Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 2
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 2
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
ثمینہ واثق کب واپس آرہا ہے ۔کتنا عرصہ ہوگیا ہے اسے دیکھا نہیں ہے ۔تم بھی تو نہیں آتی نہ۔دو چار سالوں میں کبھی کبھی آتی ہو اور آتی ہو تو واثق کو لے کر نہیں آتی ۔بھا ئی کے گھر تو بندہ ہر مہینے آئے۔۔مسز عالم شاہ اپنی اکلوتی نند سے شکوہ کناں تھی۔ان کے سسرال میں لے دے کے صرف ایک ہی نند تھی۔وہ بھی دور رہتی تھی.
اور میکہ سارا کا سارا ابروڈ شفٹ ہوچکا تھا۔جس کی وجہ سے وہ بہت اکیلا اکیلا محسوس کرتی تھیں۔ابیرہ اور مہرام کی پڑھائی کی وجہ سے اپنی اپنی روٹین تھی۔تھوڑی بہت انسے گپ شپ ہوجاتی تھی لیکن سارا دن وہ اکیلاپن محسوس کرتی۔گھر کی کام کاج ملازماؤں کے سپرد تھےلیکن پھر بھی کوکینگ وہ خود ہی کرتی ۔انھیں ملازموں کے ہاتھ کے کھانے بلکل بھی اچھے نہیں لگتے تھے ۔عالم صاحب تو خاص کرکے انکے کھانے کے دیوانے تھے۔
واثق کا فون آیاتھا بھابھی وہ کچھ دنوں میں آئےگا۔بزنس ٹوئر کے سلسلے میں دونوں باپ بیٹے بیرون ملک گئے ہوئے تھے۔ موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے انھوں نے بھائی کے گھر کا رخ کیا۔ میں نے اسے بتادیا ہے کہ تم ماموں گھر آجانا۔۔
اب دیکھو کیا کرتا ہے۔
……………………
کئ دن ہوگئے وہ باقاعدہ قرآن پاک کی کلاس لینے جاتا رہا۔اس کلاس میں جتنا لطف آتا تھا اظہار بیان سے باہر ہے۔اگر وہ نہ آتا تو اسے کبھی معلوم نہیں پڑتا کہ قرآن پاک اپنے اندر اتنی حلاوت رکھتا ہے ۔ویسے بھی عربی زبان تمام زبانوں کے سردار جو ٹھری۔ اس زبان میں جتنی شیرینی ہے وہ شاید ہی کوئی اور زبان میں ہو۔اسے یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوتا تھا کہ اس سےعمر میں بڑے بڑے بھی ہم جماعت ہے ۔انکو دیکھ کراسنے تمام شرم وحیا کو بھگادیا تھا۔
ان کی ہفتے میں ایک دن نماز کی کلاس لگتی۔نماز کے بارے میں تفصیلا ت بتائی جاتی۔
نماز کے کتنے فرائض ہے استاد صاحب باری باری سب سے سوالات کرتے ۔اب کی بار اسکی باری تھی۔
وہ انکا سوال سن کر چونکا۔
فرائض ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے تو صرف نماز پڑھی تھی ۔فرائض وغیرہ کیا ہوتے ہیں کبھی اس بارے میں دھیان ہی نہیں دیا تھا۔اسے اتنا معلوم تھا نماز کے لیے وضو کی شرط ہے ۔
بےشک وضو شرط ہے ۔
وضو کے کتنے فرائض ہے۔استاد صاحب نے ایک اور سوال پوچھا۔
وضو کے فرائض ۔۔۔۔اسنے پورا وضو جس طرح وہ وضو میں تمام اعضاء کو دھوتا تھا ایک ایک کرکے بتادیا۔آج اسے ایک نئ چیز سیکھنے کو ملی تھی۔
