Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 36 (Last Episode)
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 36 (Last Episode)
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
مہرام یونی سے سیدھا مسجد گیا.
اسنے اپنا سامان ٹیکسی میں رکھا ہوا تھا.وہ آخری بار اس مسجد میں وقت گزارنا چاہتا تھا فلائٹ کو ابھی وقت تھا .وہ وضو کرکے عصر کی نماز ادا کرنے بیٹھ گیا.پھر وہ کچھ دیر یونہی اپنی مخصوص جگہ پہ آکر بیٹھ گیا.اسنے ادھر اودھر نظر گھمائی .مجاور عرف بابا جی, نظر نہیں آئے. وہ اٹھ کر انہیں ڈھونڈے لگا.پہلے کی طرح مسجد میں رونق نہیں تھی چار سو سناٹا پڑا ہوا تھا.اسنے اس مقبرے پہ فاتحہ پڑھی اور اٹھ کر مسجد سے منسلک ایک چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھ گیا.جہاں مجاور کی رہائش تھی.وہ وہاں پہ لیٹا اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا .سخرات کی کیفیت ان پہ طاری تھی .مہرام انہیں اس حالت میں دیکھ کر ڈر گیا.
ہولے ہولے سانس لیتا وہ شخص اپنی زندگی کے آخری لمحات گزارہا تھا.
بابا جی کیا ہوا آ پ کو میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں .انہیں یوں پڑے دیکھ کر مہرام کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی.
نہیں بچے اس مرض کا علاج دنیا کا کوئی ڈاکٹر نہیں کرسکتا .انہوں نے آہستہ لرزتی آواز سے مہرام کو منع کیا.
کیسا مرض مہرام نے ان کے کمزور وجود پہ نگاہ ڈالی.
موت کا مرض .
کمرے کا سناٹا مہرام کو کاٹ کھانے ڈورا
یہ مرض ہر جاندار کو لاحق ہونا ہے.تم یہاں آؤ میرے پاس انہوں نے اپنا کپکپاتا ہاتھ مہرام کے ہاتھ پہ رکھا.
کتنی دیر مہرام انکی کپکپاہت محسوس کرتا رہا.موت کی سختی نے انہیں سوکھے پتے کی مانند بکھیردیا تھا.ان کے ساتھ ساتھ مہرام کا سانس بھی اس وحشت زدہ کمرے میں گھوٹھنے لگا.
………..
اس شخص نے اپنی کہانی مہرام شاہ کو سنائی تھی.زندگی کے تپتے صحرا میں وہ بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح زندگی بسر کررہے تھے اپنوں کی حقارت بھری نظروں نے زندگی میں زہر گھول دیا تھا.ماں باپ کے مرجانے کے بعد گویا زمانہ بھی ان سے روٹھ گیا تھا .وقت کے ساتھ ساتھ وہ موت کی طرف بڑھ رہے تھے.تم نے سوچا ہے کہ موت کیا ہوتی ہے.
مجاور کے اچانک سوال پہ مہرام کوئی جواب نہیں دے سکا.
اسے تو صرف محرما کی جدائی موت لگتی تھی . موت کے لمحات فراق میں چھپے ہیں .اسے نہیں معلوم تھا کہ موت کی سختی کسی کے بھی فراق سے جوڑی نہیں جاسکتی .کسی اپنے کا بچھڑنا ضرور موت سے کم نہ ہوگا .مگر موت کا آنا سب کچھ بھلانے کے لیے کافی ہے.
اصل موت سانس رک جانے کا نام نہیں بلکہ اپنے خدا سے ناطہ ٹوت جانے پہ واقع ہوتی ہے.جس دن ہمارا خدا ہم سے روٹھ گیا .سمجھ لو سب ختم
سب خلاص ….
