Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23

شام کا دھندلکا شہر قائد میں پھیلنے لگا تھا دھوئیں کے پار سے اتر کے شام یہاں اب ڈھلنے لگی تھی…..شام آج واقعی سیاہ تھی یا مہرماہ کو ماتمی رنگ میں ڈوبی نظر آئی تھی میر ہاؤس کے سارے مکین آج جمع تھے میر عدیل اور میر حسام جو میر ثمر کا چھوٹا بھائی تھا وہ بھی میر ہالار کے گھر آچکا تھا مہرماہ نے شام کی مناسبت سے خاصا اہتمام کرلیا تھا میر برفت کی صحتیابی کی خوشی میں وہ اب مکمل روبہ صحت تھے اور آج تو انکے چہرے کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی
” ارے لو مہر ماہ بھی آگئی……” میر جاذب بولے تھے
مہر ماہ دھیرے سے مسکرائی تھی اسی پل میر ہاؤس کا دروازہ کھلا تھا اور سفیر صاحب کی گاڑی اندر داخل ہوئی تھی
مہرماہ حیرانی سے سیدھی ہوئی تھی سفیر صاحب عالیہ بیگم اور نیہا کے ساتھ باہر نکلے تھے
” ماموں…..” مہرماہ انکی طرف دوڑی
” کیسی ہو بیٹا….” سفیر صاحب نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا
” ٹھیک …..آپ کیسی ہیں ممانی….آپ کو بہت مس کیا…”
مہر ماہ نے دانستہ نیہا کو نظر انداز کیا تھا
” ارے میری بیٹی میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا…..اور میں ٹھیک ہوں میری اتنی فکر نہ کیا کرو “
عالیہ نرمی سے بولیں تھیں
” آئیے سفیر صاحب خوش آمدید….م” میر جاذب نے ان کا استقبال کیا تھا اور انہیں ڈرائنگ روم کیطرف لے کے بڑھ گئے تھے
سفیر صاحب کی تیاری بتا رہی تھی کہ وہ میر ہاؤس کسی خاص مقصد سے آئیں ہیں
” یہ لوگ کیوں آئے ہیں…” میر برفت نخوت سے بولے
” ابا جان پلیز….وہ مہر ماہ کی فیملی کے لوگ ہیں اور ہالار کے سسرالی بھی …..” میر جاذب نے جیسے انکو یاد دلایا
” ہنہ….سسرالی…چلو یہ خوش فہمی بھی دور کرتے ہیں انکے…..دیر سے سہی ہالار کو عقل آہی گئی. …” میر برفت تمسخرانہ انداز میں بولے
” کہنا کیا چاہ رہے آپ….” میر جاذب چونکے
” معلوم ہوجائے گا چلو….” میر برفت لاٹھی ٹیکتے آگے بڑھ گئے تھے
میر جاذب فورا ان کے پیچھے لپکے تھے
” ماشاء اللّه اب تو آپ خاصے بہتر لگ رہے ہیں…. ” سفیر صاحب نے رسمی گفتگو شروع کی تھی
” الحمد اللّه ….ہماری بیٹی مہرماہ ہمارا بہت خیال کرتیں ہیں….” میر برفت مان سے بولے تھے
” مہرماہ تو بہت اچھی بچی ہے جس گھر جائے گی وہاں اجالا کردے گی…” عالیہ بیگم ستائش سے بولیں تھیں
” ہم اپنے گھر کے اجالے سے کسی غیر کا آنگن روشن نہیں کرتے….” میر برفت نخوت سے بولے تھے
” ہمارا وہ مطلب نہیں تھا…..” عالیہ بیگم جلدی سے بولیں تھیں
“میرے خیال میں مطلب کی بات اب کرلینی چاہئیے ….” سفیر صاحب کب سے میر برفت کے تھیکے تیور دیکھ رہے تھے
” کہنا کیا چاہتے ہیں آپ…..” مونا بیگم بولیں
” آج سے پہلے آپ لوگ دو مرتبہ ہماری دہلیز پہ ہم سے کچھ مانگنے آئے تھے.,..آج ہم آپ سے کچھ لینے آئے ہیں گو کہ ہم مکمل اختیار رکھتے ہیں مگر آپکی رضا چاہتے ہیں…..”
