574.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 13

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

بیٹا یہ سب کیسے ہوا مجھےتفصیل سے بتاؤ حواس باختہ مسٹر مسز عالم اور مہرام وہاں منٹوں میں پہنچے تھے۔ وہ خود سے یکسر غافل اسکی زندگی کی دعائیں مانگ رہا تھا ۔

زخم واثق کو بھی آئے تھے اچانک گاڑی بے قابو ہونے کی وجہ سے ابیرہ بے ہوش ہوگئی تھی۔اور وہ بھی کچھ دیر ہوش میں نہیں رہا ۔ہوش آنے کے بعد اسکی نظر بے ہوش پڑی ابیرہ پہ پڑی۔جس کی پیشانی سے خون رس رہا تھا ۔۔

اسے اپنی خبر نہیں تھی اور نہ ہی درد کا احساس ہوا ۔بس جو محسوسیات تھیں وہ صرف ابیرہ کے لیے تھی۔

وہ کتنی دیر اسکو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا رہا ۔

لوگوں کا رش لگ گیا تھا۔

پولیس کو بھی انفارم کردیا گیا تھا۔

آگے والی گاڑی کا مالک نا جانے کہاں غائب تھا۔پھر بھی ان کی گاڑی پولیس اپنے ساتھ تھانے لے گئے تھے۔

اسنے فورا ایمبولیس کال کی پھر مہرام کو ہسپتال بلایا۔

کیسے خطرناک گھڑی تھی جان حلق میں آگئی ہو جیسے۔

یہ حادثات انسان کی دنیا زیر و زبر کرنے کے لیے بڑے تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں ۔

ابیرہ کو فورا ایمرجنسی میں لے لیا گیا۔

ڈاکٹر نے اسکی بھی بیندیج کی بازو پہ گہرا زخم آیا تھامگر دل پہ کاری ضرب لگی تھی۔وہ چاروں بے تابی سےلال بتی کے بجھنے کا انتظا کررہے تھے جو بہت کٹھن ہوچکا تھا۔کوئی اپنا جب ہسپتال میں اس ایمرجنسی واڑد میں زیر علاج ہو تو ایسا لگتا ہے زندگی تھم گئی ہو وقت چل رہا ہے لیکن سانسیں رکی ہوئی ہو جیسے ۔

ان کی اکلوتی بیٹی ،جگر کا ٹکرا ان تینوں کی جان اس میں اٹکی ہوئی تھی ۔

بھلے مہرام اس جتنا بھی نالائق اور ناجانے کچھ بھی کہتا ہو۔

اس خبر پہ اس کی سانس ضرور اٹکی ہوگی ۔

یہی تو رشتے کہلاتے ہیں ،محبت بیدار کرنے کے لیے کوئی حادثہ درکار نہیں ہوتا بس درست وقت پہ سچےجذبے کو ابھارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

واثق نے آہستہ آہستہ پورا قصہ بتانا شروع کیا۔

وہ تینوں بینچ پہ بیٹھے اس کی تفصیلات سن رہے تھے۔

کس طرح اچانک بے دھیانی میں سڑک کے کنارے پارک گاڑی سے ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوجانا ۔یہ تو شکر وہ گاڑی میں کوئی موجود نہیں تھا۔

پھر بھی یہ پولیس کیس ہوا تھا ۔انھوں نے گاڑی اپنی تحویل میں لے لی تھی ۔جبکہ انھیں مزید تفصیلات بتانے کے لیے ٹھانے بلایا ہے ۔۔

پلیز ابیرہ کو اس معاملے سے دور ہی رکھنا پہلے سے وہ اتنی ڈری ہوئی ہوگی ۔

ماموں نے التجا کی ۔۔وہ پہلے ہی سوچ چکا تھا اس بارے میں۔۔

مسز عالم کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لےرہے تھے جبکہ مسٹر عالم کا ضبط کرتا سرخ چہرہ ، اپنی وائف کو چپ کرانے کی کوشش میں مگن تھے۔

ڈاکٹر نے تسلی بخش جواب دے دیا تھا۔

مسز عالم نے فورا شکرانے کے نفل ادا کیے جبکہ واثق خدا کے گھر اسکی دعائیں مقبول ہونے پہ شکر مانگنے گیا ۔

“کبھی سوچا بھی نہیں تھا”

کہ

“اتنا سوچے گے تم کو”

۔۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے فارغ ہوا ۔پولیس اسٹیشن سے کال آئی ۔اسے فورا کیس کی تفصیلات بتانے کے لیے وہاں پہنچنا پڑا۔

