574.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 1

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

مسجد کی سپید سنگ مرمر سے بنے فرش کی مسحور کن ٹھنڈ ک سے وہ ہلکا پھلکا محسوس کررہا آج بھی وہ اپنی مخصوص جگہ پہ براجمان ہوگیا۔اتفاقاً کچھ عرصے پہلے یہاں آیا تھا ۔اور آج تک ویسے ہی روزانہ یہاں آنا اس کا معمول بن گیا تھا۔مسجد کے احاطے میں بنا مقبرہ اپنے اندر اسیری رکھتا ہے۔وہاں آنے والے تمام لوگ اس میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ بھینی بھینی خوشبو نہ جانے کہاں سے آتی لیکن اس کے ذہن میں یہ خوشبو ہر وقت سوار رہتی۔جس سے اسکے دل ودماغ معطر معطر ہوجاتے ۔اور اس کے وجود کو مسرت بخشی۔

مسحد کےصحن سے باہر اپنے پیروں کو جوتوں سے آزاد کیے۔عین مقبرے کے سامنے جہاں لوگوں کو آمدروفت اکثر کم رہتی وہاں گوشہ نشین ہوجاتا۔معلوم نہیں کیا سحر تھا یہاں پر ۔یہاں آکر وہ تمام دکھ بھول جاتا۔گویا اسے کچھ یاد ہی نہ ہو جیسے۔ان عقیدت مندوں کو دیکھ کر بلا اختيار اسکےآنکھوں ںسے آنسو جارھی ہوگئے۔زندگی کے کتنے ہے قیمتی سال اسنے بےراہ روی میں گذار دیے تھے۔آج وہ رات کے وقت آسکا تھا۔اتنےدنوں سے سکون میسر نہیں آرہا تھا کوئ ادھورا کام رہ گیا ہو جسے پورا کرکے ہی سکون ملے گا۔

تلاوت کی حلاوت بھری آوازکانوں میں رس گھول رہی ۔اسلام وعلیکم کوئ اس سے مخاطب ہوا ۔اسنے سلام کا جواب دیتے ہوئی پیچھے مڑکر دیکھا سفید ڈارھی میں کوئ بزرگ تھے۔۔

بیٹا آپ روزانہ یہاں آتے ہیں ۔کئ دنوں سے یہاں تنہا بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں۔کچھ دیر بیٹھ کر چلےجاتے ہیں ۔تھوڑاوقت قرآن پاک درست کرنے میں صرف کریں۔بڑے ثواب کے حقدار ٹھرینگے۔وہ ان بزرگ سے نظریں نہیں ملا پارہا تھاباربار اپنی انکھوں کو جھکالیتا۔کہ انکی آنکھوں میں دیکھنا اسے بھسم کردےگا.

میں نے بچپن میں قرآن پاک مکمل کرلیاتھا۔وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولا۔

اللہ کے کلام میں عمرکی کوئ قیدنہیں ۔اسے جتنی بار پڑھاجائےہر با ر نیا سرور دیتا ہے۔انسان کو ہروقت علم حاصل کرنے کے لیے سرگردان رہنا چائیے ۔جہاں علم کی محفلیں سجتی ہو وہاں رب تعالی کا خاص فضل وکرم ہوتا ہے وہاں خصوصیت کے ساتھ رحمت کی بارش چماچم برستی ہیں۔آپ بھی اس رحمت کی بار ش تلے آجائیں۔کیا معلوم خدا تعالی آپ پر اپنی خاص رحمت برسانا چارہاہو۔

وہ ان کی نرم پھوار جیسی باتیں سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔اس سے انکار کا کوئی سبب بن نہ سکا۔اسنے اس بزرگ کو اس مدرسے میں شرکت کی یقین دہانی کروائ اور خود اپنے متعلقہ کا م کے سلسلے میں روانہ ہوگیا۔

پانچ چھہ مردوں پہ مشتمل یہ محفل تھی ۔جہاں بعد عشاہ قرآن پاک کی درستگی کروائی جاتی۔وہاں اسنے اپنا مختصر تعارف دیا۔پھر اسکا قرآن پاک سنا تاکہ اندازہ ہوسکے کہ اسکا پڑھنا کہاں تک درست ہے۔وہ پڑھنے میں کافی جھجھک محسوس کررہا تھا کتنا عرصہ ہوگیا تھا ۔اسنے کتاب اللہ کو ہاتھ تک نہیں لگا یا تھا۔

پہلے جب وہ بہت چھوٹا تھا تو ان کے گھر قاری صاحب پڑھانے آیا کرتے تھے۔وہ روزانہ دعائیں کرتا کہ آج قاری صاحب نہ آئے اور جس دن وہ نہیں آتے تو وہ خوشی سے اچھل پڑھتا۔

یہاں آنے سے پہلے اسنے کئ بارسوچا کہ نہ آئے۔

شرم اور عار نے کلام اللہ اور ہمارے درمیان دیوار کھڑی کردی ہے۔اور دن بہ دن یہ دیوار مضبوط ہوتی جارھی ہے

تعلیم حاصل کرنے میں عمر کی کوئی قید نہیں ۔ماں کی گود سے لے کر لحد تک علم حاصل کرو ۔یہ کیوں کہا گیا ہے۔صرف دنیاوی علم حاصل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

لیکن ھم پر تو دینی تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔دنیاوی تعلیم ہم اس دنیا میں اپنا مقام بنانے کےلیے حاصل کرتے ہیں۔اور دینی تعلیم ہمیں خدا کے یہاں اپنا مقام بنانے کے لیے حاصل کرنی چاہئے۔ہمیں یہ دیوار توڑنے کی خود تدودو کرنی چاہئے۔ہمیں خور ضرورت ہے دین کی۔دین کو ہماری ضرورت نہیں۔اپنا حصہ لینے ہمیں خود جانا پڑے گا۔کوئ علم ہماری جھولی میں ڈال کے نہیں جائےگا۔

اذان کی پر کیف آواز اسکے کانوں میں گونجی۔ادھ کھلی ادھ بند آنکھوں کو بہ مشکل پوری طرح کھولنے کی کوشش کی۔بستر سےنکل کےڈوپٹہ سلیقے سے اوڑھکر اذان کا جواب دینےکے غرض سے بیٹھ گئی۔مسجد انکے گھر سے صرف دو گلی کے فاصلے پہ تھی ۔اذان کی آواز انکے گھر میں کسی الارم کی طرح گونجتی اور ہر متحرک کام کچھ دیر کے لیے ٹھرجاتا۔اذان مکمل ہونے کے بعد برابر میں سوئی اپنے سے چھوٹی بہن کو اٹھایا۔بڑی کے مقابلے میں چھوٹی بہن قدرے ڈھیٹ تھی ۔کبھی وہ خود سے اٹھ جائےایسا اسکی اپنی زندگی میں ناممکن تھا۔

محرمہ بھی اٹھ بھی لو۔کتنا سوگی تمھاری نیند کس صدی میں پوری ہوگی۔

آپی سونے دیں نہ وہ چادر منہ تک اوڑھ کہ واپس سوگئ۔

پانچ اود دو سات گھنٹے ہوگئے اور کتنی نیند پوری کرنی ہے۔جلدی اٹھو ورنہ بابا جان کو بول دونگی ۔وہ اب اسے دھمکا رہی تھی۔

آپی کوئی اور بھی دھمکی دے دیا کریں روز روز ایک ہی دھمکی سے اکتاگئی ہوں۔

وہ اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے بڑی بےزاری سے بولی۔

لیکن بھر بھی یہ دھمکی کام کرجاتی ۔محرمہ کو اٹھانا مشکل نہیں تھامگر آسان بھی نہیں تھا۔