سفیر صاحب صاف لہجے میں بولے تھے
” آپ کھل کے کہیں سفیر صاحب……” میر ہمدان الجھ کے بولے تھے
” ہم یہاں آپ لوگوں سے مہر ماہ کا رشتہ انس کیلئے لینے آئے ہیں…انس میرا اکلوتا بیٹا ائیر فورس میں ایروناٹیکل انجینئر اسکواڈرن لیڈر ہے…..ہم آپ لوگوں کی رضامندی سے انس کے ہاتھ میں مہرماہ کا ہاتھ دینا چاہتے ہیں”
سفیر صاحب پوچھ نہیں بتا رہے تھے
ڈرائنگ روم میں یک دم ہی سناٹا چھا گیا تھا
“____________________________________
” تمہیں یوں نہیں آنا چاہئیے تھا …..” مہرماہ کے پیچھے ہی نیہا کچن میں آگئی تھی
” کیوں….”
نیہا حیران ہوئی
” تمہاری سسرال ہے یہ…..اس طرح معیوب سمجھا جاتا ہے ” مہرماہ نے اسکی عقل پہ ماتم کیا
ناراضگی اپنی جگہ پر وہ اسے ٹوکے بنا رہ نہ سکی تھی
” سسرال ….مائی فٹ….اب تو یہ کسی اور کی ہوگی…..” نیہا پراسرار لہجے میں بولی تھی
” مطلب…..” ماہ الجھی
” جان جاؤگی….ڈئیر یہاں بھی کچن میں الجھی رہو….”
نیہا کہہ کے باہر چلی گئی تھی
میر ہاؤس میں ایک اور قیامت دبے پاؤں اسکے عقب میں اتری تھی
_____________________________________
” یہہں خاموش ہوجاو سفیر یوسف …..تم نے جرأت بھی کیسے کی مہرماہ کا رشتہ مانگنے کی…..” میر برفت دھاڑے تھے
” بزرگوار….مہرماہ ہمارا بھی خون ہے ہم آپ سے ذیادہ اس پہ حق رکھتے ہیں…..”
سفیر صاحب بھی ناگواری سے بولے تھے
نیہا خود حیران ہوئی تھی اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ لوگ اس ارادے سے آئے ہیں ورنہ میر ہالار کو وہ بتا دیتی اور میر ہالار کی پیشانی کے بلوں کا کیا کہنا تھا
اسکا ہر انداز یہ ظاہر کررہا تھا کہ اسے یہ سب کتنا ناگوار گزرا ہے….!!!!!!!!
” اچھا ہوا سفیر یوسف تم خود چلے آئے آج سارے معاملات کلئیر کرلیتے ہیں…..ہمارا تمہارا اب کوئی واسطہ نہیں اور میر ہالار اور مہرماہ کی نسبت ہم طے کرچکے ہیں…..”
میر برفت نے دھماکہ کیا تھا
” واٹ…..آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ہم نیہا کو مانگ چکے ہیں ہالار کیلئے …..” میر جاذب چٹخ کے بولے تھے
“ہالار انکار کرچکا ہے…..”
میر برفت استہزائیہ انداز میں بولے
” ہالار بیٹا…..” سفیر صاحب بے یقینی سے بولے
” جی انکل…..آپ نیہا سے پوچھ سکتے ہیں…”
ہالار نے نیہا کی طرف اشارہ کیا تھا
نیہا سر جھکا کے رہ گئی تھی وہ کس منہ سے باپ کو بتاتی
عالیہ بیگم دل تھام کے رہ گئیں تھیں
” بلاؤ…..مہرماہ کو ہم اسے انگوٹھی پہنادیتے ہیں تاکہ کسی کو کوئی شک و شبہ نہ رہے….اور جسے کوئی اعتراض ہے وہ جاسکتا ہے….”
