Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 18
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 18
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
میری پیاری آپی میری پیاری آپی محرما گنگنائی۔
خیر تو ہے آج اتنا پیار کیوں آرہا ہے۔اپنی آپی پہ ایمل اتنے دنوں بعد آئی تھی وہ تینوں ماں بیٹیاں اپنے اپنے قصے ایک دوسرے کو سنارہی تھی۔کاشان بھی مختلف آواز نکال کر اپنے ہونے کا احساس دلارہا تھا۔
آپی آپکو معلوم ہے آج سسٹر ڈے ہے۔
ہیپی سسٹر ڈے وہ ایمل سے چمٹ کے بولی اسنے کچھ یاد دلانےکی کوشش کی۔
یو ٹووو۔
ویسے مجھے اپنی بہن ہر روز یاد آتی ہے۔میں ہر روز اپنی بہن سے پیار کرتی ہوں صرف ایک دن تھوڑی ۔
آہان۔۔۔
گفٹ تو روز نہیں دے سکتی نہ وہ اصل مدعے کی طرف آئی۔تو گفٹ کے لیے اتنا پیار جتایا جارہا تھا۔
آپی نے اپنا پرس کھول کے اس میں ایک ڈبیا نکالی۔
یہ لو تمہارے لیے میں نے جیسے ہی یہ رنگ دیکھی تو بلا اختیار تم یاد آئی ۔
تمہیں رنگز پسند ہے نہ۔۔۔۔۔
واؤ محرما نے ڈبی کھولتے ہے بڑا سا واؤ کہا۔ہائے اللہ کتنی خوبصورت ہے ۔وہ پہن کے چیک کرنے لگی۔
اسے تمام جیولری میں واحد رنگ ہی پسند تھی۔ایمل اسے اکثر برتھ ڈے وغیرہ پہ رنگ ہی گفٹ کرتی تھی۔
اور میرا گفت کہاں ہے ایمل نے ہاتھ سامنے کیا۔وہ تو میں بھول گئی محرما نے انگلی دانتوں میں ڈبائے جواب دیا۔
اچھا صرف اپنا گفٹ یاد رہتا ہے بچو۔۔۔
محرما بھاگ کر ایک پیکٹ لائی ۔۔
یہ لیں جی آپ بھی کیا یاد رکھے گی۔
اس میں کیا ہے۔۔
ایمل نے پیکٹ ہاتھ میں لے کر کہا۔۔
خود دیکھ لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے نئے نئے ریننوویٹ پنک پنک روم کو دیکھنے میں مگن تھی۔
پاپا۔۔۔۔ لو یو پاپا ۔۔وہ اپنے پاپا کی تہہ دل سے شکر گزار تھی ۔جہنوں نے اسکی دیرینہ خواہش پوری کی تھی۔
اسکی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔برسوں دیکھا خواب پورا جو ہوا تھا
پنک جہازی سائز کا بیڈ جس پہ باربی پنک گھیر دار فروک پہنے کھڑی مسکرارہی تھی۔ گلابی پردے کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پہ لہرارہے تھے۔ بے بی پنک ڈریسنگ پہ اسنے اپنا سراپا دیکھا۔
ابیرہ نے اپنا سب سے خوبصورت فیری ٹیل والا فروک زیب تن کیا ہوا تھا آج کی رات کو وہ خوب انجوائے کرنا چاہتی تھی۔
وہ اکیلی ہی اپنی خوشی سیلیبریٹ کرتی تھی۔ اسے کسی کے ساتھ کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہی کبھی
۔۔وہ ایسی ہی تھی۔
۔ہاتھوں پہ سفید دستانیں چڑھا لیے تھے۔ بے بی پنک لب اسٹک اور آنکھوں کے نیچے بے بی پنک پنسل لائنر لگالیا اور دراز پلکوں پہ پنک افشان ڈال لی تھی ۔اسکا میک اپ ہمیشہ چنا سا ہی ہوتا ہے۔
والز اور سیلینگ پہ بڑی مہارت سے ذیزائننگ بنائی گئی تھی۔ابیرہ نے لیپ ٹاپ پہ فیری ٹیل مووی لگائی۔
جس پہ باربی ایک ہاتھ سے اپنے فراک کا گھیر اٹھائے ہوئے اپنے وسیع کاسل کے سامنے گھول گھول گھوم رہی تھی۔
اسکے ہاتھ کا پٹا کھل چکا تھا اب وہ ہاتھ کو آرام سے موو کرسکتی تھی ابیرہ نے اپنے دستانے والے ہاتھ سے فروک تھاما اور دونوں پاؤں کے انگھوٹوں کو اونچا کیے گھول گھول گھومنے لگی۔
آج وہ ان پٹوں سے آزاد ہوئی تھی .اسلیے اسنے خود کے ٹھیک ہونے پہ ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی تھی.جس میں واحد وہ ہی تھی باقی کوئی بھی نہیں تھا
سوفٹ میوزک کی مسرور کن دھن نے اسے خوابوں کی دنیا میں پہنچادیا۔
اسنے اپنا نیو پنک کلر کا سیل آن کیا
فرسٹ نائٹ ان مائی پنک روم “.