آپی آپ جائے میں آتی ہوں

اسنے ایمل کو بھگانے کے لیے کہا۔

نہیں جب تک میں تمھیں جاہ نماز پہ کھڑا نہ دیکھ لوں تب تک میں یہاں سے ہلنے والی نہیں۔کل بھی مجھے بھگاکے واپس سوگئی تھی۔اب کی بار تمھیں کھڑا کرکے ہر چھوڑونگی۔

اف آپ کم ڈھیٹ نہیں ہے۔

جب محرما کو سونےکے لیے کوئی موقعہ نہیں ملا تو وہ پیر پٹک پٹک کے واشروم گھس گئی۔

واش روم میں مت سوجانا۔ایمل نے چینخ کر کہا ۔

ایمل اور محرما دونوں بہنیں ، شازیب صاحب کی بیٹیاں ہے ایمل نے انٹر تک پڑھ کے پڑھائی کو خیرآباد کردیا ۔ویسے بھی شازیب خان کا تعلق گاؤں سے تھا۔ انکا اکلوتا بھائی کاشان ،جو کسی آزمائش کی طرح ان پہ مسلط کیا گیا تھا۔کتنے خوش تھے وہ لوگ کہ انکے بڑھاپے کا سہارا آگیا۔لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔قدرت کے کھیل بھی کیسے نرالے ہوتے ہیں۔

خدا آزمائش بھی انہیں پہ ڈالتا ہے جو اسے سہنے کی سکت رکھتے ہیں۔دنیا جہاں کے علاج کروائے۔ ۔علاج کروانے کے لیے وہ لوگ گاؤں سے مستقل یہاں شفٹ ہوگئے ۔کیونکہ وہاں علاج ناممکن تھا۔اسی بہانے ان دونوں نے بھی تعلیم حاصل کرلی ورنہ ان کے یہاں لڑکیوں کا پڑھانا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔

آج کاشان کی سالگره تھی دونوں نےملکر گھر میں کاشان کی پسند کا پائن ایپل کیک بیک کرلیا تھا۔پانچ افراد پہ مشتمل چھوٹا سا کنبہ بظاہر خوشحال تھا۔انکی صابرانہ اور شاکرانہ خصوصیات نے انکی پریشانیوں کو خوشحالی میں تبدیل کردیا تھا۔

ابیرہ یار تم نے ابھی تک میرے نوٹس پہنچائے نہیں۔میں کبھی سے ویٹ کررہی ہوںں ۔

اف میں بھول گئی تھی سوری….. سوری یار میں ابھی ڈرائیور کے ساتھ بھجوا دیتی ہوں ۔

تم کیسے بھول سکتی ہو کل میری پریزینٹیشن ہے اورمجھےتیاری بھی کرنی ہے۔محرما نے ہلکا پھلکا غصہ دیکھایا۔

ابھی تھوڑی دیر میں آجائیں گے اٹس اوکے بائے۔ابیرہ نے مزید نہ سننےکے لیے فون رکھ دیا۔

دودن سے ابیرہ کالج نہیں آرہی تھی۔اور وہ محرما کے نوٹس لےگئی تھی۔کیونکہ بقول ابیرہ نوٹس بنانا دنیاکا فضول ترین کام ہیں ۔

محرما کل کی پریزینٹیشن کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہورہی تھی۔اچھی خاصی اسکی پوزیشن تھی پوری میں اگر ذرا سےبھی کم مارکس آئے تو اسکا ریکارڈ خراب ہوسکتاہے۔پڑھائی کے معاملےمیں ذرا بھی کمپرومائز اسے گنوارہ نہیں تھا

…….

