور سے التمش کا ہاتھ جھٹکا۔
ہاتھ مت لگائیے ہمیں۔۔۔گھن آرہی ہے ہمیں آپ سے۔۔۔پہلے آپ سب کو یہ بتائیں کہ آپ اس گندی جگہ پر اس لڑکی کے ساتھ تھے یا نہیں۔۔۔
مشال کا کراہیت آمیز لہجہ التمش کے دل پر کاری ضرب لگارہا تھا۔۔۔کیوں وہ اسکی عزت کا تماشہ بنارہی تھی سب کے سامنے۔۔
مشی۔۔۔ہاں۔۔میں تھا وہاں پر۔۔لیکن جو تُو۔۔
ابھی التمش کے الفاظ بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ اسے موڑ کر زمان صاحب نے اسکے گال پر زوردار تھپڑ رسید کیا۔۔
التمش بلکل گنگ ہوگیا بس اسکی ساکت نظریں اپنے اس باپ پر تھیں۔۔۔جس نے آج تک اسے ڈانٹا تک نہ تھا۔۔۔اور اب۔۔
بابا!!
اس کے لب آہستہ سے پھڑپھڑائے
آج تم نے شرمندہ کردیا مجھے۔۔۔
زمان صاحب نے اذیت سے کہا جبکہ عالیہ بیگم بھی صدمے سے صوفے پر ڈھے گئیں۔اب تو کوئی شک باقی نہ تھا۔التمش نے خود اقرار کیا تھا۔ہادی اور ہانیہ بھی دکھ سے التمش کو دیکھ رہے تھے۔۔جبکہ نور سمجھ چکی تھی کہ یہ سب کس نے کیا ہے۔۔۔اس نے نفرت بھری نظروں سے وجدان کو دیکھا۔
تبھی کل جب ہم آپکے روم میں آئے تھے تب آپ ہمیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔شرم آنی چاہیے آپکو التمش۔۔۔مطلب ہم پر بھی آپکی نیت خراب ہوگئی تھی۔۔۔
مشال نے بری طرح روتے ہوئے تکلیف دہ آواز میں کہا جبکہ التمش اسے شاک سا کھڑا دیکھتا رہا۔مطلب وہ لڑکی اسکی محبت کو حوس کا نام دے رہی تھی۔۔۔اس نے تو کل پہلی مرتبہ مشال کو محبت بھری نظروں سے دیکھنے کی گستاخی کی تھی۔
How dare you Tami… You’re cheating on me..
نیہا نے غصے میں التمش کے پاس آکر کہا اور اسکے گال پر تھپڑ مارنے لگی مگر التمش نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
میں نے یہ حق صرف اپنوں کو دیا ہے۔۔۔غیروں کو نہیں۔۔
خود پر ضبط کرتے ہوئے اس نے نیہا سے دانت پیس کر کہا پھر اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔جبکہ نیہا اپنی تذلیل پر تلملا اٹھی۔
ہاں۔۔ہاں اب تو کہو گے نا اپنا اور غیر۔۔۔۔پہلے مجھے روکتے تھے ہر کام سے کہ نیہا یہ غلط ہے وہ غلط ہے۔۔۔اب خود کو دیکھو۔۔۔خود کتنے اچھے ہو تم۔۔۔بہت چِیپ قسم کے انسان ہو تم تامی۔۔۔شیم آن یو۔۔۔اور بتاؤ۔۔کتنی راتیں گزاریں ہیں تم نے باہر۔۔۔
نیہا جیسے پھٹ پڑی تھی۔
اپنی بکواس بند کرو۔۔۔
التمش غصے سے دھاڑا
تم فلحال اپنے کمرے میں جاؤ التمش۔۔۔
حیدر صاحب نے اسے جھڑکا
آغاجان آپ لوگ میری ایک دفعہ بات تو سن لیں۔۔۔میں کہہ رہا ہوں نا کہ جیسا آپ لوگ۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کہا جارہا ہے تمہیں۔۔
زمان صاحب اسکی بات کاٹ کر برہم ہوئے پھر ساتھ ہی اسکی طرف بڑھے
بابا پلیز۔۔۔بھائی جائیں نا آپ اندر۔۔۔
ہادی نے زمان صاحب کو روکتے ہوئے التمش سے کہا
التمش نے لہو رنگ آنکھوں سے ایک نظر سب کو دیکھا کئی لوگوں کی اس پر تمسخر اڑاتی نظریں تھیں۔۔۔اسکا دل چاہا پوری دنیا جلا ڈالے۔۔کیسے اس کے اپنے ہی سب کے سامنے اسکی عزت کرچی کرچی کررہے تھے۔۔اور کرتے بھی کیوں نہیں۔۔۔جب الزام لگانے والی ہی وہ تھی جس کے بارے میں التمش زمان ہر کسی کو کہتا تھا کہ میرے کردار کی سچائی پوچھنی ہو تو مشال سے پوچھنا۔۔۔
آج اسی کے الفاظ طمانچے کی صورت میں اس پر پڑے تھے۔۔دبی دبی ہنسی اور سرگوشیاں سُن کر التمش نے اذیت سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔
بھائی جائیں نا روم میں۔۔۔پلیز
ہادی نے پھر اس سے کہتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو التمش اسکا ہاتھ جھٹکتا ہوا گھر سے باہر جانے لگا۔
توبہ۔۔۔یہ ہیں شریف گھروں کے لڑکے۔۔۔ارے اتنی ہی آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔تو شادی جلدی کرلیتے۔۔۔نہ نہ بھئی ہم تو اپنی بیٹی کی شادی ایسے گرے ہوئے کردار کے لڑکے سے نہیں کریں گے۔۔
نیہا کی ماں نے سب کو سناتے ہوئے زور سے کہا تو التمش کے قدم تھمے۔اس نے مڑ کر ایک نظر پیچھے دیکھا
یہاں التمش زمان کو اپنا آپ مرتا ہوا محسوس ہوا۔۔آغاجان فیاض میر صاحب کے آگے ہاتھ جوڑے ان سے معافی مانگ رہے تھے۔۔۔
التمش کا دل چاہا یا تو خود کو ختم کر ڈالے یا پھر سامنے کھڑی اس لڑکی کو جو اسکی محبت تھی۔۔۔
وہ غصے میں گھر سے نکلتا چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🥀🥀🥀🥀۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🥀🥀🥀🥀۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج حیدر ولا پر یہ رات بہت مصیبت زدہ گزری تھی۔کتنے ہی لوگ ان سب کو سنا کر اور انکا مزاق بناکر گئے تھے۔۔۔صبح تک جو گھر بلکل رونق سے بھرپور تھا۔ابھی مکمل سنسان تھا۔۔رات گئے وہ بکھرے ہوئے حلیے میں حیدر ولا لوٹا سبھی گھر والے لاؤنج میں ہی بیٹھے تھے۔۔
وہ خاموشی سے اوپر اپنے روم میں جانے لگا۔تبھی زمان صاحب کی آواز پر اسکے قدم تھمے ۔
عالیہ بیگم اس سے کہہ دیں کہ آج رات صرف یہاں پر رکے۔۔۔پھر صبح یہاں سے خود ہی چلا جائے۔۔۔۔ہمارے گھر میں ایسے انسان کی کوئی جگہ نہیں ہے جو اپنے ماں باپ کے لیے شرمندگی کا باعث ہو۔۔۔جس کی وجہ سے گھر کی لڑکی کی عزت خطرے میں ہو۔۔۔۔
زمان صاحب ناگواری سے بول کر اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ التمش ان کے لفظوں کے خنجر اپنے دل میں پیوست ہوتا محسوس کررہا تھا۔
جبکہ بی جان اور آغاجان بھی اسے تاسف سے دیکھتے ہوئے اندر گئے۔۔۔
التمش نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں عالیہ بیگم رورہی تھیں۔۔۔ان ہی کے برابر میں وہ کھڑی کراہیت آمیز نظروں سے التمش کو دیکھ رہی تھی۔۔اسے دیکھتے ہی التمش کے جبڑے تن گئے۔۔۔نگاہ پھیر کر وہ یونہی خاموشی سے اوپر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🥀🥀🥀🥀۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🥀🥀🥀🥀۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر جاگنے کی وجہ سے صبح اسکی آنکھیں بلکل سرخ رنگ ہورہی تھیں۔رات والے حلیے میں ہی وہ نیچے آیا۔۔سب کی نظریں اسے خود میں چبھتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔
سامان لے کر نہیں آئے اپنا۔۔۔آگے جاکر اکیلے رہو گے تو ضرورت پڑے گی۔۔
زمان صاحب نے طنزیہ انداز میں بولا تو وہ کچھ پل خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا پھر کہا
مشکل وقت میں ضرورت اپنوں کی ہوتی ہے عارضی چیزوں کی نہیں۔۔۔
بول کر التمش باہر نکل گیا مگر اسکے چہرے پر رقم تکلیف عالیہ بیگم سے دیکھی نہیں گئی۔۔۔وہ روتے ہوئے اسکے پیچھے جانے لگیں۔۔تبھی ہادی،ہانیہ اور ریحانہ بیگم نے انہیں روکا۔۔
ہادی پلیز اسے روک دو۔۔۔ہادی اسے واپس لے آؤ۔۔۔
وہ روتے ہوئے ہادی کو پکڑ کر بولنے لگیں جبکہ مشال بی جان کے پاس بیٹھی رورہی تھی۔۔
وہ باہر نکل کر کچھ دور ہی پیدل گیا تھا کہ سامنے چند لڑکے ہاتھ میں ہاکی اور ڈنڈے وغیرہ لیے کھڑے تھے۔۔۔وہ آگنور کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا تبھی ان میں سے ایک نے التمش کے سر پر ضرب لگائی وہ لڑکھڑایا تبھی ایک ساتھ وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۔۔۔التمش چاہتا تو ایک ایک کو سبق سکھاتا مگر وہ ابھی خود اندر سے اتنا بکھرا ہوا تھا کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔۔۔گھر والوں کی بے اعتباری نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا خاص کر اس دشمنِ جاں نے۔۔۔کیسے وہ اس پر الزام لگاسکتی ہے۔۔۔اسکو صفائی کا موقع تک نہ دیا گیا۔۔۔اور فیصلہ کردیا کہ وہ کریکٹرلیس ہے۔۔۔کہیں نہ کہیں اسے یقین تھا اس بات پر کہ یہ سب وجدان کا کیا کرایا ہے۔۔۔مگر مشال۔۔۔وہ کیسے اس پر یقین کر کے التمش کے خلاف ہوسکتی تھی۔۔۔
دور گاڑی میں بیٹھا وجدان تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے پٹتا دیکھ رہا تھا۔۔۔
جتنا سوچا تھا اس سے زیادہ ہی ہوگیا۔۔۔
اس نے کمینگی سے کہا پھر نمبر ڈائل کیا
التمش کو جو لڑکے ماررہے تھے ان میں سے ایک نے فون ریسیو کیا۔۔۔
جی سر۔۔
سالوں۔۔صرف مارتے ہی رہو گے یا وہ بھی کرو گے جو کہا تھا۔۔۔
وجدان نے تھوڑا سختی سے کہا تو اس لڑکے نے دور کھڑی اسکی کار کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا
ارے کیوں ماررہے ہو آپ لوگ اس بے چارے کو۔۔
وہاں آتے جاتے لوگوں نے انہیں روکا
جناب یہ آدمی بے چارہ نہیں ہے۔۔۔بلکہ آوارہ ہے۔۔۔اس شہر کے نامور بزنس مین زمان صاحب کا بیٹا ہے۔۔۔بڑا ہی کوئی عیاش پسند ہے۔۔۔روز کوٹھوں پر جاتا ہے۔۔۔اب اصلیت کھلنے پر منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔۔۔
ان لڑکوں میں سے ایک نے بلند آواز میں کہا تو سب نے منہ پر ہاتھ رکھ لیے
یہ امیر زادے تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔۔۔منہ پر شریف بنتے ہیں اور پیٹ پیچھے کالے کرتوت کرتے ہیں۔۔۔ایسے لوگوں کو تو ذلیل کرنا چاہیے معاشرے میں۔۔۔
ان لوگوں میں سے ایک نے ہانک لگائی تو ان لڑکوں کو اور حوصلہ ملا ان میں سے جس کو وجدان نے کال کی تھی۔۔اس نے اپنی کار سے کالک کی ڈبی نکالی اور التمش کی طرف بڑھنے لگا جس کے منہ اور جسم پر جگہ جگہ پر خون لگا تھا وہ خاموشی سے نیچے بیٹھا تھا۔۔۔
التمش کی سوچ کا تسلسل تب ختم ہوا جب اسے اپنے منہ پر کچھ گیلا محسوس ہوا۔وہ لڑکا اسکے چہرے پر کالک لگارہا تھا۔۔۔بس۔۔۔یہی پر اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔وہ غصے میں اسکا ہاتھ پکڑ کر مڑوڑتے ہوئے اٹھا پھر ان لوگوں پر قہر کی طرح ٹوٹ پڑا۔۔۔
ہادی جو اسکے پیچھے آرہا تھا اسے یوں وہاں کھڑے لڑکوں کو پیٹتا دیکھ کر روکنے دوڑا۔۔
دور ہٹ۔۔۔
خود کو روکتے ہادی کو التمش دھکا دے کر دھاڑا
بھائی پلیز۔۔گھر چلیں۔۔۔
ہادی نے منت سے کہا پھر اسے پکڑ کر لے جانے لگا مگر التمش اسے پھر دھکا دے کر ان لڑکوں کے پیچھے دوڑا جو وہاں پڑے کراہ رہے تھے پر التمش کو اپنی طرف آتا دیکھ جلدی سے کار میں بیٹھ کر واپس بھاگنے لگے۔۔۔
بھائی نہیں۔۔۔پلیز چلیں بھائی۔۔
ہادی نے پھر اسکے سامنے آتے ہوئے کہا جبکہ التمش اس کے پیچھے دیکھ رہا تھا جہاں سے وہ لڑکے ابھی بھاگے تھے۔
کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ۔۔۔کہا نا جا یہاں سے۔۔
التمش نے شعلہ بار نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا
بھائی امی بہت رورہی ہیں۔۔۔پلیز گھر چلیں۔۔پلیز۔۔
ہادی نے بے چارگی سے کہا
پہلے تُو یہ بتا۔۔۔۔۔تجھے لگتا ہے کہ میں یہ سب کرسکتا ہوں۔۔بول مجھ پر جو الزام لگائے گئے ہیں وہ ٹھیک ہیں؟
التمش نے اس سے پوچھا تو ہادی کچھ دیر خاموش رہا
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرا بھائی کبھی کچھ غلط نہیں کرسکتا۔۔۔کسی کو ہو نہ ہو لیکن مجھے پورا بھروسہ ہے آپ پر۔۔۔
ہادی کے بولنے پر التمش نے اسے دھندلی ہوتی نظروں سے دیکھا پھر جھٹکے سے گلے لگا لیا۔۔۔کوئی تو تھا جو اس پر یقین کرتا تھا۔۔
بھائی اب پلیز گھر چلیں۔۔۔ورنہ امی کی طبیعت بگڑ جائے گی۔۔
پہلے تو وہ ہادی کے بولنے پر نہیں مانا مگر اسکے بے جا ضد سے خاموشی سے اسکے ساتھ چل دیا۔۔
حیدر ولا میں جہاں عالیہ اور ریحانہ بیگم رورہی تھیں وہیں آغاجان اور زمان صاحب ضبط سے بیٹھے تھے۔۔۔گھر سے نکال تو دیا تھا اسے مگر باپ تھے۔۔۔تکلیف ہورہی تھی۔۔۔۔آخر کو وہ حیدر ولا کا لاڈلا پوتا تھا۔۔۔مگر کل رات اسکے اعتراف پر سب ہی غم زدہ تھے۔۔مشال اور ہانیہ بھی صوفے پر بیٹھی رورہی تھیں۔ایک کو اپنے بھائی کا دکھ تھا تو دوسری کو اپنے دوست کا۔۔۔۔۔۔جبکہ نور کونے میں بے بس کھڑی تھی۔۔۔۔سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں بول سکتی تھی۔۔۔بی جان بھی صوفے پر بیٹھی تھیں۔۔۔انہیں لگ رہا تھا جیسے انکے ہنستے کھیلتے گھر کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔
تب ہی وہ ہادی کے ساتھ آہستگی سے اندر داخل ہوا۔۔۔عالیہ بیگم اسے دیکھ کر روتے ہوئے اسکے پاس گئی مگر التمش کے جسم پر ہر جگہ لگے خون اور دائیں گال پر لگی کالک دیکھ کر انکے قدم تھم گئے۔۔۔وہ نظریں جھکائے پتھریلے تاثرات لیے کھڑا تھا۔۔جبکہ اسکا سفید چہرہ ضبط سے سرخ ہورہا تھا۔۔مشال سمیت سب ہی اسکی حالت دیکھ کر شاک ہوگئے۔۔کچھ ہی دیر میں کیا حشر کر دیا تھا لوگوں نے اسکا۔۔۔
زمان صاحب جو کب سے خود پر کنٹرول کررہے تھے۔۔۔اسکی یہ بکھری حالت دیکھ کر انکے سینے میں درد کی شدید لہر دوڑی۔۔۔وہ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے گر گئے۔۔
بابا!!
ہادی کی چیخ پر سبھی زمان صاحب کی طرف متوجہ ہوکر انکی طرف دوڑے۔۔
ہادی گاڑی نکالو۔۔۔جلدی۔۔
بی جان نے جلدی سے ہادی کو کہا
وہ لوگ زمان صاحب کو لے کر ہسپتال جارہے تھے ۔التمش جو خاموش کھڑا تھا انہیں دیکھ کر گھبراتے ہوئے انکے قریب آیا مگر آغاجان نے اسے روک دیا۔وہ بے یقینی سے ان لوگوں کو جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔کچھ ہی پلوں میں اسکی عزت دو موٹی کی کردی گئی تھی۔
پھر ہادی سمیت عالیہ بیگم،ریحانہ بیگم،آغاجان اور بی جان ہسپتال چلے گئے۔۔۔
التمش نے آنکھوں میں آئی نمی کو پلک جھپک کر اپنے اندر اتارا۔۔پھر قہر برساتی نظروں سے مشال کو گھورا جو ہانیہ کو چپ کروارہی تھی۔۔۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ مشال کی جان لےلے۔۔