Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10

کسی نے کیا خوب کہا ہے اپنے ہی خول اور محدود سوچ کے پیمانے بنا کے رہنے والے بعض اوقات وہ حاصل نہیں کرپاتے جن کی انہیں ایک عرصے سے تلاش ہوتی ہے جستجو ہوتی ہے کیوں کہ وہ اپنے ہی آپ اور اپنی ذات میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ وہ کہیں اور دیکھنا اور سوچنا پسند بھی نہیں کرتا
ان کیلئے اپنی ذات ہی کامل ہوتی ہے
سو یہی سب میر ہالار جاذب کے ساتھ ہوا تھا
اس نے اگر انٹرویو والے دن مہرماہ سیال کی فائل دیکھ لی ہوتی تو اسی دن اسکی تلاش ختم ہوجاتی تین ماہ پہلے ہی
وہ وہی تھی یقینا اسکا نام بتا رہا تھا اسکی پہچان
مہرماہ سیال
ہالار سے غلطی ہوئی تھی لیکن اب اور نہیں اس نے بغور ادھر ادھر دیکھا کوئی اس طرف متوجہ نہیں تھا اس نے ایک پک لی تھی اس کارڈ کی پھر سیل واپس رکھ ہی رہا تھا جب مہر ماہ دوبارہ آئی تھی
” ایکسکیوزمی….آئی لوسٹ مائی کارڈ….کیا وہ یہاں ہے”
مہر ماہ نے پوچھا
” کبھی کبھی دوسرا کا کھو جانا ہمیں ہمارا کچھ کھویا ہوا ملا دیتا ہے”
ہالار نے بغور اسےدیکھتے ہوئے کہا مہرماہ کے تو کچھ پلے نہ پڑا تھا وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھے گئی تھی
ہالار جاذب اس پہ ایک اچٹتی نظر ڈال کے آگے بڑھ چکا تھا
” اوہ…..ہیلو…کیا فریز ہوگئی ہو”
نیہا نے اسے جھنجھوڑا
” نہیں….تو “
” پھر چلو….”
نیہا اسے آنے کا اشارہ کرکے خود بھی چلنے لگی تھی
آج کے دن اس کی ہاتھ کی ریکھاؤں میں محبت کے کچھ رنگ اترے تھے
اور کون جانے یہ رنگ کتنے پھیکے تھے جن کے دھندلے عکس اس پہ چھانے لگے تھے
_____________________________________
رات ہوا کے رتھ پہ سوار آج بڑے شان سے چمکتے چاند کی روشنی کے تعاقب میں مہرماہ کے آنگن میں اتری تھی
مہرماہ جھولے پہ ہولے ہولے جھولتے ہالار جاذب کے الفاظ کی تاثیر محسوس کررہی تھی
” آپ کہیں انگیجڈ تو نہیں….”
ان لفظوں میں کیسا جادو تھا
کیسا سحر تھا
ہالار جاذب لفظوں سے سحر طاری کرنا جانتا تھا اور مہر ماہ اس سحر میں مکمل طور سے گرفتار ہوچکی تھی
اور سحر تو جس چیز کا بھی ہو وہ خطرناک ہی ہوتا ہے
” کیا بات ہے یوں اکیلے اکیلے مسکرایا جارہا ہے خیر تو ہے”
نیہا دروازے سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہے تھی پورے چاند کی روشنی کا عکس مہرماہ کے چہرے پہ جگمگا رہا تھا
” بس ہے کچھ بات…..”
مہرماہ شاید مسکرائی تھی تبھی ہوا نے ڈھیر سارے پھول اس پہ نچھاور کئے تھے
کاسنی پھول بھی مہرماہ کے سنگ مسکائے تھے
” تو چلو جلدی سے بتادو….” نیہا اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اشتیاق سے بولی تھی
” تمہیں پتہ ہے آج ہالار جاذب نے مجھ سے کچھ کہا….انفیکٹ انہوں نے مجھے سے ہوچھا..”
مہرماہ نے بتایا
” اف ماہ اب بتا بھی چکو”
نیہا سے برداشت نہیں ہوا تھا
” انہوں نے پوچھا…کہ تم لوگ کہیں انگیجڈ تو نہیں ہو” .
” تم لوگ…مطلب…”
نیہا حیرانگی سے بولی
” مطلب ….میں اور تم “
مہرماہ نے وضاحت کی
” اوہ مائی گاڈ….کتنا چالاک ہے یہ میر ہالار …اپنے کام کی بات بھی ایسے پوچھی کہ کہیں تم مائنڈ نہ کرجاؤ مطلب جنرلی کہا…ہم دونوں کا…بندہ ہے تو ذہین”
نیہا متاثر ہوتے ہوئے بولی
” ہوں….”
مہرماہ نے دھیرے سے سر ہلایا
” اوئے ہوئے….چلو اب تو تم خوش نصیب ہو جاؤ تمہیں تمہاری منزل بس ملنے کو ہے کچھ دیر انتظار اور بس…..”
نیہا نے تسلی آمیز لہجے میں کہا
” میری سترہ سال کی محبت ہے نیہا….بنا کسی غرض کی “
” جانتی ہوں مائی ڈئیر….مگر آج کل مٹیریل ایسٹک ہونا پڑتا ہے اور تم کونسا ڈاکا ڈال رہی ہو….اس سے ایک بات اور بھی کلئیر ہوگئی ہے کہ وہ خود بھی ان میرڈ ہے ….اوہ ماہ میں بہت خوش ہوں…چلو کسی کو تو اسکی محبت ملی”
نیہا ایک ہی سانس میں بولی
” مطلب…اور کون ہے ایسا…”
مہرماہ حیرانگی سے بولی
” انس بھائی ….مجھے لگتا ہے وہ جسے پسند کرتے تھے اس نے انہیں دھوکہ دیا ہے …اتنا بدل گئے ہیں انس بھائی “
نیہا نے پرسوچ لہجے میں کہا تو مہرماہ ایک بار پھر شرمندہ ہوئی تھی
“مجھے معلوم ہوتا کہ میں ہی وہ لڑکی ہوں جسے انس پسند کرتے ہیں تو میں اپنے دل میں کبھی ہالار کو جگہ نہ دیتی مگر اس پہ میرا اختیار تو نہیں چلتا….یہ میرے بس میں نہیں….خدا گواہ ہے میں انس کا دل کبھی نہیں توڑنا چاہتی تھی “
مہرماہ بوجھل دل سے اپنے آپ سے ہی بولی تھی
” خیر تم بس اچھا اچھا سوچو…..”
نیہا نے مسکرا کے کہا
ہوا ایک دم پتہ نہیں کیوں بوجھل ہوگئی تھی
_____________________________________
” میں نے کہہ دیا نا مجھے کچھ نہیں کھانا لے جاؤ یہاں سے یہ سب ورنہ یہ سب تمہارے منہ پہ ماروں گا…..”
اس نے انتہائی اکڑ پن سے کہا تھا جو اسکے مزاج کا خاصا تھا اور یہ رنگ تب مزید گہرا ہوتا جب اسکی کوئی بات نہیں مانی جاتی تھی
وہ میر سیال تھا ….