وہ ٹی وی پہ دیکھتی جیسے وہ باربی اسٹیپ لیتی پیچھے پیچھے وہ بھی ایسا ہی لینے کی کوشش کرتی۔
شہزادے نے گھول گھومتی باربی کو تھام لیا۔
یوں اچانک اینٹری پہ وہ رکی۔
پرنسس ابیرہ کا شہزادہ ابھی اس کے عشق میں مبتلا نہیں ہوا تھا
ایک بے چینی اس کے رگ و پے میں سرایت کرگئی۔
اداس ہوکے وہ اپنے بیڈ پہ گری ۔
پھر کچھ لمحے ایسے پڑے رہنے کے بعد اسے چھت پہ نصب فانوس دکھا ۔
فورا اٹھ کے بیڈ پہ چڑھ کر زور زور سے اچھلنا شروع ہوگئی ۔
بیڈ کے عین اوپر کرسٹل کا فانوس لٹک رہا تھا۔پنک پرل کی لڑریا اس میں جھول رہی تھی۔
ابیرہ نے اچھل کے اسے چھونے کی کوشش کی ۔
لمبی لمبی لڑریا بہت دلکش لگ رہی تھی۔
لمبے لمبے جم مارنے کی تردود وہ مسلسل جارہی رکھے ہوئے تھی۔۔۔۔اسے یوں کرنے میں مزا آنے لگا۔
اس طرح وہ اپنے شہزادے کو بھولنے کی کوشش میں لگ گئ۔
۔۔۔۔
بے چین واثق اپنے کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا۔اچانک دھم دھم آواز آنا شروع ہوئی ۔اس نے ونڈو میں جھانکا۔
لان میں سناٹا پڑا تھا ۔چوکیدار بھی کوٹیج میں جاچکا۔
مسلسل آواز سے اسے خوف محسوس ہوا۔
اپنے کمرے سے باہر نکل کر لان میں دیکھا۔
جو اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
کودھنے کی آواز سناٹے میں مزید بلند ہوئی۔
آواز اوپر سے آتی محسوس ہوئی۔
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں کو ریلنگ سے تھامے چڑھنے لگا۔
اوپر صرف ابیرہ اور مہرام کا روم تھا۔
مہرام کسی پارٹی میں گیا ہوا تھا ابھی تک گھرلوٹا نہیں تھا۔
وہ اسکے روم کے ڈور کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
اندر سوفٹ میوزک کی دھن بجھ رہی تھی جب کے دھم دھم کی آواز سارے میوزک کا بیرہ غرق کررہی تھی۔
واثق نے ذرا سا کھلا دروازہ پرے دھکیلا۔
اندر کا منظر دیکھ کے وہ ساکت رہ گیا۔
پھٹی پھٹی آنکھیں خوابوں کی شہزادی کو ٹک رہی تھی۔
پرنسس ابیرہ واپس رقص کرنے لگ گئی تھی۔
شاید فیری ٹیل باربی کا شہزادہ منظر سے غائب ہوچکا تھا۔
اور اصل فیری ٹیل شہزدای ابیرہ کا شہزادہ منظر عام پہ آچکا تھا۔
گھول گھومنے سے اسکا گھیردار فروک پنکھے کی طرح ہوا میں زمین سے اونچا گھوم رہا تھا۔
ایک ہاتھ اسنے ہوا میں بلند رکھا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ وقفے وقفے سے گھماتی تھی۔
میوزک اپنے احتتامی مراحل کی طرف گامزن تھا۔
فیری ٹیل کی باربی کے رقص میں تیزی آگئی تھی۔اسی طرح پرنسس ابیرہ کے چکر کی رفتار نے تیزی پکڑ لی تھی۔
اب میوزک تھم چکا تھا۔
سیل پہ آدھے گھنٹے سے ویڈیو بن رہی تھی۔
جو ابیرہ نے اسٹارٹ کرکے مووی بنانے کے لیے ایک سائیڈ رکھ دیا تھافیری ٹیل کی باربی خود کو خم کرکے شو ختم ہونے کی اطلاع دے رہی تھی سب نے تالیاں بجا کر داد دی۔۔
وہ مسکراتی پردے کے پیچھے غائب ہوگئی۔
ریئل فیری آف ارتھ نے بھی خود کو خم دے کر اپنے دلکشی سے سجائے کمرے سے داد وصول کی۔
اور پیچھے پلٹی۔
جہاں دو آنکھ کتنے ہی لمحے سے بنا پلک جپکائے اس جادوئی دنیا میں کھو چکی تھی۔
وہ کون تھا کہاں تھا اسے کچھ ہوش نہیں رہا تھا۔جو تھا یہی تھا
ایک شہزادی تھی۔
رقص کناں تھی۔
دلکش مسکراہٹ سجائے وہ دل سے محو رقص تھی۔
ریئل فیری آف ارتھ۔
واقعی وہ اتنی حسین ہے اک دم شہزادیوں جیسی۔
واثق نے اسے اپنے طرف دیکھ کر چونک کے واپس اسے دیکھا۔
وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اپنی نظریں نہیں ہٹانا چاہتا تھا۔یہاں تک پلکیں پہ جھپکانا اسے رکاوٹ لگی۔
اتنا نازک ہے اُس کے لب و رُخسار کا رنگ ۔ ۔ ۔
اُڑنے لگتا ہے اگر غور سے دیکھا جائے ۔ ۔
بے بی پنک نیٹ کے لمبی گھیردار فراک میں وہ اس دنیا کی بلکل نہیں لگی۔
ہاں یہ پریستان سے آئی ہوگی۔
دل نے اسے اہم معلومات فراہم کی۔
ریشمی بادامی بالوں کے جھورے کو اسنے کئی بار دیکھنے کی کوشش کی مگر وہ چہرے سے نظریں ہٹاتا تو دیکھتا نہ۔
پلکوں پہ گری افشاں جگمگ جگمگ کرتی اس کے دل کے تاریک آسمان کو روشن کرگئی۔
چہرے پہ آتی لٹیں وہ بار بار کانوں کے پیچھے کرتی مگر وہ آوارہ لٹیں واپس چہرے پہ جھولنے لگ جاتی۔
واثق کے کبھی سے اس طرح دیکھنے پہ وہ فورا چینج کرنے باتھ روم بھاگی۔
وہ کچھ لمحے وہی کھڑا رہا ۔
محبت ۔۔۔
دلفریب حسن۔۔۔
اسے یہ الفاظ ناجانے کیوں یاد آنے لگے۔
نہیں ۔۔۔۔۔حسین ۔۔نہیں
“حسین ترین جادوگرنی “
“یو آر آ ویچ ابیرہ “
“پرنسس ابیرہ، یو اسٹال مائی ہارٹ ویتھ آؤٹ پرمیشن۔”
کوئی اسے جاکے بتادے دل کوئی چراتا نہیں بلکہ آپ خود سجاکے اپنے محبوب کو پیش کرتے ہیں ۔
اور کہتے ہیں اسنے چرایا
“”
لفظ محبت صرف چار حرفی ہے لیکن ایک انسان کو سینکڑوں بار بغیر خوابوں کے جنت دیکھا دیتی ہے۔
لاکھ مرتبہ بغیر موت کے اجل کی نیند سلادیتی ہے۔
محبت کیا ہے کون بتا سکتا ہے۔
کوئی نہیں ۔
محبت دنیا کے ہر شے پہ زائل ہے ۔
ہر وجود میں پنہاں
ہر یادوں کی نگری میں بستی ہے
محبت روحوں میں اترتا سکون ہے ۔
محبت احساسات کی کنجی ہے۔
محبت ہر رنگ میں شامل ہر احساس میں گھلی ہوئی ہے۔
الغرض محبت ہی تو سب کچھ ہے ۔۔۔
وہ اپنے محبت شدہ وجود کو لیے کمرے میں آ گیا۔
کل تک اسکی نیندیں اسے دور کرنے کے لیے حرام تھی اور آج سے ابھی سے اس کی روح اسے پانے کے لیے بے تاب تھی۔
وہ چاہیئے ۔۔۔صرف وہ چاہیئے۔۔۔ابھی چاہیئے
دل باربار ایک ہی رٹ لگایا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی کےگاڑدن کے بینچ پہ بیٹھی وہ اپنی پریزیشن کی تیاری کررہی تھی جب کسی کی نگاہوں نے اسے دسٹرب کیا۔
سر اٹھانے پہ اسے کچھ فاصلے پہ مہرام شاہ دیکھائی دیا۔
مہرام شاہ کسی سے باتیں کررہا تھا مگر نظریں اس پہ جمی ہوئی تھی۔
مسٹر مہرام شاہ اپنی نظروں کو قابو میں رکھیے ۔وہ اٹھ کے اسکے پاس آئی۔ جو مسلسل اسکی نگاہوں کے حصار میں تھی۔احمقوں کی جنت میں رہنا چھوڑ دیں مس محرما شازیب۔۔۔
“اگر مشرق مغرب شمال اور جنوب ان چاروں سمتوں میں بھی آپ موجود ہونگی تو میں اپنی آنکھیں بند کرلونگا کجا آپ کو دیکھنے کے “، وہ نگاہیں دوسری طرف مرکوز کرکے بولا۔
سفید جھوٹ تھا ظالم کی سرخ ہونٹوں پہ ۔
محرما نے حیرت سے اسے دیکھا جو کئی دیر سے اسے دیکھتا رہا تھا اور اب اعتراف کرنے سے بھی گریزاں تھا۔
مہرام کی نظر محرما کے شانے سے ہوتی ہوئی شاویز پہ پڑی جو بالیقین اسے ہی ڈھونڈ رہا ہوگا۔
وہ بنا کچھ کہے مڑی ۔۔
مہرام نے فورا اسکا ہاتھ تھاما ۔
یہ کیا بدتمیزی ہے وہ چلائی۔
وہ محرما کے پیچھے آتے ہوئے شاویز کو دور سے دیکھ رہا تھا جو اسی طرف آرہا تھا لیکن راستے میں کسی نے اسے روک لیا تھا ۔
موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
مہرام محرما کو کھینچ کے ایک کونے میں لے گیا۔
جہاں درختوں کا جھرمٹ تھا۔
محرما کو درخت کے پیچھے لگادیا تھا اور خود شاویز پہ نظر رکھے ہوئے تھا۔
اس اچانک حرکت پہ وہ بوکھلاگئی۔
وہ بدستور ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔
وہ اسے اس بندر کے ساتھ ہنستی مسکراہٹے قطعی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
ایک ہاتھ سے اسنے پاس سے گذرتے اسٹوڈینت کو بلایا.
اسٹوڈینت کے پاس آنے پر اسنے محرما سے بچ کر اسے کان میں کچھ کہا۔
اوہو بریکنگ نیوز ۔۔۔۔۔۔کسی نے ان دونوں کو یہاں دیکھ لیا تھا۔
ہر وقت پیچھے پڑا ہوتا ہے۔
وہ شاویز کو غصے سے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔
محرما کو وہ نفسیاتی لگا میرا ہاتھ چھوڑو مہرام شاہ۔وہ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی
نہیں چھوڑونگا اسنے ڈھٹائی سے کہا۔
اس جرات پہ وہ دانت چباکے رہ گئی۔
میرے پاس بہت سے طریقے ہیں خود کو چھڑوانے کے۔
پھر آزماؤ دیر کس بات کی ہے وہ اب شاویز کو لائبریری کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔اس لڑکے نے اپنا کام کردیکھایا تھا۔
مہرام اب پورے ہوش وحواس کے ساتھ اسکی طرف متوجہ ہوا۔
جی کیا فرمارہی تھی آپ۔۔۔
محرما نے اپنے اسکارف پن نکال کر اسکے ہاتھ میں گھسادی۔یہ فرمارہی تھی اسنے عملی ثبوت دیا۔چھبتی ہوئی پن کوئی تکلیف نہیں دے رہی تھی۔ پن نکلتے ہی خون کی بوند ابھر آئی۔
لیکن اب بھی ہاتھ نہیں چھوڑا گیا تھا۔یہ کوشش بھی ناکام گئی۔
الٹے ہاتھ سے درخت کا پتا توڑ کر اسنے وہ ننھی بوند صاف کی۔
مجھے کلاس کے لیے لیٹ ہورہا ہے۔وہ ان سنی کرگیا۔
شاید وہ شاویز کا لائبریری کے اندر پہنچنے تک، اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
چھوڑو نہ شاویز مجھے دھونڈ رہا ہوگا۔
محرما نے نئا طریقہ آزمایا۔
اسکے منہ سے شاویز کا نام سنتے ہی مہرام کے تن بدن میں آگ لگی۔
رعونت اسکے چہرے پہ در آئی۔
وہی جو کل اچھل رہا تھا ۔۔
ہونہہ وہ تمہیں کیوں دھونڈنے لگا بھلا۔
مہرام نے براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکا ۔
شفاف چہرہ دل کو مٹھی میں کرنے لگا تھا۔
وہ ۔۔وہ ۔۔۔کمبائن اسٹڈی کرتے ہیں نہ ہم م م ۔۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ نہیں پارہی تھی۔
نظریں چراتے جواب دیا۔
ہم ،۔۔۔ وہ اسکے لفظ ہم کو دہرانے لگا۔
ہم ۔۔۔پرانی نفرت ایک بار پھر پلٹ آئی۔
مہرام نے اسکا منہ ہاتھ سے دبوچا ۔انگلیاں جبڑے میں پیوست ہوچکی تھی۔
ہاتھوں کی گرفت مزید مضبوط ہوگئی تھی۔وہ اپنا غصہ محرما پہ اتارنے لگا۔
شعلہ زن آنکھیں پراسرار سی تھی۔
تمہیں کہا تھا نہ میری نظروں کے سامنے مت آیا کرو سمجھ نہیں آتی تمہیں ۔نخوت سے اسے کہا۔
انا نے ایک بار پھر اپنا اثر دیکھانا شروع کردیا۔تکلیف کے مارے آنسو پلکیں بگھو گئے تھے۔
وہ اپنے دفاع کے لیے کچھ بول ہی نہ سکی بولتی بھی کیسے ۔۔۔
محرما کو اپنی بے بسی پہ بہت رونا آیا۔
مہرام نے اچانک اسے چھوڑا ۔
انگلیوں کے سرخ نشان اسکے چہرے پہ اپنا چھاپ چھوڑ گئے تھے۔اسنے بھاگنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگائی۔
علاجِ دردِدل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا
عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا
ابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم
یہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا
تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا۔
دم آخر مری بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا
فرشتہ موت کا پھر آئے پردا ہو نہیں سکتا
نہ برتو ان سے اپنائیت کے تم برتاؤ اے مضطرؔ
پرایا مال ان باتوں سے اپنا ہو نہیں سکتا ۔
دل خون کے آنسو رورہا تھا۔
مہرام کے سینے کے بائیں جانب ٹیس اٹھی ۔مٹھی بند کرکے زوردار مکا درخت کو لگایا۔درخت کو کوئی فرق نہ پڑا البتہ اسکی انگلیاں بری طرح درد کرنے لگی۔
سارا جسم جلن سے جھلس رہا تھا۔
رقابت کی تڑپ رگ و پے میں سرایت کرچکی تھی۔
کب تک وہ اسے شاویز سے دور رکھتا رہے گا۔
کیوں اسے دیکھ کر سارا چین غارت ہوجاتا ہے۔
ان سوالوں کے جواب خود اسکے پاس نہیں تھے۔
