Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 14
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 14
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
محرما نے ذلت آمیز نظر اپنی برباد ہوئی محنت پہ ڈالی۔
پھر اس سے مخاطب ہوئی۔
تم ہو کیا چیز .سمجھتے کیا ہو خود کو
اگر امیر کبیر ہونے پہ غرور ہے تو یہ صرف ہاتھ کا میل ہے جو اللہ کبھی بھی واپس لے لےگا۔
اگر اپنی شکل و صورت تمہیں زمین پہ ٹکنے نہیں دیتی تو ایک دن یہ بھی سب ملیامیٹ ہوجائےگا نا یہ شاہانہ شخصیت رہےگی نہ یہ صورت اور۔۔۔۔
وہ سانس لینے کے لیے رکی۔
اگر تمہیں اپنی عزت و وقار پہ ناز ہے جو تمھاری آنکھوں پہ غفلت کی پٹی باندھ چکا ہے اسے نوازنے والابھی اللہ ہے جسے چاہے عزت کا تاج پہنائے اور جسے چاہے ذلت دے ۔۔
فقط مٹی ہی تو ہو اس میں تمہاری کوئی محنت نہیں ۔یہ سب تو تمہیں بغیر جدوجہد کے ملا ہے جسے عام زبان میں خوش نصیبی کہتے ہیں۔اور تمہاری زبان میں گڈ لک کہتے ہونگے تمہارا اپنا ہے کیا اس میں۔جو اتنا گھمنڈ ۔۔۔
اگر خود سے سب حاصل کیا ہوتا پھر بھی مغروریت زیب نہیں دیتی ۔حیرت بالائے حیرت تحفے میں ملی نعمتوں کا شکر گزار ہونے کے بجائے اسکی نافرمانیوں میں لگے ہوئے ہو۔
وہ اسے اپنی جگہ یاد دلا گئی۔۔
جو دونوں ہاتھ باندھے بڑے تحمل سے اسکی بکواس سن رہا تھا
ہوگیا۔۔۔۔۔۔دانت چھباتے ہوئے کہا
نہیں اگر مزید بکواس کرنی ہے تو ہم کہیں جاکے بیٹھ جاتے ہیں تم دل کھول کے تقریریں کرنا میں کچھ اور اسٹوڈینت کو اکھٹا کرلیتا ہوں
کیسا رہے گا۔۔۔
مجھ سے خوب ساری باتیں کرنے کا تمھارا دیرینہ خواب بھی پورا ہوجائےگا۔
نہ۔۔۔۔
شعلہ زدہ نظریں اس پے گھارے ہوئے تھا
اتنا کہنے پہ بھی رائی کے برابر بھی وہ نہیں سدھرا تھا۔سدھرتا بھی کیسے۔۔۔
بچپن سے اسے آسمان پہ پہنچادیاگیا تھا۔
اپنا مقدمہ خدا کے سپرد کرکے
آنسو پونچھتی ہوئی منظر سے غائب ہوگئی۔
مزید کچھ کہنے کا فائدہ ہی نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ابیرہ کی بچی یہ میں نے کیا سنا آنٹی سے، دھرام سے وارڈ کا دروازہ کھولے داخل ہوتے ہی اسے سنانے لگ گئی۔
جو مزے سے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
اس دہشت ناک آواز سے وہ واپس بےہوش ہوتے ہوتے بچی۔
پٹیوں میں جکڑی زرد سی ابیرہ کو دیکھ کے وہ بےتاب ہوئی۔
کیا حال ہوگیا ہے یار ۔۔۔
کیوں ایسے خطرناک کام کرنے کا کریز ہے ۔۔۔
سامنے محرما کو یوں اچانک دیکھ کر وہ چونکی۔
کیا ہوا۔ابیرہ نے آہستہ سے کہا۔
مجھے پوچھنا چاہئے کہ موصوفہ کو کیا ہوا،
کیسے ہوا۔۔۔۔
کیوں یہاں پر آرام کیا جارہا ہے۔
ذرا تفصیل بتائینگی آپ ۔وہ بیڈ پہ اسے تھوڑا کھسکا کر وہاں بیٹھ گئی۔
انسان بنو ، محرما کی اس حرکت پہ وہ اسے ڈانٹنے لگی۔
میںں ڑیدی مینٹ انسان ہوں بلکہ تم بنو انسان ،
وہ اسکا جائزہ لیتے بولی۔
اب میں نے کیا کیا،
بندہ ہسپتال میں تو عزت رکھ لے اکلوتی دوست کی۔وہ دھیمہ دھیمہ بول رہی تھی مگر جواب ضرور دے رہی تھی۔
اگر انسان بنتی تو یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے،