حادثے کی مکمل تفصیل اس نے ہیرا پھیری کر کے بتائی ۔ابیرہ کا ذکر وہ گول کرگیا۔جو ہوا تھا اسنے کیا تھا۔

میں نے تفصیل مہیا کردی ہے بہتر ہوگا آپ اس کیس کو یہی کلوس کردیں جو بھی نقصان ہوا ہے اسکا جرمانہ میں پائی پائی ادا کرونگا ۔بس آپ کیس میں مزید کوئی پیش رفت نہیں کرینگے۔

بھاری رقم ادا کرنی ہوگی تھانیدار نے اسے اکسایا۔

میں ڈبل رقم دونگا مگر مجھے میری گاڑی واپس چاہی ہے اور اس کیس کا نام و نشان تک ختم ہوجانا چاہیے۔

اچھا اچھا ۔۔۔۔

بڑی موٹی پارٹی معلوم ہوتے ہو ۔چلیں یہاں سائن کردیں انھوں نے فائل اسکی سامنے کی ۔ جہاں کیس کی تفصیلات اور نقصان کی ادائیگی کی تفصیل موجود تھی ۔اس نے جھٹ سے دستک کردیے ۔

یہ کچھ سامان ملا ہے گاڑی میں سے اسےلے جاؤ،گاڑی کچھ دنوں تک ہماری تحویل میں رہےگی پھر آپ کو پہنچا دی جائیگی۔

ان فارمیلیٹیز کو پورا کیئے بغیر ہم کیس کلوس نہیں کرسکتے۔

مہربانی بہت بہت اس نے ان سامان کا پیکٹ اٹھالیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔

ہر عورت دو زبانیں رکھتی ہے ۔ایک اسکی آنکھوں کی زبان اور دوسری مادری بولی۔اگر اسکی جذبات کو پرکھنا ہے تو اسکی آنکھوں میں جھانک لیا جاتے۔بنا تردود سب سمجھ آجائے گا۔

وہ اسی غرض سے اس سے ملنے گیا۔کہ شاید کچھ افاقہ ہوجائے لیکن میڈم صاحبہ سفید چادر اوڑھے بے سدھ پڑی تھی اہک ہاتھ پہ ڈریپ لگ رہی تھی ماتھے پہ پٹا بندھا ہوا تھا جبکہ ہاتھ میں موٹا گرم پٹا ٹائپ بندھا ہوا تھا۔نازک لڑکی کو کتنی چوٹیں آئی تھی ۔اسنے جھرجھری لی۔

سفید اور سرخ پھولوں کا گلدستہ بیڈکے پاس میزپہ رکھا ۔تازی تازی خوشبو سے وارڈ مہک اٹھا۔

اسے ہوش آچکا تھا جب وہ وہاں موجود نہیں تھا۔مہرام وہاں رکا ہوا تھا باقی لوگ گھر پہ چلی گئے تھے مسز عالم کو کچھ دیر کے لیے زبردستی گھر بھیج دیا تھا وہ توجانے کے لیےتیار ہی نہیں تھی۔ ماں جو ٹھری۔

ابیرہ،،،

واثق نے چند مرتبہ پکارا مگر وہ انجیکشن کے زیر اثر سوئی ہوئی تھی۔

جب پکارنے کا کچھ فائدہ نہ ہوا تو وہ اسے چند لمحے دیکھتا رہا۔

دنیا جہاں کی معصومیت اپنے زخمی چہرے پہ سموئے اسکی نگاہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

اگر زندگی نے اسے پالیا تو کچھ اور کی طلب باقی نہ رہے گی۔

پاگل دل نے ایک خواہش کی جسے رد کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

پاگل لڑکی۔

خود تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتی ۔کبھی معاف نہیں کرونگا تمہیں ۔

ایسے کوئی گاڑی چلاتا ۔وہ بھی تیس مارخان کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔

جو چیز صحیح آتی ہی نہیں اسے کبھی چیلنج کرنا چاہیے۔

بے وقوف لڑکی۔۔۔

صحیح کہتا ہے مہرام اگر ذرا سی بھی عقل ہوتی تو ہمارے تو وارے نیارے ہوجاتے۔

وہ اس سوئے ہوئے وجود سے کتنی دیر باتیں کرتا رہا۔

جو اس کے دیدار کے لیے بنا پلکیں جھپکائے نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔

اسنے کل صبح کی فلائٹ بک کرلی تھی

وہ مزید یہاں نہیں رکنا چاہتا تھا۔ اسکا دل تمام چیزوں سے اچاک ہوچکا تھا۔

ناجانے یہ کیسی کیفیات تھی ۔جسے وہ کوئی نام نہیں دے پارہا تھا۔

ثانیہ کا فون بند جارہا تھا

وہ کل سے فون ریسیو نہیں کررہی تھی ۔اور یہاں ابیرہ تھی جو اسکے دل میں ہل چل مچاچکی تھی۔

دو لڑکیاں اسکی زندگی میں آئی ہے دونوں ایک دوسرے کی برعکس تھیں۔

وہ سمجھ نہیں پارہا تھا ۔وہ ڈھونڈ نے ثانیہ کو آیا تھا۔

لیکن یہاں اسنے اپنا دل ہی کھو دیا تھا

ثمینہ پھوپھو کو اطلاع دے دی گئی تھی۔

وہ فورا اپنی بھتیجی کو دیکھنا چاہتی تھی اور کل وہ کراچی پہنچ بھی جائے گئی۔

واثق نے اسلام آباد جانے کی اطلاع اپنی مام سے خفیہ رکھی تھی

اسے ڈر تھا کہیں محبت کے سیلاب میں بہہ کر وہ اسکی منگنی ابیرہ سے نہ کروادیں

لیکن تم تو اسکے لیے کوئی جذبات رکھتے نہیں تھے تو اتنی بے چینی کیونکر۔

تکلیف میں وہ تھی آثار تمھارے چہرے سے بیان ہورہے تھے۔

کوئی اس کو باربار بہکا رہا تھا۔

کیوں تنگ کررہی ہو مجھے ۔وہ ابیرہ کو تصور میں ڈانٹے لگا۔

جو مزے سے صوفے پہ بیٹھی اسکی حالت پہ ہنس رہی تھی۔

یہ اسکا محض تصور تھا۔

میں ثانیہ کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا ۔

وہ خود کو باور کرارہا تھا۔

زندگی میں پہلی بار وہ بے چین ہواتھا ۔وہ بھی کسی لاپرواہ کے لیے۔

یو آر آ موسٹ اسٹوپیڈ گرل ان دان ورلڈ۔۔۔

۔وہ پوری رات ٹہلتا رہا ۔۔

نیند کی دیوی ابیرہ کو اسٹوپد کہنے پہ روٹھ گئی ہو جیسے۔

وہ دل کو سمجھاتا تو دماغ اپنے قابو میں نہیں رہتا۔

نکما دل بڑے لمبے لمبے خواب دیکھنے میں مصروف تھا اور وہ اپنی پیکنگ کرنے میں مشغول ہوگیا.

عقل دور سے تکتی رہ جاتی ہے اور محبت اپنا کام کر دکھا دیتی ہے بلا اجازت، محبت کسی کی محتاج نہیں ،یہ صرف ہونے کا نام ہے،۔عقل حیران رہ جاتی اور دل پریشان ۔

جیسے لق ودق صحرا میں برستی بارش کی پھوار

جیسے چراغ کی دھیمی دھیمی لو۔

جیسے چاندی رات میں چاند کی مدھم مدھم پھیلتی روشنی،

جیسے گلوں پہ گرتی شبنم کا نرم نرم احساس،

جیسےسرمگیں شام میں دھواں اڑاتی کافی کی مسحور کن مہک،

جیسے کہر آلود صبحوں میں سورج کی پہلی پہلی کرن۔

جیسے ٹھنڈی یخ بستہ راتوں میں انگیٹھی کی میٹھی میٹھی حدت،

جیسے گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو۔

جیسے جاڑے کی نرم دھوپ،

محبت ست رنگی ہے۔

رنگوں کا ملاپ محبت نہیں ،محبت کا ہونا دراصل رنگین کردیتا۔

میٹھا میٹھا ،

رنگا رنگا

نرم نرم،

مدھم مدھم

جادواں جادواں،

ٹھنڈا ٹھنڈا ،

یہ احساس محبت ہے۔۔

واثق نے ایک نظر آئینے پہ ڈالی۔

یہ کس کا عکس نمایاں ہورہا تھا ۔

وہ تو اچھا بھلا یہاں آیا تھا۔

پھر اتنا بکھرا بکھرا وجود ،

جیسے خالی پن۔۔۔

مجھے ابیرہ سے ایک بار ضرور مل کر جانا چاہئے،،دل نے مشورہ دیا۔

باربار اس سے ملنے کی خواہش کیوں جاگی ہے عقل اس کو طنز کرنے لگی۔

سر جھٹک کے سوٹ کیس تھامے وہ عالم ہاؤس چھوڑرہا تھا،۔

وہ اپنا دل یہی کہیں کھو کر جارہا تھا کسی کے لیے۔۔۔۔

جن کی طلب تھی ان سے رہی دوریاں بہت۔۔۔

وہ مل گئے ہیں جن سے طبعیت نہیں ملتی۔۔۔!