Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal NovelR50452 Darbar-e-Ishq Episode 22
Rate this Novel
Darbar-e-Ishq Episode 22
Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal
حواس باختہ محرما اسے دیکھتی رہ گئی۔اور اوپر سے ایسے گھٹیا الفاظ سے نوازنا اسکی غیرت کو ابھا رگیا۔
تمہیں میں نے منع کیا تھا میرے راستے میں مت آنا بلکہ اپنا چہرہ بھی مت دیکھانا۔اب نقصان بھی بگھتنے کے لیے تیار رہو۔آگ بگولہ چہرہ محرما کے رونگھٹے کھڑا کرگیا۔غصہ کا ابال ایسا خطرناک ہوتا ہے جسکی اچھال سیدھا جہنم رسید کرنے کی مہارت رکھتی یے۔طاقتور وہ نہیں جو پہلوان کو پچھاڑ دے بلکل اصل طاقتور وہ ہے جو اپنے ہی غصے کو قابو کرلے۔
ذلیل تم ہوگے سمجھے۔پورا کمرا آواز سے گونجا۔ایک زوردار ٹھپر مہرام کے گالوں پہ لگائی گئی۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسے الفاظ استعمال کرنے کی ۔میں نے صرف تمہارا اصلی چہرہ دیکھانے کی کوشش کی۔تمہاری مغروریت جو تمہیں آسمان تک پہنچا گئی تھی اسے نیست ونابود کرنا چاہا۔مہرام اسے سرخ آنکھوں سے کھاجانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔اسنے کبھی کسی کو برے القابات سے نہیں نوازا تھا۔اسکی پرورش میں کبھی بھی نفرت کا جذبہ ابھراہی نہیں تھا۔اس پہ لرزہ طاری تھی آواز بھی حلق سے پوری طرح نہیں نکل رہی تھی۔
لیکن پھر بھی وہ اسکی اوقات برابر یاد دلارہی تھی۔
تم درحقیقت ایک نچلے درجے کی عورت ہو۔جو دوسروں کو کبھی خوش نہیں دیکھ سکتی۔اور خدا جانے مجھ سے کیا بیر ہے میری زندگی میں عذاب بن کر آئی ہو۔
اسکی زوردار آواز سے محرما کو اپنے کان پھٹتے محسوس ہوئے۔
پہلے جان کر مجھ سے ٹکڑائی میری توجہ وصول کرنے کوشش کی۔ جب اس سے کوئی فائدہ نہیں ملا تو میرے راستے میں آنے کی کاوششیں مسلسل جارہی رکھی پھر میرے اردگرد رہنے کے لیے منصوبے گئے۔لیکن
افسوس تمہارے تمام منصوبے ڈھرے کے ڈھرے رہ گئے۔
تمہیں تو ہزاروں توپوں کی سلامی دینی چاہیے اتنا حوصلہ افزائی ہونے باوجود بھی اپنے مقصد میں ذرا برابر بھی پیچھے نہیں ہٹی۔کمال کا حوصلہ رکھتی ہو تم جیسی ہی لڑکیاں ہوتی ہے جو اپنے والدین کا سر جکھانے کا سبب بنتی ہے۔اور یہ جو ٹھپر ماری یے تم نے ۔وہ اب تک اپنے گال پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا پے ۔وہ ایک ایک لفظ زہر آلود اس پہ برسارہا تھا ۔۔کیا کرلوگے ہاں وہ وہ نخوت سے چلائی۔
تم کر بھی کیا کرسکتے ہو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ تمہاری کام ہی دوسروں کو پست دیکھانا ہے ۔سخت لہجہ اونچا تھا۔
میرے اتنے برے دن نہیں آئے جو تم جیسے کے اردگرد رہنے کے منصوبے کرونگی۔
ارے میں تو تمہاری گزرے ہوئے راستے سے نکلنا پسند نہیں کرتی۔اور تمہارے پاس رہنے کی کوششیں کرونگی وہ استہزایہ ہنسی ۔
میں مر بھی رہی ہونگی تو مرنا پسند کرونگی مگر تم سے مدد نہیں مانگوگی ۔وہ وہ رورہی تھی سرخ آنکھیں مزید سرخ ہوگئی تھی۔
یہ وقت باتوں کا نہیں ہے کچھ کر گزرنے کا ہے۔اسے مزا چکھانا اشد ضرور ہوگیا تھا۔ مہرام نے ادھر اودھر کمرے کا جائزہ لیا۔جہاں یونی کے کباڑ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
کچھ لمحے میں محرما کے ہاتھ رسیوں سے جکھڑے ہوئے تھے۔عورت بولتے ہوئی کبھی اچھی نہیں لگتی۔وہ بڑی سی مسکراہٹ اچھالتا ہوا دروزاہ بند کرگیا۔وہ فقط ہلتی رہ گئی
اس بے رحم کو ذرا بھی رحم نہیں
آیا ۔ہر شے حد میں اچھی لگتی ہے۔جب کوئی اپنی حد سے بڑھ تو وہ فائدہ پہچانے کے بجائے نقصان پہچانا جانتی ہے۔
اس کی نفرت بھی حد سے بڑھ گئی تھی۔اندھی نفرت عذاب کی طرح محرما پہ مسلط ہوئی تھی۔ایک نازک لڑکی ہر ظلم برداشت کرسکتی ہے لیکن خود پہ آئی گالی وہ قطعی برداشت نہیں کرسکتی۔
وہ ہر مرتبہ اسے زچ کرنے کی کوئی کسر ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور محرما کچھ بھی نہیں کرپاتی۔وہ کونسی گھڑی تھی جب میں اس شخص سے ٹکڑائی۔وہ دانستہ تصادم اسکی زندگی اجیرن کرچکا تھا۔جب رورو کر برا حال ہوچکا تھا اسے کاشان کا خیال آیا۔معلوم نہیں کیا ہوا ہوگا گھر میں امی کواسنے نکلتے گھر جلدی واپسی کا کہا تھا۔اسے یہاں بندھے ہوئے کتناوقت ہوچکا تھا۔بے حس و حرکت کتنی دیر وہ یہی پڑی رہی اسنے زور زور سے ہاتھ ہلائے مگر رسی اتنی مضبوطی سے باندھی تھی کہ کھل ہی نہیں رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروگرام اپنے احتتامی مراحل کی طرف گامزن تھا۔سب اسٹوڈینت واپسی کی تیاری کررہے تھے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک شخص وہاں اندھیرے میں قید ہےکس بےدردی سے ایک وجود کو قید کیا گیا تھا۔
مہرام کا غصّہ ضبط کی حدوں کو چھوڑہا تھا ۔منہ پہ اسنے کتنی ہی بار پانی کے چھینٹے مارے۔پھر خود کو نارمل کرتا وہ نکل گیا ۔
۔۔۔۔
کاشان کی اک دم سے حالت خراب ہوگئی تھی مسز عالم نے شازیب صاحب کو فون ملایا۔وہ اسے فورا ہسپتال لے گئے۔
کاشان کی سانسیں اکھڑ گئی تھی۔اسے جلدی جلدی ایمرجنسی میں لیا گیا۔
مسز شازیب کبھی سے محرما کو کال کررہی تھی لیکن صرف بیل جارہی تھی وہ کال رسیو ہی نہیں کررہی تھی۔
ایمل بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہسپتال پہنچی تھی۔کندیشن سیریس ہونے کی وجہ اسے آپریشن ٹھیٹھر لے جایا گیا۔
ایمل نے اسکی دوستو کو کال تھی جس میں ساریہ اور ابیرہ ہی تھی۔
محرما تو کب کی گھر کے لیے نکل گئی تھی ۔ساریہ نے جواب دیا ۔ابیرہ کے گھر بھی نہیں گئی تھی ۔
کیا ہوا آنٹی سب ٹھیک تو ہے نہ ابیرہ نے پوچھا۔ وہ کاشان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے اور محرما اب تک یونی سے واپس نہیں لوٹی شام ہونے کو آئی ہے۔
آنٹی وہاں فنکشن چل رہا ہوگا اسلیے وہ رک گئی ہوگی میں بھائی کو کال کرکے پوچھتی ہوں آپ فکر مت کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ کہاں وہ کاشان کی وجہ سے پریشان تھے اور محرما بھی اب تک لوٹی نہیں تھی۔
شازیب صاحب نے اندر سے نکلتی ہوئی نرس سے پوچھا۔
ہم پوری کوشش کررہے ہیں آگے اللہ کی جو مرضی آپ لوگ بس دعا کریں ۔
کتنے ہی نفل مانے گئے تھے کتنی ہی منتیں مرادیں مان لی تھی۔مسز شازیب جاہ نماز سے اٹھ ہی نہیں رہی…..