سائیڈ ٹیبل پہ وہ پھولوں کو اٹھا کر سونگھنے لگی۔
کون لایا یہ،
محرما نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ،
مجھے کیا پتا، یو نو مریضوں کا کام جسٹ آرام کرنا ہوتا ہے آنے جانے والوں کا خیال رکھنا نہیں ،
آئی نو میڈم ،
ہسپتال کے علاوہ بھی آپ کچھ ایسا ہی کرتی تھی۔وہ اسے چھیڑتے ہوئی بولی،
کیا مطلب ، جس کے لیے پھول لائے گئے ہیں اسے بھی دیکھنے کے لیے دے دو،
نہیں میڈم ابھی ہی آپ نے مریض کی ڈیوٹی بتائی ہے ،اسلیے آپ صرف یہیں پڑی رہیں ،
دو نہ یار،
وہ گا بگاہ دروازے پہ نگاہ ڈالتی جو سونا سونا پڑا تھا۔
محرما اسکی یہ حرکت کبھی سے نوٹ کررہی تھی،
اووو۔۔۔۔
ادھر وہ اسکے چہرے کے آگے چٹکی بجا کے بولی،میں آگئی ہوں پھر کس کا انتظار ہورہا ہے،
کس کسی ۔۔۔۔۔کسی کا بھی نہیں ،۔۔۔۔۔وہ نظریں چراگئی۔
مجھے کچھ گڑبر لگ رہی ہے ۔۔۔۔
کیسی گڑبر وہ پھولوں کی ملائمت کو انگلیوں سے چھوررہی تھی
یادداشت تو نہیں گئی نہ تمھاری۔۔۔۔
ہاں چلی گئی ہے آپ کون ۔
ابیرہ کا پارہ محرما کی بکواس پہ ہائی ہونے لگا۔
ارے مزاق کر رہی ہوں تم نے تو دل پہ ہی لے لیا۔۔۔
دل کا معاملہ تو نہیں ہے کہیں ۔۔۔
وہ اسکے چہرے کا بغور جائزہ لیتے بولی۔
جاؤ یہاں سے مجھے سونے دو،،،
ہائے اللہ کتنا سوگی۔۔۔
مریض بن کے بھی تمھاری نیند پوری نہیں ہوتی،،،
تم کچھ نہیں لائی۔۔۔
ابیرہ نے بات بدلتے ہوئے کہا،
مریض کی عیادت کو جاتے ہیں تو خالی ہاتھ تھوڑی آتے ہیں ۔بندہ کوئی فروٹ ہی لے آئے کوئی اسٹرابیریز ،کوئی کھٹی میٹھی چیریز لے آئے۔۔۔۔
بس بس تم ابھی دلیہ ہی کھاؤ۔۔۔۔
کھا کھا کے موٹی ہوگئی تو۔۔۔
ہمارے فیوچر بہنوئی پہ رحم کھاؤ۔۔۔۔۔
عیادت کرلی۔۔۔
اب چلو چلتی بنو یہاں سے ورنہ ابھی بھائی کو آواز لگاتی ہوں۔۔۔۔
بھائی کے نام پہ محرما کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے
اچھا اچھا جارہی ہوں وہ اٹھ کے دروازے کی طرف بڑھی۔
اللہ تیرا شکر۔۔۔
ابیرہ نے شکر منایا۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ ۔۔۔۔
جاتے جاتے ناجانے اسے کیا یاد آیا۔۔۔۔
یہ واثق کون ہے۔۔۔۔
وہ واپس مڑ کے اپنی مشترکہ جگہ پہ بیٹھ گئی۔
ابیرہ اپنا سر پیٹ گئی۔۔۔۔
میں کتنی بار بتاؤں کہ میں مریض ہوں۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرچکی تھی۔۔۔۔
جب کچھ دیر تک کوئی آواز نہ آنے پہ اسنے دائیں آنکھ ہلکی سی کھولی،
محرما ساکت اسے ہی ٹک رہی تھی
ہاہاہا پکڑی گئی چوری۔۔۔
چلو اچھے بچوں کی طرح بتاؤ ۔۔۔
میں یہاں سے ہلنے والی نہیں ہوں جب تک داستان ابیرہ نہ سن لوں۔۔۔۔
جب اسے بھگانے کے ہر حربے ناکام ہوگئے تو اسے سب کچھ سچ بتانے میں ہی عافیت جانی ۔۔۔
اسنے تمام ڈیٹیل اسکے گوش گذار کردی۔۔۔۔
اپنی محبت کا راز کھولے بغیر
وہ خود بھی شیور نہیں تھی ابھی تک اسے خاک بتاتی۔
اتنا سب کچھ ہوگیا اور مجھے کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
تم پہلے ماسٹر تو کر لو پھر بتاتی نہ۔۔۔۔
وہ طعنہ کسنے لگی۔۔
یہ بات ٹھیک تھی۔۔۔یونی جانے کے بعد اتنی مصروف ہوگئی تھی جتنی بہو اپنے سسرال میں بھی نہیں ہوتی ہوگی ۔
بڑی بےباک لڑکی ہو۔۔۔۔
