Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 30
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 30
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
خالہ یہ انتل تون ہے.صفوان نے محرما کے ڈوپٹے کا پلو کھینچ کر پوچھا.ایمل کچھ سامان لینے بازار گئی تھی .ویسے تو تمام سامان وغیرہ گھر کی صفائی مہرام نے ان لوگوں کے گھر ہسپتال سے آنے سے قبل ہی کروادی تھی.تیار فروزن فوڈ ,فروٹس تمام کھانے پینے کی اشیاء سے اسنے پورا فریج بھر دیا تھا .مگر محرما نے اسے ہاتھ لگانے کی بھی زحمت نہیں کی اور سارا سامان خیراتی ادارے کو بھجوادیا.
مہرام اکثر شازیب کی طبیعت دریافت کرنے کے بہانے اسے دیکھنے آتا.ایمل صفوان کو محرما کے پاس چھوڑ کر سامان لینے گئی تھی.شازیب صاحب مکمل بیڈ ریسٹ میں تھے.
معلوم نہیں بیٹا .وہ اسے گودی میں اٹھاکے بولی .وہ بہت کچھ بولنا سیکھ گیا تھا اپنی توتلی زبان میں بولتا وہ اک دم طوطا لگتا تھا..
مہرام ان کی گفتگو سن کے اسکے پاس آیا.
تو آپ کو معلوم نہیں میں کون ہوں وہ اسکی سیاہ گہری آنکھوں میں جھانکتے پوچھنےلگا.
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ پرکشش پرسنالٹی کا مالک تھا.
اسکی مضبوط جسامت, گورا رنگ اسے سب سے ممتاز کرتا تھا .گورے چہرے پہ گھنی ڈارھی اسے پرحسن بناتی تھی .جس طرح عورت کی خوبصورتی اسکی حیا میں چھپی ہوتی ہے اسی طرح مرد کی خوبصورتی اسکی ڈارھی میں چھپی ہوتی ہے جس سے وہ عورتوں سے الگ لگتے ہیں ورنہ کلین شیف میں مردانہ وجاہت کھل کر کہاں سامنے آتی ہے.
نہیں وہ منہ پھیر گئی.مہرام کو اسکی یہ ادا خوب اچھی لگی بے اعتنائی برتتے ہوئے وہ کس قدر اپنی لگی.
اسنے صفوان کو اپنے پاس لینے کے لیے ہاتھ بڑھائے.جس پہ وہ اچھلتا ہوا فورا اسکے پاس آگیا .اکثر اسے وہ یہاں دیکھتا رہا ہے اسلیے بلا جھجک وہ مہرام کے پاس چلا آیا.
آپ کا نام کیا ہے مہرام نے اسکے گالوں کو چومتے بولا.
شفان وہ اپنی توتلی زبان میں بولا.
ہاں تو صفوان بیٹا میں آپ کا خالو ہوں .وہ محرما کی طرف دیکھتے ہوئے بولا .جو پہلے سے ہی جل بھن کے بیٹھی تھی.
آج سے آپ مجھے خالو کہیں گے ٹھیک ہے .
اوتے تھالو.
یہ لیں چاکلیٹس اور جاکر کھیلیں وہ اسے زمین پہ کھڑا رکھتے اسے چاکلیٹس دی.
بھاگ جاؤ جلدی سے.
صفوان کے کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ اسکے برابر میں جاکر بیٹھا گیا.
بیگم صاحبہ آپ اتنی خفا خفا سے کیوں ہے .وہ شریر لہجے میں مخاطب ہوا.
وہ بنا جواب دیئے وہاں سے اٹھنے لگی جب مہرام نے اسے روکا.
لگتا ہے آپ شوہر کے حقوق اور فرائض سے ناواقف ہیں
کونسا شوہر کونسے حقوق و فرائض کی بات کررہے ہیں مسٹر مہرام عالم شاہ.
وہ چنگاری آنکھوں میں لیے بولی.
آپ پر ایسی باتیں بلکل بھی سوٹ نہیں کرتی شاہ صاحب .مہربانی فرما کر مجھ سے دور رہیں بہت زیادہ شکر گزار ہونگی آپ کی .کاٹدار لہجہ اسے چھبنے لگا.
محرما بول کر ایک سیکنڈ بھی نہیں رکی
مہرام صرف اسے جاتے دیکھتا رہ گیا.
وہ مزید اس پہ چلانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے مہلت دینا چاہتا تھا اور وہ دے رہا تھا.آہستہ آہستہ سب سنبھلنے میں وقت لگتا ہے وہ جانتا تھا مگر اسکا لہجہ ,اسکی نفرت اسے برداشت نہیں ہوتی تھی.
……….
ﺳُﻦ ﻟﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺗﯿﺮﺍ
ﺍﻭﺭ ﺳﻦ ﮐﺮ، ﺍﺩﺍﺱ ﮨﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ
ﺫﮨﻦ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺁﻧﮑﮫ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻢ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ
ﺩﮬﻨﺪﻟﮯ ﺩﮬﻨﺪﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﺮ
ﭼﮭﯿﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﻠﯿﺎﮞ__ﺗﯿﺮﯼ
ﺑﮭﻮﻟﯽ ﺑﺴﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺭُﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺩﮬﺮ
ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯿﮟ__ﺗﺴﻠﯿﺎﮞ__ﺗﯿﺮﯼ!
ﺩﻝ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ__ﺿﺒﻂ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ
ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﺗﮏ
ﺍﻋﺘﺮﺍﻑِ ﺷﮑﺴﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ__!
ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﮔﮭﮍﯼ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﺗﮏ
ﺩﻝ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ__ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺳﻨﮓ’ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ!
ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﻠﭧ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ_!!
ﺍﺏ ﭼﺮﺍﻏﺎﮞ ﮐﺮﯾﮟ ﮨﻢ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﺳﮯ
ﯾﺎ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺑﺠﮭﮯ ﺑﺠﮭﮯ__ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ؟؟؟؟؟
ﺍﮎ ﻃﺮﻑ ﺗُﻮ ﮨﮯ، ﺍﮎ ﻃﺮﻑ ﺩﻝ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﯿﮟ__ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ؟؟؟؟؟
ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺳﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﺑﮭﯽ__ﺣﺎﺋﻞ ﮨﮯ
ﭼﺎﮎ ﺩﺭ ﭼﺎﮎ ﮨﮯ ﻗﺒﺎﺋﮯ ﺣﻮﺍﺱ!
ﺑﮯ ﺭﻓُﻮ ﺳﻮﭺ، ﺭُﻭﺡ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﮯ
ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﮎ ﺳﯽ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﻏﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺮﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﭘﯽ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ!
ﻭﺭﻧﮧ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺍﻣﻦِ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ!
ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﮔِﻦ ﮐﮯ ﺟﯽ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ!!
………
مہرام اپنے فیصلے سے ہارنے لگا تھا.وہ اسکے سامنے آتے ہی نگاہیں پھیر لیتی تھی.
وہ رقتہ رفتہ ٹوت رہاتھا.کسی کی بےرخی اسے اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی..
مسز عالم نے کتنی بار رخصتی کا مطالبہ کیا تھا مگر وہ صاف انکار کردیتی.
بیٹا کب تک تم اس طرح تنہا زندگی گزاروگے.جب وہ شادی کے لیے راضی نہیں تھی تو تم نے زبردستی کیوں کی.مجھے نہیں لگتا تم دونوں کا رشتہ چل پائے گا بھی یا نہیں .مسز عالم مہرام کے لیے فکر مند رہتی وہ ختم ہورہا تھا جیسے کوئی مرض اندر ہی اندر اسے کھائے جارہا ہو.
……..
وہ پورے ایک ہفتے بعد اس کے گھر آیا تھا.
اسنے ناک کیا لیکن کوئی کھول ہی نہیں رہا تھا.وہ اسے کال ملانے لگا مگر محرما نے رسیو نہیں کی.گھر میں لوگ موجود تھے کیونکہ دروازہ اندر سے بند تھا.
وہ کچھ دیر باہر کھڑا رہا .پھر واپس کھٹکھٹانے لگا.
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے پلٹا ابھی وہ کار اسٹارٹ ہی کرنے لگا تھا کہ گھر کا دروازہ کھلا.
اندر سے کوئی مرد نکلا تھا مہرام کو اسے پہچاننے میں کچھ وقت لگا.
شاویز…اسنے حیرت سے اسے دیکھا .پہلے سے زیادہ اسمارٹ ہوگیا تھا.
وہ باہر نکل کر اپنی بائیک اسٹارٹ کررہا تھا .تب مہرام نے اسے شانے پہ ہاتھ رکھا.
اوہو مہرام آپ یہاں …شاویز فورا بائیک سے اتر کے اس سے مصافحہ کیا.
تم یہاں کیا کررہے ہو .مہرام نے ناک سکوڑتے کہا.
میں محرما سے ملنے آیا تھا .لیکن تم یہاں کیا کررہے تھے وہ ہلکی مسکراہٹ سے کہنے لگا.
محرما سے کیوں ملنے آئے تھے وہ اسکے سوال کو نظر انداز کرکے بولا.
اب اسکے ماتھے پہ بل پڑچکے تھے .غصے کی لہر اسکے جسم میں ڈورنے لگی.
میری یونی فیلو ہے ہم ساتھ پڑھ چکے ہے .
محرما کے نام پہ ناجانے اسکے چہرے کا رنگ اتنا دلفریب کیوں ہوجاتا .مہرام نے غصہ کنٹرول کرنے کے لیے مٹھیاں بھینچی.
پہلی اور آخری بار بتارہا ہوں آئندہ تم مجھے محرما کے آس پاس …نہیں بلکہ اس محلے میں بھی نظر نہیں آنے چاہیے ہو ورنہ وہ حال کرونگا کہ اپنے محلے میں جانے کے لائک نہیں بچوگے وہ شہادت کی انگلی اسکے عین آنکھوں کے سامنے رکھتے بولا.
انگلی نیچے …کیوں وہ تمہاری کون لگتی ہے جو اتنا جیلس ہورہے ہو وہ اسے انگلی نیچے کرنے کا اشارہ کرتے بولا.
میری بیوی ہے وہ .
مسز مہرام عالم شاہ ہے وہ سمجھے
اب سے تم اسے مسز مہرام شاہ کہوگے .اسکا نام بھی لیا تو میں تمہارا خون پی جاؤنگا.
وہ ایک ایک لفظ چھباتے ہوئے بولا.
واٹ وہ تمہاری بیوی ہے لیکن اسنے تو مجھے غیر شادی شدہ بتایا ہے اور اسنے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ ہم جلد شادی کرینگے.
شاویز کو تشویش ہوئی پہلے تو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا جھوٹ کیوں بولے گی.
میں نے اسے پرپوز کیا ہے.اور وہ ایکسیپٹ بھی کرچکی ہے.
یقینا تم جھوٹ بول رہے ہو.
میں کیوں جھوٹ بولونگا.
اک سیکنڈ ایک سیکنڈ
اگر وہ تمہاری بیوی ہے تو وہ یہاں کیوں رہتی ہے تمہارے ساتھ کیوں نہیں رہتی .شاویز نے تعجب سے اسے کہا.
وہ کہیں بھی رہے .
لیکن رہیے گی وہ میری بیوی ہی سمجھے وہ اسے باور کرارہا تھا.
شاویز اسے بنا جواب دیے بائیک بھگالے گیا.
مہرام نے ایک نظر اسے دھواں ہوتا دیکھا اور گھر کا دروازہ پیٹنے لگا.
جتنی بھی بےرخی وہ برداشت کرسکتا ہے مگر رقیب اسے ہرگز برداشت نہیں .وہ اس پہ زبردستی اپنا حق جتانا نہیں چاہتا تھا مگر یہ لڑکی تو حد سے ہی گزر گئی تھی .اگر وہ نہ دیکھتا تو ناجانے وہ اور کیا کیا کرچکی ہوتی.
دروازہ کھولو ورنہ میں توڑ دونگا.وہ دروازہ زور زور سے بجاتے ہوئے چلا رہا تھا.
محرما نے دروازے کے سوراخ میں سے مہرام کو دیکھا جو بہت غصے میں لگ رہا تھا.
اسنے جلدی سے کندی ہٹائی.
….
دل چاہ رہا تھا یا تو خود کو ختم کردیں یا پھر ساری دنیا کو آگ لگادے.
اسے اتنی تکلیف ہورہی تھی.کیسا الاؤ دہکا تھا اسکے دل میں وہ اس لڑکی کی چاہ میں تڑپتا رہا ہے اور وہ لڑکی اسے دیکھنے کی بھی خواہاں نہیں تھی کیا محبوب اتنا ظالم ہوتا ہے کیا عشق اتنا ستاتا ہے .عشق کی آگ کے شعلے اسکے انگ انگ سے بھڑک رہے تھے.
…….
پہلے دروازہ کیوں نہیں کھولا وہ داخل ہوتے ہی چلایا.
چلاؤمت بابا سوئے ہوئے ہیں محرما بابا کے روم کا دروازہ بند کرنے لگی.
او اچھا..
مجھے جواب چاہیے ہے .دروازہ کیوں نہیں کھولا وہ تیز لہجے میں بولا مگر آواز قدرے پست ہوچکی تھی.
میری مرضی محرما نے کندھے اچکائے اور کچن کی طرف مڑی وہ کبھی اسکا جواب ایک جگہ کھڑے ہوکر نہیں دیتی تھی.
جس کی وجہ سے مہرام کو بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنا پڑتا.
وہ روٹی پکانے کے لیے توا رکھنے لگی.
مہرام کچن کی سلیپ پہ چڑھ کے بیٹھ گیا.
اسنے اس ننھے کچن میں نظر دھرائی .بیسن پہ دو چائے کے جھوٹے کپ موجود تھے.
یہ دو کپ …
تمہارے علاوہ دوسرا کون تھا.محرما فریج سے گھوندا ہو آٹا نکال کر اور ایک لوئی لے کر بیلنے لگی.
با….بابا تھے ناجانے وہ جواب دیتے ہوئے لڑکھرائی کیوں .
بابا تو سوئے ہوئے ہے نہ وہ اسکے چلتے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جو گول گول روٹی بیل رہی تھی..روٹیاں بنانے میں کافی مہارت رکھتی تھی
تو چائے پی کر نہیں سوسکتے وہ بنا اسکی طرف دیکھے جواب دے رہی تھی.
جھوٹ..تم جھوٹ بول رہی ہو.
توے کی تپش سے مہرام کو پسینے آنے لگے.
محرما کو کچھ فرق نہیں پڑا.کیونکہ اسے عادت تھی.
جو سمجھو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا .وہ لاپروائی سے اپنے کام میں مشغول رہی .
مجھے معلوم ہے شاویز یہاں آیا تھا .
وہ ایک لمحے کے لیے چونکی پھر سنبھلتے ہوئے کہنے لگی.
تو تم میری جاسوسی بھی کرنے لگے ہو .وہ روٹی ایک ہاتھ سے توے پہ ڈالتی بولی.
جب سب معلوم ہوگیا ہے تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ شاویز اور میں بہت جلد شادی کرنے والے ہیں.وہ بنا ڈرے کہہ گئی.
مہرام اسکی جرات پہ دنگ رہ گیا
کرسکتی ہو تو کرلینا.. وہ استہزایہ ہنسی ہنسا.
بلکل کرونگی ….وہ تپتے لہجے میں بولی.
ہاں تو کرلینا نا میں تھوڑی کچھ بول رہا ہوں ….
وہ غصہ قابو کرتے بولا.
تو طلاق کب دے رہے ہو وہ توے کا چولھا بند کرنے لگی.
چولھا کیوں بند کررہی ہو میرے لیے روٹیاں نہیں بناؤگی .آخر میں بھی اپنی اکلوتی بیوی کے ہاتھ کا مزا چکھوں.
وہ اسے تنگ کرنے لگا.
بنالو خود وہ پیر پٹختے ہوئےباہر نکلی.
اب یہاں سے جانے کے کتنے لوگے.
تم کچھ بول رہی تھی وہ بھی اسکے پیچھے چلاآیا.
میں کہہ رہی تھی میں تم سے طلاق لے کر رہونگی اگر نہیں دی تو میں کورٹ جاؤنگی .تم پہ کیس کرونگی.
کس جرم کی پاداش میں کیس کرینگی آپ .
یہی کہ زبردستی مجھ سے نکاح کیا ہے تم نے.
اچھا پھر کیا ہوگا.وہ پوری تسلی سے اسکا خیالی پلاؤسماعت کررہا تھا.
اگر پہلے والا مہرام ہوتا تو ناجانے اسے اب تک کہاں پہنچا چکا ہوتا .مگر اب وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا .عورت جتنی ٹیڑھی ہو اس سے ہمیشہ پیار سے پیش آنا چائیے .کیونکہ عورت کا دل صرف پیار سے ہی جیتا جا سکتا ہے.ورنہ وہ ٹوٹ جاتی ہے نہ ہی سیدھی ہوتی ہے بلکہ اور تیڑھی ہوجاتی ہے.اور بکھری ہوئی عورت کو کوئی نہیں سمیٹ سکتا.
ایک بات تو بتاؤ یہ اچانک اتنی تبدیلی کیسے آئی میری محبت میں اتنا کیسے گرفتار ہوگئے کہیں تمہارا نئا ڈھونگ تو نہیں مجھے برباد کرنے کا.تم تو مجھ سے شدید نفرت کرتے تھے نہ .محرما نے دل میں چھپے سوالات آخر کار باہر ہی نکال دیئے.
مل جائیں گے تمام سوالوں کے جواب ..صبر رکھو تھوڑا.بس رخصتی ہوجانے دو پھر پھر ایک ایک سوال کے تفصیلی جواب دونگا.
وہ شوخی سے بولا.
رخصتی مائی فٹ …
وہ کھڑی ہوکر باہر نکلی.
کہاں جارہی ہو.مہرام کو اس سے ایسی حرکت کی توقع نہیں تھی.
تم تو جانے کا نام ہی نہیں لے رہے اسی لیے میں ہی چلی جاؤں .
مہرام کو اسکی ذہنی حالت پہ ذرا سا شبہ ہوا.
جارہا ہوں میں اور آئندہ میرے علاوہ کسی اور کو دروازہ مت کھولنا.
وہ اسکی بات ان سنی کرکے دھرام سے دروازہ بند کرگئی.
اس سے دو ہاتھ آگے کی بیوی ملی تھی اسے.
