Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 7
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 7
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
ابیرہ تم جلدی سے باہر نکلو حکم صادر ہوا۔اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اسنے کال کاٹ دی۔ابیرہ نے محرما سے اجازت طلب کی۔ لیکن یہ الوداعی گفتگو در حقیقت طویل گفتگو میں تبدیل ہوچکی تھی۔وہ اسے کچھ دیر اور رکنے کا اصرار کررہی تھی۔۔
ابیرہ بیٹا تھوڑی دیر اور رک جاؤ اس بار محرما کی امی تھی۔ابیرہ ان سب کے ساتھ گل مل گئی ۔جس کی وجہ سے اسے روک رہے تھے۔
نہیں آنٹی بھائی باہر کھڑے ہیں اچانک یاد آنے پہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اف میں کیسے بھول سکتی ہوں کال کو آئے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے۔
وہ انتظار کرکرکے پک چکا تھا ۔اسے پکڑ کے ہی باہر لانا پڑے گا ورنہ رات بیت جائے گی وہ باہر نہیں آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔
انکل ابیرہ ۔۔۔میری سسٹر اندر ہے اسے بلا دیں مہرام بڑے ادب سے پیش آیا
ابیرہ کا نام سن کر وہ اسے زبردستی اندر لے آئے۔ کیوں کہ محرما اور ابیرہ اکثر ایک دوسرے کے گھر آتی جاتی تھی وہ اچھی طرح پہچان گئے تھے۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ آگیا۔
محرما پہ نظر پڑتے ہی اسکے منہ میں کڑواہت بھر گئی۔محرما کی امی نے مہرام سے علیک سلیک کی۔اور اسے شادی پہ آنے کا وعدہ لیا۔
محرما ابیرہ کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی۔جیسے ہی مہرام پہ نظر پڑی پرانے حساب کتاب یاد آگئے۔ وہ آنکھیں پھیرتے ہوئے سائیڈ پہ ہوگئی۔ اور پھر نظر اسکی طرف نہیں کی سب اسے ابیرہ کے بھائی کے حوالے سے جاننے لگے ۔لیکن کسی کو ہی معلوم نہیں تھا کہ وہ اسکا یونی فولو بھی اور سب سے بڑا دشمن بھی ہے۔
صاف ستھرے چمکتے کپڑوں میں وہ بڑا دلکش لگ رہا تھا ۔مگر اندر کتنا خناس بھرا ہوا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا ویسے بھی ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو
وہ نیند میں بولا
کون بول رہا پے وہ واپس بولا ۔اس طرف نجانے کون تھا جو جواب نہیں دے رہا تھا۔
میں میں ۔
وہ بولی۔۔۔
کون ۔میں میں
آپ اتنا دھیما دھیما کیوں بول رہی ہیں وہ بوجھل لہجےمیں بولا۔
میں وہی ہوں۔
تم نے پھر میرا دماغ کھانے کے لیے فون کیا ہے۔واثق کی آنکھیں کھل گئی۔
رات کو بھی سکون سےسونے نہیں دوگی۔وہ تھکا ہوا تھا اور طبیعت بھی ناساز تھی امی کے دھماکہ خیز انکشاف نے اسکے اندرونی پرزے ہلادیے تھے ۔
میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتا ۔واثق نے صاف گوئی سے کہا۔
ابیرہ کو اس پہ ترس آیا۔
جاؤ تمھیں معاف کیا۔لیکن یہ مہلت محدود مدت کے لیے ہے۔
وہ اسے باور کرانے لگی۔
طاقت نہ ہونے کی وجہ سے اسنے بات آگے نہیں بڑھائی ۔۔ورنہ وہ کھڑی کھڑی سنانے کا ارداہ رکھتا تھا۔
تھینک یو سو مچ میڈم۔۔۔۔
وہ فون اوف کرکے سوگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی میں تیار ہوں جلدی سے میری دوست کے گھر چھوڑدیں ۔وہ نک سک کے مہرام کے کمرے میں جھانکنے لگی۔اسے کمرے میں موجود نہ پاکر بیڈ پہ بیٹھ گئی اور اسکے باتھ روم سے نکلنے کا انتظار کرنے لگی۔
سیاہ شلوار سوٹ میں ملبوس باہر نکلا۔ ابیرہ کو لڑکے ہمیشہ بلیک میں ہی اچھے لگتے تھے۔وہ اپنے بھائی کی نظروں سے ہی نظر اتارنے لگی۔اک دم کتنے سالوں بعد اسے اپنے بھائی پہ ناز ہونے لگا۔اتنے ہینڈسم بھائی کی بہن ہونا اسکے لیے بڑی فخر کی بات تھی
ایسے دیدے پھاڑ کے کیوں دیکھ رہی ہو وہ بال سنوارتے ہوئے بولا۔ یہی سوچ رہی ہو نہ کہ کتنا خوبصورت ہے تمھارا بھائی کاش مجھے بھی تھوڑا حسن مل جاتا وہ اسے چھیڑنے لگا۔
ابیرہ نے کشن اٹھا کے اس پہ دے مارا ۔جو اسکی پشت سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔
خوبصورتی میں آپ سے دو قدم آگے ہوں میں . مہرام شاہ ۔۔
وہ جب بھی غصے میں ہوتی تو مہرام کے ساتھ شاہ کا اضافہ ضرور کرتی ۔
ویسے آپ اتنا تیار شیار ہوکے کہاں جارہے ہیں ۔۔
بتائیے بتائیے ۔وہ معنی خیز مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے گویا ہوئی۔
جہاں تم جارہی ہو وہی جارہا ہوں ۔۔ تمھاری فرینڈ کے فادر نے مجھے انوائٹ کیا تھا کل ۔وہ اتنے کائینڈ اور پر خلوص لگے کہ انکار کرنے کا جواز ہی نہیں ملا۔
واؤ پر آپ نے تو مجھے بتایا بھی نہیں ۔
اسکا بڑا سا واؤسن کر وہ ہنسا۔ابھی بتادیا نا چلو اب۔..
……..
محرما اور ایمل پارلر سے گھر آچکی تھی ۔گھر والے اور کچھ رشتے دار میرج ہال روانہ ہورہے تھی ۔امی نے صدقے کی کالی مرغی ایمل کے سر سے اتاری۔ انکا بس چلتا تو پورا پولٹری فارم ہی آپی پہ وار دیتی۔
گھر میں ابیرہ ایمل اور انکی سائیڈ فرینڈ اور محرما ہی رہ گئی تھی۔
ایک دلہن کی گاڑی تھی جس میں ایمل کو بھیج دیا تھا۔ وہ گاڑی واپس آنے تک کا انتظار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ سب پہنچ چکے تھے۔ابیرہ نے مہرام کو فون کرکے انھیں پک کرنے کے لیے بلایا۔
وہ اتنی عجلت میں تھی کہ اسنے مہرام کو دیکھا بھی نہیں اور نہ ہی پرانا کچھ یاد آیا۔وہ تینوں ہال میں پہنچے ہی کہ امی کی کال آئی۔
اف خدایا وہ میں نے تیار کرکے ہی رکھا تھا میں کیسے بھول سکتی ہوں ۔وہ فون پہ گفتگو کے دوران باربار یہی کہہ رہی تھی۔ابیرہ مجھے واپس گھر جانا ہوگا مٹھائیاں وغیرہ میں گھر ہی بھول آئی ہوں
گا ہے بگا وہ مرر سے اسکے سراپے کا جائزہ لیتارہا۔ پریشانی کے آثار اسکے چہرے پہ نمایاں تھے ۔
اٹس اوکے اتنی ٹینشن نہیں لو ہم واپس گھر چلے جاتے ہیں ۔نہیں تم اندر جاؤ میں لے آؤنگی ۔
کیسے جائینگی آپ میڈم ۔وہ پوچھی۔
ایک کام کرو بھائی تمہیں لے جائینگے پھر انکے ساتھ ہی ہال واپس آجانا ٹھیک ہیں اسکے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔اسنے آگے بیٹھے مہرام پہ مرر میں سے نظر کی۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اتنا ٹینشن نہ لو میک اپ خراب ہوجائے گا۔ ابیرہ کو سب سے زیادہ اسکے میک اپ کی ٹینشن تھی۔
وہ دونوں کی گفتگو سماعت کررہا تھا اچانک اپنا نام سننے پر وہ اچھل پڑا۔ پیچھے مڑکر ابیرہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔حکم تو ایسے چلارہی ہے جیسے میں ڈرائیور ہوں۔گھر چل بتاتا ہوں ابیرہ کی بچی ۔
بھائی آپ ہی تو کہتے ہے نہ دوسروں کی مدد کرنی چاہئے ۔
مائی فٹ وہ بڑبڑایا۔
اسے غصے میں دیکھتے ہوئے ابیرہ جلدی سے اتر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
فون مسلسل بج رہا تھا۔اسنے پیچھے مڑکر دیکھا سیٹ پہ پڑا سیل جگمگارہا تھا۔ وہ اندر گئی ہوئی تھی اور نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔کیا مصیبت ہے کہاں پھنس گیا وہ جھنجھلاگیا۔ ہاتھ بڑھاتے ہوئے فون اٹھایا۔ کسی ان نون نمبر سے کال آرہی تھی۔ یہاں فون بند نہیں ہورہا تھا اور وہاں وہ اندر جاکے سوگئی تھی۔اپنا موبائل میرا سر کھانے کے لیے چھوڑگئی ہے۔
مہرام نے کال رسیو کی۔
ہیلو سوئیٹ ہارٹ یونی کیوں نہیں آرہی ایک ہفتے سے ۔میں روز تمھارا انتظار کرتا ہوں ۔اور کتنا تڑپاؤگی مجھے ۔
عجیب سی گفتگو سن کے وہ آگ بگولہ ہوچکا تھا۔
مخالفت سمت پہ کوئی بڑی وارفتگی سے بات کررہا تھا
مہرام شاہ نے خاموشی سے کال کاٹ دی ۔
اور سیل واپس پیچھے پھینک دیا۔
کتنی بیحدا لڑکی ہے ۔۔۔
شکل سے معصوم بننے کا ڈھونگ رچا رکھا ہے اور پیچھے سے عاشقی کرتی پھر رہی ہے۔
ہاتھوں میں فروٹوں کی ٹوکری اٹھا کے باہر آئی ۔گاڑی میں ایک ایک کرکے سارا سامان رکھا۔
