Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 10
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 10
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
کسی کی آواز قریب سے آنے پہ وہ چونکی۔ آنکھوں کو پوری طرح کھولے وہ سامنے دیکھ رہی تھی۔کچھ اسٹوڈینت اسکے پاس کھڑے تھے ۔معلوم نہیں کونسے کیمپس کے تھے ۔جن کے ہاتھوں میں ربنز پکڑی ہوئی تھی
ایک ۔۔۔۔دو۔۔۔۔ تین۔۔۔۔۔
کتنی ہی بلو ربنز اسے پہنائی گئی۔ وہ تو ٹھیک سے انھیں دیکھ بھی نہیں پائی ۔جاننا تو دور کی بات ہے ۔پتا نہیں کیسے لوگ تھے جو اسے لوزر سمجھ رہے تھے حالانکہ کبھی اسنے اسی 80 سےکم نمبر ہی نہیں لیے تھے۔
یونی کے لائق اسٹوڈینت میں اسکا نام جانا جاتا تھا
بارہا پروفیسر ،ٹیچرز اسکی تعریف کرکرکے تھکتے نہ تھے ۔
اسنے اپنی نازک سی انگلی کو دیکھا جہاں کم وبیش درجن ربنز بندھی ہوئی تھی ۔
ایک ایک کرکے اسنے سب کھول دی۔ جب میں دیسرو ہی نہیں کرتی تو پہنوں کیوں۔
اسے یہ سب سمجھنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگی ۔محرما اپنا بیگ اٹھائے بیرونی گیٹ کی طرف روانہ ہوئی۔
اچانک کسی نےاسکا ہاتھ کھینچا۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس وجود سے ٹکرائی۔ جو مسرور سی مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔
کیسا لگا ۔۔۔۔۔۔
اسنے معنی خیز انداز میں کہا۔
وہ نا سمجھی سےاسے دیکھنے لگی۔
پھر یاد آنے پہ اسے منہ توڑ جواب دیا۔
بہت اچھی کوشش تھی لیکن۔۔۔۔۔
سوری مجھے کوئی قابل تعریف نہیں لگا۔
آئندہ اور محنت سے کیجیے گا۔
جس طرح میں نے کیا۔وہ تاسف سے گویا ہوئی
محرما کے نازک ہاتھ پہ اسکی گرفت اور مضبوط ہوگئی۔
انگلیاں اس کی جلد میں گھس چکی تھی۔
میرا ہاتھ چھوڑو ۔۔۔۔
اسنے نخوت سے کہا۔
اگر تمھاری بات مکمل ہوچکی ہو تو میں اپنی کہوں ۔۔۔۔
وہ مزید اسکا ہاتھا دبوچ رہا تھا۔
تکلیف اسکے چہرے پہ نمایاں تھی۔
اسکا سرخ ہوتا چہرہ انا کی تسکین کا سبب بنا تھا۔
یہ جو ربنز فیسٹیول ہے نا۔
ابھی ختم نہیں ہوا۔
ہمیشہ کی طرح اسکا ونر میں رہا ہوں
لیکن شومئی قسمت آج لوزر آف دا یونیورسٹی تم بنی ہو۔۔۔
وہ تنے ہوئے اعصاب سے بولا
اس اطلاع نے محرما کے رونگھتے کھڑے کردیے ۔۔۔
خود کو لوزر کہلائے جانے کی تکلیف کیا ہوتی ہے آج وہ اچھی طرح جان گئی تھی۔
کتنی دیر سے وہ اس مضبوط وجود کے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہوسکتی تھی۔۔۔
تمھیں کہا تھا مجھ سے دور رہنا لیکن پھر پھر بھی تم نے مجھے چیلنج کیا ۔
جب اتنی بہادری دیکھائی ہی دی ہے تو سزا بگھتنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔۔۔
تیار رہنا ۔وہ اسے الرٹ کررہا تھا۔۔
وہ ڈبڈباتی آنکھوں سے اس ٹک رہی تھی ۔۔۔۔۔
لوزر آف دافیسٹیول
تمہیں کسی نے بتایا نہیں ۔۔۔
کوئی بات نہیں میں تمھیں سمجھاتا دیتا ہوں ۔
جو ونر ہوتا ہے لوزر اسکی سرپرستی میں آجاتا ہے ۔ تین دنوں کے لیے۔۔۔
دو چمکتی آنکھیں اسکی طرف مرکوز تھی ۔
سمجھ رہی ہو نہ۔
ونر یعنی کے مہرام شاہ ۔۔۔۔
وہ شہادت کی انگلی اپنی سمت کرکے بولا۔۔۔
اور لوزر یعنی کے مس محرما شازیب ۔۔۔
انگلی اب اسکی سمت کی
لوزر آف دا یونیورسٹی ۔۔۔۔
اسکا بلند قہقہہ محرما کو زہر لگا۔
پورا وجود ہی اسے زہر لگا۔۔۔
اگر زندگی مجھے موقعہ دے گی تم پہ کالک ملنے کا تو میں ایک سیکنڈ بھی انتظار نہیں کرونگی۔
وہ اسکی چمکتی بھوری آنکھوں میں نگاہ جمائے گویا ہوئی۔۔۔۔
بس اتنی سی بات کے لیے اتنے خوش ہورہے ہو۔
فکر مت کرو میں ایسے کوئی لولز کو فولو ہی نہیں کرتی۔
انفیکٹ میں تمہیں ونر ہی تسلیم نہیں کرتی ۔۔۔
اگر وہ اناپرست تھا تو وہ بھی شکست خورد نہیں تھی۔
کڑواہت کا مقابلہ کرنا وہ بخوبی جانتی تھی۔۔
جیت کر بھی وہ جیت نہیں سکا تھا۔
آنچ دیتا لہجہ اسے مزید سلگا گیا۔
گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ جلدی سے بھاگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
سنگ دل سے جتنا بھی ٹکرالیا جائے زخمی ہمارا وجود ہی ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ دوسرے دن یونیورسٹی نہیں آئی۔
بخار کافی بہتر تھا اب۔۔۔۔۔۔۔۔
ساریہ کو اسنے یقین دلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔
نیند آنکھو ں سے کوسوں دور تھی وہ اٹھ کے باہر لان میں آگئی ۔رات کافی بیت چکی تھی ۔وہ چاہتے ہوئے بھی اسے کجھ بتا نہیں سکتی تھی۔اسنے اپنی نگاہ آسمان پہ مرکوز کی جہاں سنہرہ چاند جگمگارہا تھا وہ اپنی نظروں سے چاند کو جی بھر کے دیکھنا چاہتی تھی ۔نظر کے سامنے ہوتے ہوئے بھی دسترس سے کتنا دور ہے ۔وہ ہاتھ بڑھاکے پالینا چاہتی تھی مگر وہ چاند اسے روشن کرنے کےلیے کتنا بےچین ہورہا ہوگا اسکا اندازہ وہ نہیں لگاسکتی تھی۔
وہ ثانیہ بیگ کے پیچھے پاگل ہورہا ہے جو اصل میں کچھ نہیں ۔ صرف نظر کا دھوکہ اور دل کا فریب ہے۔.
اصل چاہے جانے کی مستحق وہ ہے نام بدلنے سے محبت کم نہیں ہوجاتی ۔وہ دکھی دل لیے سوچوں میں گم تھی
پیچھے کسی کے چلنے کی آواز آرہی تھی ۔خوف سے وہ پیچھے دیکھ نہ پائی۔اسے اتنی رات کو یہاں یوں تنہا آنے کی کیا ضرورت تھی۔
اسنے کانپتے ہوئے آیت الکرسی کا ورد کرنا شروع کردیا ۔
کو ۔۔و۔۔ ن۔۔ ن۔۔ ہے۔۔ ے۔۔ ے ۔۔۔۔۔۔۔
۔وہ آنکھیں زور سے بھینچے لرزتی آواز سے کہہ رہی تھی۔
اف اللہ جی مجھے بچالیں۔۔۔۔۔۔
واثق کو اسے ڈرانے میں لطف آنے لگا
وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر خوف سے وہ ہل بھی نہیں سکی۔
کاندھے پہ کسی کا ہاتھ رکھنے پہ وہ اچھل پڑی۔
میں ں۔۔ ں ۔۔ں ۔۔نے ۔۔ے کچ ۔۔کھچ ۔۔چ۔۔۔ نہی نہیں۔۔ کیا ا ۔۔ا۔
وہ دونوں آنکھیں بند کیے کانپنے لگی۔
وہ بے ہوش ہی ہونے والی تھی کہ
واثق کا بلند وبالا قہقہہ سناٹے میں گونجا۔
تم اتنا ڈرتی ہو وہ ہنسی کو کنٹرول نہیں کر پارہا تھا۔
وہ پسینے میں تربتر خوف سے اسے ٹکے جارہی تھی۔
جب اتنا ڈر لگتا ہے تو یہاں اسوقت اکیلے آنے کی ضرورت کیا تھی۔وہ اسکے کانپتے وجود کو ٹکتے ہوئے تاسف سے بولا
ہاہاہاہا ڈرپورک اب وہ اسے چڑانے لگا۔
تم مجھے ڈرارہے تھے اگر مجھے ہارٹ اٹیک ہوجا تا یا غیر معین مدت کے لیے میں بےہوش ہوجاتی تو اسکا ذمہ دار صرف تم ہوتے ۔۔۔اور ہاں میں ڈرتی ورتی نہیں ہوں وہ اپنے موقف پہ ڈٹی رہی۔
واثق کا ابیرہ کے اوور کونفیڈینس پہ بڑا تعجب ہوا ۔
اچھا پھر کون ابھی بےہوش ہوتے ہوتے بچا۔
کون آیت الکرسی زور زور سے پڑھ رہا تھا۔
وہ یاد دلانے لگا۔آیت الکرسی پڑھنی چاہئے ۔بلکہ ہر وقت پڑھنی چاہئے۔
وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے بولی۔۔۔
وہ اتنے ثبوت کے باوجود بھی اپنے موقف سے ذرہ برابر بھی نہیں ہلی۔
واثق اسکے آگے مزید کچھ نہ کہہ سکا کیونکہ اسے معلوم تھا وہ کبھی بھی اس سے جیت نہیں سکتا۔
لو پانی پی لو اور لیلیکس ہوجاؤ ۔
پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا۔
ابیرہ نے پانی گٹر گٹر پورا ختم کردیا۔
۔۔۔۔۔۔
میرا راستہ چھوڑو
وہ کلاس اٹینڈ کرنے جارہی تھی جب اچانک سے وہ سامنے آیا۔
راستے کے درمیان تم آئی ہو میں نہیں ۔۔
وہ نظریں سامنے سے گزرتے اسٹوڈینت پہ جمائے بولا۔۔
وہ بلا کسی بحث کے واپس مڑگئی۔۔۔اب کلاس تک جانے کے لیے اسے دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑےگا۔جو تھوڑا لمبا تھا۔
میری بات ابھی پوری نہیں ہوئی سخت لہجہ بلند تھا۔
مقصد میرا ٹائم ویسٹ کرنا ہے تو پھر برابر کیجئے ۔۔۔وہ بنا پلٹے وضاحت دینے لگی۔۔۔
اوہو پھر تو تمہیں اچھا خاصا وقت ویسٹ کرنا ہوگا۔
کل جو میں نے کہا تھا ۔۔۔۔
کل ۔۔۔وہ سر کھجانے لگا
ویسے کل کہاں غائب تھی ڈر گئی ہوگی نہ ۔۔۔۔۔
جسٹ شٹ اپ مسٹر مہرام شاہ۔
یہ تمہارا پرائیوٹ روم نہیں ہے جہاں صرف تمھاری مرضی چلے گی۔۔۔
ہر کسی پہ اپنا حق نہیں جتاسکتے تم ۔
کل تو ایک دن ضائع کردیا لیکن ابھی بھی دودن بچے ہیں جو تم پہ بھاری گزرنے والے ہیں وہ پیشن گوئی دینے لگا۔
کلاس سے فارغ ہوکر آجانا ۔۔۔وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا
تمہیں سبحان سب سمجھادے گا وہ کسے لڑکے کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا۔۔۔
محرما نے نظر انداز کیا
اتنی بڑی غلط فہمی کا شکار کیسے ہوسکتے ہو تم۔۔۔
تم نے سوچ بھی کیسے کہ لیا میں تمھاری بات مانونگی ۔۔
وہ ہسنے لگی۔۔۔
ماننی تو پڑیگی ۔۔
اب کیسے مانوگی وہ تم پر منحصر ہے سلگتا چہرہ لیے وہ یہاں سے چلاگیا
