Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 27
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 27
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
مہرام کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اسے گاؤں آنے کا کہا۔مہرام کی کمپنی میں اسے تھوڑا اچھا محسوس ہوتا تھا۔وہ دونوں شہر سے اپنی الگ الگ گاڑی میں نکلے کیونکہ اسے رات کو واپس شہر آنا تھا۔موسم ابر آلود ہورہا تھا۔آہستہ آہستہ دن میں رات کی طرح اندھیرا چھا رہا تاھاوہ لوگ آگے پیچھے اپنی اپنی گاڑیوں میں محوسفر تھے۔مہرام چونکہ زیان کو فولو کررہا تھا اسلیے وہ پیچھے تھا۔شہر کا راستہ ختم ہونے والا تھا۔طویل ڈرائیونگ کرکے اسے تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اور ذہنی تھکاوٹ تو ہمیشہ سوار رہتی تھی۔
کچھ زخم وقت کے ساتھ مندمل ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنا درد اور بڑھادیتے ہیں۔موسم نے بے رحمی کا مطالبہ کردیا تھا۔بادل پوری گرج و چمک کے ساتھ برسنا شروع ہوگئے تھے۔اندھیرے نے تیزی سے ڈیرے جمادیے تھے۔مہرام نے جلدی راستہ طے کرنے کے لیے اسپیڈ بڑھائی۔اچانک کار رک گئ اس نے کئی بار ٹرائے کیا لیکن وہ نہیں چلی۔
وہ گاؤں کی سڑک پہ داخل ہوچکا تھا ۔گاؤں کی کچی پکی سڑک ہونے کے باوجود بارش کی وجہ سے جگہ جگہ گھڑے بن چکے تھے۔
زیان کی گاڑی نا جانے کہاں غائب ہوگئی تھی اور یہ بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔گاڑی کا انجن گرم ہوچکا تھا وہ پانی کی تلاش میں یہاں وہاں دیکھنے لگا ۔رات ہورہی تھی۔اس اندھیرے رستوں سے اسے خوف محسوس ہوا ۔وہ جلدی جلدی بنا اپنے کپڑوں کی پرواہ کیے آگے آگے بڑھتا گیا۔وہ یہاں پوری رات نہیں نکال سکتا تھا نہ ہی کوئی راہ گیر دور دور تک نظر آرہا تھا۔
بارش رکی نہیں بلکہ اور زور پکڑلیا تھا ۔وہ چلتے چلتے گاڑی کو کافی پیچھے چھوڑچکا تھا۔
کافی راستے طے کرنے کے بعد اسے کچھ آبادی دکھی۔چند قدم کے فاصلے پہ نہر بہہ رہی تھی۔جو بارش کی وجہ سے زور و شور سے بہہ رہی تھی۔اسنے جلدی سے شکر کیا اور فورا پانی بھرنے لگا۔زیان کی کوئی خبر نہیں تھی آس پاس کچڑا جمع ہونے کی وجہ سے اسکا پاؤں اچانک پھسلااور سیدھا نہر میں جاپہنچا۔ راستہ سلیپ والا تھا اور پانی تیزی سے بہنے کی وجہ سے وہ بھی پھسلتا چلاگیا۔۔اس اچانک حملے سے اسکے اعصاب بری طرح متاثر ہوچکے تھے۔
بڑی مشکل سے زیان حویلی پہنچا تھا ۔مہرام کو نہ پاکر وہ پریشان ہوا۔بارش کی وجہ سے وہ اسے ڈھونڈنے بھی نہ جاسکا وہ بارش تھمنے کا انتظار کرنے لگا
گاؤں کے لوگ منہ اندھیرے اٹھنے کے عادی تھے۔۔گھر کے مرد اپنی اپنی زمینوں پہ روانہ ہوجاتے۔اور عورتیں گھر داری سنبھالتی۔
گاؤں کے شروع ہوتے ہی ایک نہر بہتی تھی۔گاؤں والوں نے اپنی مدد آپ مدد کے تحت ایک چھوٹا سا پل بنالیاتھا۔حالانکہ نہر کی چھوڑاہی اتنی بڑی نہیں تھی لیکن پھر بھی آنے جانے والوں کے لیے مشکل کا باعث بنتی۔
صبا نے زیان سے باہر جانے کی ضد کی۔ویسے بھی دودن بعداسکی شادی ہونے والی تھی پھر تو اسکا باہر نکنا سہیلیوں میں ملنا جھلنا کم ہوجائے گا۔زیادہ دور نہ جانے کی تاکید کرکے اسے اجازت دے دی گئی.
۔۔۔۔۔
تم چل رہی ہو سمجھی۔صبا محرما کو اٹھانے لگی جو کھڑکھی میں سے رات کی موسلا دھار بارش کے نظارے کررہی تھی۔
نہیں کرو میرا کہیں بھی جانے کا دل نہیں چارہا ۔تم کسی اور کے ساتھ چلی جاؤ۔
چلو نہ یار محرما تم نہایت سوکھی لڑکی ہو۔
وہ اسے زبردستی باہر لے آئی پہلے انھوں نے
آس پاس کے کھیتوں کی خاک چھانی ۔پھر وہ چلتی چلتی دور نکل گئی۔
نہر کی سیر کرلی جائے تو کیا ہی بات ہے صبا نے چلتے ہوئے کہا۔
وہ اس چھوٹے سے مصنوعی نما پل کو پار کرنے لگی۔محرما ابھی بھی پل کے اس پار تھی وہ وہی رکی رہی جبکہ صبا سامنے پہنچ چکی تھی۔محرما وہ دیکھو کوئی یہاں بیٹھا ہوا ہے وہ چلاتے اسے بتانے لگی محرما نے اشارے کی سمت دیکھا۔۔
صبا واپس آؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔
صبا آگے بڑھنے لگی ۔
مت جاؤ یار کسی نے دیکھ لیا تو ہمارا حشر کیاہوگا تم اچھی طرح جانتی ہو۔
کوئی مسافر پریشان ہوتو اسکی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔وہ اسے بتانے لگی۔مگر محرما وہاں سے ہلی نہیں ۔
وہ شخص نظروں سے اوجھل ہوچکا ۔آگے کا راستہ خطرناک تھا اسلیے وہ واپس محرما کے پاس آگئی۔محرما نے زبردستی اسے واپس چلنے کو کہا ورنہ صبا کا ارادہ اس بھٹکے ہوئے مسافر کو گھر تک پہچانے کا ارادہ تھا۔
وہ دونوں آگے بڑھنے لگی کہ کسی نے پکارا۔
وہ دونوں نے فورا اپنے دوپٹے سے منہ پہ نقاب کی طرح ڈال لیے کئ کوئی دیہاتی نے دیکھ لیا تو انکی خیر منائی جائے گی۔
محرما نے صبا کا ہاتھ پکڑا اور بھاگنے لگی۔وہ شخص کچھ فاصلے پہ تھا۔اس لیے زیادہ تیز نہیں چل پارہا تھا۔۔وہ محرما کا ہاتھ چھوڑواکر اسکے پاس جانے لگی جبکہ محرما وہی ٹہری رہی۔
ناجانے ان دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی تھی وہ دونوں اسی طرف آنے لگے۔وہ بری طرح گرنے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قدم بڑھارہا تھا۔کپڑے کیچر آلود تھے اور کچھ زخموں سے خون ابھی بھی رس رہا تھا۔
محرما نے اسے دیکھے بنا آگے آگے چلنے لگی
حویلی کے کچھ فاصلے پر صبا نے اسے بتایا ۔آپ خود اکیلے آئیے گا اور کسی سے بھی ہمارا ذکر مت کرنا ۔
وہ اور محرما فورا حویلی کی طرف بھاگی۔
صبا تو باقاعدہ اس کے اندر تک آنے کا انتظار کرنے لگی جبکہ محرما اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
شکر تم آگئے میں کبھی سے تمہیں کال کررہا ہوں تم رسیو نہیں کررہے۔
میں نے تمہیں ڈھونڈنے کے لیے لوگ بھی بھیجے مگر انہیں دور دور تک تمہاری گاڑی بھی نظر نہیں آئی۔میں سمجھا شاید تم واپس چلے گئے ہوگے۔
نہیں یار میری کار گرم ہورہی تھی تو میں پانی تلاش کرنے لگا ۔لیکن پھر وہ نہر ٹائپ میں پھسل کر گر گیا۔
مہرام نے اسے ماجرا بتایا۔
کافی چوٹ آئی ہے تمہیں ۔وہ اسے دیکھتے بولا .تم بیٹھو میں ابھی ڈاکٹر کا انتظام کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔
زیان تم ایسے کیسے میرے ساتھ کرسکتے ہو۔
رجاہ کا مرجھایا ہوا چہرہ اسکے دل کو رلانے لگا۔میں بہت مجبور ہوں تم جانتی ہو ابا جی جو کہہ دیں وہ کر کے ہی رہتے ہیں ۔
اچھی خاصی ہماری شادی ہونے والی تھی وہ تمہاری کزن نے سب آکر بگاڑ دیا ۔میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگی۔
اسکا کیا قصور ہے وہ خود کتنا کچھ سہہ کر آئی ہے ۔
میں اپنی جان دے دونگی مگر تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دونگی سمجھے تم۔
وہ رورہی تھی۔
خبر دار ایسے لفظ بھی نکالے تو وہ اسے روتے ہوئے دیکھ کر اپنے آنسو ضبط کرنے لگا۔
کتنی پرسکون زندگی تھی انکی شادی ہونے والی تھی۔بچپن سے انکی نسبت طے ہوچکی تھی۔وہ دونوں ایک دوسرے کے بنا خود کو تصور تک نہیں کرسکتے تھے۔
زیان نے خود اسے بتا یا ورنہ یہ بات حویلی سے باہر نہیں نکلی تھی۔
میں کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تم رو مت پلیز ۔۔
جو بھی کرو لیکن جلدی کرو ۔ورنہ میں خود کو ختم کرنے میں ایک پل بھی انتظار نہیں کرونگی۔وہ اسے ایموشنلی بلیک میل کررہی تھی۔جو خود ڈوبتی کشتی میں سوار تھا۔
مہرام سب سمجھ چکا تھا۔وہ حویلی کے باہر واک کرنا نکلا تھا اندر اسے گھٹن سی ہورہی تھی ۔جب اسے کسی کی رونے کی آواز آئی تو وہ وہی کھڑا ہوگیا۔
جہاں زیان کسی انجان لڑکی سے بات کررہا تھا۔
وہ اپنی شادی سے ناخوش تھا.مہرام نے بات کی طے تک پہنچنے کے منصوبے ترتیب دیئے.
۔۔۔۔۔۔
صبا کی مہندی کی تیاری عروج پہ تھی زرد پھولوں سے حویلی مہک اٹھی تھی۔
گہما گہمی رونقیں ہر طرف نظر آرہی تھی ۔محرما نے زرد رنگ کا فروک زیب تن کیا ہوا تھا ۔سفید پھولوں سے بنی بالیاں کنگن اس مزید حسین کر گئے تھے۔
مہرام نے حویلی پہ اتنی رونق دیکھ کر واپس اندر چلاگیا۔
دکھی روح کو ان رونقوں سے کیا لینا دینا۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ماضی کی یادوں میں کھویا تھا جب کوئی دھیرے سے دروازہ کھول کر داخل ہوا۔
زیان بھائی۔۔۔محرما کی ہلکی سی آواز اسکی دکھی زندگی میں رونق بھر گئی۔
مہرام نے فورا آنکھیں کھول کے دروازے کے سمت دیکھا جہاں اسکی زندگی اندھیرے میں کھڑی کسی کو آواز دے رہی تھی۔
محرما ۔۔۔
مہرام شاہ نے اسے دیکھ کر دل سے پکارا۔
پھولوں سے لدی وہ گڑیا اس کے دل میں تلاطم مچاگئی تھی۔
کیا واقعی وہ محرما ہے اسنے دھیرے سے کہا۔
جا روک لیں اپنی زندگی کو۔۔۔وقت نے مسکراکر کہا۔
مہرام نے ایک نظر خود پہ ڈالی۔
کیا میری اتنی اوقات ہے کہ اسکے سامنا کرسکوں ۔
وہ لڑکی نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی
۔۔۔۔۔
مہرام میں تمہیں ایسی حالت میں واپس جانے نہیں دونگا۔
زیان اسکی ابتر حالت دیکھ کر مخاطب ہوا ہاتھ اور پیر پر کافی چوٹیں آئی تھی مگر پھر بھی وہ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ رہا تھا۔ابھی بھی اسکی نظریں کسی کو کھوجنے میں مصروف تھی۔
زیان سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا صبا کی مہندی کی رسم عورتوں میں جارہی تھی۔
مجھے جانا بھی نہیں ہے۔میری منزل میرا سب کچھ تو یہاں ہے جس کی تلاش تھی وہ خود بہ خود مجھے مل گیا ہے ۔
وہ صرف دل میں کہہ سکا۔
ٹھیک ہے میں نہیں جارہا ویسے بھی میری طبیعت مجھے کچھ صحیح نہیں لگ رہی ۔آئی تھینک مجھے آرام کرنا چاہیے وہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ کر کمرے میں چلا گیا۔
محرما کی ایک جھلک دیکھنے کی خواہش دل میں مچل سی گئی تھی ۔
مرجھایا ہوا چہرہ روشن ہوچکا تھا۔وہ اپنی پوری زندگی یہاں بتانے کے لیے تیار تھا۔