داد دینی چاہیے تمہیں ایسے کارنامے پہ۔۔۔۔۔
اب آگے سب کیسے ہینڈل کروگی۔۔
کرلوں گی یار پہلے یہ ڈریپ تو ختم ہوجائے ۔
میں تھک گئی ہوں کمان کی طرح لیٹے لیٹے،،،
صحیح بات ہے جس کے اندر اسپرنگ نسب ہوئے ہو۔۔۔وہ بنا اچھلے ایک جگہ کیسے بیٹھ سکتا ہے وہ افسوس کرنے لگی۔۔۔۔
یا اللہ میں تمہیں دوست بنانے کے بجائے ڈوگی ہی پال لیتی ایٹلیسٹ ۔۔۔
میری انسلٹ تو نہیں کرتا۔۔۔
پال لو پال لو۔۔۔۔
ہمیں کون پوچھے گا۔۔۔۔پہلے ہم سے راز چھپائے اب ڈوگی کو ہم سے اچھا کہا جارہا ہے ۔
کہلو جو کہنا ہے ۔۔۔
خیر مناؤ جو یہاں پڑی ہو ورنہ ایک ایسی لگاتی۔۔۔
وہ مصنوعی غصہ جھاڑ نے لگی۔۔۔۔۔
میڈم آپ باہر جائیے ہمیں چیک اپ کرنا ہے ۔۔نرس نے آتے ہی اسے باہر نکالا۔۔جو ابیرہ کو مریض سمجھنے سے انکاری تھی۔۔۔۔
جس پہ ابیرہ نے سکون کا سانس لیا اور پاس میں پڑے لال لال ایپل نرس کو دینے لگی۔
میم آپ کو ضرورت ہے اسکی۔
نرس اسے دماغی مریضہ سمجھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوٹ کیس لے کے کہاں جاریے ہو۔واثق بیرونی گیٹ عبور کررہا تھا جب مہرام سامنے سے آتا دکھائی دیا۔تم واپس جارہے ہو۔
اسکے کوئی جواب نہ دینے پہ مہرام نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کیا ہوا سب خیر تو ہے نہ۔
کچھ پروبلم ہے تو بتاؤ ۔
نہیں بس کچھ ضرور ی کام آگیا ہے وہ نپٹا نے جانا پڑرہا ہے اینی ویز ایسا کچھ نہیں ہے
کیسا کام ،
آفس کا کام ،
ابھی تمھاری انجری بھی صحیح طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی ایسے میں کیسے سفر کروگے۔
ڈونٹ بی ٹینس ۔۔۔آئی ایم فائن۔۔۔
وہ اسے جواب دے کر آگے بڑھا۔
ایک منٹ۔۔۔تم نے پھپھو کو انفارم کردیا تھا۔
نہیں وہ میں بتادونگا مجھے فلائٹ کے لیے لیٹ ہورہا ہوں اوکے ٹیک کیئر ۔۔۔۔
رکو تو۔۔۔۔
ہیلو ۔۔مہرام نے کال ملائی۔۔۔
انکل ۔۔۔واثق اسلام آباد کے لیے نکل رہا ہے۔
نہیں ۔۔۔۔
وہ واثق کو بنا دیکھے سب بتارہا تھا۔۔
جو صرف اس گھور کے رہ گیا
وہ نہیں مان رہا آپ بات کرلیں اس سے۔
ہیلو پاپا۔۔۔ اسنے مہرام سے سیل لیتے ہیلو کیا۔
لیکن پاپا ضروری کام ہے۔۔۔وہ بے بسی سے کہنے لگا
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔
خدا حافظ ۔۔
کیا کہا مہرام نے سیل پوکٹ میں ڈال کے پوچھا۔
کچھ نہیں ۔۔۔
وہ بھی کل تک یہاں پہنچ جائیگے۔۔۔
تم اندر جاکے آرام کرو۔۔
میں روم میں لگیج بھیجوادیتا ہوں
ٹھیک ہے میرے روم میں ایک کافی بھی بھیجوادینا۔وہ منہ بگاڑتا ہوا اندر کی جانب بڑھا
……,
ابیرہ کے زخم کافی حد تک مندمل ہوچکے تھے۔ اسنے زبردستی ہسپتال سے چھٹی لے لی تھی۔
بقول ابیرہ وہ یہاں ٹھیک سے آرام نہیں کرپاتی ۔
میری بچی ۔۔۔۔
پھپھو ابیرہ کو گلے سے لگائے پیار کررہی تھی ۔ایسا کوئی کرتا ہے بھلا میری اکلوتی بھتیجی کو کچھ ہوجاتا تو۔۔وہ اسکو بھینچے ہوئے بولی۔
جو مزے سے پھپھو کا پیار بٹوررہی تھی۔
بس بس اتنا پیار مت دیں اسے،
ورنہ سر چھری بہو بن جائے گی۔
ابیرہ کو آنکھ مارتے چھیڑا۔
کوئی بات نہیں لاڈلی بہو ہوگی سب نخرے برداشت کرلونگی میری بہو کے۔
مہرام کے یاد دلانے پہ ثمینہ گہری سوچ میں پڑگئی۔۔۔۔