ایسے گٹھیا الفاظ اسکے ذہن میں گھوم رہے تھے۔جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی ۔مہرام نے جھٹکے سے گاڑی چلادی۔اتنی تیز اسپیڈ رکھی تھی کہ محرما دعائیں پڑھنے لگی۔
اس دوران محرما کا سیل واپس بج اٹھا۔
منحوس ۔۔۔۔۔۔
اسنے اسکرین پہ نمبر دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔اور کال کاٹ دی۔
وہ اسکی ایک ایک سکنات کو غور سے نوٹ کررہا تھا۔
اٹھالو ٹھالو کوئی تمھارے لیے بے چین ہورہا ہوگا۔
واٹ وہ جزبز کا شکار ہوئی۔
وہ جو تمھیں فون کررہا ہے کئی تمھارے فراق میں مر ہی نہ جائے۔وہ فون پہ اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
وہ طنز کے تیر برسارہا تھا۔اور محرما کے سمجھ سے باہر تھا کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔
اتنا ہی شوق ہے تو خود اٹھالو وہ سیل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔
مجھے عشق لڑانے کا کوئی شوق نہیں ہے وہ منہ بگاڑ تے ہوئے بولا۔ایسی گٹھیا اور غلیظ باتیں سننا بھی گنوارہ نہیں مجھے۔۔
غلیظ اور گٹھیا باتیں تم سن نہیں سکتے لیکن حرکتیں اس سے بھی کئی گری گزری ہے۔دیکھنے میں بڑے کول اور کیرئینگ لگتے ہو۔لیکن اپنی باطنی شکل سب کو دیکھاؤ تو میں بھی مانو کہ تم مہرام شاہ ہو جس کا باطن اور ظاہر ایک ہے۔وہ ایک ایک لفظ بڑے آرام سے ادا کررہی تھی جس کے ری ایکشن سے وہ بے خبر تھی۔
مہرام کے اعصاب بری طرح تن چکے تھے۔
وہ سمجھ گئی کی کہ شاید مہرام نے کال رسیو کرلی ہے تبھی پارہ ہائی ہے لیکن محرما کا اس میں کوئی قصور نہ تھا۔
گاڑی کو ایک جھٹکے سے بیچ سڑک پہ روک دیا۔آنکھوں میں لاوا پھٹنے کو تھا۔۔اترو۔۔۔۔بنا گردن ہلائے اسنےکہا۔گرج دار آواز سےپوری گاڑی گونج چکی تھی۔محرما اسے تکے جارہی تھی۔بہری ہو کیا۔آئی سیڈ لیو۔۔اسنے واپس دہرایا۔سن سی بیٹھی محرما ہل گئی۔خوف کے مارے چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔اسے اپنے سابقہ الفاظوں پہ بلا کا غصہ آیا۔وہ کیسے بھول سکتی تھی ۔یہ مہرام شاہ تھا اس سے کسی اچھائی کی امید کیسے لگائی جاسکتی ہے۔سنسان سڑک پہ تنہا کیسے اتروں۔اسکی خوفزدہ آنکھیں مہرام سے التجا کرنے لگی ۔مگر وہ دشمن جان اسکی جان نکال کے ہی چھوڑے گا۔وہ اپنا کامدار غرارہ سنبھالتی ہوئے گاڑی سے باہر نکلی۔آنسؤں نے میک اپ شدہ چہرے پہ نشان ثبت کردیے تھے سیاہ رات میں سنسان سڑک ،،خوف سے وہ کاپنے لگی۔
بس اترنے کی دیر تھی وہ گاڑی فڑاتے سے اڑا لے گیا۔
اللہ کرے گاڑی پنچر ہوجائے وہ بددعائیں دیتے ہوئے سڑک عبور کرنے لگی۔
وہ جلدی جلدی پاؤں چلانے لگی۔اک تو فل میک اپ میں راہ چلتے لوگ اسے ایسے گھور رہے تھے جیسے وہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہو۔یہ تو اچھا ہوا شادی ہال اتنا دور نہیں تھا ۔آدھے سے زیادہ راستہ گاڑی میں ہی پار ہوچکا تھا۔
کھڑی گاڑی کے شیشے میں سے اسنے اپنا چہرہ دیکھا اور حلیہ درست کرتے ہوئے آگے بڑھی۔
یہ دلہن کی بہن کی عزت تھی پورا خاندان گاڑی میں پہنچا تھا اور وہ پیدل چلتے ہوئے آئی تھی۔
خدا کے لیے مجھے نظر نہیں آنا ورنہ میں خون پہ جاؤنگی وہ دانت چھباتے ہوئے بڑبڑائی۔
