438.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 28

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

آج سورج کی تپش لوگوں کو اپنے گھروں محصور کرنے کے لیے کافی ہے.ہوا میں ہلکی ہلکی سی خنکی نمایاں تھی بادلوں کی سنہری چادر سے سجا آسمان زمین پہ سایہ فگن تھا.محرما نے اپنے کمرے کی زنک آلود کھڑکھی کو کھٹ سے وا کیا.ایک ہوا کا ریلہ اس کے وجود کو چھوکر گزرگیا .

سانس کو باہر پھینکتی ہوئی اسنے جیسے ہوا کی مہک کو کھینچ کر اپنے اندر اتارا.ہوا کی تازگی اسکے وجود کو تازہ کرگئی.

آج اسکا نکاح ہونے جارہا تھا جس کی خبر اسے رات کو دی گئی تھی.

وہ پوری رات آنکھوں میں کٹی تھی.ایک پل کے لیے اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ واقعی آج وہ نکاح جیسے رشتے میں بندھنے جارہی ہے.تھوڑی دیر پہلے صبا اسے سرخ جوڑا پکڑا گئی تھی محرما نے سرسری نگاہ ڈال کر ہٹالی تھی .اسنے پہن کر بھی چیک نہیں کیا تھا

جب اسکی شادی اسطرح ہوسکتی ہے تو جوڑے کا ناپ کا نہ ہونا یا پسند کا ہونا نہ ہونا ,ان باتوں سے کیا فرق پڑ سکتا ہے.

……

وہ سرخ کامدار لہنگے میں بلا کی حسیں لگ رہی تھی۔نکاح کے لیے قاضی صاحب کو کمرے میں بیٹھالیا گیا تھا۔

زیان سادہ سے کلف لگے شلوار قمیص زیب تن کیے اپنے تمام خوابوں کو چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

دلہن کو بلایا جائے قاضی صاحب کو بڑی جلدی تھی۔

صبا محرما کا لہنگا سنبھالتی ہوئی اسے اندر لے آئی جہاں سب مرد حضرات نکاح میں شرکت کرنے حاضر ہوئے تھے۔

محرما ک دل دھک دھک کررہا تھا ۔اسے کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا نہ ہی خوشی ہورہی تھی اور نہ ہی دکھ ۔

اسنے باریک گھونگھٹ سے سامنے نگاہ ڈالی ۔زیان کے برابر میں مہرام اپنی مردانہ وجاہت کےساتھ براجمان تھا۔

جو اسے بنا پلکیں جھپکائے تکے جارہا تھا۔

محرما بنت شازیب ۔۔۔۔

قاضی صاحب کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ہوا میں فائر کی زور دار آواز سنائی دی۔

یکے بعد دیگر فائر دھرادھر کیے جارہے تھے ۔

محرما کی جھکی ہوئی گردن ایک سیکنڈ کے لیے اٹھی اور وہی ساکت ہوگئی۔

اچانک قدموں کی تیز آواز کمرے میں بڑھنے لگی.

کچھ لوگ اسلحہ تانے کھڑے تھے.ایک نے بندوق زیان کے سر پہ تانی ہوئی تھی.اور دوسرے نے جہانزیب صاحب پہ رکھی ہوئی تھی۔

حویلی کے باہر لوگوں کا مجمع اکٹھا ہوچکا تھا۔شور و گل کی آواز ان کے کانوں میں پڑرہی تھی۔

محرما اور شازیب صاحب ان مناظر کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ان لوگوں کو کچھ بھی نہیں معلوم ہورہا تھا۔

مہرام نے فورا صبا کو محرما کواندر لے جانے کا کہا۔وہ جلدی سے اٹھ کر اسے کمرے میں لے آئی اور خود واپس صورت حال دیکھنے آئی۔

