438.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 5

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

خانساماں جلدی سے کھانے کا انتظام کرو ثمینہ آپا اور خاص طور پہ شہریال بھائی اتنے دنوں بعد آۓ ہیں ۔مسز عالم نے اپنی میڈ کو ہدایت دی۔

کیسی ہے آپا ۔واثق نہیں آیا۔

اللہ کا شکر ہے۔

نہیں بھابھی وہ کسی کام میں بزی تھا اسلیے نہیں آسکا۔

بھابھی بھائی صاحب گھر میں موجود نہیں ہے ۔ثمینہ نے نظریں ادھر ادھر گھماتے ہوئے پوچھا۔

وہ کچھ دیر پہلے ہی آفس سے آئے ہیں فریش ہوتے ہی آتے ہونگے ۔میں نے کہلوادیا ہے ۔

آپ کچھ لیں ۔وہ لوازمات کی پلیٹ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔

اسلام وعلیکم ۔عالم صاحب نے آتے ہی سلام کیا۔

جہاں مرد جمع ہوتے ہیں وہاں کا موضوع کیا ہوتا ہے یہ ہر کوئی جانتا ہوگا۔

ہم آپ سے کچھ مانگنے آئے۔امید ہے آپ کا جواب مثبت میں ہوگا۔وہ سانس لینے کے لیے رکی۔

بھائی صاحب ہم ابیرہ کو اپنی بیٹی بنانا چاہتے ہیں ۔واثق کے لیے ابیرہ کا رشتہ مانگنے آۓ ہیں ۔انھوں نے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا۔

وہ یوں اچانک اس بات کے لیے بلکل تیار نہ تھے۔ثمینہ انکی اکلوتی بہن ہیں ۔ماں باپ کے بعد ثمینہ کے لیے وہی سب کچھ ہیں ۔ان کی کسی بات کا بھی انکار کرنا انھیں ہرگز گنوارہ نہ تھا۔

ان کی بات سن کر عالم صاحب نے برابر میں بیٹھی اپنی بیگم کی طرف ایک نظر ڈال کر گویا ہوئے۔

ابیرہ جس طرح ہماری بیٹی ہے اسی طرح آپ کی بھی بیٹی ہے۔میرے بچوں پہ ہم سے زیادہ آپ کا حق ہے۔

جب چاہے آپ ابیرہ کو اپنی بہو بنا کے لے جاسکتے ہیں ۔لیکن پہلے ہمیں ابیرہ کی رائے معلوم کرنی ہوگی۔کیونکہ اسکی زندگی کا اہم فیصلہ ہم خود اکیلے نہیں لے سکتے۔

اگر یہ سوچ ہر والدین کا ذہن سوچے تو دنیا میں کوئی بھی لڑکی مجبور اور ناخوش نہ ہو۔

شکریہ بھائی صاحب ہمیں پورا یقین تھا آپ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائینگے۔اس بار شہریال صاحب مخاطب ہوئے۔

مسز عالم کا بس چلتا تو ہاتھوں ہاتھ ہی ابیرہ کو رخصت کرادیتی۔واثق انھیں بچپن سے ہی پسند تھا۔ذہین ،پڑھا لکھا،سلجھا ہوا، سیرت اور صورت دونو ں میں برتر تھا۔

لیکن ایک مسئلہ تھا وہ اپنی بیٹی کو دوسرے شہر کیسے بھیج سکتی تھی ایک ہی بیٹی تھی وہ بھی دور چلی جائے گی ۔یہ سوچ سوچ کر انکی آنکھوں سے آنسو جارہی ہوگئے۔

مام آپ کیوں رورہی ہے ۔ابیرہ اپنی مام سے لپٹ گئی.ثمینہ آپا نے واثق کے لیے تمھا را رشتہ مانگا ہے۔وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔

ہیں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔اب

یرہ حیرت زدہ رہ گئی۔

اسکی اتنی ہمت۔وہ اسے یہی سے گالیوں سے نوازنے لگی۔

تو اس میں آپ کیوں رورہی ہے رونا تو مجھے چاہی ہے۔وہ منہ بگاڑ تے ہوئے بولی۔

تم کیوں روؤگی۔اور ویسے بھی یہ خوشی کے آنسو ہے۔

پھر بھی میری کونسی ابھی رخصتی ہو رہی ہے۔

واثق ،اب آپ اپنی خیر بنائیں۔

وہ دل ہی دل میں بولی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یو لائیر۔

سامنےوالے کی کال رسیو کرتے ہی وہ بھڑکی۔

کیا ہوا بہن جی کون بات کررہا ہے۔وہ سیل کو کودیکھنے لگا کسی انجانے نمبر سے کال آئی تھی

اوہو تو آپکو نہیں معلوم میں کون ہوں۔

ایک کافی کیا پلادی تم تو گلے ہی پڑگئے۔وہ آپ سے تم پہ آگئی۔

کیا ۔کون ۔کس نے کس کو کوفی پلائی۔

وہ تعجب سے بولا۔

تبھی میں کسی کو لفٹ نہیں کراتی۔پھر لڑکے پیچھا نہیں چھوڑتے۔

بھلا کوئی کسی کے گھر ایسے رشتہ بھیجتا ہے۔

وہ سنانے میں کوئی کسر نہیں باقی رکھ رہی تھی۔

ایم آئی کم ان ۔دروازے پہ ناک ہوا ۔واثق نے جلدی سے فون نیچے کیا۔اور پھر کچھ دیر بعد سیل کان میں لگاتے ہوا کہا۔

رانگ نمبر ۔اسنے کال کاٹ دی۔

ہمت دیکھو بندے کی انجان تو ایسے بن رہا ہے جیسے کچھ معلوم ہی نہیں ۔

اسنے واپس کال ملائی

واٹس رانگ وتھ یو۔

اسی نمبر سے دوبارہ کال آنے پہ اسنے کہا۔

مجھے بولنا چاہیے تھایہ۔

کال آپ نے کی ہےمیڈم ۔دماغ میرا پکارہی ہیں اور کہہ رہی ہے مجھے کہنا چاہیے۔

آئندہ یہاں کال مت کرنا ورنہ پولیس کو نمبر دے دونگا۔

وہ اسے دھمکی دے رہا تھا۔

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے اب بندہ مذاق بھی نہیں کرسکتا۔

وہ دانت چھباتے ہوئے بولی۔

یہ کیسا بے حدہ مزاق پے۔

وہ چیخا ۔سامنے بیٹھے امپلائی نے اسے دیکھا۔

کہیں اور جاکے کریں مزاق ۔یہاں پہ آپکی دال گلنے والی نہیں ہے۔

اسنے سامنے والے کاجواب سنے بغیرکھٹک سے فون رکھ دیا۔

سائیکو۔وہ طیش میں آچکا تھا۔

کام کے وقت اسے کوئی دسٹرب کریں ۔قطعی برداشت نہیں تھا

کیا ہوا سر ۔اس اوری تھینگ فائن ?۔سامنے بیٹھے امپلائے نے کہا۔

یس، نظریں ملائے بغیر اسنے جواب دیا.

ابیرہ نے کتنی مشکل سے مہرام کے سیل میں سے واثق کا نمبر چرایا تھا ۔

اور وہ کال رسیو کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔

بن تو ایسے رہا ہے جیسے بہت معصوم ہو ۔

وہ سیل رکھتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔

۔۔۔۔۔۔

مہرام تمھاری کتاب میں سے یہ پیپر گرگیا ہے ۔سبحان اسےبیپر تھماتےہوئے بولا۔

مہرام شاہ اس پیپر کو دیکھنے لگا ۔

جس میں لکھا تھا ۔آپ کے ہاتھ میں جو کتاب ہے وہ پہلے میں ایشو کروائی تھی اوراسمیں میرا ایک امپوڑٹڈ پیپر رہ گیا ہے۔

پلیز وہ پیپر دے دیں۔

اچھا تبھی وہ پیپر پڑھنے کے لیے اتنا فورس کررہی تھی۔اسنےوہ کتاب چھانی تو اس میں سے وہ پیپر نکلا جو محرما کو مطلوب تھا۔

وہ سیدھا لائبریری گیاکیونکہ وہ اسے اکثر لائبریری میں دکھتی تھی

وہ کتابوں کے ریگ میں جھکی ہوئی ملی۔

ایکسیوزمی۔وہ اسکے پیچھے کھڑا ہوگیا۔

جی فرمائیے۔محرمانے مڑتے ہوئے کہا۔

یہی وہ پیپر ہے نہ جسکے لیے تم اس دن لڑرہی تھی وہ پیپر سامنے کرتے ہوئے بولا۔

محرمانےہاتھ بڑھاتے ہوئے لینا چاہا لیکن مہرام شاہ نے ایک جھکٹے سے وہ پیپر پیچھے کیا۔

نا ۔۔نا ایسے نہیں ملے گا۔

نہیں دینا تو پھر جاؤ یہاں سے

وہ بات کو طول نہیں دینا چاہتی تھی۔

واپس مڑتے ہوئے کتابیں دیکھنے لگی۔اگنور ہونا میری خصلت میں شامل نہیں ۔

مہرام شاہ کو یوں اگنور ہوجانے پہ طیش آیا۔

اور اگنور کرنا میری فطرت میں شامل ہے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی۔

ایک جھکٹے سے اس نے محرما کے ہاتھ سے کتاب چھین لی۔جو اسنے کتنی محنت کے بعد لائبریری کی کباڑد سے کھنگالی تھی۔

یہ کیا بدتمیزی وہ اس پہ جھپٹی ۔

کتاب کو دونوں ہاتھ سے پھاڑکے اس کے ہاتھ میں تھمادیا گیا تھا۔

یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔

کیا کیا۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔۔۔تم نے۔

اس کے آنکھوں سے آنسو جھانک رہے تھے۔۔

میں نے کہا تھا ۔مجھے اگنور ہونا قطعی پسند نہیں ہے ۔ مکروہ ہنسی ہنسے،تکبر سے نکل کر باہر چلا گیا۔

جاتے جاتے لائبریرین کو لگی لپٹی سنا گیا۔

وہ ابھی تک وہی کھڑی پھٹی ہوئی کتاب کو تھامے آنسو بہا رہی تھی۔

محرما کو اس مہنگی کتاب کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔

کچھ نہ کرکے بھی وہ ذمہ دار ٹہری۔

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔تم اپنے ہی غرور میں جل کے خاک ہوجاؤگے۔

نا چاہتے ہوئے بھی اس کےدل نے بددعا دی۔