استاد صاحب نے نہ صرف نماز کے فرائض بتائے تھے بلکہ شرائط ،واجبات ،سنتیں وغیرہ سب تفصیلاً سیکھائے تھی۔
یہ جان کر بڑا تعجب ہوا کہ اسنے کبھی نماز کے بارے میں اتنا تفصیل سے نہیں پڑھا تھا۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے اگر کوئی اس سے سوال کرلیتا تو وہ کیا جواب دیتا ۔وہ بس نماز پڑھ لیتا۔کیا میری نماز درست ہیں یہ سوال اسنے اپنے دل سے کیوں کبھی نہیں پوچھا۔اسکا ضمیر اسے ملامت کررہا تھا۔
کیا مسلمان کو اپنے دین کے اولین ستون کے بارےمیں معلوم نہیں ہوناچاہئے وہ تو اسکول کالج ہر ادارے کا جینئیس ترین اسٹودینت ر ہ چکا ہے ۔اسکی اتنی ذہنی صلاحیتوں کا کیا فائدہ جو اسے پل صراط ہی پار نہ کراسکے۔شرم سے اسکا مزید سر جھک گیا۔استاد صاحب سے معلوماتی کتاب مطالعے کی غرض سے گھر لے گیا۔اور راتوں رات حفظ کرلی۔استاد صاحب کے کہنے پہ اس پہ عمل کرنا شروع کردیا۔حفظ کرنے کا مقصد ان باتوں ک عملیات میں لانا ہے تاکہ جو غلطیاں پہلے ہوچکی ان کا مداوا کیا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانوں میں ہینڈ فری لگائے میوزک میں مگن بالکونی میں لگے جھولے پہ بیٹھی جھول رہی تھی۔کہ اچانک پورچ کے دروازے کی بتی روشن ہوئی۔چوکیدار نے مین گیٹ کھولا ۔جہاں سے کوئی داخل ہورہا تھا۔۔وہ نیچے دیکھتے ہی جلدی سے کانوں سے ہینڈ فری ہٹاتے ہوئے ایک پاؤں میں چپل ڈالے جلدی جلدی سیڑھیوں کو پھلانگتی ہوئی نیچےپہنچی۔
معلوم نہیں اتنی رات کو کون ان کے گھر آیا تھا۔اور چوکیدار نے بھی اسے آنے کی اجازت دے دی تھی۔صبح ہی پاپا سے کہہ کے چوکیدار کو فارغ کرواتی ہوں۔
ایکسکیوزمی آپ کس کی اجازت اس گھر میں آرہے ہیں۔ابیرہ نے جرات دیکھاتے ہوئے کہا۔
ایکسیوزمی یہ میرے ماموں کا گھر ہے ۔واثق نے اسی کا فقرہ اس پہ الٹ دیا۔
گھر آئےمہمان سے کیسے پیش آتے ہیں یہ آپ کو نہیں معلوم ۔
وہ سوٹ کیس گھسیٹا ہوا صحن میں موجود صوفے پہ ڈھیر ہوگیا۔
لگتا ہیں آپ پیدل آئے ہیں لندن سے،
نہیں اللہ کےکرم سےمیرے ابھی اتنے برے دن نہیں آئے۔
ویسے آج کل پاکستان میں صرف ایک پاؤں میں چپل پہننے کا ٹریند نکلا ہے۔وہ اسکے پاؤں پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے بڑی مسکراہٹ سے بولا۔
ابیرہ نے پاؤں کی طرف دیکھا۔دل ہی دل میں سبکی سی محسوس ہوئی۔
تبھی اسے سیڑھیاں پھلاگنے میں کافی مشکلات ہورہی تھی۔
یہ بات اسکی یادلانے پہ یاد آئی۔
مہربانی ہوگی اگر ایک گلاس پانی مل جائے گا۔
وہ اپنا اکلوتا چپل وہی اتار کے کچن کی طرف بڑھی.
اتنے میں واثق ڈائینگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر اس پہ براجمان ہوگئے۔جہاں سے کچن میں جھانکا جاسکتا تھا۔
ڈریے مت ھمارے گھر میں رات کے پہر کوئی نہیں آتا۔آپ آگئے وہ الگ بات ہے وہ اسے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے دیکھ کے بولی۔
میں ڈر بھی نہیں رہا ۔میں صرف اتنا دیکھ رہا ہوں کہ آپ میرے حکم کی تعمیل کر بھی رہی ہیں یا نہیں ۔
مجھ پہ صرف میرا حکم چلتا ہے وہ گلاس ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولی۔
وہ کھڑے کھڑے جماہی لینے لگی۔جیسے بچاری ابھی گہری نیند سے اٹھی ہو۔
اگر آپکی پیاس ختم ہوچکی ہو تو اب میں جاؤں۔
آپ میرے آنے سے پہلے سوئی تھیں۔اگر سوئی تھی تو میرے آنے میں صرف آپ کی ہی آنکھ کیسے کھلی۔
لیکن آپ کی آنکھوں میں نیند کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔
وہ یکے بعد دیگرے سوال کرتا گیا ۔
میں جارہی ہوں مجھے کل کالج جانا ہے ابیرہ اسکے سوالوں کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔.
آپ کالج میں پڑھتی ہے لیکن شکل سے اسکول گرل لگتی ہے
ہاں شکل سے میں بہت کچھ لگتی ہوں اگر شکل پہ بولا جائے تو آپ کافی پڑھے لکھے لگتے ہیں۔
میں ہوں ہی پڑھا لکھا ۔وہ گویا ہوا۔
۔بائے دا وے مجھے کہنا تھا کل سنڈے ہے۔واثق نے یاددہانی کروائی ۔آپ سنڈے کو بھی کالج جاتی ہیں۔ضرور آپ خطرناک حد تک پڑھنے کی شوقین لگتی ہیں۔
لگتی نہیں میں کافی خطرناک حد تک پڑھتی بھی ہوں۔اسنے صفائی کے ساتھ جھوٹ بولا۔
اگر محرما اسکی یہ بات سن لیتی تو زیادہ نہیں کم ازکم ایک گھنٹے کے لیے ضرور بے ہوش ہوجاتی۔
سنڈے کو میں لائبریری جاتی ہوں انسان کو کورس کے علاوہ بھی بکس پڑھنی چاہئے۔ وہ فخر سے بولی ۔۔محرما کے بے ہوشی کا دورانیہ اب دو گھنٹے ہو جانا چاہئے۔
اب تک کون کون سی کتابوں کا مطالعہ کرچکی ہیں آپ۔
ابیرہ اب تو گئی۔وہ خود سے مخاطب ہوئی۔
اسے یاد آیا کہ فائقہ کے پاس ہیری پوٹر کا ناول تھا۔اسے ناول پڑھنے میں کوئی دلچپسی نہیں تھی ۔ہاں اسنے ہیری پوٹر فلم درجنوں بار دیکھی تھی۔اگر وہاں سے اس بارے میں کوئی سوال آتا بھی تو وہ بآسانی سرخرو ہوسکتی تھی۔
ہیری پوٹر اسنے بڑے فخر سے کہا۔جیسے ابھی کشمیر فتح کر کے آئی ہو۔
شکر ہے اسکی یادداشت کافی اچھی ہے۔دل ہی دل میں اسنے ماما کو ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔جو روزانہ اسے بادام کھلانا نہ بھولتی تھی۔وہ بولا کرتی مما بادام کھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔اگر بادام کھانے سے یادداشت مضبوط ہوتی تو میں پوزیشن ہولڈر ہوتی۔
آج اسے بادام پہ کیا بلکہ بادام کی پوری فصل پہ ایمان آگیا تھا۔
میرا نہیں خیال آپ اردو ادب کے شہراہ آفاق کتابوں کو چھوڑ کر محض ایک فلمی ناول کا مطالعہ کرنے لائبریری جاتی ہیں وہ تعجب سے بولا۔
بس میں نےمزید اپنا انٹرویو نہیں دینا۔اتنا انٹرویو آج تک کبھی میری ٹیچر نے نہیں لیا۔کمال کا بندہ ہے اتنے لمبے سفر سے آیا ہے لیکن شکل سے تھکن کے کوئی آثار نمایاں نہیں ہورہے۔
اسے واثق میں محرما نظر آنے لگی۔جب وہ محرما کو ہیری پوٹر فلم کی ایکشن سے بھرپور اسٹوری سناتی ہوتی تو وہ کس بے زاری سے سنتی۔جیسے مغل دور کے عظیم قصے سنارہی ہو۔
اور ایک گھنٹہ بولنے کے بعد محرما کا یہ سوال اسکی اتنی محنت پہ پانی پھیر دیتا ہے۔۔
پہلے یہ بتاؤ ہیری پوٹر ہوتا کون ہے
اس کے سوال پہ ابیرہ کا خود کشی کرنے کا دل کرتا۔
اللہ کرے تمھیں کبھی معلوم ہی نہ پڑے کہ ہیری پوٹر کون ہے۔بلکہ تمھیں کبھی کوئی فلم سمجھ ہی نہیں آئے۔وہ دٹھٹائی سے بولتی۔لیکن محرما بڑی معصوميت سے سب کچھ نہ سمجھی کے انداز میں دیکھتی۔جیسے اسکے سامنے چائنیز زبان میں لیکچر دیا جارہا ہو۔
آپ کے مراقبے احتتام پذیر ہوئے تو مجھے کچھ کھانے کو مل سکتا ہے۔
فٹ بال کا میچ اپنے سنسنی خیز مراحل پہ پہنچ چکا ہے۔واثق نے اپنے پیٹ پہ ھاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اسکی بات سن کر ابیرہ کا بے ساختہ لیکن آہستہ سے قہقہہ نکلا۔
واثق نےبھی اپنا قہقہہ اس میں ملایا۔
چوہا ورسز؟……
ابیرہ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
چوہا ورسز چوہیا۔۔۔
لیکن اس بار جیت چوہے کی ہوگی۔
اس بار مطلب ۔کیا یہ ٹورنامنٹ چل رہا ہے ۔
اسنے آئسکریم کا بڑا پیکٹ اسکے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
اتنی سردی میں آئسکریم کون کھاتا ہیں ۔سردی میں ہی تو آئسکریم کھانے کا مزا ہے۔دراز سے چمچ اسے پکڑائی۔فریج میں کباب موجود تھے ۔لیکن اتنی مہمان نوازی کرنا اسکی شان کے خلاف تھا۔
اب آپ ٹھنڈ ک میں ٹھنڈی ٹھنڈی آئسکریم سے لطف اندوز ہوئے ۔میں چلی۔
مجھے سونے کے لئے جگہ تو بتاتی جاؤ ۔
پورے گھر میں جہاں بھی سوجائیے۔ یہ آپ کے ماموں کا گھر ہے نہ.