وہ لوگ محرما کو جانے پہچانے لگے۔

انسان سے زیادہ زبان کی اہمیت ہیں خالو صاحب آپ ہی کہتے تھے نہ ایسا کچھ. ۔

رجاہ کا بھائی انہیں باور کرانے لگا. صرف چند زمینوں کے خاطر ہماری بہن کو ٹھکرایا جارہا ہے۔جہانزیب صاحب نے ان لوگوں کو حیرت سے دیکھا۔

یہ بات ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا۔

کیا دیکھ رہے ہیں خالو جی۔

ہم سب کچھ جانتے ہیں۔

شازیب صاحب نےاپنے حصے کی ساری زمینیں اپنی بیٹی کے نام کردی ہے اور آپ کی آدھی زمینیں یوں بنا کسی محنت کے کسی اور کو دے دی جائے یہ آپ کو قطعی برداشت نہیں تھا تبھی اتنی جلدی تھی۔

یہ آپ لوگوں کا گھریلو معاملہ ہے ہم اس میں ٹانگ نہیں اڑائے گے بس ہم تو اپنا کام کرنے آئے ہیں برسوں پرانی زبان کو عملی طور پہ پورا کرنے آئے ہیں.

آپ لوگوں کے ورثے کی لڑائی میں ہماری بہن کیوں پھنسے .ہماری مانگ پوری کردیں تو ہم بھی با آسانی کچھ کیے بنا یہاں سے چلے جائنگے.ورنہ لاشیں گرنے میں منٹیں بھی نہیں ضائع ہونگی

شازیب صاحب نے اپنے بڑے بھائی کو دیکھا ۔کس طرح ان باپ بیٹی کو دھوکہ دیا جارہا تھا۔وہ تو کتنے خوش تھے کہ اتنی بڑی پریشانی منٹوں میں ان کے بھائی نے ختم کردی تھی

مہرام مسکراہٹ ہونٹوں میں ڈبائے اس منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا۔اس کا تیر ٹھیک وقت پہ نشانے پہ لگا تھا.

ابھی اسی وقت رجاہ کا نکاح ہوگا زیان کے ساتھ ۔اسی نشست گاہ میں اس کے بھائی نے حکم دیا .جو صوفے پہ دراز بیٹھا تھا۔

وہ لوگ پوری تیاری کرکے آے تھے۔

رجاہ کو فورا لایا گیا۔

سادے سے کپڑوں میں عام سا ڈوپٹہ ڈال لیا تھا۔وہ زیان کی ہونے جارہی تھی۔

مہرام نے رجاہ کا مسکراتا چہرہ دیکھا اور فورا باہرنکل گیا ۔

جہانزیب صاحب آنکھیں نکالے تمام سکنات کو دیکھ رہے تھے .زمینیں بھی ہاتھ سے گئی اور ان کے اپنے بھائی کے سامنے سبکی بھی ہوئی .وہ کچھ بھی نہیں کہہ پائے صرف تمام کاروائی کو چپ کیے دیکھ رہے تھے.

وہاں محرما کے ہونے والے شوہر سے کسی اور کا نکاح پڑھایا جارہا تھا۔

شازیب صاحب کھڑے ہوکر باہر نکل گئے ۔

ان کی بیٹی کو کس طرح وہاں سے لےجایا گیا تھا۔

۔۔۔۔

خالو جی آپ,ایسے کیسے زیان کی شادی اپنی بھتیجی سے کرسکتے تھے ۔لگتا ہے آپ بھول گئے تھے۔رجاہ کے سب سے بڑے والے بھائی نے نے مبارک باد پیش کرکے ان سے کہا۔

جہانزیب صاحب نے زیان کو گھورا جو بظاہرمنہ لٹکائے بیٹھا تھا مگر اندر اندر انوکھی خوشی دل کو آباد کرگئی تھی۔

اسے پورا یقین تھا رجاہ نے یہ بات نہیں بتائی ہوگی پھر کس نے انہیں خبر کردی۔

جہانزیب صاحب جانتےتھے کہ یہ سب ہوگا.تبھی انھوں نے کسی کو خبر ہونے نہیں دی,تھی حتی کہ محرما کو بھی کل ہی بتایا گیا تھا۔

آپ جانتے ہیں ہمارے یہاں بچپن کی منگ سے ہی نکاح پڑھوایا جاتا ہے ورنہ انسان اوپر تو جاسکتا ہے لیکن کسی اور سے شادی نہیں کرسکتا.

………

محرما اپنا گھونگھٹ کھولے بیڈ پہ بیٹھی تھی جب اچانک دروازہ کھلا ۔

کون وہ بولی۔

صبا یار اتنا ڈرتی ہو وہ اسے واپس لینے آئی تھی۔

وہ لوگ چلےگئے

پسینے میں بھیگی محرما کے سانسیں اٹکی ہوئی تھی…. اسےصرف اپنے بابا جان کی فکر تھی۔وہ ویسے بھی دل کے مریض ہیں ذرا سے بھی پریشانی انکی جان بھی لے سکتی ہیں ۔

وہ دل ہی دل. میں دعاگو تھی۔

ایک آخری سہارے کو وہ نہیں کھونا چاہتی تھی۔

…..

زیان اور رجاہ ایک ہوچکے تھے۔دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔مہرام شازیب صاحب کی طرف بڑھا جو اپنی سینے پہ ہاتھ رکھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انکل آپ ٹھیک تو ہے نہ وہ انکے جھکے ہوئے سر کے سامنے مخاطب ہوا۔

انکل اگر آپ برا نہ مانے تو میں ایک بات کہہ سکتا ہوں مجھے معلوم ہے یہ بات میرے والدین کو کرنی چاہئے مگر میں چاہتا ہوں ۔محرما کا نکاح آج ہی ہوجائے شادی کی تمام رسمیں میرے والدین ہی کرینگے.

شازیب صاحب نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگے.

انکل میں کرنا چاہتا ہوں محرما سے نکاح .وہ ادب و احترام کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے گویا ہوا.

نظریں جھکی ہوئی تھی .اتنی قیمتی شے کو مانگنے کے لیے جھکنا پڑتا ہے وہ اپنے اللہ کے سامنے اس کے لیے کتنی بار جھکا تھا.کیا کیا نہیں کیا تھا پورے دو سال لگے تھے اسکی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ پانے کےلیے.

شازیب صاحب نے اسے غصے سے دیکھا.

میری بیٹی ہے کوئی مزاق نہیں جو جب آئے مانگ لیں اور پھر عین وقت پہ ٹھکرا کر چلا جائے غصے سے انکی رگیں تن چکی تھی.

دل کا درد بڑھ رہا تھا .

میں قسم کھاتا ہوں .میں اسے کبھی بھی نہیں چھوڑونگا نہ ہی کوئی دکھ دونگا.

وہ انکا ہاتھ تھامے اپنی دل کی بات کہہ رہا تھا.خدا سے امید قائم تھی.

وہ صرف انکے اثبات کا منتظر تھا.

…….

مہرام نے اس رات ان دونوں کی باتوں سے بہت کچھ اخذ کرلیا تھا.باتوں باتوں میں اسنے بات کی کھال زیان سے اگلوالی تھی.اس طرح کی ترکیبات کرنا اسکے لیے کوئی مسئلہ نہ تھا .راتوں رات اسنے رجاہ کے گھر والوں کے گھر ایک خط میں تمام باتیں لکھ کر پہنچادی تھی.

زمینوں کے معاملات سے وہ آگاہ نہ تھا مگر اس نے کسی تنازعے کی بناء پر زیان کا فوری نکاح اسکی کزن سے ہونے کی اطلاع بڑھا چڑھا کر دی تھی.

اسکی سانس حلق میں اٹک چکی تھی . محرما کو کسی اور کا سوچ کر.

