Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26

” اور اگر آپ کی پوتی نے ہی انکار کردیا پھر…..!!!” ہالار نے انکے تاثرات جاننے چاہے
” میر خاندان کی لڑکیوں کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ بڑوں کے فیصلے کے آگے سر اٹھا سکیں…..”
میر برفت نخوت سے بولے
” آپ بھول رہے ہیں وہ سمعیہ چچی کی فیملی میں رہتی آئی ہے…اسے یہ سب کہاں پتہ ہوگا….”
ہالار نے یاد دلایا
” بھلے سے ہو….لیکن اسکی رگوں میں دوڑتا خون ایک میر کا ہی ہے…ہمارے ہاں عورتیں فیصلے قبول کرتیں ہیں نا کہ فیصلے سناتیں ہیں…..اور ان عورتوں کی سنتا کون ہے…”
میر برفت لاپروائی سے بولے تھے
وہ ان مردوں میں سے تھے جو عورت پہ حاکمیت جتا کے خوش ہوتے تھے ….ایسے لوگ تو صرف قابل رحم ہوتے ہیں
” ہوں…..اب دیکھنا مہرماہ سیال اب تمہیں پتہ چلے گا….میر ہالار آج تک کسی کے پاس خود سے چل کے نہیں گیا تمہارے پیچھے آیا اور تم نے راستہ بدل دیا…..میں تمہیں بتاؤں گا کا اتنی آسانی سے راستہ نہیں بدلا جا سکتا …..”
ہالار نے تنفر سے سوچا
_____________________________________
“کب تک ارادہ ہے آپکا بستر پہ رہنے کا…..”
ثمر نے مہرماہ کو مخاطب کیا
“میں تو اب ٹھیک ہوں ….بہتر محسوس کررہی ہوں…اب ڈاکٹر کی مرضی….”
مہرماہ نے دھیرے سے کہا
اس کا مسیحا یہ ڈاکٹرز نہیں بلکہ انس سفیر تھا
ہمیشہ کی طرح وہ اسکے سارے درد بانٹ چکا تھا
“بس بہت ہوگیا….مہرماہ جی….آپکے ہاتھ کے کھانے بہت یاد آرہے ہیں….”
ثمر نے چٹخارا لیا
” اچھا…..یعنی اور کوئی بات نہیں….” مہرماہ نے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا
” نہیں باتیں تو اور بھی ہیں….بلکہ بہت خاص …”
ثمر نے لقمہ دیا
” اچھا مثلا….کیا..” مہرماہ نے پوچھا
” مثلا…..آپکی اور ہالار میاں کی شادی ….موسٹ وانٹڈ کنوارہ ہماری فیملی کا….” ثمر انجانے میں قیامت ڈھا چکا تھا
مہرماہ کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کے نیچے گر گیا تھا
شیشہ ٹوٹ کے بکھر گیا تھا
اور مہرماہ کا دل بھی
” میں تو انکار کرچکی ہوں…..پھر بھی یہ لوگ باز کیوں نہیں آتے…”
مہرماہ کا دل کرلایا
” کیا ہوا….”
ثمر چونک کے اسے دیکھنے لگا جس کی رنگت پھیکی پڑنے لگی تھی
جیسے کچھ غلط ہو
کچھ انہونا ہو….
وہ کرمنالوجی کا ماہر تھا
نفسیات سے واقف
فورا چونک گیا تھا ….کچھ کلک ہوا تھا
ایک اچھی خاصی صحتمند لڑکی کا یوں اسپتال اچانک سے پہنچ جانا….جس کا دل اچانک سے دھڑکنا کم کردے
کوئی تو بات تھی ….کوئی مسئلہ تو تھا
….”
” مہرماہ….. “
ثمر نے سنجیدگی سے اسے پکارا
“جی….”
