574.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 6

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

مام تمہیں بلارہی ہیں وہ اپنے میں جاتے ہوئے ابیرہ کو آواز لگاگیا۔

ان دونوں کا کمرہ فرسٹ فلور پہ تھا لیکن مہرام کا کمرہ بلکل کونے پہ تھا ۔اسنے ضد کرکے یہ کمرہ لیاتھا۔

ابیرہ نے اسکی آواز پہ کمرے سے باہر قدم رکھا ۔لیکن پھر کچھ سوچ کو واپس اندر چلی گئی۔

پاپا مجھے بلارہے ہیں

کیا کام ہوگا انھیں ۔۔۔

شاید وہ میرا فیصلہ سننا چاہتے ہو

نہیں میں نہیں جاؤنگی۔۔۔اسنے پکا ارادہ کرلیا۔

وہ اپنے کمرے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹنے لگی۔

جتنا تیزی سے اسکا دماغ چل رہا تھا اتنی ہی تیزی اسکے قدموں میں بھی تھی ۔

مجھے کچھ سوچنا ہوگا۔

کیا کروں ۔

کیا کروں۔۔

آئیڈیا۔

وہ دماغ کے عین وقت پہ چل جانے سے خوشی سے چلائی۔

ابی ۔۔۔۔۔اسے مسز عالم پکاررہی تھی۔۔

وہ جلدی سے سیدھی ہوئی۔ اور پرفومینس دینے کے لیے خود کو تیار کری۔

کئی بار آواز دینے پہ بھی وہ نہ آئی تو مسز عالم ہی اسکے کمرے میں آگئی۔

وہ پلنگ میں لیٹی درد سے کراہ رہی تھی۔

کیا ہوا میری بچی ۔مام پریشان ہوئی۔

مام مجھے بخار ہوگیا ہے۔وہ بڑی مہارت سی بولی۔

فلم اندسٹڑی والے اسے ابھی ہیروئن سائن کرلے بنا کسی اوڈیشن کے۔۔۔۔

شام میں چنگی بھلی تھی اچانک بخار ہوگیا۔

وہ اسکی پیشانی چیک کرنے لگی۔

مام بخار بتا کر تھوڑی آتا ہے۔

لیکن تمھاری پیشانی تو ٹھنڈی پڑی ہے۔۔۔۔

وہ۔۔۔وہ۔۔اسکا بھاندا پھوٹنے ہی والا تھا کہ پاپا نے عین وقت انٹری ماری۔

کیا ہوا ہمارے بچے کو ۔۔۔وہ محبت لٹاتے اس کے پاس آئے۔

پیارے اللہ میری عزت رکھ لینا۔وہ دعائیں مانگنے لگی۔

بخار ہوگیا ہے یہ کہہ رہی ہے لیکن پیشانی تو سرد پڑی ہے۔وہ یقین دہانی کرنے کے لیے واپس چیک کرنے لگی۔ اسے ایسا محسوس ہورہا ہوگا تبھی کہہ رہی ہے نہ ۔۔۔

وہ اپنی بیگم کو ہلکا غصہ دکھاتے ہوئے بولے۔۔اسے زندگی میں صرف دو چیزوں سے چڑ تھی۔

پڑھائی اور

دوائی۔۔۔۔۔

آرام کرنے دو بچی کو ۔وہ اسکی ایسی حالت دیکھ کر بنا بات کیے ہی چلے گئے ۔

پیارے اللہ تھینک یو اتنا بڑا مسئلہ سلجھ چکا تھا۔

۔۔۔وہ اسے فیور کی ٹیبلٹ دینی لگی۔

فالتو فالتو دوائی پینی پڑیں گی تمھیں تو میں چھوڑونگی نہیں ۔واثق کے بچے ۔وہ دانت چباگئی۔

….

آج کا پلین کارگر ثابت ہوا ۔لیکن ۔کتنے دن تک میں ایسے ناٹک کرونگی آج نہیں تو کل مجھے انکو جواب دینا ہی پڑیگا ۔اچھی بھلی زندگی چل رہی تھی معلوم نہیں کہاں سے آگیا۔

وہ دروازہ لاک کرکے اسے کال ملانے لگی۔

سیل اوف جارہا تھا۔بچارے نے ڈر کے مارے سیل ہی اوف کردیاتھا ۔وہ ہنسی۔۔

ابھی سے ڈرگئے۔

وہ ہر دس منٹ بعد کال کرتی۔

رات کافی ہوچکی تھی وہ سونے کا پکا ارادہ کرکے بیڈ پہ گئی۔

ایک بار واپس ٹرائے نہ کرلیا جائے ۔

یاہو وو و و۔۔۔۔۔

کال پک کرلی گئی تھی ۔

میں تمھا را قتل کردونگا۔فون اٹھاتے ہی دھمکی دی۔

بےشک سائنس چاند پہ پہنچ گئی ہے لیکن اتنی بھی ترقی نہیں کرلی کہ فون میں سے نکل کر قتل کردیا جائے۔وہ چھیڑتے ہوئے بولی

وہ بھی پکی تھی شاہ لوگ کسی کے باپ سے نہیں ڈرتے وہ خود کو باور کرانے لگی۔

آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں یہ پاکستان ہے یہاں پہ مرحومین کے ووٹ خودبہ خود ڈل جاتے ہیں ۔تو قتل کرانا کونسی ناممکن بات ہے۔ وہ بھی ابیرہ کے خاندان کا تھا۔

ٹھیک ہے کردیجیے گا آپ کو اجازت ہے۔وہ نرم لہجے میں بولی ۔

ہیں۔ں۔ں۔ ۔۔۔۔

وہ فون کو تکنے لگا۔

یہ کیا ہوگیا۔

تم لڑکیاں کتنی کامپلیکیٹڈ ہوتی ہو نہ۔

اک دم امپاسبل ۔۔۔وہ ابی کے اس انداز سے الجھ سا گیا۔

تم لڑکے تو بلکل سیدھے ہو تے ہو نا ۔۔۔

اب ہوگیا آپ کا ۔۔۔یا بغیر کنجر مارے میرا قتل کرینگی آپ۔۔۔

نہ بابا نا۔

میں کیوں کسی کا قتل کرنے لگی۔وہ گالوں کو چھوٹے ہوئے بولی۔

خدا کے لیے مجھے معاف کردیجیے بہن ۔

وہ عاجزی سے کہنے لگا۔

ٹھیک ہے معاف کیا۔۔۔۔۔لیکن ۔

ہیں جب میں کچھ کیا ہی نہیں تو معافی کس بات کی مانگ رہا ہے تو اسکا دماغ بولا۔

اگر میں نے اس لڑکی سے مزید بات کی نہ تو میں پاگل بھی ہوسکتا ہوں۔

اچھا خاصاہینڈسم بندہ پاگل ہوجائے۔صرف اس وجہ سے کہ اسنے اجنبی نمبر سے کال پک کرلی تھی۔

پاگل ہونے کا کوئی سولیڈ ریزن ہونا چاہیے۔

کھٹاک سے کال کاٹ دی اور واپس سیل اووف کردیا۔

یہ لڑکی مجھے چین سے جینے نہیں دے گی۔.

…….

واثق آفس سے گھر آیا۔آج گھر میں مما نہیں تھی۔۔وہ رات کا ڈنر کرکےآیا تھا۔

کپڑے چینج کرکے لیپ ٹوپ پہ کچھ کام کرنے لگ گیا۔

سیل کی بیل پہ اسنے اسکرین پہ دیکھا وہی ان نون نمبر جگمگا رہا تھا۔اسنے کال کاٹ دی۔

ایک دو تین کئی بیل بجی ۔

کیا مصیبت ہے اسنے آخر سیل اٹھا لیا۔

آپ کال کیوں پک نہیں کررہےتھے۔وہ پوچھنے لگی۔

کیوں میں آپ کی کال پک کروں ۔

آپ ہے کون ۔لگتی کون ہے آپ میری۔

یہ بتانے کی زحمت کرینگی۔

وہ اس سے پریشان ہوگیا تھا۔

سب معلوم ہوجائیگا۔

اور

۔۔اس دن آپ کافی کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھی۔یاد آنے پہ پوچھا۔

آپ نے سنا تھا۔

اگر سمجھا ہوتا تو پوچھتا تھوڑی ۔

تھینک گوڈ ۔نہیں سنا۔

وہ خوشی سے اچھل پڑی۔

ایک منٹ۔۔۔۔

واثق کو کافی پینے کی حاجت ہورہی تھی۔وہ کچن میں کافی بنانے گیا۔

پلیز کال مت کاٹیےگا۔وہ اصرار کرنے لگی۔

کیوں ۔ابھی بھی آپ کا پیٹ نہیں بھرا ۔میرا سر کھاکے۔

وہ اسپیکر پہ فون رکھ کے کافی بنانے لگا۔

آپ کہاں آئے ہیں وہ پوچھ بیٹھی۔آواز دور سے آتی محسوس ہورہی تھی۔میں کچن میں ہوں۔

کچن میں وہ تعجب سے بولی۔

کیوں کچن میں مرد کا آنا منع ہوتا ہے۔وہ چھولے پہ پانی گرم رکھتے ہوئے بولا۔

نہیں اس وقت کچن میں

تم لڑکیاں بہت سوالات کرتی ہو۔

ویل ۔میں کافی بنا رہا پوں۔

ایک تو آپ کافی بہت پیتے ہیں وہ جلدی میں کہہ گئی۔اف یہ میں نے کیا کہہ دیا وہ دانت کے نیچے زبان ڈباگئی۔

کیا۔۔۔

کیاکہا۔

آپکو کیسے معلوم میں کافی بہت پیتا ہوں۔وہ کافی گھولتے ہوئے بولا۔ ۔نہیں وہ۔

وہ آپ اس وقت کافی پی رپے ہیں ہے نہ تو ۔ورنہ خود محنت کرکے کافی کون بناتا۔

آپ کو ضروری پینی ہوگی نہ اس لے توخود بنارہے ہیں۔

وہ بات سنبھال گئی۔

ویسے مجھے آپ پہ ٹھورا تھوڑا شک ہونے لگا پے۔

وہ کافی کپ میں بھر کے اپنے کمرے میں آیا۔

کیسا شک میں تو ایک معصوم سی لڑکی ہوں۔وہ معصومیت سے بولی۔

معصوم لڑکیاں ایسے کسی انجان کو فون کرکے تنگ نہیں کرتی۔

۔ہاں وہ تو ہے۔کافی بن گئی ۔ابیرہ نے بات بدلی

ہممم۔وہ سپ لیتے ہوئے بولا۔

آپ کا کوئی نام وام تو ہوگا کوئی۔

وہ ناجانے کیوں جانی جانی سی لگ رہی تھی۔

میں انسان ہوں لڑکی ہوں۔۔۔اتنا کافی نہیں ہے جاننے کے لیے۔اوو۔ شکر ہے آپ نے بتادیا میں تو آپکو جنات میں سے سمجھ رہا تھا۔

وہ طنز کرتے پوئے بولا۔

ویسے آپکو کیا کرنا ہی جان کے۔

وہ پوچھنے لگی۔

اپنا رشتہ بھیجنا پے۔وہ ہلکے غصے میں بولا۔

ہیں ں ں۔۔۔۔

واپس۔وہ ڈری۔

کیا واپس۔وہ اب لیپ ٹاپ بند کرچکا تھا۔

نہیں وہ ٹی وی پہ وہی ڈرامہ رپیت ہورہا ہے نہ اس لیے منہ سے نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

ناشتے کے بعد ماما نے دھماکہ خیز انکشاف کیا تھا۔

اسے اپنی سماعت پہ یقین نہیں ہورہا تھا مام یہ کبھی نہیں ہوسکتا آپ نے اتنا بڑا فیصلہ ایسے کیسے اکیلے لے لیا۔

اور مجھ سے پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔

ایک لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ اور مجھ سے ۔وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔

اور ایک لڑکے کو اتنی بھی مہلت نہیں مل رہی ۔واثق کی پیشانی پہ مام کی باتیں سن کر بل آگئے تھے۔

کیوں اتنا غصہ ہورہے ہو ایک رشتہ ہی تو پکا کیا ہے کونسا تم سے پوچھے بغیر نکاح پڑھادیا ہے۔

اگر ماموں ابیرہ پہ بات نہیں چھوڑتے تو آپ نکاح بھی پڑھادیتی نہ۔

وہ بے بس ہوچکا تھا۔اتنا بڑا فیصلہ ۔۔۔۔۔۔

اسکا دماغ ماؤف ہوچکا تھا۔

تمھیں کوئی اور لڑکی پسند ہے اسے اس طرح غصہ کرتے ہوئے رازداری سے پوچھنے لگی۔

نہیں ۔۔۔۔۔۔وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بولا۔

تو پھر کیا مسئلہ ہے۔ابیرہ اتنی اچھی لڑکی ہے اپنے خاندان کی بھی ہے وہ اسکی خوبیاں گنوانے لگی۔

وہ بچی ہے ابھی۔باتیں سنی ہے اسکی اسکول گرل لگتی ہے میچورٹی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اس میں۔

تو کیا ہوا شادی سے پہلے ہر لڑکی ایسی ہی ہوتی ہے وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔اور ویسے بھی ایک دن میں تم کونسا اسے جاننے لگے ہو۔وہ سمجھانے لگی۔

ایک کام کرو کراچی چکر لگالو۔ اسے بھی سمجھ لینا اور تھوڑا دماغ کو ریلیکس بھی مل جائے گا۔

تمھارے پاپا آفس کا کام سنبھال لینگے۔وہ حل نکالتے ہوئے گویا ہوئی۔

میں اسے سمجھوں جانو یا نہ جانو ۔۔۔۔۔آپکا فیصلہ تھوڑی بدلے گا۔پھر فائدہ ۔اپنا ٹائم ویسٹ کرنے کا۔

آپ تو زبان دے آئے ہو ۔۔۔بیٹا تو کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ماں باپ کے لیے بچوں سے بڑی زبان ہوتی ہے ۔وہ چوٹ کرگیا۔

اب میں کچھ نہیں کرسکتی ۔اور نہ ہی بھائی صاحب کو انکار کرونگی۔

ایک کام کریں ۔۔پھر مجھے ماڑڈالیں ۔۔۔ اس بات کو سر پہ اتنا زیادہ سوار مت کرو بیمار پڑجاؤگے۔

اور میں نے کہا نہ ۔۔چکر لگاکے آؤ ۔تمھیں خود ہی ہمارے فیصلے پہ رشک ہوگا

ہمارے۔۔۔۔۔مطلب ۔۔۔

پاپا بھی آپ کے ساتھ ہیں ہیں ۔

اسے اب خود کشی کرنے کا دل چاہا۔۔۔

خاک رشک ہوگا۔فی الحال تو اشک بہانے کی ضرورت ہے۔

وہ سر تھام کے بیٹھ گیا۔

وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگی۔میرا فرمانبردار بیٹا۔

کرلیں کرلیں ۔۔قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے پیار ہی کہا جاتا ہے۔۔

بندے کو فرمانبردار ہونا ہی نہیں چاہیے.

وہ سوچ سوچ کے جھنجھلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمل کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھی ۔خالہ جان کو شادی کی جلدی تھی۔اسلیے انھوں قریب سے قریب تاریخ رکھ لی تھی۔

ماؤں کو ہمیشہ بہو لانے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ۔عارفہ نے محرما سے پوچھا۔

کیونکہ ماؤں کو اپنے بچوں سے بہت پیار ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں انکی زندگی میں ہی بچوں کی خوشیاں دیکھ لیں ۔

تم نے سنا تو ہوگا لوگ اکثر دعاؤں میں کہتے ہیں کہ ہر والدین کو ان کےبچوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب ہو۔

عارفہ نے اسکے پوائنٹ پہ داد دی ۔

محرما جلدی جلدی گھر والو کے کپڑے استری کررہی تھی۔گھر میں مہندی کے مطابق ہلکا پھلکا ڈیکوریشن کرایا گیا تھا۔محبت اور لگن سے کی جانے والی چیز چاہے دوسروں کو بھلی لگے نہ لگے لیکن خود کو ضرور بھلی لگتی پے۔۔

ایمل آپی کو آج آرام کرنا دیا جارہا تھا۔اب وہ کچھ ہی دن کی مہمان تھی۔اور مہمانوں سے بھلا کام تھوڑی کروایا جاتا ہے۔

زرد اور ہرے رنگ سے ہم آہنگ فروک پہ چوری دار پاجامہ زیب تن کیے،بالوں پہ پراندہ لگائے وہ حسین تر لگ رہی تھی۔.

یہ تم ہو محرما،

ابیرہ نے محرما کو دیکھتے ہی کہا۔

کتنی حسین لگ رہی تھی وہ خود بھی نہیں جان سکتی تھی۔

ابیرہ نے بھی موقعے کی مناسبت سے ہرے رنگ کا کامدار سوٹ پہنا تھا۔

تم بھی کچھ کم نہیں لگ رہی۔

قسم سے تم پہ فدا ہونے کا جی چاہ رہا ہے۔

محرما نے ابیرہ کو اوپر سے نیچے دیکھ کر کہا۔

ہوجاؤ ۔۔۔۔۔

ابیرہ نے ایک ادا سے کہا۔

جس پہ دونوں کے قہقہے بلند ہوئے۔

مہمانوں سے صحن اور کمرے کچھا کچھ بھر گئے تھے۔

رسموں ،رواجوں کو پوارا کرنے کا وقت آچکا تھا۔

بڑی بہن کی شادی میں چھوٹی بہن کس طرح گن چکر بنی ہوتی ہے یہ محرما سے زیادہ کون جان سکتا تھا۔

ایسے دنوں کی ہی کچھ حسین یادیں ہوتی ہے۔جو بعد میں خوب یاد آتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔

فنکشن کے اہتمام پہ سب مہمان اپنے گھروں کے راہ لے رہے تھے۔

خواتین کی آمدورفت دیکھ کر اس نے گاڑی گھر سے دور پارک کی۔کافی دیر انتظار کرنے کے بعد اسنے ابیرہ کو کال کری۔

لاپرواہی کی بھی حد ہوتی ہے ابیرہ باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔مسز عالم نے اسے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی اسے پک کرنے کے لیے بھیجا۔اسنے کہا بھی ڈرائیور کو بھیج دو لیکن مسز عالم اپنے شوہر کی نہیں سنتی ۔اسکی خاک سنے گی۔