Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 11
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 11
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
اتنی رات کو یہاں آنے کی وجہ وہ اس کے عین سامنے چیئر گھسیٹ کے بیٹھ گیا۔
جو کافی حد تک خود کو نارمل کر چکی تھی
مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔اسلیے ٹھنڈی ہوا کھانے آگئی۔
اور یہی سوال میں آپ سے پوچھوں تو۔۔۔۔
پوچھ سکتی ہیں آپ۔۔۔
میرا جواب بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔
نیند نہ آنے کی وجہ ۔۔۔۔
ابیرہ نے آئی برو اچکائے پوچھا۔۔۔
معلوم نہیں ۔۔۔
وہ اسکے چہرے پہ کچھ کھوجنے کی کوشش کررہی تھی۔
ایسے کیوں گھور رہی ہیں ،کچھ لگ گیا ہے کیا۔۔۔۔
وہ اپنا چہرہ چھوتے بولا۔
نہیں وہ۔ابیرہ نے اپنی نگاہیں دوسری طرف پھیرلی۔۔
پھر موبائل نکال کے فرنٹ کیمرے سے خودکو دیکھنے لگا ۔
سب ویسا ہی تو ہے وہ خود سے کہنے لگا۔
آپ مجھے کچھ چینج چینج سی کیوں لگ رہی ہیں ۔پہلے جب میں یہاں آیا تو آپ کی ٹرین کہیں رکتی نہیں تھی۔ اور آج ایسا لگ رہا ہے آپ کی ٹرین کئی اٹک گئی ہے۔
مجھے تشویش ہورہی ہے انجن ونجن سب صحیح سلامت تو ہے نہ
آئی مین آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔وہ اسے نظر انداز کرکے کہنے لگی۔
مجھے بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہورہا ہے پہلے جب آپ یہاں آئے تھے تو اتنی بک بک نہیں کرتے تھے لیکن اب کی بار کافی چینج چینج سے معلوم ہوتی ہیں
ابیرہ کا مشاہدہ سن کے اسکے چہرے پہ
پراسرار سے مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
ہوسکتا ہے آپ ٹھیک کہہ رہی ہو۔
وہ موبائل پہ نظریں جمائے کہنے لگا۔
چوبیس گھنٹے تو موبائل پہ ہی گھسے ہوتے ہیں ۔ڈھونڈ تے رہو ثانیہ بیگ کو۔۔۔۔۔۔۔
میری بلا سے۔۔۔۔۔۔
میں بھی اپنی زبان بند رکھونگی۔
وہ دل ہی دل میں مخاطب ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان نے کتابوں کی لسٹ محرما کے ہاتھ میں پکڑائی۔اتنی بڑی لسٹ دیکھ کے اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ میں اتنی کتابیں نہیں تلاش کرونگی ۔بلکہ میں سر سے بات کرتی ہوں جانے کون کونسے عجیب و غریب لولز نکال لیے ہے۔اب چند اسٹوڈینت نے ربنز کیا پہنادی میرے تو گلے ہی پڑگئے ہو تم لوگ۔
آپ کو ہر صورت یہ کرنا ہوگا ورنہ اسکی سزا بھی مل سکتی ہیں ۔
یہ کرتی ہے میری جوتی ۔۔۔۔
وہ پیر پٹک کے گویا ہوئی۔
بلاؤ اپنے اکڑو سریل دوست کو۔۔۔۔
اور کتنے چمچے بنائے ہے اس نے ۔ماہانہ کتنی تنخواہ ملتی ہے تم لوگوں کو۔۔۔۔۔
وہ پیچھے کھڑا سن رہا تھا جس سے محرما بے خبر تھی۔
ہوگئی تمھاری اسپیچ ختم یا مزید ہمارے کان خراب کرنے ہیں۔
وہ دونوں ہاتھ باندھے تحمل سے کہنے لگا۔
تمہیں ہماری باتوں کا یقین نہیں نہ.
آؤ تمہیں سر کے آفس لے جاتا ہوں وہاں پہ اپنی بقیہ تقریر کرنا وہ اسے زبردستی آفس میں لے آیا جہاں سر کسی فائل کو دیکھنے میں مصروف تھے۔
اسلام وعلیکم سر۔
وعلیکم االسلام۔
مس محرما شازیب کہہ رہی ہیں کہ یہ یونیورسٹی کے کسی لولز کو مانتی نہیں ۔اسلیے یہ انھیں فولو بھی نہیں کرینگی۔
وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا۔
مس محرما شازیب اب آپ سر کے سامنے جھوٹ بھی بولینگی۔
وہ اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا کوئی موقعہ نہیں دے رہا تھا۔
سر میرے پاس پروو ہے آپ کہیں تو میں دوسرے اسٹوڈینت کو بھی بلا دیتا ہوں ۔وہ معصومیت سے اسکی شکایت کررہا تھا۔
محرما شازیب آپ ٹیلنٹڈ اسٹوڈینت ہیں مجھے آپ سے یہ امید ہر گز نہیں تھی ۔وہ فائل کو کونے پہ رکھ کے بولے۔
سر آپ غلط سمجھ رہیے ہیں ۔
میں ۔۔ں ں ۔۔۔۔
غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔۔۔
مینرز اس یونیورسٹی کے ہر اسٹوڈینت میں ہونے چاہئے۔جو ان لولز کو فولو نہیں کریگا یونیورسٹی میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
اور یہ لولز آپ پہ بھی لاگو ہونگے۔
وہ ڈانٹ پڑنے پہ اسے صرف سر کے سامنے دیکھتی رہ گئی۔
بہتر ہوگا یہاں بچوں کی طرح لڑنے کے بجائے اپنی پڑھائی پہ توجہ دیں ۔
مہرام ہلکی سی مسکراہٹ سجائے سر کی ہاں میں ہاں ملائے اسکے سرخ چہرے کو گھور رہا تھا۔
لیکن سر۔۔۔۔۔وہ اپنی ادھوری بات پوری کرنے کی بار بار کوشش کرتی رہی ۔
لیکن۔۔۔
اب آپ لوگ یہاں سے جاسکتے ہیں ۔۔
وہ دونوں باہر نکل گئے۔
محرما کو مہرام شاہ کے سامنے بڑی سبکی اٹھانی پڑی ۔جبکہ وہ کمینی سی مسکراہٹ سجائے سینہ تان کے باہر نکلا۔
اور وہ شکستہ قدم اٹھائے نکلی
میں نے کہا تھا ۔
اب آگئی عقل
تم لڑکیوں کی جب تک بے عزتی نہیں ہوتی عقل ٹھکانے کہاں آتی ہے۔
لو لسٹ اور اچھے بچوں کی طرح لائبریری جاکے ڈھوندو ۔
ویسے تم نے پورا ایک دن ویسٹ کردیا اور صرف دو دن بچیں ہیں اور کام بہت زیادہ ہے۔۔۔۔
اللہ بتائے تمہیں ۔۔وہ لسٹ پکڑے پیر پٹکتے ہوئےچلی گئی۔
مہرام کو اسے بے سکون کرکے دلی سکون مل رہا تھا۔۔۔
وہ اپنی پورے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بے عزتی کا بدلہ اسے ذہنی ٹارچر کرکے لینا چاہتا تھا۔
اگر اسے معلوم ہوگیا کہ ایسے کوئی لولز ہے ہی نہیں تو وہ تجھے کچا چبا جائے گی یار۔
سبحان ڈرانے لگا۔
پھر تو اور بھی مزا آئے گا بنا کوئی غلطی کے اسے اتنی محنت کرنی پڑرہی ہے جو۔
انا کی تسکین حاصل کرنے کے لیے وہ بے تاب ہوگیا تھا۔
دو دن سے وہ اپنی بے عزتی سوچ سوچ کے پاگل ہورہا تھا۔
غرور سے سر شار چہرہ لیے وہ اپنی فتح کا منتظر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے لسٹ میں موجودہ پندرہ کتابوں کے نام دھرائے ۔۔۔
لائبریری آکر وہ واپس نام پڑھنے لگی۔۔
ناجانے کون کونسی کتابوں کےنام اس میں درج تھے جسے آج تک اسنے سنا بھی نہیں تھا۔
وسیع لائبریری سینکڑوں کتابوں پہ مشتمل تھی۔
وہ لائبریری کے کونے کونے میں جھانک آئی۔
کتنی بڑی لائبریری ہے وہ تو آج تک اپنی مخصوص جگہ پہ ہی بیٹھتی اور کورس کی چند کتابیں ، جو ضروری ہوتی وہ ہی تلاش کرتی ۔اسے کبھی پوری لائبریری دیکھنے کا موقعہ ہی نہیں ملا تھا۔نہ ہی اسنے کبھی کوشش کی تھی
یا خدایا ! میں اتنی بڑی لائبریری میں اتنی ساری کتابیں کیسے ڈھونڈ سکتی ہوں ۔۔۔
کچھ خیال آنے پہ وہ لائبریرین کے پاس آگئی۔
لسٹ دیکھانے پہ لائبریرین نے اپنے قیمتی مشورے سے نوازہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبریری میں صرف چند اسٹوڈینت ہی رہ گئے تھے آدھی سے زیادہ لائبریری وہ چھان چکی تھی ۔صرف دو بابا اعظم کے زمانے کے موٹی موٹی بوسیدہ ضعیف قسم کی کتابوں کے علاوہ اور کوئی بھی کتابیں نہیں ملی تھی۔
کتنی ہی کتابوں کے ٹائٹل نام پڑھ چکی تھی۔لیکن مطلوبہ بکس ملنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
کتنی کتابیں پڑھتا ہے تبھی تو دماغ قابو میں نہیں رہتا ناک تو ہر وقت پھولی ہوئی ہوتی ہے ۔انا پرست۔۔۔
گھمنڈ ا۔۔۔۔
اسنے گھڑی پہ ایک نگاہ ڈالی۔
جو دو بجا چکی تھی۔
دو بج گئے۔۔۔۔۔۔
زیادہ بھاگ ڈور سے بھوک کے مارے اسکی حالت خراب ہوگئی تھی۔
ناشتہ بھی بڑائےنام ہی کیا تھا۔۔
۔۔۔
بھاڑ میں جائے۔
انسان سمجھا ہے یہ مشین ۔وہ تصور میں ہی اسے گالیوں سے نوازنے لگی ۔
تھک کے وہی کرسی پہ بیٹھ گئی۔
بیٹا اب تم گھر جاؤ آج ہی ساری کتابیں کھنگال لو گی کیا۔
لائبریرین اسے مسلسل چار گھنٹے سے جدوجہد کرتے دیکھ رہا تھا۔
وہ پہلی اسٹوڈینت گزری تھی جس نے بنا پلک جھپکائے لگاتار کتابوں کو چھاننے میں ہی مصروف تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیلڈباندھ لیجئے وہ اپنی سیٹ کا بیلڈ باندھتے کہنے لگی۔
کیوں تم گاڑی اڑانے کا ارادہ رکھتی ہو۔۔
معلوم نہیں فرسٹ اٹیمپ ہے کچھ بھی ہوسکتا وہ شانے اچکاتے ہوئے چابی گھمانے لگی۔
کیا ۔۔۔۔کیا۔۔۔
مہرام نے تو کہا اسنے تمہیں ڈرائیونگ سکھادی ہے ۔
وہ اچھل پڑا۔
اسنے سکھائی ہے لیکن میں نے سیکھی بھی ہے اس کی گیرنٹی تو وہ نہیں دے سکتا نہ ۔۔۔
تم کیا کہہ رہی ہو۔
ابیرہ نے اسکی سنی ان سنی کرکے گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔۔
رکو ۔۔۔۔
میں ڈرائیونگ کرتا ہوں۔
وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی
گاڑی سڑک پہ آچکی تھی ۔اسے شروع میں خاصی مشکلات پیش آرہی تھی ۔
اسٹپ دا کار وہ بارہا کہہ چکا تھا مگر ابیرہ کے کان میں جوں تک نہ رینگی۔
جب مجھے چیلنج کیا گیا ہے تو اسے پورا کرکے ہی چھورونگی۔
چاہے اس کے لیے ۔۔۔
ابیرہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔
چائے اسکے لیے ہم دونوں کو اوپر ہی جانا نہ پڑجائے واثق نے ادھوری بات پوری کی۔
آپ مجھے ڈرائیونگ کرنے دینگے بھی یا پھراسی طرح مجھے کنفیوزکرتے رہینگے وہ سامنے گلاس پہ نظر جمائے کہنے لگی۔
لیکن یار کیوں پاگل بنی ہو ۔۔
روکو گاڑی اور ہٹو یہاں سے میں ڈرائیونگ سنبھالتا ہوں یقین کرومیں مہرام سےکچھ بھی نہیں کہونگا۔
وہ باقاعدہ منتیں کرنےلگا۔۔۔۔۔۔
لیکن ابیرہ پہ جیسے بھوت سوارتھا۔
وہ گیرکو کبھی آگے کرتی کبھی پیچھے کرتی گاڑی پوری سڑک پہ بریک ڈانس کرتے کرتے آگے بڑھ رہی تھی۔
واثق نےسڑک کو تقریباً سنسان دیکھ کے شکر مانا ۔
اب اسے ڈرائیو کرنے میں مزا آنے لگا ۔
ابیرہ نے واثق کو ڈرانے کے لیے گاڑی کی اسپید بڑھائی۔
گاڑی کی اسپید دیکھ کے اسکی جان ہی نکل گئی۔
کیوں اپنے ساتھ میری بھی جان جھانکو میں ڈال رہی ہو
مہرام کا بدلہ مجھ سے کیوں لینا چاہتی ہو ۔
پلیز گاڑی روکو ۔
نہیں روکونگی وہ اسکا ڈراہوا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ جس نے ابیرہ کی کتنی ہی برائی ابیرہ یعنی ثانیہ سے کی تھی۔
واثق کو وہ موت کے فرشتے سے کم نہ لگی۔
سامنے دیکھو
نہیں دیکھونگی ۔
وہ سامنے سڑک تو دیکھتا تو کبھی اسے۔
یا اللہ میں کہاں پھنس گیا ۔
وہ سر ٹھامے دل کو مضبوط کرکے بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔
موت کا خوف پہلوان کو بھی پچھاڑ دیتا ہے۔لیکن وہ خوف سے عاری تیز ڈرائیونگ سے لطف اندوز ہورہی تھی۔
سامنے دیکھ کے چلاؤ۔کیوں خود کے ساتھ مجھے بھی مروانا چاہتی ہو ۔
اکیلے مرنے میں ڈر لگتا ہے نہ
میرے بغیر آپ زندہ رہ کے کیا کریں گے۔
اف ف ۔۔۔۔۔
ابیرہ سامنے ۔ے۔۔۔۔۔ے۔۔۔۔۔
فضا میں چینخ بلند ہوئی۔
دھماکے کی زور دار آواز سے پرندوں کا جھرمٹ ہوا میں منتشر ہوگیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو بکس ۔مہرام کے سامنے نظر آنے پہ اس نے بکس تھمائی۔
مہرام بغیر نگاہ ڈالے اسے گھورنے لگا۔صرف دو بکس۔۔۔
۔۔۔۔ میں نے ٹوٹل پندرہ بکس لکھی تھی۔
وہ لسٹ سامنے کرکے کہنےلگا۔
تھکا تھکا چہرہ سب بیان کررہا تھا ۔پھر بھی وہ اسے زہر ہی لگی۔
سانپ کے پھنگ میں موجود جیسا زہر۔
وہ اتنی تھکی ہوئی تھی کہ کوئی جواب دینے کی طاقت اس میں بچی ہی کہاں تھی۔
سنو جا کہاں رہی ہو۔
لیٹمی فینش۔
اب اگر یہ بکس مل ہی گئی ہے تو انھیں گھر لے جاؤ ۔۔۔۔
آرام سے پڑھ کے پوری بک کے مین مین پوائنٹ لکھ کےکل مجھے لا دینا۔
واٹ ۔محرما غش کھاتے کھاتے بچی۔
پاگل تو نہیں ہوگئے ۔۔۔۔۔
یا اللہ کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔میں ۔۔۔
