438.4K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Darbar-e-Ishq Episode 23

Darbar-e-Ishq by Ayesha Iqbal

وقت کچھوے کی طرح سست روی سے چل رہا تھا۔چوبیس گھنٹے ہوگئےتھے اسے ہوش نہیں آیا تھا۔شازیب صاحب کی پریشانی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ڈاکٹر نے کچھ گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔مسز شازیب اب تک سکتے کی کیفیت میں تھی۔نہ کچھ بولتی تھی نہ روتی تھی صرف ایک جگہ سن سی بیٹھی رہتی تھی انھیں دیکھ کر ایمل خون کے آنسو روتی تھی۔

لیکن جو ہونا ہوتا ہے ہو کر رہتا ہے۔

انسان کو ہی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے یہی دستور کائنات ہے جو کبھی بھی بدلا نہیں جاسکتا۔

محرما کو ہوش آچکا تھا۔ہاتھوں پہ رسیو ں کے نشان ہلکے پڑ گئے تھے۔آنکھیں کھل نہیں رہی تھی پلکوں پہ وزنی پتھر رکھ دیئے ہو جیسے ۔کمرے کے جائزہ لے کر وہ سوچنے لگی۔

اسکے ذہن میں یونی والا واقعہ نمودار ہوا ۔ خود کو تنگ و تاریک کمرے میں رسیوں میں جھکڑا ہوا یادآیا۔پھر وہ آزاد ہوگئی تھی

میں یونی سےگھر واپس آگئی تھی لیکن وہ سفید کپڑوں میں لپٹا کون پڑا تھا۔

وہ وہ ۔۔کاشان ۔۔

نہیں۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔

اسکی طبیعت ٹھیک ہوگئی تھی پھرکون ہوگا۔

اللہ کرے یہ میرا وہم ہو۔

شاید تھکن سے بے ہوش ہوگئی ہونگی ۔۔وہ خود سے باتیں کررہی تھی

میں یہاں کب سے ہوں۔روم میں داخل ہوئی نرس سے اسنے پوچھا۔

میڈم آپ پچھلے تیس گھنٹے سے بےہوش تھی ۔آپ کی طبیعت کیسی ہے نرس نے پروفیشنل مسکراہٹ سے پوچھا۔

کیسا فیل کررہی ہے ۔

اب بہتر ہے۔

آپ کی فیملی کو انفارم کردوں ۔وہ بہت پریشان تھے۔

جی کہہ کر اسنے واپس آنکھیں موند لی۔

محرما کیا ہوگیا تھا تمہیں ۔کیوں ہوش نہیں آرہا تھا ایمل اسکے پاس آکے بیٹھی۔

محرما نےنظریں پھیر لی۔ناجانےکیوں دل دکھی سا ہوگیا۔

اب جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ پھر گھر چلیں گے۔

کاشان کیسا ہے آپی محرما نے خوف زدہ ہوکے سوال پوچھا۔

ایمل نے بنا جواب دیئے آنکھیں پھیر لی۔

رنج کی لہر اسکے چہرے پہ آکر گزری ۔الفاظ منجمد ہوگئے تھے۔

وہ وہ ٹھیک ہے اب ایمل سے اسکی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔

دو دن میں وہ کافی کمزور ہوگئی تھی۔چہرہ مرجھا سا گیا تھا۔

ایمل کے الفاظ اسکے جسم میں حرارت پیدا کرگئے۔بوجھل آنکھوں کو پوری کھولنے میں اسے کافی دقت ہورہی تھی۔لیکن من کو کافی سکون میسر آیا تھا۔

وہ اٹھنے کی کوشش کررہی تھی مگر نقاہت کی وجہ سے اٹھنا دشوار ہورہا تھا۔ابیرہ نے اسے بیٹھانے میں مدد کی۔۔آنسو رواں تھے وہ بدستور یوں ہی سوچوں میں گم تھی۔آخرکار ابیرہ نے خاموشی توڑی۔اسکے بولتے ہی وہ بلک بلک کر رونے لگی دل کا سارا غبار باہر نکل چکا تھا۔رفتہ رفتہ وہ سنبھلنے کی کوشش کررہی تھی۔لیکن ابیرہ نے جو انکشاف کیا تھا ۔اسکے بعد وہ تڑپ گئی تھی۔اسکا بھائی اب نہ رہا تھا ۔وہ رات اسکی زندگی کی انتہائی بدقسمت رات ثابت ہوئی تھی۔آخری دیدار تک اسے نصیب نہیں ہوا تھا۔۔اگر وہ بے ہوش نہ ہوتی تو کم از کم اسکا قتل ضرور کرچکی ہوتی۔جس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا

۔۔۔۔۔

کیسے دن گزررہے تھے قطرہ قطرہ زندگی انکو ختم کررہی تھی۔ہستا بستا گھر ماتم کدہ ہوگیاتھا۔وجود میں خون کی جگہ دکھوں نے لےلی تھی کچھ دنوں بعد ایک ہارٹ اٹیک نے امی کی جان لے لی تھی۔یکے بعد دیگرے آزمائش نے ان کےحلق سے سانس ہی کھینچ لی تھی۔وہ ٹوت چکی تھی۔وجود بے مقصد ہوگیا تھا۔گھر مکان میں تبدیل ہوچکا تھا

یونی اسنے اسی دن کے بعد جانا چھوڑ دیا تھا۔اسکا کئی جانے کا دل نہیں چاہتا تھاابیرہ سے بھی ملاقات ترک کردی تھی۔

البتہ اس شخص سے نفرت گہری ہوچکی تھی۔وہ نفرت کی آگ میں روز سلگتی تھی

۔سلگ سلگ کے وہ خاک ہوگئی تھی۔

محبت گہری ہوجائے تو عاشق کو جنم دیتی ہے اور نفرت گہری ہوجائے تو جنم کو مرگ میں بدل دیتی ہے

…..

بابا نے واپس اپنے آبائی زمینوں پہ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اب اس دھول اڑاتی زندگی میں انکا گزارہ نہیں ہورہا تھا۔اس ماحول میں اس گھر میں گٹھن ہونے لگی تھی. محرما نے بولنا چھوڑ دیا تھا انہیں زیادہ فکر محرما کی ہی تھی۔آج وہ اپنے گھر کو خیر آباد کرکے اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں پہ اپنے بھائی کے پاس جارہے تھے.

۔۔۔۔۔۔

یونی لائف ختم ہوتے ہی اسنے پاپا کے ساتھ بزنس جوائن کرلیا تھا۔ابھی وہ سیکھنے کے مراحل تک محدود تھا۔بزنس جوائن کرنے باوجود بھی اسکا گھومنا پھرنا دوستو کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ان چیزوں میں خاطر خواں کمی نہیں آئی تھی۔

ابیرہ کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھی ۔اسکی رخصتی عنقریب تھی۔

مسز عالم نے اپنے شوہر کو دل میں چھپی بات کہی ہی دی۔ابیرہ کے بعد یہ گھر بہت سونا ہوجائے گا اگر ہم مہرام کے لیے کوئی اچھی لڑکی ڈھونڈ لے تو۔۔تاکہ گھر میں رونق بحال رہے۔

لیکن اتنی اچانک لڑکی کہاں سے لائے نگے۔عالم صاحب نے پوچھا۔مہرام سے پوچھ لو اگر اسے کوئی پسند ہو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ ان کی بات سن کر مسز عالم پہ شادی مرگ سی کیفیت طاری ہوگئی۔

۔۔۔

مسز عالم اپنے بیٹے کا رات دیر تک انتظار کرتی رہتی تھی ناجانے آفس سے وہ کہاں جاتا تھا۔

آج بھی وہ لیٹ ہی لوٹا تھا۔

وہ آکر صوفے پہ دراز ہوا ۔

بیٹا تمہارے پاپا اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب تمہاری شادی کردینی چاہئی۔

مسز عالم کے فیصلے پر اسکی آنکھیں پھیل گئی

شادی ۔۔۔وہ منہ بگاڑتے بولا۔

کیوں شادی کرنے میں کیا مضائقہ ہے وہ اب اپنے جوتیں اتارنے لگا۔

فی الحال کچھ عرصے تک مجھے کوئی شادی وادی نہیں کرنی وہ کھڑا ہوا۔

منگنی ہی کرلوں انھوں نے عاجزانہ گفتگو کی ۔

مجھے منگنی بھی کرنی وہ صاف گوئی سے کہہ گیا۔

کیوں نہیں کرنی۔

مام آپ ضد نہیں کریں جب بھی کرنی ہوگی مہں بتادونگا ۔ابھی تو مجھے لائف انجوائے کرنی ہے ویسے بھی میں ابیرہ کی شادی کے بعد ٹور پہ جارہا ہوں۔قیدی بن کر رہنا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا وہ آزادی کا شیدائی تھا۔

مگر تب تک کے لیے نو بحث وہ اپنی بول کر بنا سنے چلا گیا۔

مسز عالم نے بھی زبردستی نہیں کی۔روایتی خاتون ہونے باوجود وہ مہرام کے لیے روایتی نہ بن سکی

…..

وہ لوگ اپنے تایا کی حویلی میں رہائش پذیر تھے۔بڑی فیملی ہونے کی وجہ سے اکثر چہل پہل رہتی تھی شازیب صاحب اور محرما نے وہاں ایڈجسٹ ہونا شروع کردیا تھا۔۔

اماں کی ڈانٹ بھائی کی حرکتیں ،سب یاد آتا تھا۔ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا تھا کہ جس میں وہ روئی نہیں تھی۔ت

ناجانے شازیب صاحب محرما سے کچھ کھینچے کھینچے سے کیوں رہتے تھے۔کچھ دن وہ حویلی گھومنے میں، اپنے بابا اور تایا کی زمینیں دیکھنے میں گزر گئے ۔اب وہ سخت بور محسوس کرتی تھی۔اپنی تایا زاد سے اسکی اچھی دوستی ہوگئی تھی وہ زیادہ تر اپنی سہیلیوں کے گھر ہوتی یا پھر تائی کے ساتھ ہاتھ بتاتی رہتی۔

اسنے اپنے پرانے گھر سے کچھ کتابیں منگوانے کا سوچا۔تاکہ اسکا دماغ کسی اور چیز کی طرف مائل ہو۔

۔۔۔۔

اسے ایمل اور گھر کی بہت یاد ستارہی تھی

اسنے گھر جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔بابا جان اور مرد حضرات برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ وہاں اسے بات کرنے کے لیے حاضر ہوئی۔

بابا مجھے گھر کی شدت سے یاد آرہی ہے آپ مجھے لے جائے وہ نظریں جھکائی مخاطب ہوئی۔

یہ بھی گھر ہی ہے ۔انھوں نے مختصر جواب دیا لیکن وہ پھر بھی نہیں مانی۔مجھے کچھ کتابیں بھی لینی ہے جلدی جلدی میں لینا بھول گئی تھی۔صرف ایک دن کی اجازت دے دیں۔وہ اسرار کرنے گی ۔ان کے جواب نہ دینے پر وہ رودینے کو تھی زیان کو اس لڑکی پہ ترس آیا۔جو کتنے دکھ جھیل چکی تھی ۔

شروع شروع میں وہ بلکل چپ سی رہتی تھی ۔کسی سے کچھ بات نہیں کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ٹھیک ہورہی تھی۔

چچا جان اگر آپکی اجازت ہو تو میں اسے لے جاؤں ۔آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی آپ کہاں اتنا طویل سفر کرینگے ۔

ویسے بھی کل میں شہر جاؤنگا وہ ان سے پوچھنے لگا۔جو اسے خاموشی سے سن رہے تھے۔

ہمم ۔۔انھوں نے اپنے بھتیجے کا مان رکھنا چاہا۔

زیان اسکا تایا زاد تھا اوہ اکثر شہر جاتا رہتا تھا ۔

۔۔۔۔۔

محرما نے تشکر آمیز نظر اس پہ ڈالی اور ڈورتی ہوئی اپنی کمرے کی طرف بھاگی ۔اسکی خوشی دیدنی تھی ۔جو پہلے صبا کا کمرہ تھا لیکن محرما کے آنے کے بعد سے وہ دونوں شیئر کرتی تھی۔

زیان نے پہلے اسے ایمل کے گھر چھوڑا ۔دونوں بہنوں نے خوب باتیں کیں ۔پرانی یادیں تازہ کی ۔اپنوں کی یادوں کو مرتے دم تک نہیں بھلایا جاسکتا۔

وہ اپنے گھر آئی۔یہاں آکر اسے بہت سی یادیں دوبارہ جینی تھی ۔

وہ گھر کا تالا کھول رہی تھی جب برابر پرانی پڑوسن آواز سن کر باہر نکلی۔جیسے کان لگاکر بیٹھی ہو۔

تم لوگ راتوں رات کہاں غائب ہوگئے تھے۔ کسی کو خبر تک نہیں ہوئی۔

نہ ہی اپنے دوسرے گھر کا پتا دیا۔

وہ اسے اچانک یہاں دیکھ کر بولی۔

نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ اصل میں بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اسی لیے ہمیں ایمرجنسی میں جانا پڑا میں اکیلی بابا کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی تھی۔

ہائے اللہ ہارٹ اٹیک ۔وہ ایسے بولی جیسے ہارٹ اٹیک ان کے ابا کو ہوا ہو۔

۔پہلے بھائی کی موت ،پھر امی صدمے سے چل بسی اور پھر شازیب صاحب کو ہارٹ اٹیک۔تمہاری وجہ سے کتنے دکھ سہنے پڑے انکو۔

عورتیں ایک بات کی دو کیے بنا رہ ہی نہیں سکتی ورنہ انکے پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے وہ بھی ان میں سے تھی۔

میری وجہ سے کیوں وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔

یہ تم مجھ سے پوچھ رہی یو۔تمہارے بھائی کی میت گھر میں پڑی تھی اور سب گھر والے تمہیں ڈھونڈ رہے تھے۔کتنی ہی باتیں بنی تھی تمہارے بارے میں اب ایسی بھی کیا پڑھائی جو بھائی کی موت کی خبر سن کر بھی تمہیں فرصت نہیں ملی گھر آنے کی۔

۔لعنت بھیجتی ہوں ایسی تعلیم پہ۔

بیٹے کے صدمے سے وہ پہلے ہی نڈھال تھی اوپر سے تمہاری گمشدگی کی خبر نے اسے جینے نہ دیا۔

آج کیسے انکشافات ہورہے تھے وہ اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی نہیں بول سکی۔

دل تھا کہ خون کے آنسو رورہا تھا۔

وہ اپنے گھر کا دروازہ بند کر زور زور سے رونے لگی۔

اتنے دنوں بعد وہی اذیت اسے نئے سرے سے مل رہی تھی۔

۔۔۔۔

بیٹا ۔۔ برابر گھر میں وہ لڑکی واپس آگئی ہے۔تم آجاؤ۔تمہیں ملنا تھا نہ اس سے۔

مہرام روزانہ اسکے گھر کا چکر لگاتا تھا ۔پڑوسی کو موٹی رقم دے رکھی تھی کہ جیسے ہی کوئی اس گھر میں آئے اسے فورا اطلاع دی جائے