میر برفت کا سب سے لاڈلا اور نک چڑھا بیٹا
اسے بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسکی ماں کا تھا اپنی ہر ضد وہ منوالیتا تھا لیکن اس بار اسکی ضد ماننے کو میر برفت تیار نہ تھے
وہ پڑھنے کیلئے شہر جانا چاہتا تھا میر جاذب کی طرح جو ایم بی بی ایس کررہا تھا
میر برفت جو اپنے زمانے کے اکھڑ اور جانے مانے بزنس مین ہونے کے ساتھ اونچے خاندان کے چشم و چراغ تھے اپنے آگے کسی کو کچھ نہیں سمجھتے تھے تو میر سیال بھی انہی کا بیٹا تھا ان سے دو ہاتھ آگے ….کاٹن انڈسٹری میں انکا ایک نام تھا انکی پہچان تھی
وہ چاہتے تھے کہ اب سیال انکے ساتھ بزنس میں انکا ہاتھ بٹائے کیوں کہ میر جاذب کی فیلڈ ہی الگ تھی اور میر ہمدان سب سے چھوٹا تھا
سب سے بڑے میر جاذب تھے اس کے بعد میر سیال اور پھر میر ہمدان
خدا نے انہیں ہر طرح کی نعمت سے نوازا تھا سوائے رحمت کے یعنی بیٹی کے میر برفت کی نہ کوئی بہن تھی اور نہ انکی کوئی بیٹی تھی انہیں یہ کمی بہت محسوس ہوتی تھی
یہ اور بات کہ انہوں نے کبھی اپنے مزاج سے محسوس نہیں ہونے دیا تھا میر جاذب کو بھی اس شرط پہ انہوں نے شہر جانے دیا تھا کہ پہلے اسکی شادی اپنی بھتیجی سے کروائی تھی مگر قسمت سے انکے ہاں بھی نعمت تھی یعنی میر ہالار کی جو ابھی کچھ سال کاتھا اور پھر انکی بہو کا اتھرا مزاج وہ بلا کی ایک نک چڑھی اور خود پسند خاتون تھیں میر جاذب سے انکی بنتی ہی نہ تھی
مجموعی طور سے پورا گھرانا ہی انوکھے مزاج کا تھا
” سیال پتر….کھا لے بیٹا …آنے دے اپنے باپ کو میں خود ان سے بات کرتی ہوں”
اماں نے اسے پچکارا
” جب وہ میری نہیں سن رہے تو آپ کی کہاں سے سنیں گے “
سیال تنک کے بولا باپ پہ کوئی اثر ہی نہیں ہورہا تھا
” کیوں نہیں مانیں گے ….میں خود بات کروں گی ….میر صاحب کو ماننا ہی پڑے گی “
اماں نے اس سے وعدہ کیا
” پکا….”
اس نے تصدیق چاہی
” بالکل…اب تم کھانا کھاؤ…”
ماں کے کہنے پہ وہ نخرے سے سامنے موجود رزق کی طرف متوجہ ہوا تھا
_____________________________________
” اماں….پلیز….اماں ..ابا سے کہئے نا ….مجھے لینے دیں ایڈمیشن”
اس نے اماں کی منت کی تھی
ساہ آنکھوں میں ذہانت کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی چمکتی رات جیسی آنکھیں تھیں اسکی
” سو بار لو ایڈمیشن…مگر اس میں جس میں تمہارے ابا کہہ چکے ہیں…دیکھ سمعیہ میں ذیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوں مگر اتنا جانتی ہوں کہ تیرا باپ بھلے کیلئے ہی کہہ رہا ہے سب”
” اماں….اچھی اماں …میں نے نا انگریزی ادب میں ایم اے کرنا ہے نا سائیکولوجی میں….مجھے تو ایم بی اے کرنا ہے ….”
” دیکھ سمعیہ….لڑکیاں بزنس نہیں پڑھتیں”
” پڑھتیں تو ہیں اماں….آپ کبھی دیکھیں تو سہی یونیورسٹی میں جاکے “
سمعیہ نے انہیں بتایا
” تمہارا باپ تمہیں پڑھنے کی اجازت دے رہا ہے بس اسے ہی غنیمت جانو….اور میرا دماغ نہ کھاؤ”
” اماں مجھے بزنس ہی پڑھنا ہے آخر لڑکیاں پہلے ڈاکٹر بھی تو نہیں بنتیں تھیں مگر اب دیکھیں بنتیں ہیں مانا کہ اس فیلڈ میں لڑکیاں کم ہیں مگر آہستہ آہستہ اور بھی آئیں گی “
سمعیہ نے دلیل دی
” بچے…مجھے کوئی مسئلہ نہیں تو جو بھی پڑھ جا کے اپنے باپ سے کہہ یہ سب انہیں قائل کر”
اماں نے ہاتھ جھاڑے تبھی تھکا ہارا سفیر اندر آیا تھا
” کیا بات ہےکسے قائل کرنا ہے”
” بھائی دیکھیں نا ابا مجھے ایم بی اے میں داخلہ نہیں لینے دے رہے “
سمعیہ نے بھائی کو بتایا
” مگر کیوں اماں….” سفیر نے اماں سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے کہا
” تمہارا باپ ہی جانے”
” بھائی مجھے نہیں پتہ مجھے ایم بی اے ہی کرنا ہے ” .
