Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06

انس کی باتوں پہ مہرماہ کے اندر باہر ایک جیساں یکساں سناٹا چھا گیا تھا طوفان آنے سے پہلے کا سناٹا پوری کائنات جیسے خاموش ہوگئی تھی اور مہرماہ کی تو کل کائنات ہی ہالار جاذب کی محبت تھی سو اسکی دلی کیفیت کا حال جیسے مرگ کی حالت میں مبتلا شخص جیسا تھا
اسے نیہا اور انس کے ہلتے لب دکھائی تو دے رہے تھے مگر سنائی کچھ نہیں دے رہا تھا
اس سے خاموش محبت کرنے کا حق بھی چھینا جارہا تھا
نیہا بھی انس کی بات پہ حیران ہوئی تھی مگر وہ بات کی گہرائی میں نہیں گئی تھی اسے لگا تھا کہ انس یوں ہی ان دونوں کو تنگ کررہا ہے
” بھائی جاؤ یار….اپنا کام کرو….کیوں تنگ کرتے ہو”
” جا ہی رہا ہوں پھر نہ بلانا کہ بھائی آجاؤ یہ کام ہے وہ کام ہے ….مابدولت نہیں آئیں گے”
انس نے دھمکی دی
” ہیں تم کیا چاند پہ جارہے ہو”
نیہا نے حیرانگی سے پوچھا
“اس میں جانے میں ابھی وقت ہے فی الحال مجھے رسالپور جانا ہے”
انس نے بتایا
” ہیں دوسرے علاقے میں مگر کیوں جانا ہے”
نیہا نے بے تکا سوال پوچھا تھا
“جمعہ پڑھنے….” انس نے اس بے تکے اس سوال کا بے تکا ہی جواب دیا تھا
نیہا حیرانگی سے اسکی شکل دیکھنے لگی
” کیا….بھائی کیا کہہ رہے ہو…سیدھی طرح بتاؤ”
” یار ظاہر ہے اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں جارہا ہوں پی ایف اکیڈمی “
” میری سمجھ میں یہ نہیں آتا تم فوجی لوگ ایک جگہ ٹک کے کیوں نہیں بیٹھتے”
نیہا تنک کے بولی تھی اسے انس کے روز روز کے چکروں سے الجھن تھی
” نیہا بچے ہم فوجی اگر ٹک گئے تو پھر تم لوگ نہیں ٹک سکو گے ….اچھا اب میں چلتا ہوں”
انس نے گھڑی دیکھی اور اپنی بلیک لیدر کی جیکٹ اٹھا کے پہننے لگا
نیہا نے بے ساختہ ماشاء اللّه پڑھا تھا اللّه نے اسکے بھائی کو کتنا مکمل بنایا تھا ائیر فورس کے یونیفارم میں بیجز کے ساتھ وہ پورا ہیرو لگتا تھا
“اوہ…تمہیں کیا ہوا ہے” نیہا نے بے ساختہ شانہ ہلایا تھا مہرماہ کا جو ایک ہی زاویے پہ ہی ساکن ہوگئی تھی
” آں…نہیں کچھ بھی تو نہیں” مہرماہ نے نگاہیں جھکاتے ہوئے جواب دیا آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کے بہنے کو بیتاب تھے
” لک مہرماہ کہیں بھائی کے جانےسے تو پریشان نہیں “
نیہا یہی سمجھی
” انس کے جانے سے نہیں انکی باتوں سے پریشان ہوں کیا میں ہی انہیں ملی تھی”
مہرماہ نے تھک کے سوچا
” نہیں….ایسا تو نہیں ہے”
“فکر مت کرو اچھی لڑکی….میرا انتظار کرنا میں لوٹ آؤنگا تمہارے لئے”
انس نے مہرماہ کے پاس جھک کے سرگوشی کی تھی
مہرماہ کا دل جیسے کسی نے جکڑا تھا اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کے شکوہ کناں نظروں سے انس کو دیکھا تھا انس ایک گہری سانس لے کے اس کا سر سہلا کے آگے بڑھ گیا تھا
” مجھے لگتا ہے بھائی کو کوئی لڑکی پسند آگئی ہے “
نیہا نے تجسس سے کہا
” شاید….” مہرماہ کیلئے بولنا مشکل ہورہا تھا
“اللّه کرے کوئی ڈھنگ کی لڑکی ہو….”