مہرماہ بولی
” آپ مجھ پہ بھروسا کرسکتیں ہیں جو بات بھی ہے جو بھی مسئلہ ہے….ٹیل می…”
ثمر پاس پڑی کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا تھا
” میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی….” مہرماہ نے کہا
“آپ نے یہ دادا سے کہا….”
ثمر نے بنیادی سوال پوچھا
” موقع ہی نہیں ملا….مگر میں ہالار کو انکار کرچکی ہوں…..”
مہر ماہ نے بتایا
” کب….”
ثمر چونک کے بولا
” کل….”
مہرماہ نے بتایا
” پھر اس نے کیا کہا…..”
ثمر کچھ سوچتے ہوئے بولا
” وہ بہت غصے میں تھے….انہوں نے بہت غلط بات کی….اور کہا میں یوں راستہ نہیں بدل سکتی….کہانی وہ ختم کریں گے….”
مہرماہ کو میر ہالار کی دھمکی یاد تھی
” ہوں…..”
ثمر نے ہونٹ بھینچے
” اگر میر ہالار نے یہ کہا تھا تو وہ اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا …ثمر اسے جانتا تھا آج سے نہیں بچپن سے وہ جس بات پہ آڑ جاتا تھا کر کے چھوڑتا تھا…..وہ بہت انا پرست تھا…”
” مہرماہ….برا نہ مانیں ایک بات پوچھوں….”
ثمر نے پوچھا
“جی….”
“ہالار نے مجھے بتایا تھا…..آپ اسے سترہ سال سے جانتیں ہیں….”
ثمر نے بہت مہذب طریقے سے پوچھا تھا
ثمر کی بات میں جو سوال چھپا تھا مہرماہ بھانپ گئی تھی
اسکا دل کٹ کے رہ گیا تھا ….یعنی میر ہالار اب تم اس بات کا اشتہار لگاؤ گے…..اور کیوں نہ لگاؤ….تمہارے لئے تو یہ بڑے فخر کی بات ہوگی….کہ ایک عورت سترہ برس تمہارے پیچھے خوار ہوئی ہے….تمہاری چاہ میں…. اف خدایا جس بات کو ساری زندگی چھپایا وہی بات اب سب کے منہ پہ ہے…” مہرماہ کی سیاہ آنکھیں جھلملائیں تھیں
اس ناقدری پہ
“اگر مجھے اختیار ملے نا ثمر بھائی تو میں سب سے پہلے اپنی زندگی سے ان سترہ برسوں کو مٹاؤں گی….”
مہرماہ نے کہا تھا
سرابوں کی حقیقت وہ اچھی طرح جان چکی تھی
اور ان سرابوں کے عذاب سے بھی اسے واقفیت ہو چکی تھی
” مہرماہ آپ کیا چاہتی ہیں…..آپکی کیا رضا ہے….”
انس سفیر کے بعد میر ثمر وہ پہلا شخص تھا جس نے مہر ماہ کی رضا جاننے میں دلچسپی لی تھی
” میں کیا اور میری بساط کیا…..” مہرماہ اس وقت شدید احساس محرومی کی زد میں تھی
” نہیں مہرماہ ایسے مت کہیں…..آپکا بھی زندگی پہ اتنا ہی حق ہے جتنا دوسروں کا….آپکے ماموں اور ممانی اپنے بیٹے کا رشتہ لائے تھے آپ کیلئے کیا آپ وہاں رضامند ہیں…..” .میر ثمر نے پوچھا تھا
” آپکو معلوم ہے….”
مہرماہ نے پوچھا
” کسے نہیں معلوم……میر ہاؤس میں جب طوفان آتاہے تو کوئی بے خبر نہیں رہتا….آپ ریلیکس ہو کے مجھے بتائیں…مجھے اپنا بھائی سمجھیں….میری کوئی بہن نہیں ہے لیکن میں آپکو کبھی مایوس نہیں کروں گا…..”
ثمر نے اسے حوصلہ دیا تھا
” میں ساری زندگی اپنے ماموں ممانی کے ساتھ ہی رہی ہوں…..اب بھی میں وہیں رہنا چاہتی ہوں….میر ہاؤس میں میرا دم گھٹتا ہے وہ میرا گھر نہیں لگتا وہاں میں اجنبی ہوں….”
مہرماہ نے حوصلہ کرلیا تھا آج بولنے کا
” ٹھیک ہے مہرماہ آپکی خوشی سر آنکھوں پہ…..آپ فکر نہ کریں….” ثمر نے اسے تسلی دی تھی
مہرماہ اسے دیکھنے لگی تھی وہ بھی تو ایک میر تھا…میر ہاؤس کے مردوں میں سے ایک پھر وہ کیوں الگ تھا ان سب میں سے
کیا اپنی ماں کی وجہ سے….!!!!
یقینا…!!!!
عائشہ خاتون کی وجہ سے….وہ ایک اچھی خاتون تھیں
مہرماہ جتنے دن سے یہاں تھیں وہ روز رات کو رکتی تھیں اس کے پاس
اور بیٹوں پہ اثر ماں کی تربیت کا بھی ہوتا ہے سب سے پہلے
“اچھا….” مہرماہ پھیکا سا مسکرائی
_____________________________________
” امی….” ثمر نے پکارا
” ہاں ثمر…..” عائشہ نے مصروف سے انداز میں کہا
” آپ نے واپس کب جانا ہے…..”
ثمر نے پوچھا
” کیوں….” عائشی چونک کے بولیں
” اتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ یہاں ہیں….دادا کی طبیعت حالانکہ اب کافی بہتر ہے….”
ثمر نے کہا
” تمہیں کیا مسئلہ ہے…..یہ بھی تو ہمارا ہی گھر ہے چلی جاؤں گی ابھی تو اتنے کام ہیں….”
عائشہ نے کہا
” مثلا….کونسے…”
ثمر نے پوچھا
” ہالار اور مہرماہ کی شادی کرنا چاہتے ہیں تمہارے دادا اس چکر میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں مونا بھابھی نے تو تنکا بھی نہیں توڑنا…..پھر وہ بچی بھی اسپتال میں ہے….”
عائشہ نے تفصیل سے کہا
” اور آپ نے سوچا نہیں کبھی کہ اگر وہ بچی اسپتال میں ہے تو کیوں ہے… “
ثمر نے پوچھا
” ثمر….. تم جو بات کہنا چاہتے ہو کھل کے کہو….”
عائشہ نے اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے کہا
” مہر یہ شادی نہیں کرنا چاہتی….”
” تم سے خود کہا اس نے …”
” یہی سمجھ لیں….”
” رہنے دو ثمر….یہاں لڑکیاں وہی کرتیں ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے….اور ہالار تو ہے بھی اتنا اچھا….”
عائشہ نے کہا… جانتیں تھیں وہ اس خاندان کے اصول
” ہوگا اچھا ہالار…..لیکن مہرماہ کے حق. میں نہیں…..وہ اس سے صرف انا میں آکے شادی کررہا ہے….اور کوئی وجہ نہیں….”
ثمر نے ماں سے کہا
” دیکھو ثمر…..اپنے دادا اور ہالار سے تم واقف ہو وہ دونوں بہت ضدی ہیں…..اور ہالار نے آج تک وہی کیا ہے جو اس نے چاہا…..تم نے دیکھا نہیں کیسے اس نے نیہا کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال.پھینکا نہ اس رشتے کا شروع ہونے کا پتہ چلا اور نہ ختم ہونے کا……”
عائشہ افسوس سے بولیں تھیں
” یہی تو میں کہہ رہا ہوں …..جب ہالار اس کا نہیں ہوسکا تو اور کسی کا کیا ہوگا….اور ہالار کی محبت تو سمندر میں اٹھتی ہوئی طوفانی موجوں کی طرح ہے ….جس کے چھٹنے کے بعد صرف تباہی ملتی ہے….” ثمر نے ہالار کی فطرت کا خلاصہ کیا تھا
” میر ثمر….کیا چاہ رہے ہو تم….”
ہالار نہ جانے کب وہاں آیا تھا
” بات میری چاہ کی نہیں کسی اور کی ہے…..جس کی تم کبھی نہیں سنتے…”
ثمر نے کہا تھا
” مطلب….”
ہالار نے پوچھا
” مہرماہ…کی…’
” اوہ….تم اب اس نے تمہیں اپنا حمایتی بنا کے بھیجا ہے…..کان کھول کے سن لو….ہم میر اک بار فیصلہ کرتے ہیں…..بار بار نہیں.,. مہر ماہ کی اور میری شادی طے ہے ….چاہے وہ ہنس کے کرے یا رو کے…..”
ہالار کا انداز بے لچک تھا
” یا چاہے مر جائے…..وہ اسی وجہ سے اسپتال پہنچی تھی…..”
ثمر نے کہا تھا
” اتنی آسانی سے اسے مرنے نہیں دوں گا ….میر ثمر….شام کو تیار رہنا آفٹر آل تمہیں بہت ارمان تھا میری شادی کا….”
ہالار نے سرد لہجے میں کہا تھا اور مڑنے لگا تھا جب ثمر کے لفظوں نے اسکے قدموں کو جکڑا تھا
” لیکن یہ تو تمہارا دوسرا فیصلہ ہے نا…..پہلے تو تم نیہا سے شادی کرنا چاہتے تھے نا اس وقت تمہیں یاد نہیں رہا کہ تم میر ہو…..کیوں اس اچھی لڑکی کو عذاب میں مبتلا کرتے ہو میر ہالار…..”
” اچھی لڑکی…..ایک تم اور ایک وہ انس سفیر….جس کیلئے اچھی لڑکی وہی ہے…..لیکن وہ صرف میری ہے….”
ہالار نے جیسے خود کو باور کرایا تھا
اور اس طرح کہنے سے کوئی بھلا کسی کا ہو جاتا ہے…..کبھی نہیں….
” کاش تم نے ضد اور انا کے بجائے محبت سے مہرماہ کو مانگا ہوتا تو وہ تمہیں ملتی لیکن اب نہیں….”
ثمر نے سوچا….اسکے دماغ میں کچھ چل رہا تھا
_____________________________________
ثمر ساری بات میر جاذب کو بتا چکاتھا ….
” ہالار یہ غلط کررہا ہے اوپر سے اسے ابا کی حمایت حاصل ہے…..”
میر جاذب بولے
” انکل ڈو سم تھنگ….مہرماہ کو آپ نے بیٹی کہا ہے…..” ثمر نے یاد دلایا
” جانتا ہوں مگر کیا کریں…..”میر جاذب خود سے بولے
اس مقام پہ تو مونا کی بھی نہیں چلی تھی ….ہالار کے آگے
” میر جاذب…..”
میر برفت نے کہا
” جی بابا…”
” اسپتال جانے کو تیار ہو…..”
” جی بس عائشہ بھابھی آجائیں….” میر جاذب نے کہا
” میں آگئی بھائی جان….” عائشہ بولیں تھیں
” نہیں عائشہ آج تم نہیں…..اس کی ضرورت نہیں تم دونوں آؤ ہمارے ساتھ….”
میر برفت نے کہا تو وہ سب حیران رہ گئے
” مگر کیوں بابا…”
میر جاذب نے پوچھا
” ہوسکتا ہے مہرماہ کو آج چھٹی مل جائے اور پھر ابھی تم چلو ….مہرماہ اور ہالار کا نکاح ہے …آج “
میر برفت نے حکم دیا
” بابا….یہ کیا بات ہوئی بھلا….”
” یہ نکاح کون اتنے چوری چھپے کرتا ہے…مذاق تھوڑی ہے… “
ثمر بولا
” برخوددار تم سے پوچھا نہیں ہے ہم نے آنا ہے تو آؤ….نہیں تو پھر کسی اور کو گواہ کیلئے کہیں….”
میر برفت تنک کے بولے
میر جاذب سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑے تھے اچھا بدلہ نکالا ابا آپ نے سمعیہ کی بیٹی سے بدلہ لینے کا…..
” کیا ہوا…. آنا نہیں….” میر برفت نے انہیں ساکت کھڑے دیکھ کے پوچھا
“آرہا ہوں….والٹ لے لوں ….” میر جاذب کہہ کے سیڑھیاں چڑھ گئے تھے
” مہرماہ کو بچا سکتے ہو…..تو بچا لو ….آج کی رات ہی تمہارے پاس آخری موقع ہے….”
یہ کہہ کے میر جاذب نے فون رکھ دیا تھا
صرف ایک ہی بندہ تھا جو اس صورت حال میں انکی مدد کرسکتا تھا
_____________________________________
” عالیہ …..تم نے مجھے بتایا نہیں کہ نیہا کا رشتہ ٹوٹ گیا….”
ماوی کی امی نے پوچھا
” بس بہن….اللّه کی جو رضا….”
عالیہ نے ایک ٹھنڈی سانس لے کے بیٹی کو کہا جس کے کان پہ جونک بھی نہیں رینگی تھی
” پھر بھی ….وجہ کیا ہوئ….”
انہوں نے اصرار کیا
” معلوم…. نہیں..” عالیہ نے کہا
” ارے اس مہرماہ کی وجہ سے…..نا مجھے پتہ ہے…” ماوی کی امی وثوق سے بولیں تھیں
” جی نہیں…میری وجہ سے مجھے وہ پسند نہیں تھا….آپ اس طرح امی کو بھڑکا نہیں سکتیں مہرماہ کیلئے…..”
نیہا تڑ سے بولی تھی
” توبہ توبہ….ایسا بھی کوئی خاص ہے کیا اس لڑکی میں جو تم لوگ سن ہی نہیں سکتے اسکے بارے میں کچھ اور نہ انس…..انس تو جیسے دیوانہ ہے اسکے پیچھے…”
ماوی کی امی غصے سے بولیں تھیں
آنٹی ماہ نے جو کیا ہے نا اماں کیلئے وہ کوئی اور نہیں کرتا کسی کیلئے…. اپنی تعلیم.چھوڑی خواب سب قربان کیے….”
نیہا نے کہا
” اور آپ کو اب اپنے گھر کی پروا نہیں….اماں کے وقت تو آپ نے کیسے کہا تھا کہ ہائے بہن میں کیسے آؤں میرا میاں بہت سخت ہے….اب کیا ہوا….”
” نیہا حد میں رہو….” عالیہ بیگم نے اسے ڈانٹا
” ہوں….” نیہا نے سر جھٹکا
” عالیہ جس دن وہ تمہاری بہو بنی نا لکھ لو وہ دن بس تمہاری بادشاہت کا آخری ہوگا…..جب اسے اختیار ملے گا نا پھر اسکے رنگ ڈھنگ دیکھنا…..”
ماوی کی امی نے کہا
“ایسا نہیں ہوگا.. ” عالیہ نے کہا “
انکا دل ڈر گیا تھا….کیا مہرماہ ایسا کرے گی….
“اماں….” انس آیا
” تم آج گئے نہیں…..” نیہا چونکی
” نہیں میں ایک ماہ کی چھٹی لے چکا ہوں….” انس نے بتایا
” خیریت….” عالیہ نے کہا
” جی خیریت ہی ہے…..مجھے آپکی اجازت چاہیئے….اک ضروری کام ہے….” انس نے کہا تھا
” جاؤ بیٹا…..اللّه کامیاب کرے ….اسکی امان میں رہو….”
