574.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 35

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

وہ کمرے میں جاکر پیپر سائیڈ پہ پھینک کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی .شکر ہے کسی نے اسے یوں بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا.

مہرام کیوں کیا تم نے ایسا ….

سر کی رگیں چِلانے سے تن چکی تھی

وہ دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے کتنی دیر روتی رہی.

کسی نے کیا خوب کہا ہے

محبت جنم سے پہلے مرگ ہوتی ہے .

واقعی محبت اسکے لیے مرگ بن چکی تھی.مہرام کا ٹوتا لہجہ اسکے دل و دماغ پہ طاری تھا.سسکتے ہوئے وہ مہرام کے تصور سے شکوہ کناں تھی.

تم نے مجھے اپناکر بھی ادھورا ہی رکھا مہرام .صرف ایک بار

ایک بار ہی مجھ سے میری رضا پوچھ لیتے.میں تمہیں کبھی بھی ایسا نہیں کرنے دیتی.کبھی خود سے الگ نہیں ہونے دیتی.

میں تم سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کرونگی.وہ گھڑی میں وقت دیکھتی مضبوط لہجے میں بولتی آنسو پوچھنے لگی.میں وہ تمام محبت وصول کرونگی جو اتنے سالوں میں تمہارے دل میں پنہاں تھی..تم اس طرح مجھے ادھورا چھوڑ کر نہیں جاسکتے .

…….

وہ کئی بار اسکے کمرے میں آئی مگر وہ ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا وہ اکثر پوری پوری رات گھر سے باہر مسجد میں گزارتا ہے.کونسی مسجد میں گزارتا ہے یہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم ہوسکا.مسز عالم نے اسے بتایا.

انتظار اسکے لیے کٹھن ہوگیا تھا .وہ کبھی گھڑی پہ نظر جماتی .کبھی اسکے کمرے میں جاکر دیکھتی .وقت سست روی سے گزررہا تھا.وہ مایوس ہوکر صوفے پہ بیٹھ کر انتظار کرنے لگی .ناجانے کب اسکی آنکھ لگ گئی.

کچھ دیر بعد اسکی آنکھ کھلی وقت دیکھ کر وہ ہڑبڑاکے اٹھی اور فورا منہ دھوکر اسکے پاس گئی.

دروازہ ناک کیے بغیر وہ اندر چلی گئی

کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا .اسنے کمرے کا جائزہ لیا مگر مہرام اسے نہیں دِکھا.پھر اسنے غور سے دیکھا تو مہرام شاہ بیڈ پہ لیٹا پڑا تھا.محرما نے کمرے کی لائٹ روشن کی مگر وہ پھر بھی نہیں ہلا.

کراھنے کی ہلکی آواز مسلسل آرہی تھی.

مہرام …اسنے کتنی ہی آواز دے ڈالی.مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا.

وہ بیڈ کے پاس آکر اسے دیکھنے لگی.

آنسوؤں کے نشانات چہرے پہ اب تک موجود تھے.سرخ چہرہ عجیب سا حلیہ ,بکھرا وجود دیکھ کر تڑپ اٹھی اسکی ایسی حالت محرما کا سکون غارت کرگئی تھی.آنسوؤں کے نشانات اسکے چہرے پہ واضح نظر آرہے تھے.محبت کیسے برباد کرتی ہے.آج منہ بولتا ثبوت اسکے سامنے تھا.

محرما نے اسکے آنسوؤں کو صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا.اسکا چہرہ, پورا جسم بخار سے تپ رہا تھا.محرما نے فورا ہاتھ ہٹالیا.

اففف…. اتنا بخار ہے.

بخار سے اسکے کان اور ناک بھی سرخ ہورہے تھے .وہ اسکے پاس بیٹھ کر فورا ٹھنڈے نمکین پانی کی پٹیاں اسکے ماتھے پہ رکھ رکھ کر بدلنے لگی. کتنی دیر کرنے کے بعد بھی بخار جوں کا توں ہی رہا .اس نے مسز عالم کو بتانے کا سوچا مگر اتنی رات کو وہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی .اسنے بیڈ کی سائید میں موجود دراز کھنگالی جس میں اسے کچھ ٹیبلیٹ مل چکی تھی اس میں سے ایک ٹیبلیٹ نکالی جو لوگ اپنے گھر میں ایمرجنسی کے طور پہ رکھا کرتے ہیں .

مہرام اٹھو یہ دوائی پی لو وہ اسے ہلانے لگی مگر وہ بمشکل سے آنکھیں کھول کر واپس بند کرلیتا .بخار سے اسکی آنکھیں جل رہی تھی.کراہنے کی آواز اب بھی آرہی تھی.

وہ کیسے اسے یوں لیتے لیتے گولی پلاسکتی ہے.

محرما نے وہ گولی کچن میں جاکر پیسی اور تھوڑے سے پانی میں گھول دی.

وہ واپس اسکے پاس آئی .اسکا سر اپنے ہاتھوں سے ذرا سا اونچا کرکے چمچ سے وہ گھلی ہوئی دوائی پلانے لگی.

تھوڑی محنت کے بعد وہ پلانے میں کامیاب ہوچکی تھی.

محرما اسکا سر اپنی گود میں لیے وہی بیٹھی رہی.کچھ کچھ دیر بعد وہ اسکا بخار چیک کرتی رہی.اور ساتھ ساتھ سورتیں پڑھ کر اسے پھونک بھی مارتی.

محبت نے مضبوط مہرام کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تھا.وہ اندر ہی اندر ختم ہورہا تھا .مسز عالم بھی اسکے لیے پریشان رہتی مگر اسے کچھ نہیں کہتی صرف چھپ چاپ اسے دیکھتی رہتی.وہ بہت کچھ بولنا چاہتی تھی مگر اپنے ہی بیٹے کی وجہ سے مجبور تھی.اسنے محرما کے ساتھ کسی بھی طرح کی زبردستی کرنے سے منع کیا ہوا تھا.

مہرام آج میں خود چل کر تمہارے پاس آئی ہوں اپنے دل کا حال سنانے ,اپنے بکھرے وجود کو تمہارے پاس لے آئی ہوں اب میرا کرچی وجود تمہیں سمیٹنا ہے .تم ہی میرے تمام زخموں پہ مرہم رکھ سکتے ہو.

پلیز مہرام ٹھیک ہوجاؤ آنکھیں کھولو .میری بات سن رہے ہو تم وہ اسکا چہرہ تھپتھپانے لگی.بخار کی شدت اب کم ہوچکی تھی.محرما کی گودی میں وہ سکون کی گہری نیند سورہا تھا.

کیسا سکون اسے میسر آیا تھا.تمام دعاؤں کا صلہ اسے مل چکا تھا مگر وہ اپنی محبت کا سکون دیکھنے سے قاصر تھا . دنیا و مافیہا سے بے خبر گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا.

اسکا بخار سرے سے غائب ہوچکا تھا محرما نے سہی سے اسے چادر اڑائی اور لائٹ بند کرکے اپنے روم میں چلی گئی.

وہ رات بھر مہرام کے لیے بے چین رہی.محبت میں ناکامی انسان کو کئی کا نہیں چھوڑتی .اس کی شخصیت کو مسخ کرکے رکھ دیتی ہے.

……

فجر کی نماز پڑھ کر اسنے مہرام کی صحت اور لمبی عمر خیر و عافیت کے ساتھ مانگی .اسنے سوچ لیا تھا جیسے ہی وہ اٹھے گا محرما اسکے پاس جائے گی .وہ کچھ دیر سستانے کی غرض سے لیٹی.مہرام کو سکون دے کر اسے بھی کافی اچھا فیل ہوا تھا تمام بے چینی غائب ہوچکی تھی…وہ اپنے اور

مہرام کے خوبصورت رشتے کو سوچتے سوچتے ناجانے کب نیند کی وادی میں اتر گئی…..اگلی صبح اس کے لیے کیا عندیہ لے کر آنے والی تھی .اس سے محرما انجان تھی

……..

مام میں کچھ عرصے کے لیے آؤٹ آف آف کنٹری جارہا ہوں پاپا سے میں نے پہلے ہی بات کرلی ہے.آپ پلیز میری فکر مت کیجیے گا اور اپنا بہت سارا دھیان رکھیے گا.اور ہاں

کچھ یاد آنے پر وہ مڑا…

محرما کو جہاں جانا ہو …کہیں بھی رہنا ہو اسے جانے دیجیے گا ٹھیک ہے اور اگر میرے بارے میں پوچھے تو,,,

ایک درد اسکے چہرے پہ ابھرا

اول تو وہ پوچھے گی نہیں لیکن اگر غلطی سے پوچھ لے تو یہی بتانا جو میں نے آپ کو بتایا ہے .میں وہاں پہنچ کر اطلاع کردونگا .ٹھیک ہے وہ اپنی ماما کے ہاتھ کو چوم کر سامان اٹھائے باہر نکلا.

مسز عالم نے اس سے کئی سوالت کرنے چاہے مگر وہ اسے مزید دکھی نہیں کرسکتی تھی.اور نہ ہی روکنا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی.یہاں رہ کر اسے دکھ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا .اسی لیے اسے جانے سے نہیں روکا اور باقاعدہ کال کرکے اپنی خیریت ہر روز بتانے کا کہا.

دھیان رکھنا اپنا اور جلد واپس آجانا.مسز عالم نے اسکا ماتھا چوم کر گزارش کی.

مہرام نے جاتے ہوئے ایک نظر محرما کے کمرے کی طرف ڈالی.یقیناً پیپر سائن کردیے ہونگے.مہرام میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ پیپر دیکھ سکے لیکن صرف ایک بار وہ اپنی متاع حیات کو دیکھنا چاہتا تھا.پھر تو ایک لمبی جدائی ان کے درمیان آنے والی تھی . ایک بار ناک کیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا دروازہ بدستور اندر سے لاک تھا ورنہ وہ اسے ایک نظر دیکھ کر جاتا .دروازہ نہ کھلنے پر وہ ایک لیٹر نیچے سے ڈال کر چلاگیا.

سب خاک تھا

اک “ع” تھی پھر “ش” تھا

کچھ آگ تھی کچھ راکھ تھی

اک دشت تھا

اک بحر تھا

صحرا بھی تھا اور پیاس تھی

پھر اک خلا بے انت سا

اک بند گلی سا راستہ

ویرانیاں, تنہائیاں

پھر “ق”تھا

پھر سارا منظر راکھ تھا

سب خاک تھا…

” سوچا تھا آخری نظر تمہیں دیکھ لونگا.مگر شاید تم سکون کی نیند سورہی ہو.

محرما میں نے تمہیں تمہارے لیے آزاد کردیا ہے .مجھے معلوم ہے تم وہ پیپر سائن کرچکی ہوگی .مگر مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ تمہارا سامنا ان پیپرز کے ساتھ کرسکوں ..

میں تم سے بہت دور جارہا ہوں صرف تمہاری خاطر تاکہ تم اپنی زندگی اپنے سلیقے سے گزار سکوں .

تمہیں اپنی نئی زندگی بہت بہت مبارک ہو.

اب بس ایک ہی دعا لب پر جارہی رہے گی.کہ اللہ تمہیں وہ تمام خوشیاں دے جو میں نہیں دے سکا. میں تم کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا برداشت نہیں کرسکوں گا .اسلیے دعا ہے کہ آئندہ کبھی تمہیں دیکھنے سے پہلے مجھے موت آجائے مگر تم کسی اور کی بن کر میرے سامنے کبھی نہ آؤ.

تمہارا نہ ہوسکا تو کیا ہوا تمہارے ساتھ اتنی یادیں میرے دل کے خانے میں قید ہے . تم مجھے دیکھ کر نظریں بھلے ہی پھیر لیتی تھی .مگر میری نظر ہمیشہ تم پہ ہی ٹہری رہتی تھی اور پوری زندگی تمہارا ہی طواف کرتی رہے گی .میں بہت سے یادیں لے کر جارہا ہوں جو میرے لیے باقی ماندہ زندگی گزارنے کے لیے کفایت کرے گی

پلیز ہوسکے تو مجھے معاف کردینا.صرف ایک بار خدا کے آگے میرے لیے ہاتھ اٹھانا اور میری مغفرت کی دعا مانگنا میری آسان موت کی دعا مانگنا تاکہ میں سکون سے مر سکوں

مجھے بہت اچھا لگے گا

اللہ حافظ

اپنا بہت سا خیال رکھنا تاکہ میں سکون سے جی سکوں .

تمہاری محبت کا طلب گار “مہرام شاہ “

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ

ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ

ﭼﭗ ﮈﺱ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ

ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ مصدق

ﭼﭗ ﮐﺎ ﮈﺳﺎ

ﺳﺎﻧﭗ ﮐﮯ ﮈﺳﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺫﯾﺖ ﻧﺎﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ـ

ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ

ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﯿﺘﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ

ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ـ

ﺍﻭﺭ …..

ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ

ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ

” ﺑﮯ ﺣﺴﯽ ” ﻧﮯ ﮈﺱ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ_

……..

وہ.سب سے پہلے.اپنی یونیورسٹی گیا.محرما کے ساتھ گزارے ہوئے تمام لمحات کو محسوس کرنے لگا.بے شک وہ تلخ یادیں تھی مگر اس میں محرما اسکے ساتھ تو تھی.وہ درخت پہ پشت ٹکائے کتنی دیر کھڑا رہا..کس بےدردی سے اسکے گال ڈبائے تھے اسنے .

وہ تکلیف اسے اپنے گالوں پہ محسوس ہونے لگی.

پھر وہ لائبریری آیا.

آج بھی اسٹوڈینٹ کافی تعداد میں موجود تھے .وہ وہی مخصوص کرسی پہ جاکر بیٹھ گیا .جب پہلی بار وہ یونی میں اس سے مخاطب ہوئی تھی.کتنی ہی دیر اسے محسوس کرتا رہا .لائبریرین اور دیگر اسٹودینٹ اسے گھور رہے تھے .لیکن اردگرد سے لاپرواہ وہ تمام یادیں اکٹھی کرنے میں مصروف تھا.پھر وہ اٹھ کر اس ریگ کے پاس آیا جہاں اسنے محرما سے کتاب چھین کر پھاڑی تھی.ایک ایک کرکے وہ تمام جگہوں پہ وہ تمام یادیں پھر سے جینے لگا.

محرما کاش میں شروع سے ہی تمہاری قدر کرتا اپنی بے جا انا کا نشانہ نہ بناتا تو آج تم صرف مہرام شاہ کی ہوتی .الجھا چہرہ اپنے ماضی سے شکوہ کناں تھا.جھکی آنکھیں محبت کی شیدائی تھی.

سب سے آخر میں وہ اسٹور روم کی طرف آیا جب یونی کا احتتامی دن تھا.اسنے بے قصور لڑکی کو جانتے بوجھتے کتنے زخم دیے ہیں .کس طرح وہ یہاں سے آزاد ہوکر باہر آئی ہوگی.وہ اس جگہ پہ کتنے ہی پل سسکتا رہا .یہ سب میری ظلمت کا بدلا مل رہا ہے.

وہ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا.

“وہ دن جب تم تڑپوگے اپنے تمام ظلم یاد کرکے ، جو تمہاری انا نے ایک بے قصور پہ ڈھائے تھے ۔

اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں قصور تو اس غرور کا ہے ۔جھوٹی انا کا ہے جس نے تمہاری آنکھوں پہ مضبوط پٹی باندھ رکھی ہے تم اندھے ہوگئے ہو ۔خود کو جتنا بلند سوچوگے اتنا ہی زور سے زمین پہ گروگے ۔ایسی ٹھوکر کھاؤگے کہ اٹھ نہ سکوگے۔

محرما چلا رہی تھی.

مہرام کو اسکی چیخے ابھی تک گونجتی ہوئی محسوس ہورہی تھی.

تم نے ٹھیک کہا تھا محرما

میں بہت زور سے گرا ہوں زمین پہ .

اتنا زور سے.کہ مجھ سے اپنا ہی وجود سمیٹا نہیں جارہا.

تم ہر وقت صحیح ہوتی ہو.

لیکن میں ہمیشہ سے غلط رہا ہوں .

وہ آنسو بہا بہا کر تھک گیا تو وہاں سے باہر نکل آیا

“تمہارے غم کی ڈلی اٹھا کر

زباں پہ رکھ لی ہے دیکھو میں نے

یہ قطرہ قطرہ پگھل رہا ہوں

میں قطرہ قطرہ ہی جی رہا ہوں

پگھل پگھل کر گلے سے اترے گا آخری قطرہ درد کا جب

میں سانس کی آخری گرہ کو بھی کھول دوں گا

کہ درد ہی درد کی مجھے تو

دعا ملی اپنی زندگی سے

……

آنٹی مہرام کہاں گئے .وہ مسز عالم کے روم میں پہلی بار آئی تھی.رات کو تو ان کو اتنا تیز بخار تھا .ابھی میں دیکھنے گئی ان کے رو م میں .وہ وہاں موجود نہیں ہے.

پریشانی اسکے چہرے پہ عیاں تھی.

وہ کچھ عرصے کے لیے ابڑود گیا ہے.مسز نے سرسری سا اسے بتایا.محرما سکتے کی کیفیت میں آچکی تھی.

بقول اسکے ,یہاں اسے بے چینی رہتی ہے .

کیا …..

محرما صدمے سے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی .آنکھیں پتھراگئی تھی.وہ.بمشکل خود کو سنبھالے اپنے کمرے تک آئی.