نیہا یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ لڑکی اسکے سامنے ہی بیٹھی تھی
” ویسے ماہ….ہالار جاذب سے ملاقات ہوتی ہے تمہاری…”
مہرماہ آڈیشن میں سلیکٹ ہونے کے بعد اب ٹریننگ لے رہی تھی
” نہیں….ہالار رات کے شوز کرتے ہیں اور ہم فی الحال دن میں ٹریننگ لیتے ہیں “
” اچھا تو پھر تم نے اسکے بارے میں کچھ انفارمیشن کلیکٹ کی”
نیہا کا لہجہ پرسوچ تھا
” نہیں….میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں وہاں سب کیا سوچیں گے” مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا
” تم ساری زندگی یہی سوچنا کہ لوگ کیا کہیں گے…محترمہ مہرماہ صاحبہ ہوش کے ناخن لو کچھ کرو ہاتھ پیر ہلاؤ اپنی محبت کیلئے “
نیہا کو غصہ آگیا تھا
” میں نے بغیر کسی غرض کے یہ محبت کی ہے اور میں خوش ہوں ایسے”
” ماہ….تم پاگل ہوگئی ہو ہم جس سوسائٹی میں رہتے ہیں نا وہاں ان محبتوں کی کوئی گنجائش نہیں اگر اس سے محبت کا دعوی ہے تو پھر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو ورنہ تم کم از کم جھولے پہ بیٹھ کے اسکی آواز کے تعاقب میں زندگی نہیں گزار سکتیں”
نیہا ایک پریکٹیکل لڑکی تھی اور ہر معاملے میں اسکی رائے دو ٹوک ہوتی تھی
” نیہا میں ایسے رہ لوں گی”
” تم ایسے نہیں رہ سکتیں مہرماہ….آج یا کل اماں پاپا تمہیں بیاہ دیں گے اور مجھے پتا ہے تم صرف خاموش احتجاج کرسکتی ہو مگر انکار نہیں پھر بتاؤ وہ جو شخص تمہاری زندگی میں آئے گا تو کیا اسکے ساتھ دوغلی زندگی گزارو گی…”
نیہا کو جلال آگیا تھا
” میں شادی نہیں کروں گی”
مہرماہ نے آرام سے کہا تھا
” یہ بات تو تم نہ ہی کرو مہرماہ ….شادی تو ہونی ہی ہے”
نیہا نے ناک پہ سے مکھی اڑائی
” میں ماموں سے بات کروں گی”
” اچھا کیا بات کروگی پاپا سے زرا مجھے بھی تو بتاؤ…کہ تم ہالار جاذب سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہو اور اسکی محبت کے سہارے ہی سارے زندگی گزار دو گی”
نیہا نے طنزیہ کہا
” میں نے یہ کب کہا…میں ایسا کہہ بھی کیسے سکتی ہوں”
” کہہ کے تو دیکھو مہرماہ طوفان آجائے گا اس گھر میں ایک تمہاری نامحرم محبت میں تم سے تمہارا ہر ایک محرم روٹھ جائے گا “
نیہا نے بہت بڑی اور سخت بات کی تھی
” نیہا…..”
مہرماہ کے وجود میں جیسے کسی نے برچھی اتاری تھی
” کیا نیہا….بتاؤ مجھے ماہ جس محبت کا اقرار تم کسے کے سامنے نہیں کرسکتیں جسے تم ایک زمانے سے چھپا کے رکھتی ہو وہ بھلا کیسے تمہارا مان رکھے گی”
” مجھے یہ سب معلوم نہیں ہے نیہا…..مجھ پہ ہالار جاذب کی محبت کسی لمحے میں یوں اتری ہے کہ میرا وجود پور پور اس محبت میں ڈوب گیا ہے میں چاہ کہ بھی ابھر نہیں سکتی اس میں سے “
مہرماہ نے بے بسی سے کہا تھا
” میری جان….مجھے محبت کا تو پتہ نہیں مگر مجھے تمہارا پتہ ہے اگر تمہیں ہالار نہیں ملا تم جیتے جی اندر ہی سے مرجاؤ گی…اس لئے پلیز کوشش کرو جو بن پڑتا ہے جائز طریقے سے وہ کرو ہالار جاذب کی محبت میں ہی تمہاری بقا ہے تو پھر اس بقا کیلئے تم جدوجہد کرو لوگ اپنی بقا کیلئے صدیوں جنگ لڑتے ہیں تو تم کیوں نہیں”
نیہا نے اسے سمجھایا
مہرماہ نے بے بسی سے سر جھکا لیا تھا
محبت اتنا مجبور بھی کردیتی ہے
یہ آج معلوم ہوا تھا مہرماہ کو
_____________________________________آج اتوار کا دن تھا اور ویکینڈ ہونے کی وجہ سے کام بڑھ گیا تھا اس لئے مہرماہ کچھ لیٹ ہوگئی تھی ریڈیو کیلئے انکی ٹریننگ ختم ہونےمیں ابھی کچھ دن تھے ویسے تو مہرماہ سارے کام وقت پہ ختم کرلیتی تھی مگر آج سفیر صاحب کے دوست اچانک بمعہ فیملی آگئے تو مہرماہ کا کام بڑھ گیا تھا ڈیوٹی آفیسر کو وہ وجہ بتا چکی تھی اسکا اب تک کا ریکارڈ اچھا تھا سو ڈیوٹی آفیسر نے اسے ذیادہ کچھ نہیں کہا تھا سو یہ بات وہاں موجود اوروں کو برداشت نہیں ہوئی تھی
” بھئی جب بندہ ایک کام نہیں کرسکتا تو نہ کرے نا”
یہ ثمرہ تھی ایک ٹرینی
” اصل میں کچھ لوگوں کو خبط ہوتا ہے اپنے آپ کو ملٹی ٹیلینٹڈ کہلوانے کا”
شیما نے بھی ثمرہ کا ساتھ دیا
“حالانکہ وہ بے چارے ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کرسکتے”
ثمرہ نے کینہ توز نظروں سے مہرماہ کو دیکھا
وہ مہرماہ کا نام لے نہیں رہیں تھیں مگر انکا نشانہ وہی تھی
” ایسے لوگ نہ ذہنی بیمار ہوتے ہیں ” ثمرہ نے مہرماہ کی طرف جھکتے ہوئے جان بوجھ کے ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس گرا دیا تھا مہرماہ کے کپڑوں پہ
اور یہ بہت ذیادہ ہوگیا تھا
” واٹ دا ہیل آر یو ڈوئنگ سلی گرل….” شیر کی دھاڑ جیسی آواز پہ وہ سب اچھل گئیں تھیں
مہرماہ کی ہتھیلیاں بھیگ گئیں تھیں
ثمرہ کو اس وقت کسی کے آنے کی توقع نہ تھی
” وہ ایسے ہی….آپ کون” ثمرہ گھبرا گئی تھی مگر حواس قائم رکھتے ہوئے اسکا تعارف چاہا تھا
” میں ہالار جاذب یور ٹرینر ….اور آپ ایسے ہی ہر کسی کے ساتھ یہ پاگل پن کرتیں ہیں”
ہالار بخشنے کے موڈ میں نہ تھا
” اوہ سر ….یو اٹس گلیڈ ٹو میٹ یو…” ثمرہ نے اسکی بات پہ دھیان نہیں دیا اور نزاکت سے اپنا ہاتھ آگے کیا تھا
جسے ہالار جاذب نے نظرانداز کردیا تھا
” بٹ آئی ایم ناٹ ہپی ….میں ایسے لوگوں کو ٹریننگ دینا پسند نہیں کرتا جن میں مینرز نام کی کوئی چیز نہیں….سو یو مس بالکل یو بوتھ آف یو…اس نے شیما کی طرف بھی اشارہ کیا وہ ان دونوں کی باتیں سن چکا تھا….آپ دونوں ایک ہفتے کیلئے بین ہیں…اور اسٹوڈیو میں بیٹھ کے کھانا پینا بالکل بھی الاؤ نہیں ہے اور آپ نے یہ رول بھی توڑا ہے میں ڈی سی صاحب کو رپورٹ کروں گا”
ہالار نے اپنا فیصلہ سنایا
ہالار کی ایک کلاس تھی وہ ایک کلاسی شخص تھا اس وقت بھی براؤن لیدر جیکٹ چمکتے جوتوں اور بلیک پینٹ پہ وائٹ شرٹ پہنے وہ سارے ماحول پہ چھایا ہوا تھا
” مگر سر اٹس ناٹ فئیر….” شیما نے احتجاج کیا
” اٹس رئیلی فئیر…مس شیما…اس ایک ہفتے میں آپ دونوں تھوڑا ایتھیکس سیکھیں اور ان مس سے سوری بھی کریں….ناؤ یو کین گو”
ہالار کا لہجہ بالکل بے لچک تھا ہاتھ کے اشارے سے انہیں باہر جانے کو کہا تھا
” اینڈ یو مس….واٹس یور نیم…”
ہالار نے سوالیہ لہجے میں کہا
” مہر ماہ… ” مہرماہ ہولے سے بولی
“مہرماہ نائس نیم….انسان کو کم از کم اسے ضرور ٹوکنا چاہئے جو آپ کے خلاف بات کرے ورنہ بہت مشکل ہوجاتی ہے”
” کچھ نہیں ہوتا سر….ان کے کہنے سے ہم ہو تو نہیں جاتے نا”
مہر ماہ کو ایسے ہی تو نیہا سن نہیں کہتی تھی
” لیکن لوگ آپ پہ شیر ہوجاتے ہیں اس لئے پہلے مرحلے پہ انکی سرکوبی ضروری ہے ورنہ ایسے لوگ زندگی میں ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں”
ہالار نے اسے سمجھایا
مہرماہ کو وہ نیہا کی طرح لگا تھا اس سمے
” اوہ آپ کے کپڑے …” ہالار کی نظر اسکے کپڑوں پہ پڑی تھی اس نے ٹشو باکس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جس میں ٹشو پیپرز ختم ہوچکے تھے
” اوہ…شٹ..بٹ اٹس اوکے…” ہالار نے اپنا رومال نکال کے اسکی جانب بڑھا دیا تھا
جوس کے چند قطرے مہرماہ کے چہرے پہ بھی لگے تھے
” اٹس اوکے سر….میں واش کردیتی ہوں اسے”
مہرماہ نے کہا
” پہلے صاف کرلیں پھر واش کرلیجئے گا”
لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر پہلے والا ہالار ہے غصے والا …وہ اتنی نرمی سے بات کررہا تھا کہ مہرماہ کو ٹھنڈی چھاؤں کا گمان ہورہا تھا اس پہ
” اچھا….تھینکس”
مہرماہ نے رومال لے لیا تھا اور آہستہ سے صاف کیا تھا
” یہاں بھی…” ہالار نے چہرے کی طرف اشارہ کیا
مہر ماہ نے اندازے سے چہرہ صاف کیا
” اوہوں…ادھر دیجئے…”
ہالار نے رومال اس سے لے کے نرمی سے اسکا چہرہ صاف کیا تھا
مہر ماہ ساکت سی ہوگئی تھی اتنی پروا دیوتا کے لمس سے پجارن امر ہوگئی تھی …اسکی پروا سے
ہالار جاذب بھلا کب سے لڑکیوں کی پروا کرنے لگا تھا ….
شاید مہرماہ کے جذبے اثر دکھانے لگے تھے
ہالار جاذب نے یونہی اسکی آنکھوں میں دیکھا سیاہ گھور آنکھیں لانبی پلکوں کے سائے میں
ہالار کو وہ کسی اور ہی دنیا کی لگی تھی اسی پل اسکا سیل بجا تھا سارا فسوں جیسے ہوا میں تحلیل ہوگیا تھا
” ایکسکیوزمی….” ہالار باہر چلا گیا تھا
مہرماہ نے کسی قیمتی متاع کی طرح رومال اپنی مٹھیوں میں قید کیا تھا
اس میں ہالار کی خوشبو تھی
اسکے لمس کا احساس تھا
اسکی پروا کا جذبہ تھا
لیکن بھلا قید کرنے سے محبت مل جاتی ہے کیا????
________________,,,,____________,,,,_____
“مہر ماہ…. کیا کررہی ہو” نیہا نے اسے جھولے پہ بیٹھے دیکھ کے پوچھا
” کچھ نہیں….”
مہرماہ نے ہالار کا دیا ہوا رومال فورا دوپٹے میں چھپایا تھا نیہا کو اس نے اس دن کا قصہ نہیں سنایا تھا
” اچھا سنو میری اس قمیض کی فٹنگ کردو “
نیہا نے اسکی طرف اپنی شرٹ بڑھائی جو اس نے نئی ہی لی تھی
” کوئی ایونٹ ہے یونی میں” مہرماہ نے پوچھا
اضطراری انداز میں ہاتھ پیچھے کیا تھا یہ رومال اسکے لئے بے حد قیمتی ہوگیا تھا
ہالار کا احساس جیسے ہر سمت تھا اسکی خوشبو وہ اسکے رستوں پہ نہ ہو کے بھی جیسے اسکے سنگ تھا
” یونی میں نہیں وہ سمیہ خالہ نہیں ہیں انکی بیٹی کی شادی شروع ہے اس ہفتے سے اسکیلئے”
نیہا نے بتایا
” اچھا مجھے پتہ ہی نہیں چلا…”
مہرماہ حیران ہوئی
” سارا دن گھر میں ہوتی ہو پھر بھی کچھ نہیں پتہ ہوتا مگر تم.نہ جانے کونسے جہاں میں ہوتی ہو”
نیہا چڑ کے بولی تھی
” اب ایسا بھی نہیں ہے…نیہا”
مہرماہ اس سے شرٹ لیتے ہوئے بولی
“اچھا میں نیچے جارہی ہوں انس بھائی بھی رات تک آجائے گا اس کا کمرہ دیکھ لوں”
نیہا نیچے کی طرف چل دی تھی
” تو انس آپ آنے والے ہیں….میں اب کیا کروں گی “
مہرماہ نے ہاتھ رگڑتے ہوئے سوچا اور رومال اٹھا کے کھڑی ہوگئی تھی
_____________________________________
انس اس رات نہیں آیا تھا وہ اسلام آباد چلا گیا تھا مہرماہ نے کچھ کھل کے سانس لیا تھا آج کا دن عجیب بوجھل سا تھا
مہر ماہ یوں ہی تھکی تھکی ریڈیو آئی تھی موسم بدل رہا تھا اور آج چونکہ گرمی بھی تھی تو وہ شال سوئیٹر سب گھر چھوڑ آئی تھی
مگر یہ کراچی کا موسم ہے یہ آپ کو اگر دسمبر میں جہنم کی یاد دلا سکتا تو اپنے تیوروں سے اپکو کینیڈا کی سردی یاد دلا سکتا ہے
موسم نے اچانک پلٹا کھایا تھا تیز ہواؤں نے لپک کے بادلوں کا رخ شہر قائد کی طرف کیا تھا اور اب چھاجوں چھاج مینا برس رہا تھا
مہرماہ پریشان ہوگئی تھی کہ اب گھر کیسے جائے انس ہوتا تو اسے پک کرلیتا
” مجھے ٹیکسی منگوا دیں میم”
مہرماہ نے پی ایم کو مخاطب کیا
” اس موسم میں ٹیکسی بھی کہاں پانی دیکھو سڑکوں پہ اوبر والوں کو کال کرتوں دوں مگر وہ بھی دیر سے ہی پہنچیں گے پانی کو تو دیکھو”
انہوں نے مہرماہ سے کہا
پانی سڑکوں پہ دور دور تک تھا
” کم از کم پہنچ تو جائے گا نہ لیٹ ہی سہی”
مہرماہ کانپ رہی تھی دوپٹہ اچھی طرح لپیٹ لیا تھا موسم سرد ہورہا تھا اوپر سے بارش
” میں تو کہتی ہوں چھوڑو گھر جانے کا خیال یہیں چائے اور سموسے منگواتے ہیں اور موسم انجوائے کرتے ہیں”
پی ایم ایک زندہ دل خاتون تھیں
” نو میم….مجھے گھر جانا ہے یہ ضروری ہے”
مہر ماہ کو عالیہ بیگم.کی فکر تھی وہ گھر پہ اکیلی تھیں اوپر سے جوڑوں کی مریض اور بیمار بھی
” اچھا….اوہ ہالار لسن ٹو می”
میم نے ہالار کو پکارا
” یس میم…”
” ہالار ایک فیور چاہئیے….”
” میں اس وقت کوئی شو نہیں کروں گا” ہالار نے پہلے ہی کہہ دیا تھا
” ارے شو کرنے کا نہیں کہہ رہی”
” پھر….”
” کیا تم مہرماہ کو گھر چھوڑ سکتے ہو اسے گھر جانا ہے ابھی ضروری”
” آئی کیسے تھیں آپ”
ہالار نے پوچھا
” کیب سے…” مہرماہ نے کہا
” تو واپس بھی ایسے چلی جائیں…”
ہالار نے بے مروتی سے کہا اس دن والا ہالار تو وہ لگ ہی نہ رہا تھا
” کہاں سے ملے گی ٹیکسی ہالار…اور موسم تو دیکھو….حد کرتے ہو”
میم نے جھلا کے کہا تھا
” اچھا….ہمارا ڈرائیور کہاں ہے” ہالار نے چینل کی سروس کار کا پوچھا
” وہ تو کنٹرول کے ساتھ ہے”
پھر رک کے میم.نے کہا
” تم چھوڑ رہے ہو کہ نہیں …”
” اوکے…صرف آپکی وجہ سے “
ہالار نے جیسے اسکی سات پشتوں پہ احسان کیا تھا
مہرماہ کو رونا آنے لگا اتنا کٹھور ہورہا تھا وہ
“رہنے دیں میں چلی جاؤں گی خود”
” تو پھر میرا وقت کیوں برباد کیا اگر آپ اتنی ہی ونڈر وومن ہیں چلیں اب ” ہالار نے درشتی سے کہا
“ہاں جاؤ مہرماہ…”
میم نے کہا تھا وہ دبے پاؤں قدم بڑھانے لگی
” جلدی چلیں…” ہالار ناگواری سے بولا
” چل تو رہی ہوں….اب کیا اڑوں” مہرماہ نے چڑ کے کہا
” آپ کہاں کی پری ہیں مس ڈونٹ ٹیل می”
ہالار کے لبوں پہ ہلکی سی مسکان آئی تھی
” اس سے کم بھی نہیں”
مہرماہ نے کہا
” اچھا ….رئیلی” ہالار نے پلٹ کے اسے دیکھا وہ اس سے دو قدم آگے تھا
” یس ….” مہرماہ نے گردن اکڑا کے کہا تھا
ایسا ہے تو ایسا ہی سہی
ایک تو بارش اوپر سے ٹھنڈ مہرماہ کا سردی سے برا حال تھا
باہر نکلے تو تڑ تڑ بوندیں ان پہ برسنے لگیں تھیں مہرماہ نے دوپٹہ صحیح کیا
کسی منچلے نے اسے دیکھ کے وسلنگ شروع کی ہالار نے مڑ کے پہلے اسے دیکھا پھر اس لڑکے کو وہ خود تو جیکٹ پہنے ہوئے تھے اس لئے بچا ہوا تھا
ہالار نے اپنی جیکٹ اتار کے اسکی طرف بڑھائی تھی وہ اتنا بھی روڈ نہیں تھا روڈ ہونا الگ بات ہے مگر بے حس ہونا غلط بات اور ہالار جاذب غلط بات اور کام نہیں کرتا تھا
مہرماہ کو لگا جیسے اسے چھایا مل گئی ہو ہالار کی دی ہوئی جیکٹ اس نے پہن لی تھی
قریب سے گزرنے پہ اس لڑکے نے پھر وسلنگ کی تھی اب کی بار ہالار نے پلٹ کے اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورا تھا لڑکا ہالار کے تیور دیکھ کے کانوں کو ہاتھ لگاتا فورا رفو چکر ہوا تھا
ہالار نے گاڑی میں بیٹھ کے اسکی طرف کا دروازہ کھولا
” کم مس مہرماہ”
مہرماہ بیٹھ گئی تھی کل تک جس کی آواز میسر تھی آج اسکا ساتھ میسر تھا بھلے سے پل بھر کیلئے ہی سہی
” مس مہرماہ…”
ہالار نے احتیاط سے موڑ کاٹتے ہوئے محتاط نظروں سے اسے دیکھا
بارش کی شبنمی بوندوں میں نہایا ہوا اسکا چہری نہایت دلکش لگ رہا تھا سیاہ لٹوں کے ہالے میں
” جی….” مہرماہ کا پورا وجود جیسے کان بن گیا
” آپ بہت انوسینٹ ہیں مہرماہ….آئی نو موسم بدلا ہے مگر آپ جانتیں ہیں کراچی کا موسم یوں ہی بدلتا ہے اچانک تو ہمیں تھوڑی تیاری رکھنی چاہئیے”
ہالار نہ جانے کونسی تمہید باندھ رہا تھا
مہرماہ نے چہرہ صاف کرتے ہوئے اسے دیکھا سوالیہ انداز میں
” آپ کی بات نہیں سمجھی آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
” مہرماہ …میں آپکو ایک ایڈوائز کروں گا گھر سے باہر نکلتے ہوئے آپ یوں بھی سر کور کرتی ہیں تو چادر ہی لے لیا کریں کسی بھی ایمرجنسی سیچویشن میں آسانی ہوتی ہے لڑکیوں کو جیسے آج ہوا….انفیکٹ مجھے اچھا لگے گا اگر آپ یہ کریں”
ہالار بہت نرمی سے بول رہا تھا پرتاثیر لہجے میں اس نے عام مردوں کی طرح مہرماہ پہ طنز نہیں کیا تھا کہ اس نے دوپٹہ لے رکھا تھا تو اسکی جانب سب متوجہ ہوئے اس نے بہت اچھے طریقے سے اپنی بات کی تھی
مہرماہ قائل بھی ہوئی تھی
” آپکو اچھا لگتا ہے تو میں یہ لازمی کروں گی آپ نے جو کہا ہے”
مہرماہ نے دل میں کہا تھا
ہالار جاذب نے اسکا خیال کیا تھا وہ اسکی اتنی پروا کررہا تھا
مہر ماہ کو یک دم ہی سب اچھا لگنے لگا تھا
یہ بارش
یہ موسم
یہ سماں
اور
ہالار جاذب کی ہم سفری.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *