Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 21
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 21
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
یوں تینوں دنوں کو بڑی خوبصورتی سے ارینج کیا گیا تھا کاؤنسلر کا نائب منتخب ہونے کے باوجود وہ برابر پارٹیسیپیت کررہا تھا۔
یونی کے گوشے گوشے کو منفرد اور مختلف انداز سے سجایا گیا تھا۔
ہال کی دیواروں کو رنگ برنگی غباروں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ریشمی ربن اور مختلف قسموں کے آرٹیفیشل فلاورز کے گلدستے جگہ جگہ کھڑے کردیے تھے۔۔وہ یونی سے زیادہ شادی ہال کا منظر پیش کررہا تھا۔
ساریہ خود بھی ٹیبلو میں رول پلے کررہی تھی اسنے محرما کو فورس کیا مگر اسنے بنا تردود منع کردیا ۔یہی تو یادگار لمحات ہوتے ہیں جو باقی ماندہ زندگی میں یاد کرکے انسان مسکرادیتا ہے ورنہ صرف پڑھنے پڑھنے سے انسان پورا نہیں کم از کم نیم پاگل تو ہوہی جاتا ہے۔
ساریہ اسے کتنی دیر سے سمجھارہی تھی مگر محرما کا انکار اقرار میں تبدیل نہیں ہوا۔۔
ساریہ اسے فنکشن کی تمام سرگرمیوں کی پل پل خبر دیتی مگر وہ دھیان لگائے بغیر اپنی کتابوں میں کھوئی رہتی۔
وہ اسکی باتوں میں الجھ سی گئی تھی۔
اس فنکشن میں حصہ لینا مطلب مہرام شاہ کے سامنے آنا جو وہ قطعی برداشت نہیں کرسکتی تھی اسے اس شخص سے انتہا کی نفرت تھی ۔
وہ جس راستے پہ کھڑا ہوتا وہ اپنا راستہ بدل لیتی یا پھر دور سے اسکے جانے کا انتظار کرتی۔لیکن وہ اسکے سامنے سے گزرنا پسند نہیں کرتی۔
لیکن یہ سب باتیں وہ ساریہ سے شیئر نہیں کرسکتی تھی۔
ان دنوں پڑھائی برائے نام ہی ہوتی تھی،کلاس میں چند ہی اسٹوڈینت نظر آتے باقی تو سب ریئلسل میں مصروف ہوتے اور ساریہ بھی کم ہی دکھتی ۔
محرما کا زیادہ تر وقت لائبریری میں ہی گزرتا۔کیونکہ وہاں ہی سکون اور خاموشی ہوتی ورنہ یونی میں تو ہر طرف شور اور رش ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔
کل صبح ان لوگوں کی فلائٹ تھی بس آج کی رات تھی ۔پھر سے اسے جدائی کا غم سہنا ہوگا۔
ماما کیا اب میں اپنی منکوحہ سے مل سکتا ہوں۔
وہ مسکراہٹ ڈبائے مخاطب ہوا۔
مہمان سب جاچکے تھے وہ سب لوگ بھی اپنے اپنے کمرے میں،چلے گئے تھے۔اسکی نظریں بھٹک بھٹک کے اوپر اٹھ رہی تھی۔
کیسی لڑکی ہے اپنے شوہر کو پوچھتی بھی نہیں ہے۔وہ چلتا ہوا باہر گاڑدن میں آیا۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔
دل کسی کا طلب گار تھا۔
ماما نے ابیرہ کو واثق کے پاس باہر گاڑدن میں بھیجا ۔جو اسکے انتظار میں آدھا ہوچکا تھا
وہ چینج کرکے نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔
آتے ہی سلام کیا۔
وعلیکم سلام آپکا ہی انتظار ہورہا تھا۔واثق نے اس پہ نظر کیے کہا۔
ابیرہ کرسی نکال کے بیٹھ گئی۔
کل میں اسلام آباد واپس جارہا ہوں واثق نے گلا کھنکھار کے بات شروع کی۔
ہمم۔۔م ۔ابیرہ سے کوئی جواب نہیں بنا صرف ہممم پہ اکتفا کیا۔
آپ مجھے مس نہیں کریگی۔
میں کیوں مس کرنے لگی۔
وہ اپنے مہندی سے رنگے ہاتھوں پہ نگاہ جمائے گویا ہوئی۔
کمال ہے میں آپ کا شوہر ہوں۔
وہ یاد دلانے لگا۔
معلوم ہے آج ہی نکاح ہوا ہے۔
پھر میری طرف دیکھ کیوں نہیں رہی۔وہ کرسی سے اٹھ کر اب اسکے سامنے گھاس پہ بیٹھ گیا۔
ہری گھاس ہلکی گیلی ہورہی تھی۔
وہ ۔۔ہ۔۔ میں ۔۔مجھے شرم آرہی ہے ۔۔۔
وہ شرم سے لال چہرہ جھکائے بولی۔اور خود بھی اسکے سامنے گھاس پہ پالٹی مارے بیٹھ گئی۔
پہلے تو نہیں آتی تھی۔واثق نے اس آنکھوں میں جھانکتے کہا۔پہلے آپ میرے شوہر نہیں تھے نہ۔
وہ واپس نظریں جھکاگئی۔
اسے شرماتی فائقہ یاد آئی۔
میری طرف دیکھو مجھے مسز واثق سے بہت ساری باتیں کرنی ہے اپنے دل کا حال سنانا ہے وہ اپنی دلی کیفیت اے ٹو زیٹ اسے بتارہا تھا۔
رات بیت رہی تھی مگر وہ صرف واثق کو سن رہی تھی۔باقی زندگی بھی وہ صرف اسے سننا چاہتی تھی۔
چاند کی مدھم سنہری روشنی براہ راست دونوں کے چہرے پہ پڑرہی تھی۔
شہزادی ابیرہ کا شہزادہ منظر عام پہ جلوہ گر ہوچکا تھا۔واثق کو بھی اپنی مس رائٹ مل گئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔
اسکے اگلے دن وہ یونی نہیں آئی ۔اس سے بہتر وہ گھر میں ہی اچھا پڑھ لیتی تھی۔
کاشان آج کل کچھ زیادہ ہی کنٹرول سے باہر ہورہا تھا۔چرچراپن حد سے سوا تھا۔کھانا نہیں کھاتا کوئی بات بھی نہیں مانتا تھا۔
محرما کاشان کو اٹھانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی مگر وہ اٹھ ہی نہیں رہا تھا۔
لاڈ پیار نےکتنا بگاڑ دیا ہے ۔یہاں تک وہ امی کی بات بھی ٹال ریا تھا۔
ورنہ وہ کبھی ایسا نہیں تھا اچانک ناجانے اسے کیا ہوگیا تھا۔کتنی مشکلوں سے وہ اسے لے کر ہسپتال پہنچے ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا۔ دوائیوں کا اثر بھی نہیں ہورہا تھا اور ڈاکٹر نے کوئی تسلی بخش جواب بھی نہیں دیا۔
اللہ ہمیں اور کتنی آزمائش دے گا مسز شازیب بھیگی آنکھوں سے خدا سے التجا کررہی تھی۔کسی ابنارمل بچے کو سنبھالنا کتنا مشکل ہوتا ہے ان سے اچھا اور کون جانتا تھا۔
امی آپ روئے مت سب ٹھیک ہوجائے گا وہ ان کے آنسو صاف کرتے بولی۔
وہ کتنی امیدیں لگا کر اپنے اآباؤاجداد کی زمینیں چھوڑ کر یہاں اسکا علاج کروانے آئے تھے۔
شازیب صاحب انھیں سمجھارہے تھے مگر وہ ایک ماں تھی ۔اور اولاد کا دکھ دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔وہ بھی اس دکھ میں برابر کے شریک تھے۔
اللہ آزمائش بھی ان لوگوں پہ ڈالتا ہے جو اسے پورا کرنے کی اہل رکھتے ہو ہمیں تو اللہ کا شکر ادا کرنا چائیے کہ اس پاک ذات نے ہمیں چنا۔
یہ اسکی کرم نوازی ہے کہ اسنے ہم پر اپنی نظر رحمت کرکے ہمیں صبر کرنے کا موقع دیا۔اور صابر کے مقدر میں اللہ نے جنت رکھی ہے ۔جنت کی خواہش کسے نہیں ہوتی ۔تمہیں اور مجھے بھی ہے نہ۔
یقیناً ایک نہ دن وہ ضرور ہمیں اس آزمائش سے نکالے گا بس خدا پہ توکل کمزور ہی نہیں پڑنا چاہئے۔
مسز شازیب اور محرما اپنے بابا کی باتیں غور سے سن رہی تھی دھیرے دھیرے ان کے تمام شکوے دور ہورہے تھے۔
ہمارا ہتھیار دعا ہے اور دعا مانگنا کبھی بھی ترک نہیں کرنا چاہئے ۔وہ تینوں دل ہی دل میں اپنے رب کے حضور دعا گو تھے۔
رات سے کاشان کی طبیعت یکسر خراب ہوگئی تھی جسم کا درجہ حرارت بورڈر لائن سے تجاوز کرگیا تھا۔وہ اسکے سر پر ٹھنڈے نمکین پانی کی پٹیاں بدل رہی تھی۔
ڈاکٹر کو بلوایا گیا کچھ دوائیں لکھ دی تھی اور فوری انجیکشن لگایا جس سے کاشان نیند میں چلاگیا تھا۔
صبح تک اسکا بخار کافی حد تک کم ہوچکا تھا جس کی وجہ سے وہ تینوں تھوڑا سکون میں آئے تھے۔
وہ یونی جانے کے لیے ریڈی ہوئی اسکا جانے کا بلکل بھی دل نہیں کررہا ہے بس دل پہ بےسکونی سی طاری تھی۔
لیکن امی نے زبردستی بھیجا ۔آج اتنے دنوں کی محنت کا ثمر تھا پوری رات آنکھوں میں کٹی تھی جس کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہورہی تھی۔وہ جاتے جاتے کاشان کو دیکھنے آئی جونیند میں بے سدھ پڑا تھا۔
اسے اکثر بخار ہوجایا کرتا لیکن اس بار کچھ زیادہ طبیعت ناساز ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔
مہرام شاہ اسٹیج پہ کھڑا کمپیرینگ کررہا تھا۔بلیو کوٹ پینٹ پہ وہ مکمل مرد لگ رہا تھا۔اسکا لفظ لفظ اسٹوڈینت کی سماعت کو سحرزدہ کررہا تھا۔پروقار شخصیت اور گفتگو کا اعلی معیار انسان کو حسین ترین لوگوں کی فہرست میں شامل کردیتا ہے
اسکی وجیہہ پرسنالٹی رشک بھری تھی۔
وہ آکر اسٹیج کے بلکل سامنے کھالی کرسی پہ براجمان ہوگئی۔
ہال میں موجود سب لوگوں کے ساتھ وہ بھی مہبوت ہورہی تھی۔لیکن یہ مدہوشی اس پر زیادہ دیر سوار نہیں رہی۔جب بھی اسے دیکھتی تھی اپنے ساتھ رونما ہونے والے واقعات یکےبعد دیگرے اسکے ذہن کے پردے پہ نمودار ہوجاتے۔دوسروں پہ کی گئی زیادتوں کو بھلایا جاسکتا ہے مگر کوئی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو کیسے بھول سکتا ہے
مہرام کا اس طرح پورے ہال کو اپنی طرف متوجہ کرنا محرما کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔
اسکی عاجزانہ گفتگو اور ریاکاری سے لبریز لہجہ محرما کے اندر بجھی آگ کو برکھارہا تھا۔اسکی ظاہری بناوٹ اسے کچھ کرنے پہ ابھاررہی تھی
وہ آہستہ سےکرسیوں کی قطار سے نکل کر ہال کے آخری دروازے سے باہر نکل گئی
محرما کی زندگی کے خاص موقعوں کو اس شخص نے ہمیشہ خراب کیا تھا۔وہ بھی اسکے خاص وقت کو بدنما کرنا چاہتی تھی۔سارے ذمہ داری مہرام کے ذمہ تھی اگر انتظامات میں کچھ بھی اونچ نیچ ہوجاتی تو وہ ہی اسکا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا۔
اسٹیج سے منسلک ایک کمرہ تھا جہاں مائیک وغیرہ کےانتظامات اور دیگر مشینیں رکھی ہوئی تھی۔
محرما نے اردگرد نظر دھرائی۔
کچھ اسٹوڈینت پرفومینس دے رہے تھے باقی تماشائی بنے ہوئے تھے۔اسے اسٹیج پہ مہرام کی پشت نظر آئی ۔موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اسنے تاروں کو دیکھا پھر ایک ایک کرکے سب قینچی سے کاٹ دیے ۔
کاٹتے ہی گونجتی آواز آنا بند ہوگئی۔محرما کو ڈھیروں ڈھیروں خوشی اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی۔وہ جلدی جلدی تار کو رکھ کر باہر نکلی۔
آواز بند ہوتے ہی اسنے پیچھے مڑکر دیکھا۔ایک نظر اسکے آچل کے کونے پہ پڑی ۔جو باہر نکلتے وقت اسے نظر آچکا تھا ۔اسے لگا کوئی یہاں سے ابھی ابھی گیا ہے۔اسنے فورا اپنی عقابی نظریں ہال میں دھرائی ۔جہاں سے کچھ دیر پہلے محرما غائب ہوئی تھی۔
وہ اسی پہ نظر رکھے ہوئے تھا۔لیکن اچانک غائب ہونے پہ اسے حیرانی نہیں ہوئی تھی۔کچھ دیر بعد وہ دروازہ عبور کرکے کرسی پہ آکر واپس بیٹھ گئی ۔ہال میں آواز کا سلسلہ اک دم منقطع ہوگیا۔کمپیرینگ کی آواز رکتے ہی ہال میں شور جارہی ہوگیا۔اسکے ڈوپٹے کا رنگ ایک نظر میں پہچان گیا۔
اس لڑکی نے اپنی شامت کو ایک بار پھر دعوت دی ۔
لیکن کچھ دیر بعد دوسرا ساؤنڈ سسٹم ارینج کرلیا گیا تھا اتنے بڑا فنکشن کے لیے کوئی رسک نہیں لے سکتے تھے۔کیونکہ مہرام نے سب انتظامات کیے تھے
آواز آنا واپس بحال ہوگئی تھی
مہرام کی عقابی نظر محرما پہ جمی تھی۔جو کسی سے مسکراہٹ بکھیرے باتوں میں مشغول تھی ۔جب اسے اپنے کیے کرائے پہ پانی پھیرتا نظر آیا تو وہ گھر جانے کے لیے ہال کے باہر نکلی۔انتقام کی آگ کو لمحہ بھر تسکین ملی تھی مگر وہ پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔
تھوڑی دیر کے لیے سہی اسکی نظریں ضرور جھکی ہونگی۔اسکا غرور کچھ دیر کے لیے ہی مٹی میں ملا ہوگا۔
وہ خوش تھی ۔خوشی خوشی وہ یونی کے زینے عبور کرتی بیرونی گیٹ کی طرف روانہ ہورہی تھی۔کہ اچانک کسی نے اتنی زور سے اسکا ہاتھ کھینچا کہ ایک سیکنڈ کے لیےوہ محسوس ہی نہیں کرپائی کہ اب یہ ہاتھ جسم کا حصہ رہا بھی ہے یانہیں۔منہ پہ پوری قوت کے ساتھ ہاتھ رکھ کر گھسیٹے ہوئے وہ یونی کے اسٹور کی طرف لے گیا جو سنسان گوشے پہ بنا ہوا تھا۔ویسے بھی پوری یونی ویران پڑی تھی اگر وہ گلا پھاڑ پھاڑ کربھی چیختی تو بھی کسی کو کانوں کان تک خبر نہیں ہوتی۔
ذلیل عورت ۔وہ چلایا۔
اسکی سرخ آنکھیں شعلہ زن تھی۔
