Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 31
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 31
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
تم کیوں ایسا کررہی ہو محرما لڑکیاں شادی کے بعد اپنے سسرال میں رہتی ہے ایک نہ ایک دن آخر تمہیں وہاں جانا ہی ہے .کل جانے سے بہتر ہے آج ہی چلی جاؤ.ایمل اسے کتنی دیر سے سمجھارہی تھی مگر وہ سمجھنے کی کوشش نہیں کررہی تھی .تم چاہتی ہو بابا کی طبیعت واپس خراب ہوجائے .مان مان انکی طبیعت ٹھیک ہوئی ہے.بڑی مشکل سے وہ اس دکھ سے نکلے ہیں مزید دکھ دے کر انہیں ختم کرنا چاہتی ہو .ایمل کے لہجے میں سختی در آئی تھی.
پلیز چپ ہوجاؤ بابا کو کچھ ہوا تو میں مرجاؤنگی .میری زندگی کا واحد سہارے کو میں کیسے دکھ دے سکتی ہوں .لیکن میں کیا کروں .مجھے اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا .مجھے بلا کی نفرت ہے اس مہرام سے, اسکے لہجے میں کڑواہٹ بھر آئی تھی. میری زندگی کا مذاق بنا کے رکھ دیا ہے.
وہ رورہی تھی .رشتوں میں جکڑی وہ لاچار لڑکی ,بری طرح پھنس چکی تھی .زندگی بھی کیسے کھیل کھیلتی ہے .
محرما کے آنسو ٹپ ٹپ گررہے تھے.
ایمل بھی دکھی تھی .کیا کرسکتے ہیں .قسمت جو لکھتی ہے اسے نبھانا ہی پڑتا ہے .وہ اسکی بہن ہوکر بھی کچھ نہیں کرسکتی تھی.
……
محرما کو ابیرہ اور مسز عالم لینے آئی تھی.وہ اسی شرط پہ رخصت ہونے کو تیار ہوئی تھی کہ وہ جو چاہے کریگی کوئی اسے ٹوکے گا نہیں
شازیب صاحب آنسو ضبط کیے بیٹھے تھے .انکا دل جل رہا تھا .وہ اپنی بیٹی کی جھولی میں دنیا جہاں کی خوشی ڈالنا چاہتے تھے مگر وہ کچھ بھی نہیں کرسکے .اک کسک تھی جو چھب رہی تھی .انھوں نے سیکڑوں دعاؤں سے نوازا اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا .بابا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکونگی وہ ان سے گلے مل کر رونے لگی .ایمل بھی ان دونوں کو روتا دیکھ کر رونے لگی.کیسا کٹھن وقت ہوتا ہے اپنوں کا گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے کسی اجنبی کے گھر جانا .
وہ اپنے روم میں بیٹھی کتنی ہی دیر امی کی تصویر سے باتیں کرتی رہی ماں بغیر ہر شے ادھوری ہے.ماں کا ایک بوسہ تمام دکھوں کو بھلانے کے لیے کافی ہوتا ہے
وہ اپنے گھر کے گوشہ گوشہ کو محسوس کررہی تھی .یہاں آکر اسے کاشان اور امی کی بہت یاد ستاتی تھی ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی تھی.جیسے کوئی اسکے دکھوں کو سنتارہا ہو.
کتنی عجیب طرح سے نکاح ہوا تھا اور رخصتی کبھی کسی کی یوں ہوئی ہوگی .ابیرہ نے بڑی ضد کی تھی دھوم دھام سے شادی کرنے کی.لیکن مہرام نے صاف منع کردیا .ایک بار وہ ہمارے گھر آجائے پھر تم کتنے چاہے ارمان پورے کرلینا مگر پلیز اسے آج ہی لے آؤ .ایک ڈر تھا جو اسے چین نہیں لینے دیتا تھا.
وہ اسکے آنکھوں کے سامنے رہےگی تو وہ سکون سے سانس لے سکے گا بھلے جتنی ہی نفرت کرلے مگر وہ خود سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا.
ایمل کو اسنے کتنی ہی دعاؤں سے نوازا تھا جو کام کسی سے نہیں ہوا وہ ایمل نے کر دیکھایا تھا.
……..
پورا راستہ وہ چپ بیٹھی رہی.جب دل ہی خوش نہیں ہو تو زبان کیا بولے گی
گاڑی مین گیٹ سے داخل ہوتے پورچ میں رکی .اسنے مڑکے اس جگہ کو دیکھا جہاں مہرام نے اسے ذلیل کیا تھا.اسے زخمی کرکے اسکی تذلیل کی تھی.اسکی عزت پہ کیچڑ اٹھایا تھا .وہ جگہ دیکھتے ہی آنسو رواں ہوگئے تھے وہ دونوں اسے لے کر اندر داخل ہوئی مہرام بے چینی سے کومن میں چکر کاٹ رہا تھا انہیں دیکھ کر فورا بھاگ کے ان کے پاس آیا.محرما کو ان کے ساتھ دیکھ کر اسکی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی.
شکر وہ سیدھے سے آگئی.
پیاسی آنکھیں اسکے دیدار سے سیراب ہورہی تھی.
ایک منٹ ابیرہ نے اسے وہیں روک کر خود اندر گئی اور مہرام کو اسکے برابر کھڑا رکھ کے ایک تصویر لی.
ویلکم ٹو اوور ہاؤس بھابھی جی.
ابیرہ نے اندر آنے کا اشارہ کرکے کہا.جس پہ مہرام نے مسکراہٹے محرما کو دیکھا.جو سپاٹ چہرہ لیے خالی خالی نظروں سے ان لوگوں کی بچکانہ حرکتوں کو دیکھ رہی تھی.
اندر آتے ہی مہرام نے ننھی ابیا کو گود میں اٹھا کے صوفے پہ بیٹھ گیا.محرما کا ایسا رویہ اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا.وہ مہرام کو نظر انداز کرکے ابیرہ کے ساتھ چلی گئی.مہرام صرف اسے دیکھتا رہ گیا.
ابیرہ نے اسے اسکا روم دیکھایا.وسیع روم بہت پیارا تھا.لیکن محرما نے ذرا بھی دلچسپی نہیں دیکھائی .
روم میں کباڑد کچا کچ کپڑوں سے بھرے ہوئے تھے ضرورت کا ہر سامان وہاں میسر تھا.ابیرہ کے جاتے ہی اسنے سرسری نگاہ اس کمرے پہ دھرائی .اور کشن کو پھینک کر سارا غصہ اس پہ نکالا.
….
نئی جگہ ہونے کی وجہ سے اسے رات بھر نیند نہیں آئی وہ فجر کی نماز ادا کرکے باہر نکلی.کوریڈور میں کھڑی وہ نیچے جھانکنے لگی سورج صبح کی اول کرنیں زمین پہ ڈال رہا تھا.ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں گھلی مہک محرما کو بھلی لگی وہ اچھٹتی نگاہ ادھر اودھر گھمانے لگی .جب اسے گملوں اور چھوٹے چھوٹے درختوں کے درمیان جھاڑیوں میں کوئی دیکھا.جھاڑیاں ہولے ہولے ہل رہی تھی.
مہرام رف سے حلیے میں بڑے قینچے سے سوکھی زرد پڑتی جھاڑیوں کو کاٹ رہا تھا.اتنی صبح کوئی جھاڑیاں کاٹتا ہے اسے حیرت ہوئی وہ ایک بار نظر پھیر کر . پورے گاڑدن ایریا کو دیکھنے لگی لیکن پھر اسکی نظر خود بخود مہرام پہ آکر رکی .پورے گاڑدن میں وہی اسک توجہ کھینچنے لگا.اب وہ پودوں میں پانی ڈال رہا تھا.اسکے کپڑے مٹی آلود ہوچکے تھے وہ اردگرد سے بے نیاز بڑے پیار سے انکی نگہداشت کسی چھوٹے بچے کی طرح کررہا تھا.اس شخص کو دیکھ کر ذرا بھی احساس نہیں ہو کہ وہ مغرور اور انا پسند تھا.
مہرام نے ایک ایک کرکے تمام چھوٹے بڑے گملوں میں پانی ڈالا پھر پائپ لے کر جھاڑیوں کی طرف آیا لمبی لمبی بیلیں آپس میں لپٹی ہوئی تھی. سب کو پانی دے چکنے کے بعد وہ وہاں نصب بینچ پہ آنکھیں موندھے سر پیچھے ٹکائے بیٹھ گیا.وہ ہر صبح کو محسوس کرتا .بےشک خدا کی تمام نعمتوں میں صبح بڑی دلکش نعمت ہے تازہ تازہ ہوا سے اسے مسرت حاصل ہوتی تھی
اسکا روز کا معمول تھا وہ روز فجر کی نماز پڑھ کر اپنا قیمتی وقت ان خاموش مخلوق کو باٹتا . ان کی خامشی میں وہ اپنی دل کی بات با آسانی سنادیا کرتا تھا جو جھوم جھوم کے اسے سماعت کرتے .یہ خاموش مخلوق کتنی خوبصورت ہوتی ہے نہ.اک سکون سا ملتا ہے ان کے ساتھ.مہرام نے اپنا دل خدا کی نعمتوں میں لگالیا تھا .
‘انسان کو محبت ہو جائے نا تو اس کے سارے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں ، صرف ایک “پیا کا رنگ” ہی ‘رنگ دار’ رہ جاتا ہے،
اس کے نواح میں چاروں موسم “بےمعنی” ہو جاتے ہیں ،
ایک “پانچواں موسم” ہی معتبر ٹہرتا ہے ‘خواب کا….
“وصل یار کا موسم!____
……
محرما ناچاہتے ہوئے بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی.اس وقت نفرت کا احساس کہیں چھپ کر بیٹھے یہ تماشہ دیکھ رہی تھا.
محرما بے سدھ پلکیں جھپکائے اسے دیکھنے میں مصروف تھی.جب ابیرہ نے پیچھے سے آکر ڈرایا.اس اچانک بھاؤ سے وہ بری طرح سہم گئی اور بلند چینخ گلے سے برآمد ہوئی.
چیخنے کی آواز سے مہرام نے اپنی بند آنکھیں کھولی .اوپر نظر پڑتے ہی ہونٹ خود بہ خود کھل اٹھے.
محرما اور ابیرہ زور زور سے ہنس رہی تھی.اتنے عرصے بعد محرما کو ہنستے دیکھ کر اسے سکون ملا.جیسے مرجھائے ہوئے پھول کھلنے لگے ہو.اسے یہ باغ کا ہر پھول ہر پتا اتنا رنگین اور مہک دار لگنے لگا.وہ وہی سے ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھنے لگا
……
یہاں کیا ہورہا ہے ابیرہ نے اسے ڈراتے ہوئے کہا.
کچھ نہیں بس نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا صبح کا سہانا منظر سے لطف اٹھالیا جائے.اور تم اتنی جلدی کب سے جاگنے لگی.
سب کرنا پڑتا ہے شادی کے بعد ابیا سونے کہاں دیتی ہے.پوری پوری رات جگاتی ہے ابھی بھی رورو کر سوئی ہے تو مجھے نیند نہیں آرہی تھی.
سوچا تمہیں دیکھ لوں .اتنا عرصہ ہوا ہم نے گپ شپ نہیں کی .اور فائقہ سے بھی ان دو سالوں میں بات نہیں ہوئی .
ابیرہ نے اسے اپنی رات کا حال ایک سانس میں سنادیا.
محرما نے ابیرہ کا جائزہ لیا جو شادی بعد کافی سمجھ دار ہوگئی تھی تمام بچپنا رخصت ہوچکا تھا.
ویسے تم نیچے کیا جھانک رہی تھی ابیرہ نے ریلنگ میں سے جھک کر دیکھا. جہاں مہرام اوپر ان دونوں کو دیکھنے میں مگن تھا.
ابیرہ کے اچانک دیکھنے پہ اسنے نظریں پھیر لی اور اٹھ کر اندر چلا آیا.
وہ اسے معنی خیز نگاہوں سے گھورتی اسے اندر لے گئی.
چلو آؤ روم میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں .یونو میں و دن کے بعد واپس اسلام آباد جارہی ہوں واثق تو زیادہ دن رکنے نہیں دیتے .اب اتنے دنوں بعد آتی ہوں تو زیادہ دن رک لیتی ہوں وہ لیپ ٹاپ کھول کے اپنی شادی کی پک دیکھانے لگی.
یہ دیکھو مہرام کو ,پہلے سے کتنا چینج ہوگیا ہے نہ.وہ آہستہ آواز میں بول رہی تھی اگر ذرا سا بھی زور سے بولا تو مہارانی صاحبہ اٹھ جائینگی اور گلہ پھاڑ پھاڑ کے رونے لگ جائے گی,پھر امی میری درگت نکالے گی کہ ان کی چہیتی نواسی کو کیوں رلایا .یہ بچے بھی نہ خواہ مخواہ ڈانٹ پڑواتے ہیں.ابیرہ کی چپ نہ ہونے والی عادت اب تک برقرار تھی.
کیا سوچ رہی ہو ابیرہ نے اسکے آگے چٹکی بجائی.
میں سوچ رہی ہوں واثق بھائی کے کان سلامت ہے کہ نئے لگوائے ہیں وہ سنجیدگی سے بولی .جس پہ ابیرہ نے اسے مکا رسید کیا..
کچھ وقت صبر کرلو.پھر مہرام بھائی کے بھی یہی حال ہونگے.وہ بار بار دوسری باتوں میں مہرام کو لے آتی تھی.ہم کچھ اور بات نہیں کرسکتے محرما نے خفگی سے کہا.
……..
چلو آؤ فائقہ سے ویڈیو کال پہ بات کرتےہیں وہ کال ملانے لگی.اتنی صبح وہ کال رسیو کرےگی محرما نے خدشہ ظاہر کیا.دیکھتے ہیں .
شادی کے بعد صبح کیا ,رات کیا کچھ معلوم نہیں پڑتا .آپ ہوتے ہیں گھر ہوتا ہے اور بس کام .
……..
ہم نے کل چھوٹا سا ریسیپشن رکھا ہے محرما اور مہرام کو نکاح کو شو آف کرنے کے لیے.مسز عالم نے ابیرہ کو اطلاع دی.
تمہارے سسرال والے بھی اس میں شریک ہوجائے گے چند خاص لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے .تم ایک کام کرو محرما کے ساتھ جاکر اسکے لیے ریسیپشن میں پہننے کے لیے ڈریس لے کر آؤ.صرف آج کے دن ہی سب شوپنگ کرلینا مسز عالم نے تاکید کی.
تم اسے سمجھا بھی دینا ورنہ کہیں وہ منع نہ کردیں .
اوکے مام آپ فکر نہیں کریں آج ہی سب شاپنگ ہوجائے گی محرما کی.اور سمجھا بھی دونگی.
…..
بھائی آپ کیا کررہے ہیں مہرام لیپ ٹاپ پہ بیٹھا اپنا کام کررہا تھا جب ابیرہ نے اسکے کمرے میں جھانکا.بس کچھ ضروری کام نمٹا رہا ہوں کیوں تمہیں کچھ کام ہے مہرام نے اسکی طرف بنا دیکھے کہا.
ہاں وہ ایکچلی محرما کو شاپنگ پہ جانا ہے اور آپ تو جانتے ہیں اگر میں ابیا کو چھوڑ کر گئی تو وہ سارا گھر اکٹھا کریگی اور اگر ساتھ لے کر گئی تو وہ شاپنگ نہیں کرنے دے گی اس لیے پلیز آپ اس کے ساتھ چلے جائے نہ .
واہ کیا پلان ترتیب دیا ہے ابیرہ نے خود کو تھپکی سے نوازہ.
مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے اس کو پوچھ لو وہ میرے ساتھ آنے کے لیے راضی ہے مہرام لیپ ٹاپ بند کرکے بولا.
اسکو پوچھنا ہی تو سب سے مشکل ترین کام ہے ابیرہ نے دل میں کہا.
محرما کے ساتھ ٹائم گزارنے کا اس سے اچھا وقت کونسا ہوسکتا ہے.وہ اپنی دلی کیفیت کسی کو بتا نہیں سکتا تھا.کی وہ کتنا خوش ہے.
اسکو راضی کرنا کونسا مشکل ہے ابیرہ نے مصنوعی مسکراہٹ سے کہا.
یہ آج کا سب سے بڑا جھوٹ تھا یقینا مہرام نے اسکا پریشان چہرہ دیکھ کر پوچھا.
