Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa

انس کی باتوں پہ مہرماہ کے اندر باہر ایک جیساں یکساں سناٹا چھا گیا تھا طوفان آنے سے پہلے کا سناٹا پوری کائنات جیسے خاموش ہوگئی تھی اور مہرماہ کی تو کل کائنات ہی ہالار جاذب کی محبت تھی سو اسکی دلی کیفیت کا حال جیسے مرگ کی حالت میں مبتلا شخص جیسا تھا
اسے نیہا اور انس کے ہلتے لب دکھائی تو دے رہے تھے مگر سنائی کچھ نہیں دے رہا تھا
اس سے خاموش محبت کرنے کا حق بھی چھینا جارہا تھا
نیہا بھی انس کی بات پہ حیران ہوئی تھی مگر وہ بات کی گہرائی میں نہیں گئی تھی اسے لگا تھا کہ انس یوں ہی ان دونوں کو تنگ کررہا ہے
" بھائی جاؤ یار....اپنا کام کرو....کیوں تنگ کرتے ہو"
" جا ہی رہا ہوں پھر نہ بلانا کہ بھائی آجاؤ یہ کام ہے وہ کام ہے ....مابدولت نہیں آئیں گے"
انس نے دھمکی دی
" ہیں تم کیا چاند پہ جارہے ہو"
نیہا نے حیرانگی سے پوچھا
"اس میں جانے میں ابھی وقت ہے فی الحال مجھے رسالپور جانا ہے"
انس نے بتایا
" ہیں دوسرے علاقے میں مگر کیوں جانا ہے"
نیہا نے بے تکا سوال پوچھا تھا
"جمعہ پڑھنے...." انس نے اس بے تکے اس سوال کا بے تکا ہی جواب دیا تھا
نیہا حیرانگی سے اسکی شکل دیکھنے لگی
" کیا....بھائی کیا کہہ رہے ہو...سیدھی طرح بتاؤ"
" یار ظاہر ہے اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں جارہا ہوں پی ایف اکیڈمی "
" میری سمجھ میں یہ نہیں آتا تم فوجی لوگ ایک جگہ ٹک کے کیوں نہیں بیٹھتے"
نیہا تنک کے بولی تھی اسے انس کے روز روز کے چکروں سے الجھن تھی
" نیہا بچے ہم فوجی اگر ٹک گئے تو پھر تم لوگ نہیں ٹک سکو گے ....اچھا اب میں چلتا ہوں"
انس نے گھڑی دیکھی اور اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ اٹھا کے پہننے لگا
نیہا نے بے ساختہ ماشاء اللّه پڑھا تھا اللّه نے اسکے بھائی کو کتنا مکمل بنایا تھا ائیر فورس کے یونیفارم میں بیجز کے ساتھ وہ پورا ہیرو لگتا تھا
"اوہ...تمہیں کیا ہوا ہے" نیہا نے بے ساختہ شانہ ہلایا تھا مہرماہ کا جو ایک ہی زاویے پہ ہی ساکن ہوگئی تھی
" آں...نہیں کچھ بھی تو نہیں" مہرماہ نے نگاہیں جھکاتے ہوئے جواب دیا آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کے بہنے کو بیتاب تھے
" لک مہرماہ کہیں بھائی کے جانےسے تو پریشان نہیں "
نیہا یہی سمجھی
" انس کے جانے سے نہیں انکی باتوں سے پریشان ہوں کیا میں ہی انہیں ملی تھی"
مہرماہ نے تھک کے سوچا
" نہیں....ایسا تو نہیں ہے"
"فکر مت کرو اچھی لڑکی....میرا انتظار کرنا میں لوٹ آؤنگا تمہارے لئے"
انس نے مہرماہ کے پاس جھک کے سرگوشی کی تھی
مہرماہ کا دل جیسے کسی نے جکڑا تھا اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کے شکوہ کناں نظروں سے انس کو دیکھا تھا انس ایک گہری سانس لے کے اس کا سر سہلا کے آگے بڑھ گیا تھا
" مجھے لگتا ہے بھائی کو کوئی لڑکی پسند آگئی ہے "
نیہا نے تجسس سے کہا
" شاید...." مہرماہ کیلئے بولنا مشکل ہورہا تھا
"اللّه کرے کوئی ڈھنگ کی لڑکی ہو...."
نیہا یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ لڑکی اسکے سامنے ہی بیٹھی تھی
" ویسے ماہ....ہالار جاذب سے ملاقات ہوتی ہے تمہاری..."
مہرماہ آڈیشن میں سلیکٹ ہونے کے بعد اب ٹریننگ لے رہی تھی
" نہیں....ہالار رات کے شوز کرتے ہیں اور ہم فی الحال دن میں ٹریننگ لیتے ہیں "
" اچھا تو پھر تم نے اسکے بارے میں کچھ انفارمیشن کلیکٹ کی"
نیہا کا لہجہ پرسوچ تھا
" نہیں....میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں وہاں سب کیا سوچیں گے" مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا
" تم ساری زندگی یہی سوچنا کہ لوگ کیا کہیں گے...محترمہ مہرماہ صاحبہ ہوش کے ناخن لو کچھ کرو ہاتھ پیر ہلاؤ اپنی محبت کیلئے "
نیہا کو غصہ آگیا تھا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *