Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 17
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 17
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
پچھلے آدھے گھنٹے سے بند کمرے میں ناجانے کونسے مذاکرات چل رہے تھے۔جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔واثق کی سانس اٹکی ہوئی تھی سوچ سوچ کے۔
جبکہ ابیرہ بے خبر تھی ۔
۔۔۔۔۔
محرما کچھ دنوں بعد یونیورسٹی آئی۔کیونکہ ڈاکٹر نے چلنے سے قطعی منع کیا تھا۔
محرما کے آتے ہی ساریہ نے خطرناک انکشاف کیا تھا۔محرما کو یقین نہیں آرہا تھا کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے ۔
تم کیسے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہو۔
میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے وہ دونوں کلاس میں بیٹھے تمہارا مذاق اڑارہے تھے۔
وہ سب اس لیے کررہے تھے تاکہ تم اپنے سیمسٹر پہ توجہ نہ دے سکو ۔اس لیے تمہیں کال اور میسجز کرکے پریشان کرتا رہا ہے۔
پہلے بہت عجیب و غریب میسجز آتے تھے لیکن کچھ دنوں سے آنا بلکل بند ہوگئے تھے۔
وہ کبھی بھی اسکی کال رسیو نہیں کرتی اور نہ ہی کسی قسم کا رپلائی دیتی تھی۔
ہاں وہ پریشان ہوئی تھی وہ ڈرتی تھی کہیں بابا یا ممی نہ پڑھ لیں۔
لڑکیوں کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے نہ ان سب سے گذرنا دوسروں کی غلطی کی سزا انھیں کیوں بھگتنی پڑتی ہے۔
والدین اگر اولاد نرینہ کے ساتھ اپنی بیٹیوں پہ ہی اتنا ہی بھروسہ کریں تو آدھے سے زیادہ پریشانی جنم ہی نہ لیں۔
شاویز کلاس ختم ہونے پہ اسکے پاس آیا۔
آئی نو آپ کافی ہرٹ ہوئی ہونگی۔ میں نے آپ کو بہت اریٹیٹ کیا ہے یقین مانیئے ۔میں بلکل بھی راضی نہیں تھا ایسی گٹھیا حرکت کے لیے لیکن میرے پاس کوئی چارہ ہی نہیں تھا اسکے علاوہ۔
وہ دھیمے لہجے میں وضاحت پیش کررہا تھا۔
کسی لڑکی کو بیہودہ مسجز کرنا،کال کرکے اسے تنگ کرنا ،اس میں کہاں کی مجبوری ہوسکتی ہے۔
آپ کی وجہ سے مجھے کتنی پریشانی اٹھانی پڑی ہے اس گٹھیا حرکت سے میری پڑھائی روک دی جاتی۔حتیٰ کہ میرا گھر سے باہرنکلنا بند کردیا جاتا ۔میرے والدین کا مجھ پر سے اعتبار اٹھ جاتا۔قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچ لینا چاہئیے۔چاہے آپ کے قدم درست سمت ہی طرف کیوں نہ بڑھ رہے ہو۔
اور یہ بھی جانچ لینا چاہیے کی اٹھتے ہوئے قدم کسی کے نقصان کا باعث تو نہیں بن رہے۔محرما نے اسے سمجھانے کی کوشش کی جس پہ شاویز نے سر اثبات میں ہلایا جیسے سب سمجھ گیا ہو
ایکچلی مجھے یہاں پہ داخلہ اسکولرشپ سے ملا ہے اگر میرا یہ سال اچھا رزلٹ نہیں آتا تو مجھ سے اسکولرشپ واپس لے لی جاتی۔
اور میں بلکل بھی نہیں چاہتا کہ کسی بھی وجہ سے میری اسکالرشپ واپس لے لی جائی۔
پوری کلاس میں آپ ہی ذہین اسٹوڈینت ہیں جس سے مجھے خطرہ لگا رہتا ہے ۔آپ کی ذہانہ صلاحیتوں سے مجھے خوف ہونے لگا تھا۔میرے دوست نے مجھے یہ مشورہ پیش کیا۔اور کوئی طریقہ میرے ہاتھ نہیں لگا اسلیے مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔
میں بلکل بھی ایسا نہیں ہوں۔جیسا آپ سمجھ رہی ہیں اسکا غصہ اب تک برقرار تھا۔
ایک بات بتائیں آپ دوسروں کے ہر مشورے پہ عمل کرلیتے ہیں ۔۔۔
کیا آپ کی سوچنے کی حس ختم ہوچکی ہے اتنے ذہین اسٹوڈینٹ ہونے کے باوجود آپ نے دماغ نہیں چلایا ۔۔۔
مجھے حیرت ہوتی ہے انسان کامیاب ہونے کے لیے،خود کو دنیا کے سامنے منوانے کے لیے غلط راستہ کیوں اختیار کرتا ہے۔
اسے ہی تو عقل کہتے ہیں جو آپکو غلط راستے سے موڑ کے صحیح راستے کی طرف گامزن کردیں۔
مجھے ایسا محسوس ہوا اگر میں آپ کو ذہنی ٹارچر کرونگا تو آپ کی توجہ پڑھائی سے ہٹ جائے گی۔اور بدلے میں میرا رزلٹ آپ سے بہتر آئےگا۔
پلیز مجھے معاف کردیں۔وہ پیشمان پیشمان سا تھا۔
اسکی آنکھیں جھوٹ نہیں بول رہی تھی محرما نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جو جھکی ہوئی تھی۔
غلطی انسان سے ہوتی ہے اور جو غلط کو صحیح کرنے کی قدرت رکھتا ہو وہ انسانیت کے اول درجے میں شمار ہوتا ہے۔
اوکے آئندہ ایسا کسی کے ساتھ مت کیجئے گا اور مہربانی فرما کے اپنے دوست تبدیل کیجئے ۔
اگر اچھے دوست ہوتے تو یوں میرے سے معافی نہیں مانگ رہے ہوتے بلکہ فخر سے اپنا ٹاپ رزلٹ دیکھا کر داد وصول کررہے ہوتے۔۔۔
تھینک یو سو مچ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی آسانی سے معاف کر دینگی۔۔۔
اب فرینڈ شپ ہوجائے شاویز نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
اوکے محرما صرف اوکے کہہ کر کلاس سے نکل گئی باتوں باتوں میں اگلی کلاس کا،وقت ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔
جس کا خدشہ تھا وہی وقوع پذیر ہوا تھا۔
اتنے کم دنوں میں کیسے ساری تیاریاں ہونگی۔وہ اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کرنا چاہتی تھی لیکن ثمینہ کو ناجانے کیا جلدی تھی کی وہ اسی ویک اینڈ پہ دونوں کا نکاح کرنے کی قسم کھا کے بیٹھی تھی ۔
کچھ دن اور لیٹ نہیں ہوسکتا۔
مسز عالم نے مشورہ پیش کیا۔
کیا ہوگیا ہے بھابھی آل ریڈی اتنا لیٹ ہوچکا ہے پہلے سے اب اگر اور لیٹ ہوا تھا تو مجھے ڈر ہے دولہا کہیں بھاگ نہ جائے۔آخری بات وہ دل میں کہہ گئی۔
اور ویسے بھی ہم صرف نکاح کررہے ہیں کونسا ابھی رخصتی کرینگے جو آپ ڈیپریسڈ ہورہی ہیں ۔
ہمیں بھی واثق کی شادی دھوم دھام سے کرنے کے بہت ارمان ہے۔
آپ فکر نہ کریں ہم رخصتی دھوم دھام سے کرینگے۔
ہاں گھر کی بلا جائے گی تو خوشیاں منانا تو بنتا ہے
مہرام نے مسکراہٹ ڈبائے کہا۔
جس پہ مسز عالم نے آنکھیں نکالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔وہ کیفے ایریا میں بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ جب شاویز انہیں دیکھ کر سامنے کرسی نکال کر براجمان ہوا۔
ساریہ نے ایک سرسری نگاہ اس پہ ڈالی جو بن بلائے مہمان کی طرح وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
واؤ چائے نوش کی جارہی ہیں وہ محرما کو دیکھتے بولا۔
آپ کو چائے ہی نظر آرہی ہے نہ ساریہ آنکھیں پھیر گئی۔
میں ذرا بل پے کرلوں ۔۔۔
اور آنکھوں آنکھوں میں محرما کو یہاں سے اٹھنے کا عندیہ دے گئی۔جو چائے کی چسکی بڑے سکون سے لے رہی تھی۔
محرما ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی،
آپ کو چائے پسند ہے یا کافی ۔۔۔
جو بروقت میسر آجائے۔محرما نے کندھے اچکاکے جواب دیا۔
ایکچلی میں چاہتا ہوں ۔۔۔میں آپ کو کافی پلا کر تھینکس کروں۔۔۔
وہ ڈرتے ہوئے کہنے لگا۔
نو تھینکس اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے میں نے آپ کا تھینکس اکسیپٹ کرلیا ہے۔وہ صاف گوئی سے کہہ گئی۔
آپ اپنی پڑھائی پہ توجہ دیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ کوئی اور پوزیشن لے اڑے۔اور اسکولرشپ سے ہاتھ دھونے پڑجائے۔
وہ دونوں مسلسل کسی کی تیز طرار نظروں کی زد میں تھے۔
دونوں کو ہنستا ہوا دیکھ مہرام کے ماتھے پہ بل آچکے تھے۔.
اسکے ساتھ بیٹھا وہ شخص اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
مہرام کا سرخ چہرہ سبحان کو ڈراؤنا لگا۔
سامنے پانی کا گلاس مہرام نے غصے میں ایسا ڈبایا کہ وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔
کیا ہوا بھائی سب خیریت تو ہے نہ۔
سبحان نے مہرام کے زخمی ہاتھ کو دیکھا ۔۔
یار دیکھ تو سامنے ۔۔۔
یہ وہی لڑکی ہے نہ جو اپنے مہرام کے سامنے ہوئی تھی۔
کیسے ہنس ہنس کے باتیں کررہی ہے ۔
لگتا ہے دونوں کا کوئی سین چل رہا ہے۔
اسی ٹیبل پہ موجود ایک کلاس فیلو نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مہرام نے غصیلی نظر اس پہ ڈالی اور کرسی کو دھکیل کے کاؤنٹر کی طرف گیا۔۔۔۔
ادھر آؤ ہاتھ کے اشارے سے وہاں موجود سب سے کم عمر بچے کو اشارہ کیا۔
جی صاحب وہ کپڑا شانے پہ ڈالے حاضر ہوا۔
مہرام نے ایک ٹیبل پہ اشارہ کیا ۔
یہ جو بندر دیکھ رہے ہو نہ ۔
صاحب وہ تو چنگا بھلا بندہ ہے۔اسنے آنکھیں پوری کھول کے دیکھا۔
ہوگا لیکن مجھے بندر ہی دیکھ رہا ہے۔مہرام نے اسے آنکھیں نکالی ۔
کچھ جملے کہہ کر مہرام نے جیب سے کڑک نوٹ نکالی۔
کام ہوجائے گا۔
بچے نے نوٹ فورا جیب میں ڈال لیا۔
ہوجائے گا صاحب ہوجائے گا۔
گرم آگ ہونی چائیے ۔سالے کا چمڑہ اکھڑجائے۔
اشتعال کے ابال سے اسکا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔
بچے نےچمکتی آنکھوں کے ساتھ جواب دیا۔
وہ واپس اپنی کرسی پہ آکر بنا ٹکٹ کا شو دیکھنے کے لیے بے تاب تھا
جلن اسکی رگ رگ میں میں ڈور رہی تھی۔
دل چاہ رہا تھا اس لڑکے کا جبرا توڑ دیں۔
مگر فی الحال اسے جلانا تھا۔
کھل کھلاتی ہنسی سے اسے حسد ہونے لگا۔
ہنستے ہوئے وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔
لیکن سامنے بیٹھے اس بندر سے ناجانے اسکی کونسی دشمنی نکل آئی تھی ۔۔۔۔
اوہو ویٹر نے گرما گرم چائے سے شاویز کے کپڑے رنگ دیئے ۔
جو کچھ دیر پہلے چمک رہے تھے۔
اسکے جلنے سے مہرام کے دل پہ جو ٹھنڈک اتری تھی وہ بیان سے باہر تھی۔
وہ سی سی کرتا فورا کھڑا ہوگیا۔
ویٹر اپنا کام کرکے فورا غائب ہوگیا تھا۔
شو کے ختم ہونے پہ وہ باہر نکل گیا۔
جبکہ شاویز جلن سے اچھل رہا تھا۔
ساریہ کی تو ہنسی بند نہیں ہورہی تھی۔
آؤ آؤ بڑاندڈ بندر کا لائیو رقص دیکھو ۔۔
اسنے سب کو جمع کرکے وہاں بلایا۔
سب اسٹوڈینت کو ہنستا دیکھ کر وہ جلدی سے واش روم کی طرف لپکا۔اسکے جاتے ہی محرما نے بمشکل کنٹرول کی ہوئی ہنسی کو باہر نکالا۔
خدا کا خوف کرو ساریہ وہ ہنستے ہنستے کہنے لگی اور دوچار ننھے مکے اس کے شانے پہ لگائے۔
لیکن اسے یوں اچھلتے دیکھ کر محرما کی سچ میں ہنسی نکلی تھی۔۔
صرف ینگ مین ہونا ضروری نہیں ساتھ میں اسٹرونگ مین بھی ہونا چاہئے ساریہ نے مضبوط جسامت والے مہرام کو دیکھ کر سوچا۔
“رقیبوں کا خاندان ہی کیوں نہیں آجائے اسکے کے مقابلے میں ،وہ بھی مہرام شاہ ہے یہ کوئی کیسے بھول سکتا ہے ،انا نے فخر سے محبت کو جتایا۔
جس پہ محبت منہ بسورتی رہ گئی”
