Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 16
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 16
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
ﮨﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺭﻗﯿﺐ,,,
ﻧﻔﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﺗﻮ ﻓﻘﻂ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﺠﺌﮯ…!!
کیسے چوٹ آئی ۔۔واثق مسز عالم کو ڈھونڈ کے لے آیا ۔
مسز عالم اسکے سوجھے ہوئے پاؤں کو دیکھ کر پریشان ہوئی۔بیٹا کیسے چوٹ آئی۔
آج کل کی لڑکیوں کا دھیان پتا نہیں کہاں ہوتا ہے۔
وہ اسے سہارا دیئے باتھ روم تک لے گئ۔
انھوں نے ابیرہ کا ایک سوٹ اسے لادیا۔
بچے کتنے لاپرواہ ہوگئے ہیں ۔۔انہوں نے افسوس سے کہا
ماں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے تم بچوں کو کیا معلوم ۔۔۔
وہ ابیرہ کو اس حالت میں دیکھ دیکھ کے تڑپتی تھی۔اولاد کی تکلیف والدین سے نہیں دیکھی جاتی.
یہ پین کلر لے لو۔انھوں نے اسے ٹیبلیٹ تھمائی۔
تاکہ درد کم ہوجائے اور ڈاکٹر کو ضرور دیکھانا وہ ہدایت دینے لگی۔مہرام ڈرائیور سے کہہ دو اسے گھر چھوڑ آئے ۔
مام آپ فکر نہیں کریں میں،محرما شازیب کو بحفاظت گھر چھوڑ آؤنگا۔وہ رسانیت سے کہنے لگا۔محرما نے چونک کے اسے دیکھا۔
آج سورج پچھتم سے ہی نکلا ہے نہ۔
وہ محو حیرت تھی۔
جو چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرے اسی کی طرف بڑی فرصت سے دیکھ رہاتھا۔
پراسرار مسکراہٹ کچھ اور ہی کہانی سنارہی تھی۔
لونگ شرٹ پہ جینز پہنے وہ دل پہ قبضہ کرنے والی جادوگرنی لگی۔
پہلی بار اسنے ویسٹرن اسٹائل کپڑے زیب تن کیے تھے۔
ایسی حسین تھی کہ بلا ارادہ اٹھی نظر جھکنا بھول جائے۔
ابیرہ کے پاس شرٹ اور جینز کے علاوہ کوئی اور کپڑے ہی نہیں تھے۔وہ صرف خاص فنکشن کے لیے شلوار قمیض یا فروک وغیرہ بنواتی تھی۔
وہ ایک پیر کو ذرا سا اونچا کرکے آہستہ آہستہ کرکے باہر نکلی۔
مہرام بھی اسکے پیچے باہر آیا۔
کتنے لمحے گزرے
وہ اسکے انتظار میں کھڑی رہی۔
کس کا انتظار ہے میڈم آٹو پکڑو اور گھر چلی جاؤ۔
وہ اپنے بنگلے کی بیرونی دیوار پہ ٹیک لگائے ایک پاؤں کو ذرا سا اونچا کیئے ،دیوار پہ جمائے کھڑا تھا۔
محرما نے چونک کے پیچھے دیکھا۔۔
جو مکمل شخصیت کا مالک تھا۔ذہانت سے روشن آنکھیں دھوپ پڑنے سے کم کھل رہی تھی ۔بلیو ٹی شرٹ میں وہ خوابوں کے شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
اتنا بے رحم ہے۔ وہ اس سے کیسے کوئی امید لگا سکتی تھی جو سراپا ظالم تھا۔
مہرام نے اپنی بے قابو ہوتی نظروں کو جھٹک کے دوسری طرف کرلیا۔
جہاں ایگو،انا اپنا بسیرا کرچکی ہو وہاں محبت کبھی اپنے ڈیرے نہیں ڈال سکتی۔
کیوں کہ محبت کا اول اصول عزت ہے۔
تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں گھر تک ڈراپ کردونگا۔
وہ اب اسکے سامنے آکے گویا ہوا جو آتے جاتے رکشے کو روکنے کی کوشش کررہی تھی۔
بھول گئی وہ دن جب تم نے سب کے سامنے میری عزت نیلام کی تھی۔
افسوس میری عزت پہ آنچ تک نہیں لائی۔لیکن بہت بڑی دشمنی موڑ لی تم نے ۔
جس میں لڑ لڑ کے تمہاری طاقت تو ختم ہوجائے گی لیکن یہ دشمنی کبھی ختم نہ ہوگی۔
تم نے ہی کہا تھا سب کے سامنے۔
یو ہیٹ می۔
لہجہ ایسا کاٹ دار تھا کہ محرما کے انگ انگ میں جلن بھر گئی۔
سفید آسمان نفرتوں کی لین دین پہ ماتم کناں تھا۔
پوری یونیورسٹی کو گواہ بنایا تھا نا۔
آج میں گواہ بناتا ہوں ۔۔۔
یہ بتانے کے لیے۔
کہ میری نظر میں تم دنیا کی بدترین لڑکی ہو۔
جو نفرت کرنے کے بھی قابل نہیں ۔
درحقیقت تم کسی قابل بھی نہیں اور نہ ہوسکتی ہو یہ بات میں دعوے کے ساتھ کہتا ہو۔
چہرے پہ چمکتے شفاف موتی گلوں پہ چمکتی شبنم جیسے واضح ہورہےتھے۔۔۔
آئی ہیت ہو۔
وہ کانٹے دار لفظو ں کی بوچھاڑ کررہا تھا جو زہر شدہ تیر کی مانند اسکے دل میں پیوست ہورہے تھے۔
اتنا جتنا تمہاری سوچ نے بھی کبھی سوچا نہیں ہوگا۔رعونت اسکے چہرے پہ عیاں تھی۔
تم کیا سمجھی میں تم پہ ترس کھاکر تمہیں چھوڑنے آؤنگا ۔تمہارے زخموں پہ مرہم رکھونگا۔
تم سے ہمدردی جتاؤنگا۔
اگر تم میں اور چیونٹی میں سے کسی کی جان بچانے کے لیے مجھے کہا جائے گا تو یقین کرو بنا سوچے میں اسکی جان بچاؤنگا۔
وہ زہر اگل رہا تھا۔
اگر محبت کا اظہار ہوتا تو کتنا حسین ہوتا نا۔
لیکن یہ خالص نفرت کا اظہار تھا۔
نفرت کا جذبہ کتنا کڑوا ہوتا ہے رفتہ رفتہ پورے وجود میں کڑواہت بھرنے لگتا ہے ۔
اس آگ سے روح تک جھلس جاتی ہے۔
محبت ہو یا نفرت شدت جس بھی شے میں شامل ہوگی وہ انسان کی ذات کو بھسم کردے گی۔
وہ اپنا زہر اسکے وجود میں منتقل کررہا تھا۔
جب وہ جل رہا ہے تو محرما کو بھی جلنا چاہی ۔وہ کیسے سکھی رہ سکتی ہے۔
مسکان اسکے چہرے پہ کیسے آسکتی ہے۔
کیا اسنے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اس سے ٹکرانے کا۔
تبھی وہ چلایا نہیں ۔۔۔اسکا کوئی نقصان نہیں کیا ۔اسے باآسانی جانے دیا۔
بس بہت ہوگئی تمہاری بکواس ۔
تم اپنے الفاظوں سے اپنا ظرف بتارہے ہو۔کتنے پست ظرف کے مالک ہو۔
۔محرما نے اس کی سمت انگلی کی۔
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔
اپنی ہی نفرت میں تم راکھ ہوجاؤ گے۔
۔۔میں نے تم سے کوئی ہمدردی کی توقع نہیں رکھی تھی نہ زندگی بھر رکھونگی ۔۔کیونکہ میں تمہیں انسان ہی نہیں مانتی۔
انسان اتنا بے رحم نہیں ہوسکتا۔
وہ گناہ کرتا ہے لیکن جو گناہ کرکے فخر محسوس کریں وہ انسان کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔
شر اور خیر سے بنا انسان ۔۔۔جیسا بھی ہوتا ہے لیکن تم جیسا ہرگز نہیں ہوتا۔
وہ کتنی تکلیف سے گزررہی تھی آنکھوں میں کتنا کرب تھا کسی کی تذلیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔
کسی کو زہر پلانا آسان ہوگا لیکن کسی کے وجود کی نفی کرنا اسے نیچا دکھانا انتہائی کٹھن ہوتا ہے۔
جس کا دل پاک ہو وہ کیسے دوسروں سے نفرت کرسکتا ہے۔
اتنی تذلیل سہنے کے باوجود بھی اس سے نفرت نہیں کرپائی تھی۔
کیونکہ اسے نفرت کرنا آتا ہی نہیں تھا۔
جس کی پرورش محبتوں کے لین دین میں ہوئی ہو اسے نفرتوں سے کیا غرض ہوسکتا ہے۔
اگر تم میں اور چیونٹی میں سے مجھے کسی ایک کو بچانا ہوگا تو بالیقینا میں تمہیں بچاؤنگی ۔
اسلیے نہیں نہیں کہ تم انسان ہو۔
اسلیے کہ تم کسی کا لخت جگر ہو۔
کسی کی جمع پونجی ہو۔
کسی کے بڑھاپے کا سہارا ہے۔
میں تمہارے لیے تمہیں نہیں بچاؤنگی بلکہ تم سے وابستہ تمام رشتوں کو زندہ رکھنے کیے تمہیں بچاؤنگی۔
محرما نے بردباری کا مظاہرہ کیا.
کیونکہ میں جانتی ہوں کہ.رشتے کیا معنی رکھتے ہیں انکا ہونا ہمارے لیے زندگی کی مانند ہوتا ہے .اسے کاشان یاد آیا .جس کے ٹھیک ہونے کی کتنی منتیں اسکے گھر والوں نے مانی تھی.
یہ پاؤں کی تکلیف کچھ نہیں ہے ۔
تکلیف وہ ہوتی ہے جس سے روح تڑپ جائے۔
اور کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنا ،بڑی تکلیف ہے۔
اگر نفرت تمام حدود و قیود کو عبور کر جائیں تو پھر وہ شخصیت کو مسخ کردیتی ہے۔نفرت کا جنم کانٹوں کے درمیان ہوتا ہے جبھی تو چبھتا ہے ۔
وہ استہزایہ ہنسی ہنسا ۔ گوگل آنکھوں پہ لگائے وہ چلا گیا۔
۔۔۔۔۔
پیر کازخم دل پہ لگے ہوئے گھاؤ کے سامنے کچھ نہیں تھا
گاڑی کی پیپ پہ اسکا سکتہ ٹوٹا۔ نظر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے اس سنگ دل پہ پڑی جو اسے حقارت بھری نظروں سے گھور رہا تھا۔
۔ پیپ کی مسلسل آواز پہ چوکیدار بھاگا بھاگا باہر آیا۔
بی بی صاحبہ سے کہیںے۔کئی اور جاکر اپنے آنسو بہائے۔ہمارے گھر کے سامنے کھڑے ہوکر دوسروں کا راستہ نہ روکے ۔۔۔۔
چوکیدار نے فورا حکم کی تعمیل کی ۔۔۔۔بی بی صاحبہ آپ یہاں سے ہٹ جائیں صاحب کو گاڑی نکالنے میں دشواری ہورہی ہی۔
ذرا سا محرما کے آگے بڑھنے پہ وہ گاڑی جھٹکے سے بھگالے گیا۔۔۔
کچھ فاصلے پہ چرچر کی آواز کانوں میں چھبی۔جو اچانک بریک لگانے سے نکلی تھی۔
سلو موشن میں چلتی محرما نے نظریں اٹھائی
جو بیک ویو مرر میں اسے نخوت سے دیکھ رہا تھا اور واپس گاڑی اڑا لے گیا۔
وہ سیاہ چادر سے خود کو ڈھانپے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی.
گول گول گھومتی ہوا بہتے آنسو خشک کرنے میں معاون مددگار ثابت ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز پہ بیٹھی پھوٹ پھوٹ کے رورہی تھی۔گناہ کرنا کتنا سہل ہوتا ہے لیکن اسکا ازالہ کرنا اپنے رب کے حضور معافی طلب کرنا کتنا مشکل ہوتاہے۔اللہ کی تخلیق کو ناکارہ کہنا اسے نیچا دکھانا اسے گالیاں دینا کتنا بڑاگناہ ہے ۔
یہ گناہ اس سے سرزد ہوچکاتھاوہ اسکے حضور بیٹھی معافی کی طلب گار تھی۔
وہ کسی کی اولاد کو کیسے گندا کہہ سکتی تھی۔اسے جتنی بار بھی نیچا دیکھایا گیا ہو۔وہ اس شخص کا ظرف تھا ۔
وہ اسے ختم کردینا چاہتی تھی اسے بھی وہی درد دینا چاہتی تھی مگر نہیں دے سکتی تھی۔اس کی عزیز ترین دوست کی جان تھا۔
وہ صرف اسے نقصان پہچانے کے لیے سب سے دشمنی کیسے موڑ سکتی تھی۔
خود پہ ڈھایا ہوا ظلم اسنے خدا کے سپرد کیا۔
اسے اپنے رب پہ پورا بھروسہ تھا جو عدل و انصاف دلانے میں یکتا تھا ۔
رخسار سے گرے ہوئے آنسو جاہ نماز میں جذب ہوگئے ۔
۔۔۔۔۔۔
سوجھا ہوا پیر دیکھ کر محرما کے والدین نے خوب ڈانٹا تھا واقعی والدین کی پھوار جیسی محبت بہت بڑی نعمت ہے ۔ان کا وجود کڑی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے ۔
محبت کے دو بول اسکے دل کے تمام دکھ کو بھلاگئے تھے۔
واثق نے شہر کی تمام چھوٹی بڑی گورنمنٹ پرائیوٹ یونیورسٹی چھان لی تھی وہاں کے فائن آرٹ دیپاڑمینٹ حتیٰ کہ ہر ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈینت کے نام جان لیے تھی۔
ثانیہ بیگ لاپتہ ہوچکی تھی مام ٹھیک کہتی ہے میں محض ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہوں جو سائے کے علاوہ کچھ نہیں ۔اسے کتنی مہارت کے ساتھ بےوقوف بنایا گیا تھا ۔۔کیا واقعی صنف نازک میں اتنی کشش ہوتی ہیں کہ بڑے سے بڑے پہلوان کو بھی گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیتی ہے۔کبھی کبھی اسے خود پہ حیرت ہوتی انتہا کا غصہ آتا کہ وہ کن فضولیات میں پڑ چکا تھا جس سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔
ابیرہ لان میں بیٹھی کسی کابے صبری سے انتظار کررہی تھی۔
اب کیسا ہے آپ کا ہاتھ وہ اپنے کمرے کی طرف جاتی ہوئے واثق پہ نظر پڑی۔ جو اسے قطعی نظر انداز کرکے اندر جارہا تھا۔
ابیرہ کے پکارنے پہ بھی وہ پلٹا نہیں ۔
آپ مجھ سے ابھی بھی ناراض ہیں مجھے معلوم ہے میں نے آپ کو شدید ہرٹ کیا ہے جس کی سزا میں بھگت رہی ہوں ۔ناجانے اس وقت مجھ پہ کونسا جنوں طاری ہوا تھاجو ہوش و حواس کو بلکل بیگانہ کرچکا تھا۔وہ معافی مانگ رہی تھی بنا جانے کہ وہ جاچکا ہے
اتنا سب کچھ کہنے پہ کوئی جواب نہیں آیا تو ابیرہ نے کرسی پہ بیٹھے بیٹھے گردن اونچی کرکے پیچھے کی طرف دیکھا ۔
جہاں سناٹا اسکا منہ چرارہا تھا۔ایسا ہی سناٹا اسے اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا۔
انتظار کرکر کے اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوچکی تھی ۔
رابطہ بھی نہیں رکھتا ہے سرِ وصل کوئی
اور تعلق بھی معطل نہیں ہونے دیتا۔۔
دل یہ کہتا ہے اُسے لوٹ کے آنا ہے یہیں
یہ دلاسہ مجھے پاگل نہیں ھونے دیتا ۔
وہ جھوٹے منہ ہی سہی اسکی خیریت دریافت کرنے نہیں آیا تھا۔
ایکسیڈنٹ کے بعد اسکا رویہ محتاط ہوچکا تھا آج وہ اتنے دنوں بعد کمرے سے باہر نکلی صرف اسکے دیدار کے خاطر ۔
اس کا سیل مس ہوچکا تھا جب تک اسے نئا سیل نہیں مل جاتا وہ کچھ نہیں کرسکتی۔
کبھی کبھی انسان تمام وسائل ہونے کے باوجود بھی کتنا بے بس ہوجاتا ہے ۔
ایسی ہی بے بسی سے اس وقت وہ دونوں دوچار تھے