وہ جاتے جاتے کہہ گئی۔
وہ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ کہیں کوئی اور کام نہیں کرنا پڑجائے۔
آج اسنے بہت کام کرلیا تھا ۔تھکنا تو بنتا ہی تھا۔
بے چارے نئے نئے مہمان کو صوفے پہ سونا پڑا۔اتنی رات کو گھر والوں کو اٹھانا نا مناسب لگا۔ بغیر آئسکریم کھائے وہ اپنے سفری کپڑوں میں سوگیا۔
کاش میں نے چوہے کیوں نہیں پالے یا کم ازکم چھپکلیاں ہی جمع کرلیا کرتی۔تاکہ صحن میں چھوڑنے کے کام تو آتے۔ابیرہ کو چوہے کی بڑی یاد آئی۔
زہے قسمت آج لائف رقص ہاتھ سے نکل گیا۔اسنے اوپر سے اسے سوتے ہوئے دیکھ کے سوچا
۔۔۔۔۔
یہ صبح بہت انوکھی تھی پہلی مرتبہ وہ اس حلیے اور اس جگہ پہ بڑی سکون کی نیند سویا تھا۔شاید اسکی وجہ تھکن تھی
واثق بیٹا تم کب آئے۔مسز عالم نے اسے اس طرح بےسدھ صوفے پہ پڑا دیکھا۔ تم رات کو آگئے صبح کی فلائٹ تھی نہ تمھاری۔
جی میں دوسری فلائٹ سےآیا ہوں۔رات کو سوچا آپ لوگوں کواٹھا کر نیند خراب نہ کروں۔اسلیے یہی سوگیا۔
وہ رات والا قصہ گول کر گیا۔
پوری رات اسنے ابیرہ کو برا بھلا کہا۔
ممانی مجھے ناشتہ دیں دے ۔پوری رات چوہوں نے اودھم مچایا ہوا تھا۔
تم فریش ہوکر آجاؤ ۔ابھی ناشتہ لگے گا۔
آج سنڈے تھا پوری فیملی پورا دن تقریبا ساتھ گذارتی ہے۔صبح ناشتے کی ٹیبل پہ بھی سب جمع تھے۔سب نے واثق کو بنا بتائے آنے پہ شکوہ کیا۔اب وہ رات میں ہونے والی روادار کیا سناتا۔
آج آپ لائبریری نہیں گئی۔سامنے بیٹھی ابیرہ سے مخاطب ہوا۔
منہ میں جاتا ہوا لقمہ ھاتھ میں رہ گیا۔
کون ؟۔۔
مہرام سکتے کی کیفیت سے دوچار ہوا.
بھلا یہ کب سے لائبریری جانے لگی۔اپنی کورس کی کتابیں ہی کھول لے یہی بہت ہے۔
یہ جواب مہرام شاہ کی طرف سے آیا تھا۔
آنکھوں میں غصہ لیے وہ اپنے بھائی کو دیکھتے رہ گئی۔
کچھ اور بولنے کے لیے بچا ہی کیا تھا۔اتنی بڑی بےعزتی برداشت سے باہر تھی۔ابیرہ نےیہاں سے غائب ہونے میں ہی عافیت جانی۔
واثق یار مام کہہ رہی تھی تم صوفے پہ ہی ڈھیر ہوگئے تھے۔
کم ازکم ایک کال ہی کرلیتے۔کوئی نہ کوئی جاگ جاتا.
واثق نے ابیرہ کی طرف نظر کی جو ٹی وی پہ موڑننگ شو دیکھ رہی تھی۔
جو جاگ رہے تھے انھوں نے ہی اتنی خاطر مدارت کردی تھی کہ کسی اور کو جگانے کی ضرورت نہیں پڑی.
ابیرہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جو اسی طرف دیکھ رہا تھا۔
واثق کی آنکھوں میں شوخی اور غصے کی ملی جلی کیفیت دیکھ کر وہ واپس اپنے پسندیدہ پروگرام کی طرف متوجہ ہوگئی۔مہرام نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔پھر اگلے ہی پل اسکے سیل کی بیپ نے اسکی توجہ ہٹادی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں جی تو مہرام کیا کہہ رہا تھا۔واثق اب ابیرہ سے براہ راست مخاطب ہوا۔ابیرہ نے غفلت سے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہی ہو مجھے کیا معلوم ۔۔۔۔
لائبریری ,کتاب وغیرہ وغیرہ ۔ایسا ہی کچھ کہہ رہا تھا نہ ۔اسنے جان بوجھ کے بات آدھی چھوڑدی۔
اسکی عادت ہے مجھے تنگ کرنے کی۔میں ٹاپ بھی کرلوں تو بھی وہ یہی کہے گا۔
کتنی کمال مہارت سے ابیرہ نے باتوں کا رخ موڑا۔
واثق کو شک تو رات کو ہوگیا تھا۔لیکن ابھی شک یقین میں بدل گیا۔
واثق نے صرف اسے ایسی نظر سے دیکھا۔جیسے کوئی مجرم اپنی صفائی پیش کررہا ہو۔لیکن جج کسی طور پہ اسکی سچائی کو قبول نہیں کررہا ہو۔
اسکی نظروں کی تپش سے وہ پسینے سے شرابور ہوگئی۔
لگتا ہے موسم میں خطرناک حد تک تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ منفرد سا اپنی نوعیت کا پرفیوم نما عطر تھا ۔جس کی کانچ کی شفاف شیشی میں ڈراروں کی جھالر سی بنی ہوئی تھی۔اور صرف چند قطروں کی صورت میں ہی شیشی کی دیواروں پہ ہی خوشبو جمی ہوئی تھی۔اسنے بڑی احتیاط سے اس چھوٹے ڈبے کو کھولا۔جس میں اسکی محبت کا کل اثاثہ موجود تھا۔ٹوٹی ہوئی خستہ حال عطر دان کے ڈھکن کو بڑی احتیاط سے کھولا۔جس سے خوشبو کا ریلا اسکے وجود کو مہکا گیا۔اور جلدی سے بند کردیا۔وہ اس خوشبو کو ہمیشہ اپنی حیات میں قید رکھنا چاہتا تھا۔اسے ڈر تھا کئی یہ خوشبو بھی اسکی طرح کھو نہ جائے۔اس مہک میں اس وجود کی مہک بسی ہوئی تھی۔جس نے کس بے دردی سے اپنے غصے،اپنی انا کا نشانہ بنایا تھا۔
ساری زندگی وہ خود کو کتنا بے وقوف سمجھتا رہا۔اپنا گھمنڈ اور غرور سے وہ دوسروں کی عزت کو روند تا رہا۔
اسے اپنے ماضی پہ انتہا کا غصّہ آنے لگا۔
اسکی دماغ کی رگ ایسی پھول چکی تھی جیسے ابھی پھٹ جائے گی۔کانچ کی خستہ حال بوتل کو سامنے قدآمت آئینے پہ کسی غیر ضرور ی شے کی طرح پھینکا.
چھنا کے سے وہ بو تل ریزہ ریزہ ہوگئی تھی۔اور آئینے کے وسط میں بدنما سا سوراخ ہوگیا۔ جس کی وجہ سی لکیروں کی جھالر پورے آئینے کو بےکار کرگئی۔وہ زمین پہ گھٹنوں کےبل بیٹھتا چلاگیا۔اپنے بالوں کو مٹھی سے پکڑکر کس بےدری سے کھینچ ڈالا۔ ۔یہ اسکی جنون کی پہلی سیڑھی تھی۔
یا خدا یہ میں نے کیا کیا۔وہ پوری طاقت سے چینخا۔ اسنےکسی قیمتی متاع کی طرح اس بوتل کو چور خانے میں چھپا کے رکھا تھا۔ ہر روز اس بوتل کو جی بھر کے دیکھتا تھا۔اس میں اسکا صاف عکس نظر آتا۔
اب وہ کانچ کی کرچیوں کو سمیٹ رہا تھا باریک باریک کانچ اسکی انگلی کے پوروں کوزخمی کر گئے جس سے خون کی بوندیں ابھر گئی تھی۔
خوشبوں کا ریلا پوری فضا کو معطر کرگیا تھا۔اک دم یہ خوشبو اسکی سانسیں اکھاڑ نے لگی ۔اچانک اسکا دم گٹھنے لگا۔
اسنے جلدی سے کھڑکھیوں کے پت وا کردیے۔اور لمبی لمبی سانس لینے لگا۔۔ہوا نے کمرے میں موجود خوشبو کو باہر دھکیل دیا۔اسنے ان کانچ کے ٹکروں کو واپس ڈبے میں ڈال کر اسی جگہ پہ رکھ دیا۔۔