چلو فائقہ اور محرما پیٹ کی آگ بجھائی جائے۔ابیرہ دونوں دوستوں سے مخاطب ہوئی۔تم تو مجھ سے بات ہی مت کرو۔آئندہ کبھی تمہیں اپنے نوٹس نہ دوں۔اگر بروقت مجھےنوٹس نہ ملتے تو ٹینشن سے میری موت بھی واقع ہوسکتی تھی۔

اف محرما آئندہ دھیان رکھونگی۔ایکچلی میری پھپھو اسلام آباد سے آئی ہوئی تھی۔انکےہوتے ہوئے وقت کیسے نکل جاتا ہے معلوم ہی نہیں لگتا۔اسی لیے بھجوانا ذہن سے نکل گیا۔ورنہ صبح ہی بجھوا دیتی۔

چلو اب کچھ کھالیتے ہیں ورنہ بھوک سے ہماری موت واقع ہو سکتی ہے اسنے محرما کا فقرہ اس پہ ہی کس دیا۔

وہ تینوں اپنے اپنے سامان اٹھا کر کیفے ایریا کی طرف بڑھنے لگی.

وہ تینوں کافی اچھی دوست بن گئی تھی ۔انکے سمسٹر کے لاسٹ دن چل رہے تھے۔پھر تینوں کی منزلیں جدا تھیں۔فائقہ نے ڈاکٹر بننا تھا۔اور ویسے بھی انکے خاندان میں صرف ڈاکٹر ہی پائے جاتے ہیں۔

ابیرہ کو پڑھنے میں کوئی دلچپسی نہیں تھی۔وہ تو بس پڑھ رہی تھی۔ہاں، صرف پڑھ رہی تھی۔کیونکہ اسکے ابا کا کہنا ہے انسان کچھ اور کرے نہ کرے۔تعلیم ضرور حاصل کریں۔یہ باتیں ابیرہ کے ابا کی تھی ۔ابیرہ کی باتیں ذرا ملاحظہ فرمالیجئے ۔

ہاں تو ابیرہ کا کہنا ہے۔

وہ انسان ہی کیا جو سارا دن کتابوں میں سر کھپائے۔ اور جب بالوں پہ چاندی اتر آئے تب اسے ہوش آئے۔ ہائےاللہ میں نے اپنی آدھی زندگی کتابو کو دیکھنے میں گذار دی۔

انسان کو ہروقت صرف انجوائے ہی کرنا چاہئے۔سوئے تو لمبی تان کے سوئے اٹھے تو وسیع و عریض پارک میں چہل قدمی کے لیے نکل جائے۔واپس آکے کھایے پیئے۔اور پھر لانگ ڈرائیو کے لیے چلے جائے۔رات ڈھلے تک ادھر ادھر گھومتا رہے۔

اس پہ محرما صاحبہ کا جواب بھی ملاحظہ فرمالیجئے۔بہن اتنے لمبے لمبے خواب دیکھنا چھوڑدو۔تم سیاحوں کی اولاد میں سے نہیں ہو جو ہروقت کوئی نہ کوئی ملک کی خاک چھان رہا ہو گی ۔

“انسان کی خود کی اصل زندگی کسی خواب سے کم نہیں اگر وہ دل کی آنکھ سے دیکھے تو “

محرما نے خلا میں گھورتے کہا.

تم لوگ کیا خواب کی باتیں کررہے ہو۔

خدا کے لیے فائقہ تم تو بولنا ہی مت ۔محرما اور ابیرہ نے بیک وقت اسے ٹوکا ۔اگر فائقہ نے بولنا شروع کردیا تو دو انمول انسانوں کے کانوں کو ضائع ہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔نصیحتوں کے ایسے ایسے انبار لگ جائنگے جن کا بوجھ اٹھانا ان دو نازک پریوں کے لیے ناممکن ہی ہوگا۔

فائقہ بیچاری کیا بولتی ۔اسکے بولنے سے پہلے ہی دونوں رفوچکر ہوچکی تھی کہ منظر سے غائب ہونا ہی انکے لیے بہتر تھا۔