میری محبت میری آرزو میری زندگی کو کسی اور کا کیسے ہونے دے سکتا ہوں ۔

یہ سب میں نےکیا ہے صرف میری محرما کے لیے ۔

اپنی آنکھوں کے سامنے تمہیں کسی اور کا کیسے ہونے دے سکتا ہوں.

وہ اسکے تصور سے محو گفتگو تھا

…………

محرما کو ایک بار پھر قاضی صاحب کے پاس لے جایا گیا .ناجانے کیا ہوا تھا جو اسکا نکاح کسی اور کے ساتھ پڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا.

خالی خالی نظروں سے اسنے اپنے بابا کو دیکھا جو اسکے حق میں ناجانے کیا فیصلہ لے چکے تھے .اب کی بار سامنے صوفے پہ زیان اور مہرام دونوں موجود تھے لیکن اس بار دونوں کے چہرے میں انوکھی مسکراہٹ تھی.محرما بنت شازیب خان کا نکاح مہرام شاہ ولد عالم شاہ کے ساتھ فلاح رقم مہر کے عوض کیا جارہا ہے

کیا آپ کو قبول ہے.

آسمان دھرام سے محرما کے سر پر گرا .اسنے گھونگھٹ کی اوٹ سے اپنے بابا کو دیکھا.

آنسوؤں کا ریلا اسکے چہرے کو بگھونے لگا.قوت سماعت ختم ہوچکی تھی .اسنے ایک نظر سامنے شلوار سوٹ میں ملبوس مہرام شاہ کو دیکھا..خود کے ساتھ ڈھائے گئے تمام ظلم اسکے ذہن کے پردے پہ چلنے لگے.

وہ سسک رہی تھی اس قید سے آزاد ہونے کے لیے.لیکن وہ ظالم اسے قید کرکے جا چکا تھا.

دل پہ لگے گھاؤ اسکا جسم جھلسانے لگے تھے.

سب دلہن کے جواب کے منتظر انتظار میں بیٹھے تھے.

جہانزیب صاحب البتہ غائب تھے .

قاضی نے ایک بار پھر اپنی بات دھرائی .

مجھے نہیں قبول اسنے چلا کر کہا۔

میں اس درندہ صفت انسان سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ۔وہ جھٹکے سے کھڑی ہوکر اپنےکمرے میں بھاگی ماحول میں سکتا طاری ہوچکا تھا۔مہرام کی دعائیں عرش سے لوٹادی گئی تھی۔

محرما نےایک ہاتھ سے اپنے سر کا دوپٹہ کھینچا ۔

سرخ چوڑیوں کو اسنے بےدردی سے اتار پھینکا۔

ٹوتی چوریاں اسکی کلائی میں گھس گئی تھی۔آنسو اسکا سیاہ کاجل رخسار تک بہا لے گئے تھے۔

……..

دروازہ کھولو محرما ۔صبا نے دروازہ پیٹ ڈالا یار دروازہ کھولو ۔

نہیں کھولونگی تم سب چلے جاؤ یہاں سے وہ اندر چینخ رہی تھی۔

دروازہ کھولو اس بار تائی امی کی آواز ابھری۔

محرما چاچا جان کی طبیعت خراب ہوگئی ہے صبا نے کہا۔

اس خبر نے محرما کے رونگھٹے کھڑے کردیے ۔وہ فورا دروازہ کھولے باہر بھاگی۔

لیکن مرد حضرات سب جاچکے تھے۔بابا کہاں ہے وہ چلائی چچی جان بابا کہاں ہے بھاگتے ہوئے وہ کتنی بار گرتے گرتے بچی تھی۔

انہیں ہسپتال لے جایا گیاہے ۔

محرما وہی زمین پہ بیٹھتی چلی گئی۔جس شے کا خوف تھا وہ ہی وقوع پذیر ہوا تھا۔

محرما خود کو سنبھالو صبا نے اسے اٹھایا ۔تم نے نکاح کا منع کیوں کیا اگر نہیں کرتی تو ان کی ایسی حالت نہیں ہوتی