574.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 8

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

کہاں غائب ہوگئی تھی۔اتنی دیر لگادی تم نے آنے میں۔ابیرہ نے کئی سوالات پوچھ لیے۔مگر اس بار وہ کوئی جواب نہ دے سکی۔بعض اوقات ذخائر الفاظ ہونے کے باوجود بھی ہم کوئی جواب نہیں دے پاتے۔کیونکہ چپ رہنے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔

محرما کے اترتے ہی وہ گاڑی بھگالے گیا۔اسنے اپنا ارادہ یکسر تبدیل کرلیا تھا۔وہ صرف محرما کے والد کی وجہ سے آیا تھا۔سرخ ہوتا چہرہ سب بیان کررہا تھا۔غصے کا ابال اسکے ظاہری وجود پہ بری طرح اثر چھوڑگیا تھا گاڑی کو لوک کرتے ہوئے سامان پہ نظر پڑی جس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا۔ڈرائیور کے ساتھ مجھے قلی بھی بنادیا ہے وہ سامان کسی رشتے دار کو پکڑاکر باہر آگیا۔ اسکی نظر سامنے آتی ہوئی محرما پہ پڑی جو بڑی عجلت سے چلتی ہوئی دونوں ہاتھوں سے غرارہ سنبھالے آرہی تھی۔

اس لڑکی کو مزا چکھانے میں بڑا مزا آیا تھا لیکن اسکا پیٹ ابھی بھی نہیں بھرا تھا۔

بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے مہرام شاہ کے مقابلے آنا کوئی آسان نہیں ہے

۔کس طوفان کو اپنی طرف بلایا تھا اسنےاورانجام سے بے خبر تھی۔

۔۔۔۔۔۔

امی اب بس بھی کرجائیں کتنا روینگی۔آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔کہ آپی اتنے اچھے گھر میں جارہی ہے۔آنسو تو اسکے بھی بہہ رہے تھے مگر وہ قابو کررہی تھی۔لیکن امی کو چپ کروانا اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف تھا۔ اولاد سے محبت ہی ایسی ہوتی ہے کہ اک پل بھی نظروں سے اوجھل ہوجائی تو دل بےتاب ہوجاتا ہے۔اب کوئی اپنے لخت جگر کو پوری زندگی کے لیے کسی اور کے ھاتھوں سونپ دیتا ہے اسکا کیا حال کیا ہوتا ہوگا خدا ہی بہتر جان سکتا ہے۔دنیا کا دستور ہی کتنا نرالا ہے کچھ بھی ہوجائے مشرق و مغرب ایک ہوجائے لیکن بیٹیاں پرائی ہی کہلائے گی ۔

ٹشو سے وہ اپنی امی کے آنسو پونچھتی جاتی اور کچھ کچھ دیر میں اپنے بھی پونچھ لیتی۔

ماؤں کو اپنی بیٹی رخصت کرتے وقت آنسو بہانے سے بہتر ،بہترین دعاؤں سے نوازنا چاہیے ۔

والدین کو وقت سے پہلے بوڑھا بیٹیوں کے نصیب ہی تو کرتے ہیں ۔جن کی ہروقت انکو فکر لاحق ہوتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی عزت و وقار کر بری طرح مجروح کیا تھا۔وہ بھی اسکی حقیر لڑکی نے جسے نظر بھر دیکھنا بھی اسے گنوارہ نہ تھا۔۔وہ سوچنے جانے تک کی بھی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔پھر بھی وہ سوچ سوچ کر آدھا ہوچکا تھا۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔وہ جتنی بھی لڑکیوں کے درمیان رہاتھا اسکی طرف اٹھنے والی ہر نظر شتائش سے بھرپور ہوتی ۔کبھی بھی رد کیے جانے یا اگنور کیا جانا اسے پسند نہ رہا تھا۔اور مقابل میں کون تھی ایک نازک سی لڑکی جو اپنا غرارہ سنبھال نہیں سکتی تھی اس سے مقابلہ کرنے آئی ہے ۔اس سے شرم کی اور کیا بات ہوسکتی ہے مہرام شاہ کے لیے۔جب نیند نے نہ آنے کا پکا ارادہ کرلیا تھا تو وہ اٹھ کر ٹہلنے لگا۔سیاہ رات طویل ترین ہوتی جارہی تھی۔لیکن جلن حسد انا کا روندنا جانا اسے قطعی برداشت نہ تھا ۔ان چیزوں نے اسکی نیند بھگادی تھی

۔۔۔۔۔۔

اب کیسی ہے طبیعت

آپ کی

وہ تھوک نگلتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

اس نے فون کرتے ہی پہلا سوال کیا۔پہلے سے کافی بہتر ہے لیکن آپکی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔ اسنے فون کو اسپیکر پہ رکھا ہوا تھا اور ساتھ ساتھ آفس جانے کے لیے تیاری کررہا تھا۔

میری طبیعت کو کیا ہونا ہے

کنفیوژ کنفیوژ سی وہ خود کو عجیب لگی۔

کان میں ہینڈ فری لگائے اس سے بات کررہی تھی

نہیں آج آپ میرے کان نہیں کھارہی نہ اس لیے پوچھا۔

آپ کراچی میں کہاں رہتی ہیں وہ باتوں باتوں میں پوچھ بیٹھا۔

ایکسیوزمی آپ زیادہ فری ہورہے ہیں

فری آپ نے کیا ہے میڈم

پھر شرما کس خوشی میں رہی ہیں ۔

وہ اسے چھیڑ رہا تھا۔

میں شرماتی نہیں ہوں ۔

کیوں آپ لڑکی نہیں ہے جہاں تک مجھے معلوم ہے ہر لڑکی شرماتی ہیں

اوہو کافی زیادہ نولیج ہے پھر تو آپ کے پاس۔

ویسے میں کچھ دنوں میں کراچی آرہا ہوں ۔پھر مل بیٹھ کے باتیں کرینگے ٹھیک ہے ابھی مجھے آفس کے لیے نکلنا ہوگا۔وہ مسکراہٹ ڈباتے ہوئے بولا۔

یک منٹ ۔ابیرہ بےہوش ہوتے ہوتے بچی۔

کیا کہا۔

وہی جو آپ نے سنا۔

آپ کو معلوم کرکے کیا کرنا ہے۔

کتنی بار پوچھےگی

کہا تو تھا رشتہ بھیجنا ہے ۔۔

تنگ کرنے وہ آئی تھی لیکن تنگ وہ خود ہوچکی تھی۔

لیکن۔۔۔۔۔۔

اسنے سننے سے پہلے ہی کال کاٹ دی۔

ابیرہ ۔آر یو اوکے وہ خو دسے پوچھ رہی تھی۔

یس آئی ایم فائن اس نے خود کو ہی جواب دیا۔

اللہ خیر کریں ۔

۔۔۔۔۔

مسٹر اورمسز عالم ناشتے کی میز پہ دونوں بچوں کا انتظار کررہے تھے۔کچھ دیر بعد ابیرہ آگئی لہکن مہرام نا جانے کتنے گھوڑے بیچ کے سویا تھا جو نیند پوری ہی نہیں ہورہی تھی۔مسلسل دروازہ بجنے کی آواز پہ بڑی مشکل سے بوجھل آنکھوں کو کھولا۔

سکون سے سونے بھی نہیں دیتے ۔گھڑی پہ نظر پڑتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔وہ رات کو بغیر چینج کیے ہی سوگیا تھا۔کل والا قصہ اسکے ذہن پہ سوار ہوگیا لیکن وہ جھٹک کے باتھ روم گھس گیا۔اتنا فضول وقت نہیں ہے میرے پاس کہ ہر وقت تمھارے بارے میں سوچوں مس محرما شازیب۔۔۔۔۔

اتنی دیر میں جاگنے کی وجہ۔

پہلا سوال عالم صاحب نے دریافت کیا جب وہ نیچے آیا ۔جہاں وہ تینوں اسکے انتظار میں آدھے ہوچکے تھے۔وہ چھٹی والے دن ایک ساتھ ہی ناشتہ کرتے ۔ویک میں ایک دن فیملی کے لیے ضرور مخصوص کرنا چاہے ایسا عالم صاحب کا کہنا تھا۔

وہ رات کو نیند نہیں آرہی تھی اسلیے جلدی آنکھ نہیں کھلی ۔سوری آپ لوگوں کو اتنا ویٹ کرنا پڑا۔وہ باہر جتنا شیر بنا پھرتا تھا لیکن اپنے ابو کے سامنے اسکی ساری اکڑ ختم ہوجاتی تھی۔اگر غرور ،انا اور گھمنڈ وغیرہ اسکے وجود سے نکال دیے جائے تو یقیناً وہ اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچ جاتا۔

ابیرہ کی طرف وہ دیکھ بھی نہیں رہا تھا کیونکہ وہ کافی غصے میں تھی ۔فی الوقت اسے منانے کا موڈ بھی نہیں تھا۔

کیا ہوا تم پریشان لگ رہی ہو۔ سب ٹھیک ہے وہ اسکا چہرے میں کچھ کھوجھتے ہوئے بولے۔

میں ٹھیک ہوں پاپا وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے بولا۔

نیند کا خمار اب بھی آنکھوں میں موجود تھا۔

آگے کیا خیال ہے یونی ختم ہونے میں کتنا وقت ہے وہ چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے بولے۔

بس کچھ ہی منتھس بچے ہیں پھر آپ کو ساتھ آفس جوائن کرنے کا سوچ رہا ہوں وہ اپنی نظروں کو کپ پہ مرکوز کرتے ہوئے جواب دہ ہوا۔

گڈ ۔۔۔اچھی سوچ ہے ۔۔۔

مجھے تم سے یہی امید تھی وہ اسکی سوچ کو اپریشیٹ کرنے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔

بھائی میں آپ سے بہت ناراض ہوں۔ابیرہ پاپا کے جاتے ہوئے موقعہ غنیمت جانتے ہوئے اسکے پاس آئی۔وہ منہ پھلا پھلا کے تھک چکی تھی ۔مجال ہے جو مہرام نے اسے غلطی سے بھی دیکھا ہو۔

ناراض ہونے کے علاوہ کچھ اور کام آتا بھی نہیں ہے تمھیں۔

آپ کل مجھے چھوڑ کے رفوچکر ہوگئے۔خود ہی اتناتیار شیار ہوکے آئے تھی اور بنا فنکشن اٹینڈ کیے واپس چلے گئے وہ متجس ہوئی آپ کو بھی محرما کی ہوا لگ گئی ہے جو اچانک غائب ہوگئے۔

مجھے کچھ کام آگیا تھا ویل تمھیں خود ڈرائیونگ سیکھ لینی چائیے۔ہر بار میں تمھیں پک ڈراپ نہیں کرونگا ۔خود ہی خود کو پک ڈراب کرنا سیکھو ۔

گھر میں بیٹھے بیٹھے خود تو پاگل ہوگئی ہو ہمیں بھی پاگل کرکے چھوڑوگی۔وہ اسے سنا کر،اسکی بنا سنے چلا گیا۔

ہائے اللہ ،۔۔۔۔۔بات کیا تھی اور کہاں پہنچ گئی۔

بات شروع کہیں سے بھی ہو ختم ہمیشہ ابیرہ کی نالائقی پہ ہوتی ہے۔وہ اس طرح گفتگو بدل جانے پہ حیران ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔

جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔آخر کار واثق کراچی کی سرزمین پہ اتر ہی گئے۔جہاں کی لڑکیاں دماغ بہت پکا تی تھی۔ ایک ابیرہ سے واستہ پڑا تھا اسے اور دوسری بھی ابیرہ ۔۔۔۔

جو صرف اسکے کے لیے ثانیہ بیگ تھی۔

باتوں باتوں میں ابیرہ نے لمبی لمبی چھوڑی تھی مثال کے طور پہ وہ فائن آرٹس کررہی ہے ۔مرتے دم تک وہ صرف پڑھتی رہےگی۔اسکی زندگی کا دیرینہ خواب پڑھنا ،پڑھنا اور پڑھنا ۔۔۔

واثق کو رشک ہونے لگتا کہ امی کاش ثانیہ بیگ کو ہی بہو بنا کے لانے کا کہتی تو میں راضی راضی شادی کرلیتا ۔

امی کو ملی بھی تو کون ماموں کی ابیرہ۔۔۔۔

اف جسے ایک گھنٹہ برداشت کرنا بھی کٹھن ہے۔

اسے اپنی قسمت پہ رونا آرہا تھا۔

کس سے جاکے شکوےکرے۔ اپنے دل کے دکھ کس کو سنائے۔

امی سننے کے بجائے اسے سناتی۔ باقی بچا کون ۔مہرام کو اسکی ہی بہن کے بارے میں کیسے دکھ سناتا۔

بچی کون ۔ایک مصنوعی ثانیہ بیگ ۔۔۔۔

جو شروع شروع میں کافی تنگ کرتی تھی ۔لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکے دل میں اترتی چلی گئی۔وہ اپنے تمام دکھ اسے سناتا ۔اور وہ جو ابیرہ یعنی ثانیہ بیگ بڑے تحمل سے اپنی بڑائی سنتی۔

سننے کے علاوہ اسکے پاس کچھ اور چارہ ہی نہیں تھا۔بندوق کا رخ خود اسنے اپنی طرف کیا تھا ۔اب کڑوی گولیاں بھی اسے ہے کھانی پڑی تھی۔

اسی کی ہی مستی اسے ہی گلے پڑگئی تھی۔ناچاہتے ہوئے بھی وہ روزانہ اسکی کال انتظار کرتی ۔۔۔اتنے دنوں میں ایک چیز بدل گئی تھی۔اب ابیرہ خود فون نہیں کرتی اتنی بھی بہادر نہیں تھی کہ اپنی ہی برائی سننے کے لیے خود فون کرے ۔۔۔

واثق بڑی بےتابی سے ٹائم تو ٹائم فون کرتا۔کیونکہ اسے ایک کندھا میسر آچکا تھا ۔جسے کھونا سے ہر گز گنوارہ نہ تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوری یونی میں ایک الگ سی ہل چل مچی ہوئی تھی ۔جگہ جگہ پہ ربن سے بھرے باؤل رکھے تھے۔ایک باؤل میں ریڈ ،ایک میں بلیو اورایک میں ییلو ربنز رکھے ہوئے تھے ۔اس کا پہلا ہی سال تھا اور یہ ربن فیسٹیول پہلی مرتبہ ہی اسکی نظروں سے گزرا تھا خوبصورتی سی مختلف قسم کی ربنز سے پورا کوریڈور سجایا ہوا تھا۔ اور مختلف کلرز کی ربنز کی لڑیاں تقریباً تمام دیواروں پہ آویزاں کر دی گئی تھی.

وہ رنگ برنگی ربنز سے سجی یونیوڑسٹی کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی. مسکراتے چہرے آپس میں ایک دوسرے کو ربنز پہنارہے تھے