عالیہ نے دعا دی
” ارے پوچھ تو لیتیں…کہاں جارہا ہے وہ….” صبوحی نے کہا
” کسی کام سے گیا ہے آجائے گا….” عالیہ نے اطمینان سے کہا تھا
انس بچہ نہیں تھا .اچھا خاصا میچور تھا
____________________________________
” دادا…..آپ….”
مہرماہ چونکی
“ہاں ہم….”
میر برفت نے کہا وہ اکیلے نہیں تھے انکے ساتھ میر جاذب ,میر ہالار ثمر اور دو لوگ اور بھی تھے ان میں سے ایک کے ہاتھ میں رجسٹر تھا
” کون تھے وہ….” مہرماہ نے سوچا
” خیریت….”
“ہاں….مہرماہ تمہارا نکاح ہے….” میر برفت اتنے اطمینان سے بولے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
” آپ ایسا نہیں کرسکتے…” مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا
” اس میں ایسا بھی کیا ہےمہرماہ…..دنیا میں سب کی شادی ہوتی ہے….”
میر برفت نے کہا
” مگر ایسے کسی کی نہیں ہوتی….نہیں دادا آپ میرا گلا دبادیں مگر مجھے یہ شادی کرنے کو نہ کہیں….”
مہرماہ نے آگے بڑھ کے کے کہا تھا
“مہرماہ….. ہمارے پیار کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ…..سمجھی…یہ ہمارا حکم ہے…تمہارا نکاح آج ہوگا اور ابھی…..”
میر برفت کا لہجہ بہت سنگدل تھا
مہرماہ نے میر جاذب کو دیکھا جو اسے باپ جیسا پیار دیتے تھے
میر ثمر جس نے بھائی ہونے کا دعوی کیا تھا
کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا ….نہ کسی نے بولنا تھا
کیا کرے وہ چپ رہے اور سہہ لے یا پھر آج کہہ ڈالے توڑ ڈالے زبان پہ لگے قفل….
” میں انسان ہوں دادا….بھیڑ بکری نہیں ہوں….مت کریں ایسا میں مرجاؤں گی …نہیں کرنی مجھے ایسے شخص سے شادی جس کے آگے میں کبھی سر ہی نہ اٹھا سکوں….”
مہرماہ نے اذیت سے ہاتھ میں لگا کنولا کھینچ کے پھینک دیا تھا
” خاموش….. ” میر برفت نے اسے کھینچ کے ایک تھپڑ مارا تھا
” ہمیں مجبور مت کرو لڑکی…..”
میر برفت چیخے…
” دادا….بس کردیں….یہ گناہ ہے نکاح ایسے نہیں ہوتا ….مولوی صاحب آپ ہی بتائیں جب لڑکی ہی راضی نہیں تو کیا یہ نکاح ہوگا???”
ثمر نے کہا تھا
” مجھے نہیں معلوم تھا بیٹے….کہ یہ نکاح محترمہ کی رضامندی کے بغیر ہورہا ہے….میں طرف سے معذرت مگر میں اس غلط کام میں شریک نہیں ہوسکتا…. لڑکی کی رضامندی ضروری ہے…..”
مولوی صاحب کہہ کے چلے گئے تھے
ثمر نے گہری سانس لی خطرہ کچھ دیر کیلئے ٹل گیا تھا میر جاذب نے اشارے سے اسے شاباش دی تھی
” ہالار….جاؤ کسی دوسرے مولوی کو لے کے آؤ اور اس کا منہ پہلے ہی بند کردینا سمجھے….”
میر برفت نے پیشانی پہ بل ڈالے ہالار سے کہا تھا
جو مہر ماہ کو سن رہاتھا….کس نے کہا تھا یہ لڑکی بے زبان ہے
” یہ نکاح آج ہی ہوگا…..” ہالار کہہ کے پلٹ گیا تھا
“آپکو پتہ ہے اللّه نے آپکو بیٹی کیوں نہیں دی اس لئے کیونکہ بیٹی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے دادا….اس کا دل نہیں توڑتے اور آپ لوگ تو دل توڑ کے ہی خوش ہوتے ہیں اس لئے اللّه نے آپکو نہ بیٹی دی نہ پوتی….میں کم نصیب آپ کے گھر میں نہ جانے کیوں آگئی مگر سچ تو یہ ہے آپ لوگ اس قابل ہی نہیں کہ بیٹی کا حق ادا کرسکیں….اللّه جس سے راضی ہوتا ہے اسے ہی بیٹی دیتا ہے آپکو نہیں دی کیوں???….آپ نے کبھی کیوں نہیں سوچا….”
مہرماہ تھک کے وہی سنگی فرش پہ بیٹھے بیٹھے کہنے لگی تھی
میر برفت کا ہاتھ ایک بار پھر اٹھنے لگا تھا….وہ ہوتی کون تھی انکو یہ سب کہنے والی….جب کسی نے انکا ہاتھ تھاما تھا
” انس سفیر…..”
سفیر یوسف کا بیٹا ….وہ یہاں کیسے آیا تھا
” اب ایک لفظ اور نہیں بزرگوار….مہرماہ کو آپ لوگ اکیلا سمجھتے ہیں….انس سفیر ہمیشہ اسکے ساتھ ہے….”
انس نے باور کرایا تھا
” ہوں….بھول جاؤ….ابھی کچھ دیر میں ہی ہالار کا اور اسکا نکاح ہے.م.”
میر برفت نے کہا
” ویل….نکاح تو ہے مگر یہاں کچھ کریکشن کرلیں….میرا اور مہرماہ کا ….”
انس نے تصیح کی
” بکو مت….” میر برفت دھاڑے
” میں نے کہا نا….پرسکون رہیں.. ہم پوری تیاری کے ساتھ آئیں ہیں….اچھا ہوا آپ یہاں ہیں….”
انس نے اطمینان سے کہا تھا
” ایسا ہرگز نہیں ہوگا….میں قیامت اٹھا دوں گا….”
میر برفت چیخے
” میں نے کہا نا میں پوری تیاری سے آیا ہوں…..میرے ساتھ میڈیا بھی ہے جو اسکی کوریج کریں گے….گواہ بھی اور مولوی بھی…..”
انس نے جیسے کہا سب کو سانپ سونگھ گیا تھا
انس سفیر نے میر برفت کو چار شانے چت کیا تھا
” تم…..”
میر برفت نے کچھ کہنا چاہا تھا
” میں نے کہا نا میرے ساتھ میڈیا بھی ہے….اور مہرماہ کے گارجین سفیر یوسف بھی مکمل رضامندی سے یہ نکاح ہوگا اب یہ آپ پہ ہے دادا جی کہ آپ مکمل احترام کے ساتھ مہرماہ کو رخصت کرتے ہیں یا ….میڈیا کو چٹ پٹی خبر دیتے ہیں کل کیلئے….جو میر برفت کے خاندان کی ہوگی…..”
انس نے ٹھنڈے لہجے میں کہا تھا
میر برفت ڈھے گئے تھے ….انکے خاندان کی عزت اور آبرو انکی کمزوری تھی
میڈیا سے وہ واقف تھے یہاں کوئی تماشہ کرتے تو میڈیا کی آنکھ سے اوجھل نہ ہوتا وہ
انس نے انکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا
باقی سارا وقت وہ خاموش تماشائی کی طرح رہے تھے
نکاح کی رسم ادا ہوچکی تھی
سفیر یوسف انکے ساتھ تھے
انس سفیر کو بالاخر اسکی بچپن کی چاہت نصیب ہوئی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *