Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812
Last updated: 23 July 2026
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa
انس کی باتوں پہ مہرماہ کے اندر باہر ایک جیساں یکساں سناٹا چھا گیا تھا طوفان آنے سے پہلے کا سناٹا پوری کائنات جیسے خاموش ہوگئی تھی اور مہرماہ کی تو کل کائنات ہی ہالار جاذب کی محبت تھی سو اسکی دلی کیفیت کا حال جیسے مرگ کی حالت میں مبتلا شخص جیسا تھا
اسے نیہا اور انس کے ہلتے لب دکھائی تو دے رہے تھے مگر سنائی کچھ نہیں دے رہا تھا
اس سے خاموش محبت کرنے کا حق بھی چھینا جارہا تھا
نیہا بھی انس کی بات پہ حیران ہوئی تھی مگر وہ بات کی گہرائی میں نہیں گئی تھی اسے لگا تھا کہ انس یوں ہی ان دونوں کو تنگ کررہا ہے
" بھائی جاؤ یار....اپنا کام کرو....کیوں تنگ کرتے ہو"
" جا ہی رہا ہوں پھر نہ بلانا کہ بھائی آجاؤ یہ کام ہے وہ کام ہے ....مابدولت نہیں آئیں گے"
انس نے دھمکی دی
" ہیں تم کیا چاند پہ جارہے ہو"
نیہا نے حیرانگی سے پوچھا
"اس میں جانے میں ابھی وقت ہے فی الحال مجھے رسالپور جانا ہے"
انس نے بتایا
" ہیں دوسرے علاقے میں مگر کیوں جانا ہے"
نیہا نے بے تکا سوال پوچھا تھا
"جمعہ پڑھنے...." انس نے اس بے تکے اس سوال کا بے تکا ہی جواب دیا تھا
نیہا حیرانگی سے اسکی شکل دیکھنے لگی
" کیا....بھائی کیا کہہ رہے ہو...سیدھی طرح بتاؤ"
" یار ظاہر ہے اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں جارہا ہوں پی ایف اکیڈمی "
" میری سمجھ میں یہ نہیں آتا تم فوجی لوگ ایک جگہ ٹک کے کیوں نہیں بیٹھتے"
نیہا تنک کے بولی تھی اسے انس کے روز روز کے چکروں سے الجھن تھی
" نیہا بچے ہم فوجی اگر ٹک گئے تو پھر تم لوگ نہیں ٹک سکو گے ....اچھا اب میں چلتا ہوں"
انس نے گھڑی دیکھی اور اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ اٹھا کے پہننے لگا
نیہا نے بے ساختہ ماشاء اللّه پڑھا تھا اللّه نے اسکے بھائی کو کتنا مکمل بنایا تھا ائیر فورس کے یونیفارم میں بیجز کے ساتھ وہ پورا ہیرو لگتا تھا
"اوہ...تمہیں کیا ہوا ہے" نیہا نے بے ساختہ شانہ ہلایا تھا مہرماہ کا جو ایک ہی زاویے پہ ہی ساکن ہوگئی تھی
" آں...نہیں کچھ بھی تو نہیں" مہرماہ نے نگاہیں جھکاتے ہوئے جواب دیا آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کے بہنے کو بیتاب تھے
" لک مہرماہ کہیں بھائی کے جانےسے تو پریشان نہیں "
نیہا یہی سمجھی
" انس کے جانے سے نہیں انکی باتوں سے پریشان ہوں کیا میں ہی انہیں ملی تھی"
مہرماہ نے تھک کے سوچا
" نہیں....ایسا تو نہیں ہے"
"فکر مت کرو اچھی لڑکی....میرا انتظار کرنا میں لوٹ آؤنگا تمہارے لئے"
انس نے مہرماہ کے پاس جھک کے سرگوشی کی تھی
مہرماہ کا دل جیسے کسی نے جکڑا تھا اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کے شکوہ کناں نظروں سے انس کو دیکھا تھا انس ایک گہری سانس لے کے اس کا سر سہلا کے آگے بڑھ گیا تھا
" مجھے لگتا ہے بھائی کو کوئی لڑکی پسند آگئی ہے "
نیہا نے تجسس سے کہا
" شاید...." مہرماہ کیلئے بولنا مشکل ہورہا تھا
"اللّه کرے کوئی ڈھنگ کی لڑکی ہو...."
نیہا یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ لڑکی اسکے سامنے ہی بیٹھی تھی
" ویسے ماہ....ہالار جاذب سے ملاقات ہوتی ہے تمہاری..."
مہرماہ آڈیشن میں سلیکٹ ہونے کے بعد اب ٹریننگ لے رہی تھی
" نہیں....ہالار رات کے شوز کرتے ہیں اور ہم فی الحال دن میں ٹریننگ لیتے ہیں "
" اچھا تو پھر تم نے اسکے بارے میں کچھ انفارمیشن کلیکٹ کی"
نیہا کا لہجہ پرسوچ تھا
" نہیں....میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں وہاں سب کیا سوچیں گے" مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا
" تم ساری زندگی یہی سوچنا کہ لوگ کیا کہیں گے...محترمہ مہرماہ صاحبہ ہوش کے ناخن لو کچھ کرو ہاتھ پیر ہلاؤ اپنی محبت کیلئے "
نیہا کو غصہ آگیا تھا
