438.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 29

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

بابا جان

وہ انکے پاس بیٹھی تھی ۔ڈاکٹر نے آپریشن کامیاب کردیا تھا۔اسے زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل چکی تھی۔بابا اسنے ایک بار واپس پکارا ۔انہیں ایمرجنسی میں شہرشفٹ کیا گیا تھا۔گاؤں میں ہارٹ ڈسیسیز کا علاج نہیں ہوتا تھا۔

محرما نے پوری رات جاہ نماز اور سجدوں میں نکالی تھی۔آخری سائباں تا حیات اس کے ساتھ رہنے کی دعائیں مانگی تھی.اپنوں کی موت اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا دل کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے مانند ہے.اسنے دو موت دیکھی تھی اپنوں کی. تیسری موت وہ نہیں دیکھ سکتی تھی .اسنے اپنے تمام نیکیوں کے بدلے اپنے بابا کی زندگی مانگلی تھی کون کونسے واسطے ,وسیلے دیے تھے اس رب عزوجل کو .جو موت اور زندگی پہ قادر ہے اس بار اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا گیاتھا .اسکی جھولی مرادوں سے بھر دی گئی تھی .خدا نے اسکے بابا کو نئی زندگی سے نواز دیا تھا.

وقت نے گزرا وقت واپس نہیں دھرایا تھا.

…….

کتنے تکالیف اسکے چہرے پہ نمایاں تھی اسکا کاجل اب تک پھیلا پوا تھا ۔اسنے کل سے منہ تک نہیں دھویا تھا کپڑے بدل گئے تھے۔

وہ دونوں ہاتھوں کو دراز کیے اپنے بابا کی زندگی مانگ رہی تھی۔مہرام نے بھی مسجد کا رخ کیا۔وہ خدا سے سچے دل سے کسی اور کی زندگی مانگ رہا تھا۔پہلی بار وہ سیلفش نہیں ہوا تھا ورنہ ہمیشہ اپنی لیے یا گھر والوں کے لیے مانگتا رہا ہے

لوگوں کے لیے بھی مانگنا چائیے ہم دوسرے کے لیے جو مانگے گے اللہ ہمیں وہ بنا مانگے دے گا۔جس کی سوچ بھی ہمیں نہیں ہوگی.

محرما کا درد اس سے دیکھا نہیں جارہا تھا۔

وہ دل کو بمشکل سمجھائے بیٹھا تھا۔

کاش وہ نکاح سائن کرلیتی تو وہ اسے خود میں چھپا کر اسکے تمام درد سمیٹ لیتا۔

بابا آپ ٹھیک ہوجائے میں آپکا ہر کہنا مانوگی وہ رو رو کر انسے فریاد کررہی تھی پچھلے دو سالوں میں وہ ٹوٹ چکے تھے زندگی ویران ہوگئی تھی ۔اگر محرما اور ایمل نہ ہوتی تووہ مرچکے ہوتے

بابا جان نے اپنی آنکھیں کھولی۔ان کی لخت جگر ان کے پاس بیٹھی تھی ۔کپکپاتے بوڑھے ہاتھ محرما کے ہاتھوں میں تھے۔

زندگی بھی کیسے کیسے ستم کرتی ہے۔پورا خاندان اجڑ چکا تھا۔اپنوں کے خون ایسے سفید ہوتے ہیں کیا اسے انسانیت کہتے ہیں ۔

وہ دونوں باپ بیٹی کو دھوکے میں رکھا گیا تھا.

میری بچی رو مت وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے بولے۔سفید مریض کے لباس میں وہ کتنے کمزور لگ رہے تھے.ایک ہاتھ پہ ڈریپ لگی ہوئی تھی.

بابا سوری مجھے معاف کردیں آپ جو کہےگے میں کرونگی ۔ بس آپ ٹھیک ہوجائیں .میرے ساتھ گھر چلیں وہ آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہہ رہی تھی وہ انکا ہر جائز و نا جائز کہنا ماننے کو تیار تھی

اگر وہ جان بھی مانگتے تو بنا احتجاج کے دینے کو تیار ہوجاتی .ایسی ہی ہوتی ہے بیٹیاں اپنا آپ قربان کرنے والی,اپنی زندگی کی ہر سانس والدین پہ لٹانے والی.

۔۔۔۔۔

محرما کاغذات پہ سائن کرچکی تھی۔وہی وارڈ میں وکیل کے ساتھ نکاح کے پیپر سائن کروائے گے تھے.جن میں عالم شاہ اور مسز عالم بھی شریک تھے.مسز عالم محرما کے گلے ملی اور عالم شاہ اپنے بیٹے کو مبارک باد دینے لگے.وہ فقط ایک معاہدے کے تحت پیپر سائن کرنے کو راضی ہوئی تھی.اسے مہرام کی مسکراہٹ زہر لگ رہی تھی .دل چاہ رہا تھا اسکا منہ نوچ لے.

دعائیں پوری عاجزی کے ساتھ مقبول ہوچکی تھی.

مہرام کو اتنی وسیع دنیا اپنی مٹھی میں بند ہوتی محسوس ہوئی.زندگی کی تمام خوشیاں اسکی جھولی میں ڈال دی گئی تھی .اپنی جان سے عزیز محرما کو اسکی اہلیہ بنا دیا گیا.

وہ خود کو ہوائوں میں اڑتا محسوس کررہا تھا.

یہ نکاح صرف دیکھاوا ہے تم مجھے طلاق دوگے وہ اسے دانت چباتے ہوئے کہنے لگی۔سب کے جاتے ہوئے وہ اس کے پاس جاکر آہستہ آواز میں مخاطب ہوئی .

میں جان تو دے سکتا لیکن طلاق ہر گز نہیں دونگا۔وہ مہرام شاہ ہے محرما یہ کیسے بھول سکتی ہے.

اتنا پاگل تھوڑی ہوں جس نکاح کے لیے اتنے پاپر بیلے .اسے باآسانی ختم کردوں .وہ حظ اٹھاتے بولا.ڈبی ڈبی مسکراہٹ اب غائب ہوچکی تھی

اگر مجھ سے چھٹکارا پانا پے تو میرے مرنے کی دعا کرو۔بیوا ہوجاؤگی لیکن مجھ سے آزاد کبھی نہیں ہوگی وہ کہہ کر رکا نہیں چلاگیا۔

وہ دشمن جان اسکا سرتاج بن چکا تھا .لیکن اسے کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی بلکہ زندگی نے اسے ایک نئی مصیبت کے حوالے کردیا تھا.

….اسے اپنی مانگی ہوئی دعائیں یاد آگئی جو کچھ وقت کے لیے رنگ لائی تھی پھر واپس وہی دعائیں اسے لوٹا دی گئی تھی . عمر بھر اس شخص کی منکوحہ بنا دیا گیا تھا.

دنیا کے بدترین شخص کو اسکے پلے باندھ دیا گیا تھا.

محرما نے بھی قسم کھائی تھی وہ مرجائے گی لیکن اسکی بیوی نہیں بنے گی.وہ تڑپ جائے گا ,اگر ناک رگڑرگڑ کر بھی وہ معافی مانگے گا پھر وہ اسے معاف نہیں کرےگی.

……

شازیب کی طبیعت میں کافی حد تک سنبھلاؤ آچکا تھا.وہ لوگ ہسپتال سے گھر شفٹ ہوچکے تھے .جہانزیب نے سبکی کے مارے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا تھا .شازیب صاحب کے ہوش آتے ہی وہ گاؤں لوٹ چکے تھے .ویسے بھی وہ کیا منہ دیکھاتے..

محرما نے زہریلی نگاہ مہرام پہ ڈالی جو عالم شاہ کے ساتھ بیٹھا تھا.ابیرہ بھی ساتھ تھی جو اپنی سہیلی اور بھابھی سے ملنے آئی تھی .

ابیرہ تمہاری بےبی کتنی کیوٹ ہے محرما نے اسے گودی میں اٹھاتے ہوئے کہا.وہ اسے نرم پنک گالوں کو نرمی سے چھورہی تھی .کیسا مخملی سا احساس تھا.وہ بے بی کے ہسنے پر خود بھی ہنسنے لگتی.

مہرام اسکی حرکات کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا.ہاں مجھ پہ گئی ہے کیوٹ تو ہوگی نہ.وہ ایک ادا سے بولی.

ہاں تو بھابھی جی آپ نے میرے بھائی جیسے انسان کو اپنا گرویدہ کرلیا ہاؤ اسٹرینج ..

وہ محرما کو دیکھ رہی تھی جو وہی عام سے حلیے میں تھی .

محرما اسے قطعی نظر انداز کرتی ہوئی ابیا کو لے کر روم میں آگئی.

وہ بھی اسکے پیچھے کمرے میں آگئی باہر مہرام کے سامنے وہ پزل ہورہی تھی.

میڈم اب آپ شادی شدہ ہے کچھ تو احساس کرلے ہماری بھائی کا جس نے دو سال کس طرح آپ کے فراق میں گزارے ہیں .میں نے دیکھا ہے اسے سسکتے ہوئے پوری پوری رات سجدوں میں گزارتے ہوئے.

تو آپ بھی اسکے ساتھ شامل تھی .

نہیں اسنے کسی کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا مگر جب بھی میں کراچی آتی اسے بے چین پاتی سارا سارا دن وہ گھر سے باہر رہتا.خود کا اسے ہوش تک نہیں رہتا تھا.

جو شخص مسلمان ہونے کا مطلب نہیں جانتا تھا آج وہ تہجد گزار ہوگیا ہے .اذان ہونے سے قبل وہ مسجد پہنچ جاتے ہیں .

مجھے نہیں معلوم کیا ہوا تھا. تم دونوں کے درمیان مگر میں اتنا جانتی ہوں اتنا بدلاؤ آنا کسی میں .یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے .پتھر کو سونا بننے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے .بے رحم وقت کی کئی ضربیں سہنی ہوتی ہے .میں مانتی ہوں تم نے اپنی جنت کو کھویا ہے اپنے بھائی کو کھویا ہے .لیکن یہ سب تمہاری قسمت میں لکھا ہوا تھا .اس میں میرے بھائی کا کوئی عمل دخل نہیں .اسنے تمہارے ساتھ جتنے بھی ظلم کیے ہے اس کے بارے میں ,میں تم سے معافی نہیں مانگونگی.

لیکن مجھے یقین ہے وہ خود تمہیں منا لے گا.

ابیرہ بے بی ابیا کو بھوک لگ رہی ہے .محرما نے اسکی باتوں کو نظر انداز کر کے ابیا کو اسے تھمایا.اور باہر نکل گئی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو

ابیرہ صرف اسکی پشت دیکھتی رہ گئی.

…….

مہرام بھائی آپ کو صرف اب اللہ ہی بچا سکتے ہیں .میں جتنی کوششیں کرسکتی تھی کر لی.اب آپ ہی اسے سمجھائے .

وہ اتنی سخت دل نہیں تھی آپ نے اسے بہت دکھ دیے ہیں تبھی اتنی سنگ دل ہوگئی ہے .مجھے ایک بار تو معلوم ہوتا وہ اکیلے اکیلے تمام دکھ سہتی رہی ہے اسنے مجھ سے اف تک نہیں کیا یہاں تک بھنک بھی پڑنے نہیں دی اگر کوئی اور ہوتی تو اب تک وہ کیا کیا کرچکی ہوتی تھی

ایک آئیڈیا ہے میرے پاس .

اسکی رخصتی کروادیتے ہیں شاید آپ کے سامنے رہ کر اسکا دل پگھل جائے .

ابیرہ نے اسے مشورہ دیا.

میرے سامنے رہ کر وہ اس طرح کرے گی تو مجھے اور تکلیف ہوگی.میں جیتے جی اسکی چاہ میں مرجاؤنگا .میرے ہوتے ہوئے بھی وہ میری نہیں ہے وہ بے بسی سے سوچنے لگا.

ایمل بھی رکنے آئی تھی .اسکا پیارا سا بیٹا محرما کو خالہ پکارتا تھا