Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28

ہم نے بھی جھیل لی آخر
رات!!!!!!
مات کی
پی لیا جام
زہر کا!!!!!
ہم نے بھی
یہ رات آج سے پہلے اتنی کالی گو کبھی نہ لگی تھی
کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے انسان کا مشاہدہ اسکے اندر کے جذبات اور کیفیات سے مشروط ہوتا ہے
تو یہی میر ہالار کے ساتھ ہوا تھا
کتنے برس ایک دیوتا کی طرح اس کی تپسیا میں کسی نے اپنے سترہ برس راکھ کیے تھے
اور
اب اس داسی کے جانے سے جیسے دل کے اندر کچھ ہلچل ہوئی تھی
دیوتا ٹوٹ گیا تھا
انسان بن گیا تھا
ٹھکرائے جانے کی کیفیت کیسی ہوتی ہے
میر ہالار کو اب معلوم ہوا تھا ….
ایک عرصہ وہ بے خبر رہا تھا اسے معلوم ہی نہ تھا کہ کتنا درد ہوتا ہے
کسی کو نظر انداذ کرنے پہ دل دکھانے میں
مہرماہ کو وہ اب میسر ہورہا تھا
مگر
میر ہالار تمہاری چاہت کا موسم گزر چکا تھا
اور
بے موسم بارش صرف تکلیف اور بے سکونی دیتیں ہیں
سکھ نہیں…..!!!!!!
” لیکن جو آگ میرے اندر لگی ہے اس کا میں کیا کروں…..کچھ اس کے شعلے وہاں تک بھی پہنچے نا جہاں سے یہ لاوا اٹھا ہے……”
میر ہالار اسی جگہ بیٹھا تھا جہاں مہرماہ بیٹھا کرتی تھی
چپ چاپ
وہ بھی چپ تھا بالکل مہر بہ لب
“مہرماہ…..ایسے کیسے جانے دوں میں تمہیں ….زندگی میں پہلی بار اس محبت کو محسوس کرنا چاہا تھا جس کی ایک عرصہ بات کی تھی….”
میر ہالار کے اندر نا امیدی اور تنفر کی تاریکی اس کالی رات سے ذیادہ سیاہ اور بھیانک تھی
” کہاں جارہے ہو …..میر ہالار….”
گاڑی کی چابیاں اٹھاتے وہ رک کے پلٹا تھا
پکارنے والا کوئی اور نہیں اس کا باپ تھا
” کچھ حساب کتاب باقی ہیں بابا….وہ کرنے ہیں….”
میر ہالار سر جھٹکتے ہوئے بولا
” کیسے حساب کتاب….”
انہوں نے پوچھا
“آپ واقف ہیں…..مہرماہ اس طرح نہیں کرسکتی بابا….میرے اندر ایک جہنم دہک رہا ہے …..مجھے جانا ہے…”
ہالار عجیب سی کیفیت میں بولا تھا
” اور اس جہنم میں تم مہرماہ کو جھونکنا چاہتے ہو….ہو نا میر سیال کے بھتیجے…آخر اسی پہ جاؤ گے….”
میر جاذب طنزیہ بولے تھے
” مجھے سیال چچا سے مت ملائیں …پاپا پلیز…”
ہالار جھٹکے سے مڑ کے بولا تھا
” کیوں نہ ملاؤں جب کہ تم وہی سب کررہے ہو جو اس نے کیا….کیا قصور تھا سمعیہ کا جب دل چاہا سر پہ بٹھا لیا اور جب جی چاہا پاتال کی گہرائیوں میں اتار دیا….تم بھی تو وہی کچھ کررہے ہو….”
میر جاذب نے اسے آئینہ دکھایا
” میں…..میں کررہا ہوں….آپکی بھتیجی نے کیے تھے مجھ سے محبت کے دعوے میں نے نہیں….”
ہالار تنفر بھرے لہجے میں بولا تھا
” اچھا….کیا مہرماہ نے تم سے خود کہا …تم نے کبھی اسکے منہ سے سنا…”
میر جاذب نے پوچھا
“نہیں….مجھے نیہا نے بتایا تھا…”
ہالار نے بتایا
” واہ….اور کل کو وہی نیہا آکے یہی بولتی کہ وہ تم سے نفرت کرتی ہے کہ تم اسے چھوڑ دو ….تو کیا تم چھوڑ دیتے….میر ہالار عقل کہاں چھوڑ آئے ہو…”
میر جاذب نے تاسف سے کہا تھا
” بابا آپکو اپنی بھتیجی ہی معصوم لگے گی مگر سچ تو یہی ہے کہ آپکی بھتیجی مجھے آج سے نہیں سترہ برس سے جانتی ہے…..”
ہالار نے کہا تھا
” ہالار….تم واقعی میر سیال کا پرتو ہو…..اس کی طرح صرف ایک زاویہ سے چیزیں دیکھنے کے عادی…..”
میر جاذب بولے تھے
” آپ آخر مجھے ان سے کیوں بار بار ملا رہے ہیں….”
ہالار جھلا کے بولا تھا
” کیوں کہ محبت اس نے بھی کی تھی اور تمہاری طرح محبت وہ بھی نہ نبھا سکا ….”
” میں ….میں نے کب محبت کا دعوی کیا…” ہالار حیرانگی سے بولا تھا
” اولاد ہو تم میری ….جانتا ہوں میں تمہیں….کبھی ان آنکھوں کو غور سے دیکھو جو صاف کہتیں ہیں کہ وہ کسی کو دیکھنا چاہتی ہیں……..”
میر جاذب اسے بغور دیکھتے ہوئے بولے تھے
” بابا….آپ….”
ہالار نے کچھ کہنا چاہا
” میں جانتا ہوں تمہیں بھی مہرماہ سیال سے محبت ہوگئی ہے
…….مگر اب بہت دیر ہوچکی ہے….تم نے اپنا وقت خود کھویا ہے….”
میر جاذب نے افسوس سے کہا تھا
ہالار اس انکشاف کے بعد ڈھے سا گیا تھا
مہرماہ سیال کی محبت نے کب اس کے دل میں چپکے سے اپنی جڑیں مضبوط کیں تھیں وہ جان ہی نہ سکا….شاید اسی دن جب اسے اس پاگل دیوانی کی چاہت معلوم ہوئی تھی
مگر اب وقت بدل چکا تھا
ادراک کا موسم اس پہ بڑی دیر سے اترا تھا
اور وصل کا موسم اب گزر چکا تھا
اب تو بس ایک ہی موسم تھا اور وہ تھا ہجر کا موسم
* تمہیں کتنا کہا تھا ….ہالار….مہرماہ تمہارے لئے بہترین انتخاب ہے میں نے ابا نے سب نے…..لیکن تم کبھی سیریس ہی نہیں ہوئے….یہیں سے دیکھو بیٹا کہ وہ تمہارے نصیب میں ہی نہیں تھی “
” اور جب….تم نے اسے اپنانا چاہا….تو صرف احسان جتاتے ہوئے….حالانکہ رشتے احسان پہ نہیں مان اور خلوص سے بنتے ہیں …”
میر جاذب نے سو باتوں کی ایک بات کی تھی
ہالار شکست خوردہ سا کھڑا تھا
” ہاں ….میں نے مہرماہ سے محبت کی ….لیکن میری انا سے میری محبت کا قد بہت چھوٹا نکلا میری انا جیت گئی…..اس نے مجھے جتلایا کہ جب مہرماہ کو مجھ سے محبت ہے تو مجھے کیا ضرورت ہے اپنی محبت دے کے اسے اپنانے کی …..میسر تو وہ مجھے بھی ویسے ہی تھی….”
ہالار نے باپ کے سامنے اپنا دل کھولا تھا
” لیکن تم نے انتخاب کس کا کیا….نیہا کا…”
میر جاذب نے شاید پوچھا تھا
” نیہا….اچھی لڑکی ہے بابا….مجھے وہ اچھی لگی….اپنے آئیڈیل کے قریب….لیکن رفتہ رفتہ مجھے احساس ہوا کہ وہ دب کے رہنے والی نہیں…اسے سمجھوتے کی عادت نہیں…میں اگر اس سے محبت لا دعویدار تھا تو اس بات کو وہ اعزاز کی طرح وصول کرتی تھی ناکہ عام عورتوں کی طرح شکر گزاری سے……”
ہالار نے تجزیہ کیا
” اور یہاں بھی تمہاری اس انا نے تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑا…….جن سے محبت کی جاتی ہے نا ہالار انہیں اعزاز کی طرح ہی محبت دی جاتی ہے…..”
” مجھے نیہا سے محبت نہیں تھی…..بس وقتی پسندیدگی تھی….دل تو چپکے سے مہرماہ کی سلطنت بن گیا تھا…..”
ہالار نے تھک کے کہا تھا
” ضروری نہیں ہر سلطنت کو حکمران بھی روبرو میسر ہو….تاریخ شاہد ہے کہ ایسی بہت سی سلطنت تھیں جن پہ سات سمندر پار سے حکومت کی گئی…..”
میر جاذب نے گرہ کھولی تھی
” جن سے محبت کی جاتی ہے انہیں محبت اعزاز کی طرح دی جاتی ہے…..”
ہالار کا دل اس میں ہی اٹک کے رہ گیا تھا
” بابا….”
“ہاں….ہالار میں جانتا ہوں…یہ آسان نہیں ہوگا….مگر یہی تو تمہارا امتحان ہے…اور امتحان آسان نہیں ہوتے ….”
میر جاذب اسے سوچوں میں گھرا چھوڑ کے کھڑے ہوچکے تھے
_____________________________________
“عالیہ….”
سفیر صاحب نے پکارا
” جی…..خیریت….انس ہے یا چلا گیا….”
عالیہ نے پوچھا
” انس یہیں ہیں….اور مجھے اسکے بارے میں تم سے بات کرنی ہے….تم مہرماہ کے بارے میں اب کیا سوچتی ہو….”
سفیر صاحب نے پوچھا
” اب سے کیا مراد ہے آپکی….” .عالیہ حیرانگی سے بولیں تھیں
” مطلب تم اچھی طرح جانتی ہو….”
سفیر صاحب بولے تو وہ چونک گئیں
اتنے عرصے کا ساتھ تھا وہ تو انکی ابرو کی ایک جنبش سے ہی ان کا انداز جان جاتیں تھیں اب بھی سمجھ گئیں
” مجھے نہیں معلوم سفیر کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں….مگر مہرماہ ہمیشہ مجھے نیہا کی طرح عزیز رہی ہے….ایک بیٹی کی طرح ..”
عالیہ نے کہا
” اگر میں یہ کہوں اسے اپنی بیٹی ہی بنا لو….ہمیشہ کیلئے…”
سفیر صاحب نے کہا
” سفیر….کھل کے کہیں….بات کیا ہے
..” عالیہ کچھ کچھ تو سمجھ رہیں تھیں
بہن کی باتیں بھی انکے دماغ میں تھیں
” میں انس اور مہرماہ کی بات کررہا ہوں…..انکی شادی …”
سفیر صاحب بولے
” اوہ….مجھے تو کبھی اس بات پہ کوئی اعتراض نہیں رہا ….اب جب کہ انس کی خوشی بھی اس میں ہے…..” .عالیہ رسان سے بولیں
” تم کھلے دل سے کہہ رہی ہو….” .سفیر صاحب کچھ بے یقین سے تھے
” مجھے لگتا ہے…..آپ ایسا اس لئے سوچ رہے ہیں کہ میں آپا کی باتوں میں آکے….مہرماہ کیلئے دل تنگ کروں گی….نہیں…میں مہرماہ کو اچھے سے جانتیں ہوں سفیر وہ ایسی نہیں ہے …”
عالیہ بیگم بولیں
” تمہیں ایک بات بتانی تھی….”
سفیر صاحب بولے ….اصل کہانی تو اب بتانی تھی
” کہئیے….” .
” آج میں اور انس….اسپتال گئے تھے…”
” ہاں تو….”
” وہاں….مہرماہ اور انس کا نکاح کرادیا میں نے….”
سفیر صاحب نے اچانک سے جیسے دھماکہ کیا
اندر بیٹھیں عالیہ بھلے سے اسکی ذد میں نہ آئیں ہوں مگر باہر سے کمرے میں عالیہ کی دوائی لاتی ماوی ضرور اس دھماکے کی ذد میں آئی تھی
” انس….اور مہرماہ کا نکاح….”
ماوی کے سوال کو عالیہ نے زبان دی تھی
جواب میں سفیر صاحب نے انہیں پوری صورت حال بتادی تھی
” انس…..تم سے اسی کی اجازت مانگ رہا تھا….صبوحی کے سامنے وہ کھل کے نہ کہہ پایا….”
سفیر صاحب نے وجہ بتائی تھی
” مجھے انس پہ بھروسا ہے….اس نے یقینا اچھا کام کیا…”
” تم ناراض تو نہیں ہو نا….” .سفیر صاحب نے پوچھا
” نہیں….میں تو مہرماہ کے ددھیال کا سوچ رہی ہوں کیسے سنگ دل لوگ ہیں…ہماری بچی کو اسپتال پہنچادیا…..اور پھر زبردستی نکاح بھی کرارہے تھے اچھا ہوا کہ نیہا کا رشتہ خود ہی ٹوٹ گیا…..”
عالیہ نے شکر ادا کیا
توبہ….کیسے ضدی لوگ تھے ….اپنی خوشی میں خوش اور بھلے اس خوشی کیلئے کتنے ہی دل کیوں نہ ٹوٹیں
” میں مہرماہ کے پاس جاتی ہوں….”
عالیہ بیگم بولیں
” ارے نہیں….صبح مل لینا….ابھی تو وہ آرام کررہی ہوگی…”
” ہاں کہتے تو آپ ٹھیک ہیں….اب مہرماہ نے جانا کہاں ہے….سچ سفیر مجھے تو بہت خوشی ہورہی ہے کہ مہرماہ اب ہمارے پاس رہے گی…”
عالیہ بیگم نے بتایا
” اچھا….ورنہ مجھے تو لگتا تھا کہ آپ اپنی بہن کی باتوں میں آکے بدل نہ جائیں. ….”
سفیر صاحب نے اپنا خدشہ بتایا
” حد ہے…..آپا کو تو عادت ہے اور میری اپنی سوچ ہے اور آنکھیں بھی میں اچھے سے جانتیں ہوں سب….یوں دوسروں کی باتوں میں آکے میں کیوں اپنا گھر خراب کروں….اتنا بھی نہیں جانتے مجھے”
عالیہ نے شکوہ کیا
” میں تو ایک جرنل بات کررہا تھا بیگم…..بس..” سفیر صاحب نے صفائی دی تھی
اور عالیہ کی بات سو فیصد درست تھی وہ جانتے تھے
اور اگر یہ بات سب آزما لیں تو نہ جانے کتنے گھر ٹوٹنے سے بچ جائیں
_____________________________________
” یہ میں کرنے جارہا تھا…..کیا میں ایک اور میر سیال بن جاتا….” ہالار نے میر جاذب کے دکھائے ہوئے آئینے میں اپنا تجزیہ کیا تھا
” ہر محبت کے نصیب میں وصل کی بارش نہیں ہوتی…..اصل میں اسے اسکی ضرورت ہی نہیں ہوتی…محبت تو خودرو پودے کی مانند اگتی چلی جاتی ہے….اور میں اس محبت کو انا کے پردے میں چھپا رہا تھا…..حالانکہ لاکھ جانتاتھا…محبت ہر پردے سے باہر نکل ہی آتی ہے…..میں محبت کو اسکا اصل رنگ لوٹاؤں گا….اور محبت تو اداس ہی اچھی لگتی ہے نا…ایک زمانے میں یہی میر ہالار نے کہا تھا…”
” آپ مہرماہ کو واپس لے آئیں…..بابا اسی شان کے ساتھ ہم اسے رخصت کریں گے جو بیٹیوں کاحق ہوتا ہے….”
ہالار کی بھوری آنکھوں میں ضبط کی سرخی اب سمندر بننے لگی تھی
کتاب پڑھتے باپ کو اس نے مخاطب کیا تھا حالانکہ آسان نہیں ہوتا دل مارنا
اور اس کیلئے تو بالکل بھی نہیں جس نے کبھی اپنے دل کو روکا ہو .اس پہ جبر کیا ہو
مگر محبت سب سکھا دیتی ہے
اور محبت قربانی مانگتی ہے
اور جو قربانی نہ دے سکے اسے محبت کا دعوی نہیں کرنا چاہئیے
اور میر ہالار قربانی دینا چاہتاتھا
محبت کی
انا کی
بے جا خودسری کی
وہ قربانی سے انکار کر کے انکار محبت نہیں کرنا چاہتا تھا
میر ہالار کیلئے محبت اب ہجر کا موسم ٹھری تھی…..
اور
بالاخر تیس برس کے اس مرد کو بھی محبت ہوہی گئی تھی
_____________________________________
” ماوی….. کیا ہوا ہے کیو رو رہی ہو…”
صبوحی نے اسے روتے دیکھ کے پوچھا تھا جس کی آنکھیں رو رو کے سرخ ہوچکیں تھیں
” کچھ .. نہیں….اماں ویسے ہی….”
ماوی نے کہا .
” ارے اب بتا بھی چکو مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے…”
” اماں….مہرماہ اب یہیں رہے گی…”
” ارے ایسے ہی رہے گی….تم دیکھنا میں عالیہ کو کیسے بھڑکاتی ہوں….دو دن میں چلتا کرے گی اسے…. “
صبوحی نے ناز سے کہا تھا
” اماں میں بتا رہی ہوں آپ کو پوچھ نہیں رہی…..” .
ماوی چڑ کے بولی تھی
” ہیں کیا اسے پرمٹ مل گیا ہے یہاں رہنے کا….”
صبوحی بیگم حیران ہوئیں
” پرمٹ ہی سمجھیں…..نکاح کردیا ہے خالو نے انکا…..” ماوی نے چیخ کے کہا تھا
” توبہ کر لڑکی کیا بک رہی ہے….”
صبوحی بیگم کے دل کو دھکا لگا تھا
” ٹھیک کہہ رہی ہوں اماں….”
ماوی رودی
” تجھے کس نے بتایا… “
صبوحی بیگم نے تفتیش کی
” میں نے خالو اور خالہ کی باتیں سنیں تھیں….”
” عالیہ کو بتائے بغیر….ہوا ہے نا یہ نکاح…. میں عالیہ کو ایسی پٹی پڑھاؤں گی کہ کیا یاد کرے گی مہرماہ بی بی ….اس گھر کی بہو تو ہی بنے گی لکھ لے ….”
صبوحی بیگم کو اپنی صلاحیتوں پہ کچھ ذیادہ ہی بھروسا تھا
” اماں….خالہ کو کوئی اعتراض نہیں وہ تو الٹا خوش ہورہیں تھیں…..”
” ارے بھاڑ میں جائے اسکی خوشی….مجھے تو اپنی بچی کی خوشی چاہئیے….”
صبوحی بیگم تنفر سے بولیں
_____________________________________
” زندگی….بہت خوبصورت ہے….اور بھی خوبصورت لگتی ہے…..جب وہ ہمارے ساتھ ہو جسے ہم چاہیں…..”
انس نے مہرماہ سے کہا تھا
جو آج نجانے کتنے دنوں بعد کاسنی بیل کی چھاؤں میں جھولے پہ بیٹھی تھی
” آپ ….سوئے نہیں… “
مہرماہ نے پوچھا
” جاگ تو تم بھی رہی ہو…..” انس نے کہا
“نیند نہیں آرہی تھی….”
مہرماہ دھیرے سے بولی
” میری نیند اڑا کے اب تمہیں بھی نیند نہیں آرہی …..”
انس شرارت سے بولا
” میں نے اپکی نیند کیسے اڑائی بھلا….”
مہرماہ حیران ہوئی
” کیا تم بے خبر ہو… “
انس نے اسے گہری نگاہ سے دیکھا
” میں پہلے بے خبر تھی لیکن اب نہیں. …”
مہرماہ نے اقرار کیا
“اچھی لڑکی… میں نے کہتا تھا اچھے دن آئیں گے…….”
انس اسکے ساتھ ہی جھولے پہ بیٹھ گیا تھا
ہوا کچھ مستی میں آئی تھی اور ڈھیر سارے پھول ان دونوں پہ نچھاور کر کے انہیں شہر محبت میں خوش آمدید کہا تھا
“ہاں…..انس اچھے دن اب آہی آگئے ہیں…..”
مہرماہ نے گہری سانس لے کے پھولوں کی مہک اندر اتاری تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *