438.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 20

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

یہ لیں آپ کی انگوٹھی وہ رنگ پاکٹ سے نکالتے بولا۔ رنگ کا بوکس وہ چھپاگیا تھا تاکہ معلوم نہ ہو کہ یہ نئی رنگ ہے۔

چمکتی رنگ دیکھ کر اسکی جان میں جان آئی.بہت بہت شکریہ آپ نے اسے ڈھونڈ کر مجھ پہ کتنا بڑا احسان کیا ہے میں بتا نہیں سکتی۔

وہ تشکر بھرے لہجے میں بولی۔

محرما کا کھلتا چہرہ شاویز کو بہت بھایا .وہ اسے اتنا خوش دیکھ کر صرف دیکھتا رہ گیا.

۔۔۔۔۔

محرما کہاں تک پہنچی۔۔ابیرہ نے بیوٹیشن کو ذرا دیر کے لیے رکنے کو کہہ کر محرما کو کال ملائی۔میں گھر پہ ہی ہوں ۔۔۔

کیا ا ا ا۔۔۔۔

چیخنے پہ بیوٹیشن نے اسے مڑ کر دیکھا۔

تم ابھی تک نکلی ہی نہیں۔۔

نہیں یار میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں نہیں آسکتی دھیمہ لہجہ دکھی تھا۔

میں کچھ نہیں جانتی۔ مجھے تم یہاں موجود چاہئے ہو دس منٹ میں ۔۔۔

ورنہ بھول جانا کہ ہماری کبھی دوستی بھی ہوئی تھی وہ خفگی بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔

یار تم سمجھ کیوں نہیں رہی ۔لیکن کال کٹ چکی تھی۔

محرما کو رونا آرہا تھا ۔وہ اس شخص سے سامنا نہیں کرنا چاہتی لیکن مقدر میں شاید اسکا سامنا ہی لکھا تھا ۔

۔۔۔۔۔

آئینے پہ کھڑا وہ خود کو دیکھ رہا تھا ۔ہلکی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پہ رواں ھی۔

میرا بیٹا اک دم راجا لگ رہا ہے ثمینہ نے اسے گلا لگایا۔

خوشی اسکے انگ انگ سے ظاہر ہورہی تھی ۔کیا واقعی وہ مجھے بنا مانگے مل رہی ہے۔دلہن کے روپ میں کیسی لگ رہی ہوگی اسے دیکھنے کے لیے واثق کا دل مچل رہا تھا۔

وہ اپنے کمرے سے باہر نکل کر اوپر دیکھنے لگا کیا معلوم اسکی جھلک ہی دیکھنے کو مل جائے۔نکاح تک اسے ابیرہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

اس دن کے بعد سے وہ اسے دیکھنے کے لیے تڑپ گیا تھا۔آخر کار یہ دن آہی گیا بس کچھ گھنٹے اور ۔پھر تم میری ہوجاؤ گی مسز واثق وہ گہری مسکراہٹ سجائے باہر گاڑدن میں آیا جہاں فنکشن کے ارینجمنٹ کیے گئے تھے۔

اسٹیج کو رنگ برنگی فریش فلاور سے سجایا گیا تھا ۔اور ان پہ چھوٹے چھوٹے قمقمے بچادیے گئے تھے۔جیسے پھولوں پہ جگنو بیٹھے ہو۔

صرف قریبی رشتےداروں کی دعوت دی گئی تھی

۔۔۔۔

اس گھر میں داخل ہوتے ہی اسے سب کچھ یاد آگیا مہرام کی مکاری ،اسکے زہر آلود الفاظ ۔۔دوست کی خاطر اسے کڑوا گھونٹ لینا ہی پڑا۔

۔۔۔۔۔

بہت بہت مبارک ہو مہرام اور دوسرے مردوں نے واثق کو گلے لگایا۔

خیر مبارک اللہ انکو خوشیاں دیکھنا نصیب کریں خوب اچھی اچھی دعاؤں سے نوازا گیا۔

نکاح ہونے کے بعد ابیرہ کو اسٹیج پہ لایا گیا۔

واثق کے بھٹکتی نگاہوں کو سکون میسر آیا ہو جیسے

۔وہ کتنی دیر تک اسے دیکھتا رہا پھر اسے تنگ کرنے کے لیے مخصوعی ناراضگی سے منہ پھیڑ لیا۔

ابیرہ نے اپنے نئے نئے شوہر کو کن اکھیوں سے دیکھا جو اسکی طرف دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کررہا تھا۔بلاکا غصّہ ہے جو ابھی تک ختم ہی نہیں ہوا۔

حد ہوتی کوئی نئی نویلی دلہن سے ایسے کرتا ہے جاؤ۔۔۔

میں نےبھی نہیں دیکھنا وہ دوسری سائیڈ رخ کرگئی۔

واثق اسے دیکھنے کی بار بار کوشش کرتا رہا مگر وہ اسے موقع ہی نہیں دے رہی تھی۔

ارے آپ کھڑی کیوں ہیں ۔اپنی دوست کے ساتھ فوٹو شوٹو لیں اور اب پاؤں کی چوٹ کیسی ہے اسٹیج پہ کھڑی محرما سے واثق نے دریافت کیا۔

مہرام نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

ایک سیکنڈ کے لیے وہ ٹھٹھکا ۔

سجی سنوری محرما مہرام کے دل کی محفل لوٹ چکی تھی۔لیکن انا پرستی دلی کیفیت پہ حاوی ہوچکی تھی

اسنے منہ بگاڑتے نظریں پھیر لی۔

جی ٹھیک ہے واثق بھائی ایک رکویسٹ کرنی ہے اگر آپ برا نا مانے تو۔

کہیے سالی کی ریکویسٹ پوری کرنا فرض ہے۔

واثق نے مسکراہٹ ڈبائے کہا۔

ابیرہ میری بہت پیاری دوست ہے اسکا خیال خود سے زیادہ رکھیے گا۔اسکی نادانی کو اپنی سمجھ داری سے کنٹرول کرلیجیے گا۔

ابیرہ نے منہ گھماکر محرما کو گھورا۔

ابیرہ ادھر دیکھو تمہارا دولہا برابر میں بیٹھا ہے وہاں کس کو تاڑ رہی ہو

اب تک خفا ہو محرما نے نک چڑھی دلہن کے کان میں کہا۔

ایک پک ہوجائے۔۔۔وہ اسکا جواب سنے بغیر بولی

محرما اپنے سیل سے انکی کچھ تصویریں لینے لگی۔

مہرام اسکی حرکات و سکنات کو جائزہ پوری توجہ سے لے رہا تھا۔

نظریں اسکے چہرے سے پھسل کر اسکی انگلی پہ ٹھر گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔

چاند سا چہرہ جھیل سی آنکھیں اسے باربار اپنی طرف متوجہ کررہی تھی۔

بغض اور حسد واپس لوٹ آیا تھا۔

مہرام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر یقین دہانی کی ۔۔اسکا شک صحیح ثابت ہوا تھا۔

ایک جھٹکے سے اسکی انگلی میں سے انگوٹھی کھینچ کر دور ہوا میں پھینک دی ۔

ایک سیکنڈ کے لیے محرما کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا لہرایا۔

کھینچے جانے سے سرخ ہوتی انگلی میں ہلکی جلن ابھری۔

بجھی بجھی نظر سے بے رحم کو دیکھا۔ اسکا غصّہ شعلوں کی زد پہ تھا۔

اس اچانک عمل پر وہ کوئی رد عمل نہ دے سکی ۔

۔آئندہ تم شاویز سے کچھ بھی نہیں لوگی وہ اسے تنبیہ دے رہا تھا۔

جیسے بہت بڑا کمال کردیا ہو۔

رقابت کی پوشیدہ جلن اب عیاں ہوچکی تھی۔

تم ایسی لڑکی ہوگی میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔

لہجے میں تلخی واضح تھی۔وہ غصے کو قابو کرنے کے لیے مٹھی بھینچ رہا تھا۔

محرما نے اسکے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ کھینچا۔

سلگتی آنکھوں سے نفرت بھری نگاہ ڈالی۔

مسٹر مہرام شاہ تم مجھے نفسیاتی لگتے ہو۔ ہوتے کون ہو تم میری زندگی میں دخل اندازی کرنے والے میں کچھ بھی کروں کسی سے کچھ بھی لو۔تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھے مسٹا مہرام شاہ.

وہ غرائی۔۔۔

تمہیں اپنے کام سے مطلب ہونا چاہے کیوں میرے سامنے اپنا گھٹیا وجود لے آتے ہو۔

میں تمہاری شکل تو دور تمہارے سائے سے بھی چالیس قدم دور رہنا پسند کرتی ہوں ۔

جتنا میں چاہتی ہوں تم سے نفرت نہ کروں اتنا تم مجھے نفرت کرنے پر ابھارتے ہوں۔

لیکن آج تو تم نے تمام حدیں ہی پار کردی ہے ۔

چاہتے کیا ہو ؟

اپنا ناٹک بند کرو ۔میں نے تمہیں قتل نہیں کردیا جو اتنا چلارہی ہو۔وہ تلخ لہجے میں گویا ہوا

چہرے پہ استہزایہ ہنسی نمودار ہوئی۔

میں جب بھی اپنے اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھاتی ہوں میرے لب پہ ایک ہی دعا ہوتی ہے۔

جانتے ہو کیا ہوتی ہے۔

تم سے دوری۔۔

تم سے دوری مانگا اتنی دور ہوجاؤں کہ میری سوچ بھی تمہاری سوچوں میں کبھی نہ آئے ۔مجھے اپنے اللہ پہ توکل ہے وہ میری دعا ضرور قبول کریگا ۔اور وہ دن جب تم تڑپوگے اپنے تمام ظلم یاد کرکے ، جو تمہاری انا نے ایک بے قصور پہ ڈھائے تھے ۔

اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں قصور تو اس غرور کا ،جھوٹی انا کا ہے جس نے تمہاری آنکھوں پہ مضبوط پٹی باندھ رکھی ہے تم اندھے ہوگئے ہو ۔خود کو جتنا بلند سوچوگے اتنا ہی زور سے زمین پہ گروگے ۔ایسی ٹھوکر کھاؤگے کہ اٹھ نہ سکوگے۔

محرما چلا رہی تھی وہ اس شخص سے لڑ لڑ کے تھک چکی تھی۔

وہ کیوں اسکا ظلم سہتی رہی کیوں خود کے لیے لڑی نہیں ۔

صبر کا ضبط ٹوٹ چکا تھا اسکا وجود کرچی کرچی ہوگیا تھا۔

حقارت بھری نگاہ ڈال کر وہ جاچکا تھا ۔اسے کیا پرواہ تھی۔

سناٹے میں ایک وجود بلک بلک کر رورہا تھا ۔

اندھی نفرت انسان کو انتہاؤں پہ لاکھڑا کردیتی ہے حقائق سے کوسوں دور لے جاتی ہے۔

وہ اپنی نفرت نبھانے کے لیے سب کچھ کر گزرتا ہے اس وقت اندھی نفرت نے اسکے تمام مثبت پہلو پہ پردہ ڈال چکی تھی۔

سوچنے سمجھنے کی حس بیکار ہوچکی تھی

زندگی نے کس مقام پہ لاکر کھڑاکردیا تھا جہاں وہ اپنے دکھ اپنی تکلیف کسی کے سامنے عیاں نہیں کرسکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی میں سینئرز اسٹوڈینٹ کو الوداعی پارٹی دینے کی تیاریاں عروج پہ تھی۔اسٹوڈینٹ نے ایک کاؤنسلر ترتیب دی تھی۔جس میں مہرام ہیڈ چنا گیاتھا۔پارٹی میں سیمینار،ڈرامے اریجمینٹ وغیرہ کی ذمہ داری اسی کاؤنسلر کے ذمے تھی۔ایک ہفتہ قبل سے وہ محنت کررہے تھے پھر اسکے بعد امتحان دے کر یونیورسٹی کو خیرآباد کرنا تھام

سب سے پہلے مختلف پلینز، آئیڈیاز جمع کیے تھے جن اسٹوڈینٹ کا آئیدیا اچھا ہوتا وہ آگے پہچادیا جاتا۔

انھوں نے اپنی الوداعی پارٹی تین دن پر مشتمل رکھی تھی۔پہلے دن کا نام ان” فورگیٹ ایبل میموریز “رکھا تھا جس میں اسٹوڈینٹ نے خود کے ساتھ ہونے والے مسخرے اور ایسی ایسی مومینٹس شیئر کیے جو انکے ساتھ شروع کے دنوں میں رونما ہوچکے

تھے۔

جیسے امتحانات کے دنوں میں اسٹوڈینت کی عجیب حالتیں ،پروفیسر اور دیگر ٹیچر کو زچ کرنا،اسٹودینت کی آپس میں اونچ نیچ وغیرہ کو بڑے منفرد انداز میں بتایا جاناتھا

دوسرا دن پورا ڈراموں اور ٹائیٹل پہ رکھا تھا مشہور ڈراموں کو نئے انداز سے پیش کیا جانا تھا اور اسٹودینت کو ٹائیٹل دیے جانے تھے

تیسرا اور آخری دن صرف سینیرز کا تھا ۔انھیں کھلی چھوٹ دی گئی تھی ۔

لاسٹ دے آف یونیورسٹی۔

محرما کے تو آنسو ہی نہیں رک رہے تھے کیسے ایک سال پورا ہونے والا ہے۔

اسی طرح اسے بھی ایک دن یونیورسٹی چھوڑنی ہوگی۔

زندگی کی سب سے حسین یادیں یہی سے ہی لے جاتے ہیں ۔

لیکن اسے ایک بات کی بڑی خوشی تھی کہ وہ دشمن جاں اب یونی میں نظر نہیں آئےگا۔ مہرام کا یونی چھوڑ کر جانے سے اسکے چہرے پہ انوکھی خوشی ابھری تھی.وہ انتہا کی خوش تھی.