اے خدا میری اولاد کو شفا دے دیں۔ایک ماں کی دعا ہے تیرے سے۔اگر زندگی میں ،میں نے کوئی بھی نیکی خلوص دل کی ہوتو اسکے بدلے کاشان کی زندگی لوٹادیں ۔بس ہم تیرے ایک کن کے منتظر ہے ایک کن یارب صرف ایک کن۔ایک کن سے ہماری زندگی سنور جائے گی۔ہم اپنی اوقات سے بڑا مانگ رہے ہیں مگر تو اپنے شایان شان کے مطابق ہمیں نواز ۔وہ سر بسجود تھی۔
لیکن ایک ماں کو کیسے چین آسکتا ہے ۔بھلا کون ماں کو تال سکتا ہے۔
اسکاذہن ماؤف ہوچکا تھا۔یوں بندھے بندھے اسکا پورا جسم سن ہوچکا تھا۔
۔
پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔پورا کمرا بند ہونے کی وجہ سے ہوا کا نام و نشان نہیں تھا۔ اسے سانس لینا بھی دشوار ہورہا تھا بند کمرے کی گٹھن سے سانس بھی لینا محال ہوچکا تھا۔محرما کا فون مسلسل بج رہا تھا وہ ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کال بھی نہیں اٹھا سکتی تھی۔
اے اللہ میری مدد کر۔۔
اسے ان مقبوضہ مسلمانو پہ رحم آیا جو کتنی قید میں رہ کر اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ان کے اپنوں پہ کس بے سفاکی سے ظلم کیا جاتا تھا۔
جس انسان کو کسی اور کے درد کا احساس نہ ہو وہ انسان کہلانے کا حقدار نہیں ہوسکتا ۔ ہاتھ کو آڑا ترچھا کرکے بیگ میں سے سیل نکالنے کی کوشش کررہی تھی۔ٹھوری کوشش کے بعد اسنے بیگ میں سے سیل بر آمد کرلیا تھا۔جہاں کتنی ہی مس کال جگمگارہی تھی۔
موبائل کی روشنی سے اسنے کمرے کے اطراف دیکھا ۔جو پورا کباڑ سے بھرا ہوا تھا۔
ٹوٹی ہوئی لکڑیاں ایک سائیڈ پہ بکھری پڑی تھی۔
محرما دیوار کے سہارے اٹھنے لگی۔
کمرے میں ہر طرف مٹی کا ڈیرا تھا ۔
منہ پہ پٹی ہونے کی وجہ وہ چلا بھی نہیں سکتی تھی نہ ہی بندھے ہوئے ہاتھ کی وجہ سے وہ دروازہ کھٹکھٹا سکتی تھی۔
مکڑی نے ہار نہیں مانی تھی اور آخر کار اپنی منزل کو پہنچ گئی۔اسے ٹرائے اگین اسٹوری یاد آئی۔
میں بھی ہار نہیں مانوگی اور اس کمرے سے باہر نکلوں گی۔
چاہے جتنے بھی مشکلیں آجائے ہمییں اپنے مقصد کو حاصل کرنے لیے ڈٹ جانا چائے۔
اس سبق نے اسے حوصلہ دیا اک نئا عزم اسکے جسم کو نئی روح بخش گیا۔
بس ایک جوش کو جگانے کی ضرورت ہوتی ہے تمام جذبے خود بخود بیدار ہوجاتے ہے
موبائل کو پیچھے کرکے انگلیوں سے موبائل پکڑرکھا تھا۔موبائل کی روشنی میں وہ ادھر ادھر کچھ تلاشنے لگی۔
اسنے کتنی ہی دیر ایسے پڑے پڑے کیوں گزار دیا۔اتنا وقت ہوچکا تھا یونی بھی پوری خالی ہوچکی ہوگی۔
اسنے نے ٹوتی ہوئی لکڑیوں کے ڈھیر میں سے ایک موٹی لکڑی پیچھے بندھے ہاتھ سے اٹھائی ۔ایک دو مرتبہ چھوٹ گئی لیکن اسنے واپس اٹھائی کس بھی طرح اسے یہاں سے فرار ہونا تھا ایمل آپی اور امی کی کتنی ہی مس کال آچکی تھی۔
گلاس کی کھڑکی کو اسنے پیچھے سے لکڑی سے کتنی ہی ضرب لگائی ۔گلاس کے ٹوٹنے سے کانچ کے ٹکڑے گرے۔کانچ کا نوکیلا پیس اسکی ہتھیلی پہ بھی گھس گیا۔لیکن اسے درد نہیں ہورہا تھا۔
اسے بس گھر جانے کی جلدی تھی۔اسنے ٹوٹے ہوئے گلاس سے رسی کو رگڑا۔ہاتھ کو آگے پیچھے سیکڑوں بار کیا ۔اگر ایک بھی رسی کٹ جائے گی تو وہ باآسانی ہاتھ کھول سکتی ہے ۔رسی ڈھیلی پڑچکی تھی اسکا مطلب رسی کٹ چکی تھی ہاتھ پیچھے ہونے کے باوجود وہ دیکھ نہیں سکتی تھی۔
ہاتھ رسی سے آزاد ہوتے ہی
اسنے فورا اپنے منہ سے ٹیپ ہٹائی۔
زور سے ایک سانس لی۔
ایسا لگ رہا تھا قطرہ قطرہ اسکے وجود سے نکلتی زندگی واپس لوٹ آئی محرما نے فورا سیل اٹھایا۔
لیکن کتنی دیر آن رہنے کی وجہ سے بیٹری ڈیڈ ہوچکی تھی۔
کھڑکی میں لگے ہوئے بقیہ کانچ کے ٹکڑوں کو اسنے پورا توڑ دیا۔اپنا بیگ اٹھا کر وہ کھڑکی سے خود کود پھنسا کر باہر نکلی۔
یونی پہ ویرانی چھائی ہوئی تھی۔
وہ فورا باہر دروازے پہ لپکی۔یونی کا دروازہ دیکھ کر وہ ٹھٹھکی۔کیونکہ وہ بند تھا۔
اسنے دروازہ پیٹ ڈالا۔
دروازہ کھولو ۔
اب اسکی ہمت جواب دے چکی تھی۔
ہاتھ سرخ ہوچکے تھے ۔اتنی دیر گٹھن بڑے کمرے میں رہنے سے اسے ہلکے ہلکے چکر آنے شروع ہوچکے تھا۔
لبوں پر دعاؤں کا ورد جارہی تھا۔بچی کچی ہمت جمع کرکے اسنے زور سے چلائی۔
ہیلپ ہیلپ۔
پلیز دروازہ کھولیں اسکی سسکی بلند ہورہی تھی۔
درواؤ کھل چکا تھا۔اسنے سکون کا سانس لے کر سامنے کھڑے مسیحا کو دیکھا۔
آپ اندر تھی۔۔۔
گارڈ اسے حیرت سے دیکھنے لگا ۔
بنا جواب دیے وہ فورا باہر بھاگی۔
تمہارا ظلم کافی ہے ہمیں بیدار کرنے کو
جو لوہا ضرب سہتا ہے وہی ہتھیار بنتا ہے..
۔۔۔۔۔۔
سوری ہم کاشان کو نہیں بچا سکے۔ڈاکٹر منہ لٹکائے اطلاع دے رہا تھا۔الفاظ تھے یا بم، ان کے جسم لرز گئے۔مسز شازیب کو اپنی سماعت پہ یقین نہیں آیا وہ فورا وارڈ کی طرف بھاگی۔کیسے اذیت ناک لمحوں کی گھڑ ی تھی۔
روح کا جسم سے جدا ہوجانا کتنا مشکل کن مرحلہ ہوتا ہے حال سے ماضی ہوجانا۔دنیا سے ناطہ ٹوٹ جانا ناقابل برداشت ہے۔سانسوں کا رک جانا حسیات کا منجمد ہوجانا، وجود کا بے جان ہوجانا ۔زندگی کے سب سے کٹھن لمحے ہیں ۔ڈیڈ باڈی کو ایمبولیس کے ذریعے گھر لے جایا جارہا تھا۔کیسا کرب ناک منظر تھا۔
۔۔۔۔۔
محرما نے گھر کے سامنے رکشہ روکا۔گھر کے باہر مردوں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔سب لوگوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے وہ داخل ہوئی۔اندر بھی کچھ جان پہچانے لوگ نظر آئے مگر اس کے اہل خانہ کہاں غائب تھے۔
ایک سیکنڈ کے لیے اسے شبہ ہوا کہ یہی گھر ہے نہ میرا۔
اندر کا منظر دیکھ کر وہ ہوش و حواس میں نہیں رہی۔کتنی بڑی بدنصیبی تھے۔
جسے گود میں کھلایا جس کے ساتھ اپنے زندگی کا وقت گزارہ، اسکے آخری لمحوں میں وہ اسکے ساتھ نہیں تھی۔
ایک ماں تھی جو بول نہیں رہی تھی
ایک یہ تھی جو ہوش میں نہیں آرہی تھی۔
۔۔۔۔۔
سامنے اسٹیج پہ ڈسکو لائٹ مختلف زاویے میں گھوم رہی تھی۔نوجوان ڈی جے کے میوزک پہ رقص کناں تھیں۔وہ ٹیبل پہ سوفٹ ڈرینک سے خود کو سیراب کررہا تھا۔اسٹیج کا پرکیف منظر اسے خاصا دلچسپ لگا۔وہ یونیورسٹی سے فارغ ہوکر اپنے دوستو ں کے ساتھ یہاں آیا تھا۔آج اسکے لیے چشن کا سماں تھا۔اسکی اناکی جیت ہوئی تھی۔گھمنڈ کی منازل نے ساری حدوں کو پس پشت ڈال دیا تھا۔
احساسات کی موت پہ وہ شکوہ کناں نہیں تھا بلکہ وہ غازی بن کر لوٹا تھا۔اور اپنا جشن سیلیبریٹ کررہا تھا۔
جب خدا ظالم کی رسی کو ڈھیل دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ پکڑ میں نہیں آئے گا۔
بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط رسی سے اسے جھکڑا جائے گا