” اچھا تم فکر نہ کرو ابا سے میں خود بات کروں گا” سفیر نے اسے تسلی دی
” سچی…بھائی کتنے اچھے ہیں آپ “
سمعیہ بے اختیار خوش ہوئی تھی
یوسف صاحب کے دو ہی بچے تھے سفیر اور سمعیہ سفیر ایم اے کررہا تھا جبکہ سمعیہ گریجویشن کے بعد ایم بی اے کرنا چاہتی تھی
وہ زمانے کے ساتھ چلنے والی لڑکی تھی اسے یقین تھا بھائی ابا کو منا لے گا
” ابا آخر ہرج ہی کیا ہے …”
سفیر ابا کے سامنے بیٹھا تھا
” وہ لڑکی ذات ہے “
” کیا فرق پڑتا ہے ابا اب دور بدل رہا ….”
” ہمارا دور اب بھی وہی ہے
” ابا پلیز…میں خود اسکا دھیان رکھوں گا پوری ذمہ داری ہمارے ڈپارٹمنٹ ذیادہ دور نہیں ہونگے”
اس نے ابا کو یقین دلایا
سمعیہ کا دل دھڑک اٹھا وہ دروازے کے پیچھے کھڑی تھی
“یقین سے کہہ رہے ہو”
یوسف صاحب نے کہا
” جی ابا آپکو شکایت نہیں ہوگی
” ٹھیک ہے بر خود دار اگر اوپر نیچے کچھ ہوا تو پھر یاد رکھنا یہ اچھا نہیں ہوگا “
” ایسا کچھ نہیں ہوگا…”
سفیر نے کہنے کے ساتھ سمعیہ کو ہاتھ کے اشارے سے وکٹری کا نشان دکھایا تھا
سمعیہ کا دل خوشی سے بھر گیا تھا
” اف یونی لائف ….ایک نئی زندگی کے مزے”
اور یہ نئی زندگی اسے کیا رنگ دکھانے والی تھی کوئی واقف نہ تھا
_____________________________________
” میر صاحب…. آپ سیال کو اجازت دے کیوں نہیں دیتے”
بیگم برفت نے انہیں مخاطب کیا
” اب وہ ہمارے ساتھ بزنس سنبھالے گا “
” وہ اسکے لئے تیار نہیں….اس نے ایم بی اے کرنا ہے پھر وہ کہہ تو رہا ہے کہ وہ آجائے گا اس طرف ” .
” ہمیں ابھی اسکی ضرورت ہے “
” دیکھیں میر صاحب وہ بہت ضدی ہے….ابھی اسکی بات نہ مانی تو پھر وہ اس طرف آئے گا ہی نہیں…بزنس کا نام بھی نہیں لے گا ڈگری لے گا تو کاوبار کی سوج بوجھ بڑھے گی “
بیگم برفت نے قائل کیا
” سوجھ بوجھ تجربے سے آتی ہے ڈگریوں سے نہیں نغمہ خاتون”
” میر صاحب آپکے فائدے کی ہی بات جاذب کو تو آپ جانتے ہی ہیں اور ہمدان تو ابھی بچہ ہے “
” یہاں سب اپنی من مانی کریں بس….بلاؤ اس نالائق کو اسکی بات مان لی ہے اسکا مطلب یہ نہیں وہ ہم پہ حاوی ہوگیا ہے …اسے بھی ہماری ایک بات ماننی ہوگی “
میر برفت نے کہا
” کونسی بات….”
نغمہ نے حیرانگی سے پوچھا
” یہ ہم اسے ہی بتائیں گے “
میر برفت کہہ کے پھر سے اخبار میں گم ہوچلے تھے
” اب کیا کہیں گے یہ”
بیگم برفت نے اپنا سر تھام لیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *