Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 26
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 26
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
کیا میں مسٹر شاویز سے مل سکتا ہوں۔وہ اسی مال پہ آیا جہاں اسے ایک مرتبہ شاویز کاؤنٹر پہ بیٹھا نظر آیا تھا۔
سامان کا حساب کرانے کے لیے اس نے ٹرالی کھسکائی ۔لیکن شاویز پہ نظر پڑتے ہی وہ اپنا چوس کیا ہوا سامان وہی چھوڑ آیا۔
اس وقت مہرام نے حقارت سے نظریں پھیر لی تھی۔
اسے وہ شخص انتہائی حقیر لگا تھا۔
اس سے بات کرنا تو دور اسکے پاس جانا بھی اسے معیوب لگا تھا۔اس دن کے بعد سے اسنے وہ شوپنگ سینٹر جانا چھوڑ دیا تھا
آج قسمت اسکے پاس لے آئی تھی۔
مسٹر شاویز نے یہاں جاب چھوڑ دی ہے۔
کب مہرام نے حیرت سے پوچھا۔
سر وہ تو کافی عرصے پہلے چھوڑ دی تھی۔
اب کہاں جاب جوائن کی ہے مہرام نے آخری آس کو ڈوبتا محسوس کیا۔
سر یہ تو معلوم نہیں ۔شاید انہیں بڑی اوتھوریتی پہ جاب ملی تھی۔
اسلیے یہاں ریزائن دے دیا۔
کاؤنٹر پہ موجود آدمی نے اسے سرسری سا دیکھا۔
وہ سڑک پہ چلتے اپنے آنسوؤں چپھانے کی کوشش کررہا تھا۔محرما کو ڈھونڈنے کی تمام راہیں مسدود ہوگئی ہے۔
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے
ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
نہ جانے ہو گیا ہوں اس قدر حساس میں کب سے
کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
میں سارا دن بہت مصروف رہتا ہوں مگر جونہی
قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں
کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
بڑے لوگوں کے اونچے بدنما اور سرد محلوں کو
غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے
مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پر
وصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سب دروازے بند ہوچکے تھے لیکن خدا کے در کا دروازہ اب بھی سب کے لیے یکساں طور پر کھلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ابیرہ کی یہاں بیٹی کہ ولادت ہوئی تھی۔
وہ چھوٹی شہزادی مہرام کی گود میں کیسے بلک بلک کر رورہی تھی سب کی باری کے بعد مہرام کی باری آئی تھی۔۔ننھے سے وجود نے اسے ماموں بنانے کا کیسا دلفریب احساس دلایا تھا۔کتنی سچی خوشی ملی تھی اسے اتنے عرصے بعد۔
اس ننھی پری کے گلابی گالوں سے اسے محرما کے سرخی مائل گال یاد آئے۔
کتنی حسین تھی وہ ۔مگر آخری ملاقات میں اسے کتنی مرجھائی سی لگی تھی۔
وہ کیا کرنے گیا تھا اور کیا ہوگیا تھا۔
مہرام تم صرف اسکا نقصان ہی کرسکتے ہو۔اسکے کانوں میں کسی نے سر گوشی کی۔
زندگی کیسے رخ بدل لیتی ہے تصور کے اس پار کوئی اور آبسا تھا۔
اس وجود کو پانے کی چاہ میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
کیا محبت ایسی ہوتی ہے۔
محبت کے ایک معنی بدل بھی ہوتا ہوگا ۔تبھی تو وہ یکسر بدل گیا تھا۔۔
اب وہ باقاعدگی سے باجماعت نماز پڑھتا بلکہ رفتہ اسے دین کی سمجھ بوجھ بھی ہورہی تھی۔
ابیرہ محرما کو بہت یاد کرتی تھی۔کتنا عرصہ ہوگیا تھا انھوں نے ایک دوسرے کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔ محرما کا اس دن کے بعد سے کچھ اتا پتا ہی نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرام نے ایک بار پھر قرآن پاک درست کرلیا تھا۔استاد اسکی ذہنی صلاحیتیوں سے کافی خوش تھے۔انھوں نے اپنے کچھ پرانے شاگردوں سے بھی ملوایا۔
زیان جہانزیب بڑا نیک اور فرمانبردار لڑکا ہے۔مہرام کو کبھی کبھی حیرت ہوتی کہ کوئی اتنا فرمانبردار کیسے ہوسکتا ہے۔
زیان کچھ عرصے پہلے یہاں آیا کرتا تھا۔پھر کسی وجہ سے وہ نہیں آپاتا تھا۔اسکا تعلق کسی گاؤں سے تھا مہرام نےاس سے آگے جاننے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
واپس کچھ دنوں سے وہ روز آنے لگا تھا۔
زیان جہانزیب کو ہمیشہ کی طرح اس دربار میں سکون میسر آتا تھا۔ہر روز وہ باقاعدہ آنے لگا تھا۔
وہ اپنی منگ کو ہر روز بھولنے کی کوشش کرتا۔بچپن میں ہی ان کی شادی طے کردی گئی تھی۔اگر وہ کبھی کسی لڑکی کے بارے میں سوچتا تو وہ صرف رجاہ ہوتی۔
جہانزیب صاحب کے اچانک فیصلے نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
وہ کیسے اسکا سامنا کریگا جس سے ڈھیروں وعدے کیے تھے۔
دونوں کامرض ایک سا تھا۔لیکن منزل مختلف تھی
۔۔۔۔
کیسا سکون تھا تمام دنیاوی فکروں سے آزاد ۔
سفید کبوتر ادھر اودھر پھرپھرارہے تھے۔
کچھ نمازی نماز ادا کرکے اپنے اللہ سب کچھ مانگنے کے لیے اپنا ہاتھ دراز کررہے تھے۔
اسے بھی بہت کچھ مانگنا تھا مگر کس منہ سے مانگو۔
وہ شے مانگوں جسے دنیا بھر کی تکلیفیں دی ۔وہ بس اپنے والدین کی صحت اور انکی دائمی خوشیاں مانگتا رہتا ہے ۔خود کے لیے کیا مانگتا ۔جسے مانگنا ہے وہی نہ ڈھونڈ تے کا کہہ گیا ہے تو وہ کیسے کچھ مانگتا۔
مسجد کے باہر سفید سنگ مر مر سے بنے صحن میں وہ اپنا حال خدا کو گوش گزار کررہا تھا۔جب مقبرے کے مجاور اس کے پاس آکر براجمان ہوا
کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں آپ شام سے رات تک یہاں بیٹھے ہوتے ہیں ۔۔شکل سے نہایت معزز لگتے ہیں ۔اگر برا نہ مانے تو ایک بات کہوں ۔۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی چیز کی خواہش ،کسی چیز کو حاصل کرنے آتے ہیں ۔
میں نہیں جانتا وہ کیا ہے مگر اتنا جانتا ہوں خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔
بس خود کو اللہ کی راہ میں وقف کردیجیے ۔
پھر دیکھیے دنیا آپ کی مٹھی میں ہوگی۔
مہرام انکی بات بڑے غور سے سماعت کررہا تھا۔
آپ کو کیسے معلوم کہ مجھے کسی شے کی طلب لاتی ہے۔وہ حیرت سے تکنے لگا۔
بڑے افسوس کی بات ہے خدا کے گھر بھی سودا بازی سے کام لیا جاتا ہے۔حالانکہ خدا ہمیں کبھی کوئی چیز دے کر بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔
کیونکہ آپکی آنکھیں ،آپکا انداز سب اس بات کی عکاسی کرتا ہے بس اپنی طلب کے بجائے خدا کی رضا کے لیے یہاں آئیے پھر دیکھیے گا وہ بھی ملے گا جس کی طلب آپ کو یہاں لائی ہے ۔عشق مزاجی تو ہر کوئی کرسکتا ہے لیکن عشق حقیقی کی بات ہی نرالی ہے۔
میں نہیں جانتا عشق حقیقی کا کیسا سرور ہوتا ہے مگر اتنا جانتا ہوں عشق مزاجی جینے نہیں دیتا یہ حاصل کی چاہ میں تڑپتا رہتا ہے مہرام کا انگ انگ اس بات کا گواہی تھا۔
جب عشق مزاجی اتنا دیوانہ کردیتا ہے تو عشق حقیقی کیسا ہوگا۔
زیان اپنے جوتے ایک سائیڈ پہ رکھ کر ان کے ساتھ آبیٹھا۔۔۔
عشق حقیقی اور عشق مجازی
یہ کیا ہوتا ہے وہ تینوں فریق کے درمیان یہ ٹاپک زیر بحث تھا
عشق حقیقی بڑا سوہنا ہوتا ہے یہ آپکو دائریکٹ جنت میں جانے والے راستے میں آکھڑا کردیتا ہے۔بس ریاکاری اور مناقفت سے پاک ہونا چاہیے۔
چلیں آپ لوگوں کو دونوں کے مابین فرق بتاتا ہوں
عشق حقیقی اور عشق مجازی میں کیا واضح فرق ہے ۔ دونوں عشق ہی تو ہیں اور
دونوں میں چاہا جانا ہی تو شرط ہے؟ زیان نے اپنی کہی پیش کی۔
مجاور مسکرایا اور مٹی کے مٹکے سے ٹھنڈے پانی کا پیالہ نکال کر اسے تھماتے ہوئے کہنے لگا ۔ عشق حقیقی اور عشق مجازی میں اتنا ہی فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے ۔
عشق مجازی کیا ہے ۔ تم کسی انسان کے عشق میں پاگل ہوئے جاتے ہو ۔ چلو ہو گیا عشق ، اب کیا ہو گا ۔ کوئی تمہارے محبوب کی طرف دیکھے تو برا لگے گا ۔ کوئی اس کا عاشق بنے تو اسے قتل کرنے پر تل جاو گے ، کوئی اس سے محبت کی باتیں کرے تو اس داستان گو سے نفرت کرنے لگو گے ۔ عشق مجازی رقیب سے نفرت سکھانے لگتا ہے ۔
عشق حقیقی میں ایسا نہیں ہوتا، یہ تو سراپا عشق ہے ۔ عشق حقیقی میں رقیب سے بھی محبت ہونے لگتی ہے ۔ محبوب کا ذکر کرنے والے کو تلاش کیا جانے لگتا ہے ۔ محبوب کے عاشق سے بھی عقیدت ہو جاتی ہے ۔ عشق مجازی رقیب سے نفرت کا جذبہ ابھارتا ہے لیکن عشق حقیقی رقیب سے قربت پیدا کرتا ہے ۔ درویشوں کی محفل میں سبھی رقیب ہی تو ہوتے ہیں ۔ ایک محبوب اور باقی سب عاشق ایک ہی محفل میں ہوں اور ہاتھ چومتے جائیں ۔ ۔
کوئی ایک داستان گو محبوب کا ذکر چھیڑے ، اس سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرے تو باقی سب سر دھنے لگتے ہیں ۔ عشق حقیقی محبوب سے جڑی ہر چیز میں محبوب دکھلانے لگتا ہے ۔
عشق مجازی میں محبوب سے جڑی چیزیں رکاوٹ معلوم ہونے لگتی ہیں ۔ عشق مجازی میں محبوب سنگ دل ہے ، اکڑتا ہے ، ادائیں دکھاتا ہے ، ناز نخرے اٹھواتا ہے اور اکثر چھوڑ جاتا ہے
عشق حقیقی میں محبوب لپکتا ہے ، قریب آتا ہے اور چاہت میں ماں کی مامتا کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے ۔
اتنا سا فلسفہ ہے اور بس۔
عشق حقیقی کا پہلا اور آخری جز تصوف ہے۔
تصوف کیا ہے ۔
اسے بھی سمجھ لینا چاہیے۔
تصوف کا ت ہمیں سب سے پہلے توبہ کرنا سکھاتا ہے۔اگلے پچھلے ظاہری پوشیدہ چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے معافی منگواتا ہے اور آئندہ نہ کرنے کا عہد بھی لیتا ہے جسے توبۃ النصوح کہا جاتا ہے ۔
اب اسکی دوسری سیڑھی ص ۔
توبہ ہوگئی اب باری ہے صفایا قلب کی ۔
اپنے دل کو تمام لغویات سے پاک کرنا۔جس کا ذکر قرآن پاک میں سینے کی سلامتی سے آیا ہے اور انبیا علیہ السلام کی دعاؤں میں بھی سینے کے سلامتی کا ذکر واضح طور ہر ملتا ہے ۔
تیسری گھاٹی ولایت ۔۔جو ہر کسے کے بس کی بات نہیں
یہ گھاٹی بڑی دشوار ہوتی ہے
ف سے فنافلا اللہ
یعنی خود کی ذات کو اپنے رب کے سامنے فنا کردینا ۔
اپنے رب کے حکم کو بغیر کسی چو چرا کے قبول کرلینا ۔
یہی گھاٹی بندے کو عشق کی معراج تک پہنچاسکتی ہے لیکن اس سے قبل تین گھاٹیوں کا سفر انتہائی کٹھن ہے ۔
یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
وہ دونوں انکی باتوں میں کھو سے گئے تھے
عشاء کی اذان نے انہیں اس سحر سے باہر نکالا۔