وہ خدا کے گھر میں رہ کر اپنی خدمات پیش کررہے تھے.جن کی پوری زندگی ایک المیہ تھی.زمانے کے کسی رشتے نے ان سے وفا نہیں کی تھی .لیکن خدا نے انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا تھا.اتنی بڑی دنیا میں ساتھ دینے کے لیے کوئی ہاتھ نہیں بڑھاتا تھا.بے وفا دنیا کی آس میں ,میں اپنی آخرت کیسے تباہ کرچکا تھا.آج دیکھو کتنے لوگ مجھے اس بزرگ کے خادم کے نام سے جانتے ہیں .مجھے اتنی خوشی ہے کہ اللہ نے مجھ جیسی ناچیز کو اپنے دین کی خدمت گزاری کر نے کے لیے لے لیا.
مہرام ان کی گفتگو سماعت کررہا تھا.دنیا میں صرف وہی لاچار نہیں ہے بلکہ لاکھوں کیا سیکڑوں لوگ ہم سے بھی بدتر زندگی گزارنے پہ مجبور ہے .لیکن ہمارا دماغ صرف اپنی الجھنوں کو سلجھانے میں الجھا ہوا ہے .
پتر زندگی سے کبھی ہار مت مارنا .اپنا سب کچھ سوہنے رب پہ چھوڑدیں پھر دیکھ تیری زندگی کتنی سکون سے گزرے گی.
بابا جی کی ہچکیاں بلند ہورہی تھی
مہرام ان کے سرہانے سورہ یس بلند آواز سے پڑھ رہا تھا.موت کا عالم بابا جی پہ پوری طرح حاوی ہوچکا تھا .زندگی کی چند ساعتیں بچی تھی.مہرام ایک آیت پڑھتا پھر خوف سے انکی طرف دیکھتا.موت کے شکنجے میں وہ تھے .مگر اندھیرا اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا .
وہ مبین پہ پہنچا ہی تھا کہ بابا جی نے اپنی آخری ہچکی لی.موت سا سناٹا پورے کمرے کو سوگوار کرچکا تھا.مہرام کے آنسو بالترتیب رواں تھے.
کسی کا آنکھوں سامنے دم نکلنا .روح تک کو گھائل کردیتا ہے.عشق حقیقی میں مبتلا وہ شخص آخر زندگی کی بازی ہار گیا تھا آخری سانس تک انہوں نے رب کی بارگاہ میں ہروقت حاضر رہنے کی قسم پوری کرلی تھی .وہ شخص اپنے عشق میں سچا نکلا.
عِــــــشــــــق اگر خاک نہ کر دے
تَو خاک
عِــــــشــــــق ہُوا .
ایک عاشق اپنے خالق حقیقت سے جا ملا.
داستان ختم .
نامہ اعمال کی کتاب اب حشر تک بند رہے گی
……..
انکی تدفین کے بعد وہ وہی پہ انکی قبر کے پاس بیٹھا رہا.ابروڈ جانے کا ارادہ اسی پل ملتوی ہوگیا.مہرام نے گھر اطلاع نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا.وہ مجاور بن کر اپنی پوری زندگی یہاں وقف کردے گا.بابا جی نے اپنے تمام کام اسکے سپرد کردیے تھے مہرام نے بلاتردود ایسا ہی کرنے کی حامی بھر لی تھی
جب کسی انسان کو حالت مرگ میں دیکھو تو سوچو یہ کیفیت ہمارے ساتھ بھی ہونی ہے.جب کسی مردے کو غسل دیا جائے تو سمجھو آپ کو اسی طرح غسل دیا جانے والا ہے جب اسے کفن میں لپٹا دیکھو تو سوچو ہم کفن میں لپٹے ایک جگہ ساکت پڑے ہیں .جب اسے قبرستان لے جایا جارہا ہو تو سوچو ہمیں لے جایا جارہا ہے جب قبر میں مٹی ڈالنے لگو تو سوچو کہ ہماری قبر پہ بھی اسی طرح مٹی ڈالی جائے .خاک سے بنا بندہ خاک میں ملنے جارہا ہے.یہ تمام مرحلے رونگھٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے.
رات کافی گہری ہوچکی تھی مہرام قرآن شریف کی تلاوت بلند آواز سے کررہا تھا .اس سے مردے کو سکون ملتا ہے .دنیا میں ساتھ نبھانے والے بہت کم میسر ہوتے ہیں مگر جو قبرستان تک میں ساتھ نبھائے ایسا باوفا شخص کا نصیب میں ہونا صرف خدا کے خاص کرم ہونے کی نوید ہے
…….
محرما تم یہاں ساریہ نے اسے آواز دی .کتنے سالوں بعد اسکی محرما سے ملاقات ہوئی تھی.وہ سڑک کے کنارے چل رہی تھی جب کسی نے آواز دی.محرما اسے پہچان کر اپنی جگہ رک کر اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے گی
تم کتنی کمزور ہوگئی ہو یار.
وہ اسکا چادر میں چھپا چہرہ دیکھ کر بولی.
کیسی ہو .محرما نے بات بدلتے کہا.
اللہ کا احسان .یہ دیکھو یہ میرا بیٹا ہے پانچ سال کا ہوگیا ہے .ساریہ نے ایک ہاتھ سے بچے کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھی.سامنے کرتے بولی.
محرما نے اسے پیار کیا .اور اسے لے کر شاہ ہاؤس لے آئی.
بنگلے کی در و دیوار سے وحشت ٹپکتی تھی.سناٹا کا راج مہرام کے جانے کے بعد سے اب تک جوں کا توں تھا.محرما نے اس سے بہت ساری باتیں کی .اور کافی خاطر مدارت بھی کی.
بہت افسوس ہوا .اللہ تمہارے والدین اور بھائی کو جنت نصیب کریں اور تمہیں صبر کی عظیم دولت سے نوازے.
میکے جانے کا دل چاہتا ہوگانہ شادی شدہ لڑکیوں کے لیے میکہ سب سے بڑی نعمت ہوتی .جہاں وہ.سکون کے کچھ پل گزار سکتی ہے.اور والدین کے ساتھ دکھ سکھ شیئر کرسکتی ہے
یہ گھر میرے لیے میکہ اور سسرال دونوں ہے اس گھر کے مکین مجھے بیٹی سے زیادہ چاہتے ہیں کبھی اپنوں کی یاد ہی محسوس نہیں ہونے دیتے..اس کے لہجے میں نرمی در آئی تھی
تمہارا شوہر اچھے ہونگے تبھی تو..
بہت چاہتے ہیں مجھے محرما کے بجھے چہرے پہ انوکھی مسکراہٹ ابھری.
شوہر اگر اچھے ہو تو زندگی کے تمام سکھ دکھ آسانی سے گزار لیے جاتے ہیں بڑے بڑے پہاڑ ایک دوسرے کے ساتھ سے سر کرلیے جاتے ہیں
جانتی ہو کون ہے محرما کے چہرے پہ خوبصورے مسکراہٹ نمودار ہوئی .جیسے دنیا کی ہر شے اسکی جھولی میں ڈال سی گئی ہو.
مہرام عالم شاہ.
تمہاری شادی مہرام شاہ سے ہوئی ہے.ساریہ ک آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی.
اسمارٹ سا مہرام شاہ.اسکے آنکھوں کے سامنے گھوم گیا.جس کی ذہانت اور وجاہت کے چرچے ہر ڈیپارٹمنت میں بڑے زور و شور سے گونجتے تھے.
وہ شخص اپنے اندر مقناطیسی قوت رکھتا تھا.جس کی طرف ایک کھیچاؤ سا ہوتا . کوئی ایسا نہیں تھا جو اس کے اثر سے بچا ہو کبھی.
تمہیں تو خوشی سے موٹا ہونا چاہیے ہیں اتنا خوبصوت اور امیر کبیر ہمسفر ملا.
ہاں میں خوش ہوں بہت زیادہ خوش ہوں. آواز میں درد سا پنہاں تھا جو وہ چھپانے کی ناکام کوشش کررہی تھی.
وہ تنہا اس شادی کا نبھارہی تھی ہر جگہ وہ مسز مہرام شاہ کے طور پہ جاتی تھی.اسے خود کو صرف مسز مہرام شاہ بنائے رکھا تھا.اتنے عرصے سے محرما نام اسکی سماعتوں سے گزرا نہیں تھا.وہ بھاگ رہی تھی مہرام شاہ کا سایہ بھی اسے مل جاتا تو اس سے بڑی خوشی اسکی زندگی کے لیے کبھی نہ ہوتی.
چلو پھر کبھی آؤنگی میری ساس کو اگر معلوم ہوگیا کہ میں یہاں تو میرا قیمہ بنا ڈالے گی.و
ویسے تمہاری ساس کہاں ہے ساریہ نے ادھر اودھر نظریں گھماکر پوچھا .پورے گھر میں سوائے میڈ کے اسے کوئی نظر نہیں آیا تھا.
وہ میری نند کے پاس اسلام آباد رکنے گئی ہے.تم نہیں گئی ساریہ نے پوچھا.
نہیں مجھے اپنے گھر کے علاوہ کئی مزا نہیں آتا.میں کئی نہیں جاتی بس یہی رہنا پسند کرتی ہوں .وہ مہرام شاہ کے دو سال سے لاپتہ ہونے کی خبر گول کرگئی تھی.
ساریہ کے بیٹے کو چاکلیٹز دے کر رخصت کیا.
پھر وہ وہی آگئی جہاں مہرام شاہ کی یادیں بستی تھی.وہ شخص دیوتا کو مات دینے کے لیے کافی تھا.اور دینے کی قابلیت بھی رکھتا تھا.
کہاں ہوگا کیسا ہوگا .محرما کے ذہن پہ ہر وقت یہ باتیں سوار رہتی .وہ اسکے کمرے میں شفٹ ہوچکی تھی .اسکی تمام اشیاء محرما نے سنبھال کر رکھی تھی.اسکے پرفیومز ,اسکے کپڑے سب چیزیں محرما نے اسکی یادگار کے طور پہ.سنبھال کر رکھے تھے
.آج بھی وہ ان پہ لگی دھول کو رگڑ رگڑ کر
صاف کرنے لگی . جو اسکا روز کا معمول بن گیا تھا.
سنو تم لوٹ آؤ نا
تم بن دل نہیں لگتا
کبھی تو رات نہیں ڈھلتی
اور اکثر دن نہیں چڑھتا
بارونق شہر میں مجھ کو
کچھ بھی اچھا نہیں لگتا
میری اب آنکھیں دکھتی ہیں
میں سکوں سے سو نہیں سکتی
سنو تم جب سے دور ہوئے ہو نا
مجھے نفرت سی ہو گئ ہے
خود اپنی ہی باتوں سے
خود اپنے ہی خوابوں سے
اپنی پُر نَم آنکھوں سے
اُکھڑی اُکھڑی سانسوں سے
سنو میرا تو بس نہیں چلتا
میں باتیں چھوڑ دوں کرنی
میں خوابوں کو زھر دے دوں
میں آنکھیں نوچ لوں اپنی
میں سانسیں روک دوں اپنی
مگر کچھ کر نہیں سکتی
میں اتنی بے بس ہوں
میں خود سے مر نہیں سکتی
سنو تم لوٹ آؤ نا
تم بن دل نہیں لگتا
میں جینا تو چاہتی ہوں
میں تم بن جی نہیں سکتی
سنو…! تم لوٹ آؤ نا…!!
…..
باجی آپ میرے مرشد کے مزار پہ جاکر دعا مانگے
اسے کیا معلوم وہ شروع سے یہ کام کروارچی ہے وہاں اللہ کے وسیلے سے ہر بچھڑا مل جاتا ہے ہر روٹھا مان جاتا ہے ہر بھولا لوٹ آتا ہے.اللہ بس صاحب کو واپس گھر بھیج دےمجھ سے اب آپکی حالت دیکھی نہیں جاتی. خانسا ماں اسے دن رات چھپکے چھپکے روتے دیکھتی تھی.بڑی صاحبہ بھی بیمار رہنے لگی ہے.وہ فکری سے بولی.
باجی آپ صاحب سے بہت محبت کرتی ہے نہ .
محرما نے اسے دیکھا.یہ سوال کسی نے آج تک پوچھنے کی جرات نہیں کی تھی.
ہاں …….محبت ہی سب کچھ کرواتی ہے
یہ محبت ہی تو ہے جو اسے آج تک مجھ سے جوڑے رکھی ہوئی ہے مجھے پورا یقین ہے آج بھی اسکے دل میں میری یاد بستی ہوگی کہیں نہ کہیں محبت آج بھی اسکے دل کو بے چین کرتی ہوگی.
اداسیوں کا سبب جو لکھنا
تو یہ بھی لکھنا.
کہ چاند تارے نہیں رہے وہ!
شباب آنکھیں____بدل گئی ہیں!
وہ زندہ لمحے
جو تیری راہوں میں تیرے آنے کے منتظر تھے.
وہ تهک کے______سایوں میں ڈ ھل گئےہیں !
وہ تیری یادیں خیال ترے
وہ رنج تیرے ملال تیرے
وہ تیری آنکھیں سوال تیرے
وہ تم سے میرے_تمام رشتے.
بچھڑ گئے ہیں اجڑ گئے ہیں!
اداسیوں کا سبب جو لکھنا.
تو یہ بھی لکھنا.
لرزتے ہونٹوں پہ لڑکھڑاتی.
دعاء کے سورج__پگھل گئے ہیں!
تمام سپنے ہی جل گئے ہیں۔۔
……
شاہ صاحب آپ کے گھر والے آپ سے ملنے نہیں آتے .ایک لڑکا نے مہرام سے
پوچھا.
اس لڑکے کو حیرانی ہوتی اتنے بڑے گھر کا لڑکا یہاں پہ ایک مجاور کی حیثیت سے رہتا ہے .
میرے گھر والے جانتے ہی نہیں ہے کہ میں یہاں رہتا ہوں .
ہیں…..
آپ نے انہیں بتایا ہی نہیں ہے ¿.اسے تعجب ہوا
آپکا کبھی انسے ملنے کا دل نہیں کرتا
آپ کی بیوی کا بھی نہیں..
میرا مطلب .آپ نے شادی نہیں کی ابھی تک
اس لڑکے نے سوال در سوال کیے .
نہیں کی ہوگی اگر کی ہوتی تو یہاں تھوڑی ہوتے وہ لڑکے نے خود ہی سوچ کر جواب دیا .
مہرام کو وہ کافی باتونی لگا.
میری بیوی تو مجھے کہیں جانے نہیں دیتی .ذرا سا دفتر سے لیٹ ہوجاتا ہوں .تو مجھے اپنے کان پکڑنے پڑتے ہیں .
وہ اپنے قصے سنانے لگا.
مہرام اسی کمرے میں رہائش پذیر تھا.زندگی کے بقیہ شب و روز بڑی تنہائی میں گزر رہے تھے.محرما کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوم گیا.کچھ دنوں سے بے چینی سی طاری تھی .وہ محرما کو دیکھنے کی دعا مانگتا.بس ایک اور آخری مرتبہ اسے دیکھ لوں .
وہ.سوچتا تھا اس سے دور جاکر اسے بھول جائے گا اسکی یاد نہیں آئی گی مگر دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپ جاؤ .محبوب کی یاد پہلے سے زیادہ شدت سے آنے لگتی ہے محبت کے اصول میں یہ بھی شامل ہے فاصلے جتنے بڑھے گے محبت اتنی شدت پکڑے گی.
……
خان بابا (خانسا ماں کے شوہر ) نے محرما کے کہنے پہ شہر کے تمام مزارات پہ منتیں چڑھائی .وہ جمعرات کو دیگیں چڑھانے مزار جایا کرتے تھے.
ہر جمعرات کو الگ الگ مزار پہ چڑھانے جاتے.یہ مسجد شہر سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پہ کچی آبادی کی طرف واقع تھی.
انہوں نے خصوصی دعا کی غرض سے اس مزار کی مجاور سے ملنے کا ارادہ کیا.ویسے وہ تمام بزرگ سے مل کر دعا کی درخواست کرتے.
کھانا تقسیم کرنے کے بعد وہ اندر ملنے گئے.
خان بابا مہرام کو مجاور کے روپ میں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے.
مہرام نے انہیں دیکھ کر نظریں نیچی کرلی.
وہ جانتا تھا وہ کیا کہے گے .
صاحب آپ گھر کیوں نہیں آتے .آپکو معلوم ہے باجی کتنی پریشان رہتی ہے ہر وقت بس روتی رہتی ہے خانسا نے انہیں ہر نماز میں خدا سے آپ کو مانگتے دیکھا ہے وہ آپکے انتظار میں دن رات ٹرپتی رہتی ہے جس دن سے آپ گئے ہیں اس دن سے انہوں نے ہر مزارات میں مجھے بھیج کر آپکی واپسی کی خاص دعائیں منگوائی ہے .
مجھے ڈر لگتا ہے کہیں وہ آپ کو یاد میں رو رو کر مر نہ جائے.انہوں نے ایک ہی سانس میں ساری روادار سنادی.
مہرام کے دل پہ خنجر چلنے لگے .
اللہ نہ کریں اسے میری زندگی بھی لگ جائے.
خدا کے لیے واپس آجائیں وہ ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگا .بڑے صاحب اور بڑی صاحبہ بھی روزانہ آپ کی راہ تکتے ہیں .انہوں نے ہر ملک میں آپ کے بارے میں معلوم کروالیا لیکن آپ کے نام سے کوئی شخص وہاں گیا ہی نہیں .کیا آپ باہر ملک گئے تھے.
خان صاحب نے رازداری سے پوچھا.
نہیں …….
یا اللہ آپ شروع سے یہی رہتے ہیں .گھر میں اطلاع تک نہیں دی آپ نے.
انہیں وہ کچھ پراسرار سا لگا.
باجی کو بتاؤنگا نہ وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سمائے گی .
خان بابا آپ کچھ نہیں بتائینگے.
نہیں صاحب میں ضرور بتاؤنگا مجھے معلوم ہے ہم نے پوری زندگی آپکا نمک کھایا ہے آپکی نا فرمانی کرنا ہمارے لیے ناممکن ہے آپ چاہیے تو ہمیں نوکری سے نکال دیجیے گا.لیکن اب اور میں ان لوگوں کے آنسو برداشت نہیں کرسکتا ہستا بستا گھر میں اجڑتے نہیں دیکھ سکتا .بلاشبہ خان صاحب ایک وفادار ملازم تھے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک انکی پوری زندگی عالم ولا میں ملازمت کرتے گزری تھی
مہرام اسکے آگے کچھ نہ بول سکا .بولنے کے لیے کچھ بچا ہی کہاں تھا .
………
وہ جاہ نماز پہ بیٹھی سفید چادر باندھے دونوں ہاتھوں کو خدا کی بارگاہ میں دراز کیے کسی کو بڑی شدت سے مانگ رہی تھی آنسوؤں کی جھری لگی ہوئی تھی .دعا میں ایسی شدت تھی کہ مہرام کو اپنا وجود کانپتا محسوس ہوا.
یہ وہی محرما ہے .
دل چاہا بس اسے یوں خدا سے خود کو مانگتے ہوئے دیکھتا رہے.
محرما نے ناجانے کس احساس کے تحت پیچھے مڑکر دیکھا .
دروازے کی اوٹ پہ کھڑا شخص اسے مہرام سے ہو بہو ملتا معلوم ہوا.
اسنے آنسو صاف کرکے اپنی آنکھوں سے دھندلاہت دور کی اور جاہ نماز سمیٹتی ہوئی اسے قریب آنے لگی.
دل کی ایک ہی صدا تھی تمہارا مہرام واپس لوٹ آیا ہے .اسنے دل کو کئی دعائیں دی اللہ تیری بات کو سچا کریں.
وہ اسکے سامنے کھڑے ایک نظر سے اسے دیکھے جارہی تھی .آنسو پھسل پھسل کر سفید چادر میں جذب ہونے لگے.
دل پھٹنے ہی کو ہے .
محرما نے اپنا ہاتھ اسکے چہرے پہ رکھ کر محسوس کیا .شاید یہ وہم یا گمان نہ ہو.
اللہ پلیز یہ مہرام ہی ہو .شدت سے دعا مانگی جارہی تھی.محرما نے اسے چھوکر محسوس کیا واقعی وہ حقیقت ہی ہے .خوابوں نے حقیقت کا روپ ڈھار لیا ہے .
مہرام .اسنے آہستہ سے پکارا.جیسے کوئی اپنے کو دھیرے سے محبت بھرے لہجے میں پکارتا ہے.
جی جانِ مہرام …..
مہرام نے اسے جواب دیتے ہی خود میں چھپا لیا.محرما کے آنسو اب سسکیوں میں تبدیل ہوچکے تھے.مہرام نے اپنے ضبط آنسوؤں کا بند بہنے دیا.
وہ دونوں کتنی دیر ایک دوسرے کو محسوس کرنے میں روتے رہے .دل کے تمام شکوے گلے اسی ایک وقت میں ختم ہوچکے تھے.
میرے سر پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ محرما نے اس سے الگ ہوتے ہوئے کہا اسے اب بھی ڈر تھا کہ وہ واپس چلاجائے گا.
نہ سسی نہ میں ہیر پیا
میں بنوں تیری تقدیر پیا
پیروں میں باندھےبیٹھی ہو
تیرے عشق کی زنجیر پیا
بن کملی پھروں میں در در
میرا دامن لیر و لیر پیا
سپنوں میں کرتی رہتی ہوں
اک تاج محل تعمیر پیا
میرے من پر قبضہ تیرا ہے
میں تیری ہوں تقدیر پیا
میں قربان ازل سے تیرے پر
تو میرا انت اخیر پیا..
ہاتھ رکھو کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤگے.مہرام کا ہاتھ پکڑ کے اپنے سر پہ رکھنے لگی.نہیں کبھی نہیں جاؤنگا بس اب تب جاؤنگا تب آخری سفر پہ جانا ہوگا.
چپ ہوجاؤ سمجھے اور میں تم سے شدید ناراض ہوں
سمجھے …وہ ماتھے پہ بل ڈال کر بولی.
تم نے بلکل بھی اچھا نہیں کیا میرے ساتھ اب کی بار تم نہیں آتے تو شاید میں مزید جی نہیں پاتی.محبت سے بنی محرما کسی کی محبت کی آرزو میں مرجاتی.
وہ دونوں ہاتھ باندھے منہ پھلائے دوسری طرف رخ پھیر گئی.
مہرام نے اسکا رخ اپنی طرف کیا.پلیز اب سارے ناراضگی ختم کردو .یہ ناراضگیاں کسی اور دن کے لیے ادھار رکھو .ابھی مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہے تمہاری محبت کااقرار سننے کے لیے میں بے تاب ہوں .جس کا انتظار میں نے برسوں کیا ہے. تمہارے دل میں خدا نے محبت ڈال کر میری محبت کو امر کردیا ہے.محرما کا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہوگیا.ایسے تو نہ کریں میں کو شرم آنے والی ہے.
ہاہا… تمہیں شرم آنے والی ہے مہرام نے اسکا جملہ دھراکر باآواز قہقہہ لگایا.
عجلت میں بولا گیا جملہ اسکے لیے باعث رحمت بن گیا .مہرام کو ہنستا دیکھ کر وہ بھی دھیرے سے مسکرا گئی.
اففف اسی خوبصورت ہنسی پر ہی تو میں فدا ہوں .اسی ہنسی کے سبب میرا اجڑہ چمن پھر سے گلستان بن گیا ہے.
چلیں جائیں وہ اسے بھیجنے لگی
… آپ چینج کر لے اور سوجائے کافی تھک گئے ہونگے نہ ..
اس نے روایتی بیوی کی طرح کہا .جس پہ مہرام کو وہ لڑکا یاد آگیا..
…..
نہیں ابھی تو تھکن اتری ہے.
بہت کچھ سننا باقی ہے بہت کچھ سنانا باقی ہے…وہ آئینے میں سے محرما کو دیکھتے بولا.
کیا سننا ہے آپ کو ..
آہاں ں ں۔۔۔آپ ۔
..مہرام نے اسے شرارت سے دیکھا۔
تمہیں مجھ سے کب محبت ہوئی ،کیسے ہوئی مجھے پوری تفصیل چاہیے
کیوں بھئی ۔میں تو کچھ نہیں بتانے والی۔محرما بتانے سے صاف انکاری تھی۔
واہ واہ…
پھر میرا واپس آنے کا کیا فائدہ ۔ایک کام کرتا ہوں واپس چلاجاتا ہوں ٹھیک ہے۔
وہ اسے چھیڑنے لگا۔
چپ چاپ بیٹھے رہو یہاں ۔مجھے لگتا ہے اب گھر میں تالا لگاکے رکھنا ہوگااسنے مصنوعی خفگی سے کہا.
پاگل تھوڑی ہوں جو اب اپنی محبت سے دور جاؤنگا۔
شکر پاگل نہیں ہوئے ورنہ میرا کیا ہوتا ۔
میں ابیرہ کو کال کرکے آپ کے واپس آنے کی اطلاع تو دے دوں ۔اچانک یاد آنے پر اسنے سر پہ ہاتھ مارا.
نہیں ہم وہاں خود ملنے جائیں گے اور ساتھ میں تھوڑا گھوم پھر بھی لینگے کیا بولتی ہو مہرام نے مشورہ دیا۔
ٹھیک ہے جناب جیسا آپ کہیں…
مام بھی وہی ہے نہ مہرام نے اس سے پوچھا.
ہاں وہ کچھ دنوں کے لیے اسلام آباد گئی ہے .ویسے خان بابا نے اور کیا کیا بتایا ہے آپ کو.
بہت کچھ …پورے راستے ان سے میں تمہارے بارے میں پوچھتا رہا.
اچھا جی ….
جب اتنی محبت تھی تو چھوڑکر ہی کیوں گئے وہ اسکے سامنے بیٹھنے لگی.
ماضی کےبارے میں کچھ بھی مت پوچھو وہ تلخ یادیں مجھے یاد نہیں کرنی .تم صرف مجھ سے آج کےبارے میں ابھی کے بارے میں پوچھو وہ اس کی سمت مڑ کر اسکی گہری آنکھوں میں جھانکنے لگا.
محرما نے پلکیں جھکالی.
“رنگ جو بھی اٹھایا آنکھوں نے
سارے رنگوں میں وہ نظر آیا”
تمہیں معلوم ہے جب بھی میں تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں دیکھتا تھا .میری دھڑکنیں بے قابو ہوجاتی تھی.
ایسا لگتا تھا میں اپنا سب کچھ تمہیں سونپ دوں اور تمام کام چھوڑ کر صرف تمہیں دیکھتا رہوں .تمہارے منہ سے نکلا ہر الفاظ میرے لیے آخری خواہش کی طرح ہوتا جسے پورا کیے بغیر میں رہ نہیں پاؤنگا.
وہ اپنی محبت کا اقرار بڑے دلکش انداز میں کررہا تھا.
زندگی کی وحشت زدہ رات احتتامی مراحل طے کرچکی تھی اور ایک نئی صبح ان کے خوبصورت ملن کی منتظر تھی
تیری صورت کو نگاہوں میں بسا کر رکھ لوں
دل یہ کہتا ہے تجھے تجھ سے چرا کر رکھ لوں
من یہ چاہتا ہے تیرے بعد کوئی تجھ سا نہ ہو
میں تجھے آخری تحریر بنا کر رکھ