یہ بات خاص طور پہ میر جاذب کو دیکھ کے کہی تھی
” یہ ذیادتی ہے ابا….آپ اسکے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے…..” میر جاذب بولے
” اس میں کونسی ذیادتی ہے…..میر جاذب…میر ہالار ہمارے خاندان کا ہیرا ہے…..اسکی ہسفری پہ مہرماہ ہمیشہ ناز کرے گی…..” میر برفت بولے تھے
“عائشہ….جاؤ مہرماہ کو لے کے آؤ…”
میر برفت نے حکم دیا تھا
عائشہ بیگم انکے حکم کی تعمیل کیلئے اٹھ گئیں تھیں
سفیر صاحب اور عالیہ ایک دوسرے کو دیکھ کے رہ گئے تھے
اپنے بیٹے کی واحد خوشی وہ پوری نہیں کرپائے تھے……
انس کا دل ایک بار خالی انہیں کے ہاتھوں ہوا تھا……!!!!!!
_____________________________________
” مہر ماہ…..”
” جی…” وہ فورا پلٹی
” تمہیں دادا ابا بلارہے ہیں….”
” بس یہ چائے لے لوں….” اس نے مڑ کے ٹرے اٹھائی تھی
” ارے رہنے دو اسے…..آج تمہارا اسپیشل دن ہے….”
عائشہ نے کہا
” کیوں…..آج میری سالگرہ تو نہیں ہے..” مہرماہ ہلکا سا مسکرائی تھی
” سالگرہ سے بھی بڑھ کے. ….” عائشہ نے تجسس پھیلایا
” اچھا ایسا بھی کیا ہے…” مہرماہ نے دلچسپی سے پوچھا
” بھئی تمہارا رشتہ پکا ہوگیا…”عائشہ نے خوشی سے کہا تھا
” جی….”
مہر ماہ نے حیرانی سے سوچا….تو کیا ماموں اس لئے آئے تھے انس کے ساتھ میرا رشتہ طے کرنے….”
مہرماہ کا دل دھڑکا
چہرہ پہ جیسے رنگوں کی قوس قزح بکھری تھی
تو اسکے اچھے دن آگئے تھے….!!!!!
انس سفیر نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا….!!!!
خشک ہوا نے تھک کے اس اچھی لڑکی کو دیکھا تھا
جس کی خوش گمانی کا ست رنگہ بلبلہ بس پھٹنے کو تھا
” پوچھو گی نہیں….کس سے..” عائشہ نے تنگ کیا
” چچی….” مہرماہ جھینپی
” اچھا….میں خود بتادیتی ہوں…”
مہرماہ نے مڑکے ٹرے اٹھالی تھی
” ارے اپنے میر ہالار سے تمہاری نسبت طے کردی ہے تمہارے دادا نے….سو لکی مہرماہ….م” عائشہ اپنی خوشی میں بولیں تھیں
مہرماہ کے زمین آسمان گھوم گئے تھے
کیا….!!!!
مہرماہ کے ہاتھ سے چائے کی ٹرے چھوٹ کے نیچے جا گری تھی
گرم گرم چائے اسکے پیروں میں گری تھی جلن کا شدید احساس ہوا تھا
مگر یہ درد اس درد کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا جو دل میں جگا تھا
” مہرماہ…..”
عائشہ کو اسکا چہرہ بہت سفید لگا تھا
وہ گھبرا کے آگے بڑھیں تھیں
” چچی…..” مہرماہ نیچے بیٹھ گئی تھی بے دم سی ہوکے
” مہرماہ ….آر یو اوکے…”
عائشہ پریشانی سے بولیں تھیں
مہرماہ کا سانس بند ہورہاتھا
وہی کیوں ….!!!!
ہر بار!!!!!
ہمیشہ….!!!!
وہی کیوں تقدیر کے ستم کا نشانہ بنتی ہے….
جب محبت تھی میر ہالار سے….اسکے عشق میں سترہ سال فنا کیے تھے…تب وہ محروم ٹھری تھی
اسکے دل کے کتنے ٹکرے ہوئے تھے
کتنی اذیت سے کتنی کٹھنائیوں سے اس نے انہیں جمع کیا تھا…..ان پہ انس نام کا مرہم لگایا تھا
مگر یہ نصیب اسکا ہمیشہ سارے گھاؤ پھر سے ہرے کردیتا ہے…..!!!!!!
” چچی….نہیں…میں نہیں….لوگ اتنے ظالم کیوں ہوتے ہیں….”
مہرماہ نے تکلیف سے اپنا دل تھاما
رگوں میں کھینچاؤ سا ہورہا تھا
اسے سانس نہیں آرہا تھا اسے لگ رہا تھا وہ جیسے مرگ کی کیفیت میں ہے
مہر ماہ کی آنکھیں سفید پڑ گئیں تھیں….!!!!!
” جاذب….جاذب بھائی….وہ مہرماہ…” عائشہ پریشان سی دوبارہ ڈرائنگ روم میں آئیں تھیں
” کیا ہوا مہرماہ کو ????” میر جاذب کھڑے ہوکے پریشانی سے بولے تھے
” پتہ نہیں…..آپ آکے دیکھیں اسے….” عائشہ نے کہا
” چلو…” میرجاذب فورا آگے بڑھے تھے نیہا بھی فورا باہر لپکی تھی اور اسکے پیچھے باقی سب بھی
” مہرماہ….” نیہا فورا اسکے پاس پہنچی
جو کچن کے فرش پہ کیبنیٹ سے ٹیک لگائے بے دم پڑی تھی
” مہرماہ کی آنکھیں با مشکل کھلیں تھیں
” بس مہرماہ …..کیا خوشی سے بیہوش ہونے لگی ہو….دیکھو میرا پلان کامیاب رہا ….میر ہالار نے خود تمہارا کہا….میں نے اسے سب بتادیا تمہاری سترہ سالہ محبت…..تمہارا ایک ایک انداز….سب کچھ….میر ہالار تمہارا ہوا….مبارک ہو….” نیہا اسکے کان میں جھک کے بولی تھی
مہرماہ کو لگا اسکا دل پھٹنے کو ہے سینے پہ رکھا ہاتھ اس نے نہ جانے کس قوت کے زیر اثر نیہا کو دے مارا تھا
” تم …..تم…..” مہرماہ بامشکل بولی تھی
” تم مرکیوں نہیں جاتی نیہا…. یا مجھے کیوں نہیں ماردیتیں…..” مہرماہ نے اذیت سے سر پٹخا
نیہا شاکڈ سی اسے دیکھ کے رہ گئی تھی….یہ مہرماہ کو کیا ہوا تھا
” تم ….ہمیشہ….تمہاری وجہ سے میرا دل ….ٹوٹ جاتا …ہے….مجھے ایک دفعہ ہی مار دو نیہا….تم نے میرے لئے کیسی زندگی چنی….جس میں ساری زندگی میں ایک کنیز بن کے….رہوں گی….”
مہرماہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے چہرہ ذرد پڑنے لگا تھا
” مہرماہ….خدا گواہ ہے میں نے کبھی تمہارا برا نہیں سوچا… ” نیہا پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ کے بولی تھی سب کچن میں ہی آگئے تھے
” خدا کو….گواہ کرتے…کرتے…تم خود…خدا بن گئیں….تم نے میری زندگی کا فیصلہ کرڈالا….نیہا…کیوں ہمیشہ ایسا کرتی ہو….آج مجھے مار ہی ڈالو….” مہر ماہ اٹک اٹک کے بولی تھی
اسکی آنکھوں کے آگے دھند چھا رہی تھی جن لوگوں سے اس نے بے حد محبت کی انہی لوگوں نے اسکا دل خالی کیا تھا اسکی عزت نفس پہ گھاؤ دیا تھا
” ماہ بچے کیا ہوا…..” میر جاذب نے فورا بی پی اپریٹس سیٹ کرکے اسے چیک کیا
” اوہ مائی….گاڈ….ایمبولنس کال کرو ثمر جلدی…….” مہرماہ کے دل کی دھڑکن خطرناک حدت تک کم ہوچکی تھی
“ہوا کیا ہے اسے….” میر برفت پریشانی سے بولے
” یہ مررہی ہے بابا آپکی عنایت سے اس کا دل کام نہیں کررہا…..” میر جاذب رنجیدگی سے بولے
اور اسے سہارا دینے لگے ہالار نے آگے بڑھنا چاہا مگر انہوں نے روک دیا عائشہ نے جلدی سے انکے ساتھ مل کے مہرماہ کو سنبھالا تھا
جس کے وجود سے زندگی روٹھ رہی تھی
روح قطرہ قطرہ نچڑ رہی تھی
نہ جانے شام کونسا غم منا رہی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *