Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07

کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن میں آپ کے ہم سفر صرف سفر تک کے ساتھ ہوتے ہیں وہ راستوں کے ساتھی ہوتے ضرور ہیں مگر منزل کے نہیں انکی منزل ہمارے راستوں سے ہو کے گزرتی ہے جیسا کے ایک ساتھ سفرگاڑی میں سفر کرتے وہ دو نفوس جن کے سنگ بارش کے شبنمی قطرے بھی تھے
مہرماہ سیال اور ہالار جاذب
آج سے پہلے سفر کرنا اسے اتنا اچھا کبھی نہ لگا تھا مہرماہ کا دل کیا کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو پگلی تھی نا مہرماہ ساری زندگی سفر کرنے والے یوں ہی راستوں میں کھو جاتے ہیں
” اب کس طرف مڑنا ہے”
ہالار نے موڑ کاٹتے ہوئے پوچھا
” رائٹ سائیڈ”
مہرماہ نے اسکی جانب سے رخ موڑے موڑے جواب دیا
اور شیشے پہ ہاتھ پھیر کے جیسے برستی بوندوں کی ٹھندک محسوس کرنے لگی
“لگتا ہے بارش آپ کو بہت پسند ہے”
ہالار نے اس کا انہماک دیکھ کے پوچھا
” کسے پسند نہیں ہوتی بارش بھلا…..اور ہم لڑکیوں کو تو شروع سے ہی بارش ہوا بادل تتلیاں سب متاثر کرتی ہیں “
مہرماہ نے سامنے دیکھتے ہوئے جواب دیا
لیکن مجھے تیز بارش پسند نہیں بس یوں ہی دھیمی برستی پھوار سکون سے بھگوتی ہوئی”
ہالار نے اپنی رائے دی تھی مہرماہ کی سلجھی ہوئی طبیعت اسکے ہر رنگ سے جھلکتی تھی اسکی سلجھی ہوئی نیچر کا اثر تھا جو ہالار اس سے بات کررہا تھا یوں بھی راستہ خاصا لمبا تھا
” کم از کم پھوار میں آپ چہل قدمی تو کر ہی سکتے ہیں”_
مہرماہ نے بھی اتفاق کیا تھا
” خیر چہل قدمی….بلکہ اچھی خاصی دوڑ بھی لگا لیتے ہیں لوگ”
ہالار نے باہر منچلوں کی طرف اشارہ کیا جن میں ذیادہ تر بچے تھے
” یہ تو بچے ہیں….”
مہرماہ کے لبوں پہ ہنسی آگئی تھی
“بس یہاں روک دیں “
مہرماہ نے گھر کے سامنے گاڑی رکوائی تھی
” اوکے…..” ہالار نے کار روکی تو ٹیرس پہ لٹکی ہوئی نیہا ہاں لٹکی ہوئی کیوں کہ وہ خطرناک حد تک نیچے جھکے آنکھیں نکال کے یہ دیکھ رہی تھی کہ مہرماہ کس کے ساتھ آئی ہے اس سے پہلے شاید وہ بارش انجوائے کررہی تھی
“ماہ…..ماہ”
نیہا نے زور سے کہا تو ہالار بھی چونک کے اوپر دیکھنے لگا نیہا کے لٹکنے کے انداز پہ اسے بھی ہنسی آگئی تھی
” نیہا…..تم کہاں سے آ گئیں…. گرجاؤگی”
مہرماہ فکرمندی سے بولی
” رکو ایک منٹ…..میں ابھی آئی”
نیہا بولتی ہوئی فورا نیچے بھاگی تھی
مہرماہ جانتی تھی کہ اب نیہا ہالار کا انٹرویو لینے بیٹھ جائے گی اس لئے اس نے ہالار کو سی آف کرنا چاہا
” تھینک یو مسٹر ہالار….”
” توبہ توبہ ایک تو بے چارے تمہیں برستی بارش میں تمہیں چھوڑنے آئے آئیں ہیں اور تم انہیں خالی خولی تھینکس پہ ٹرخا رہی ہو…..بہت بری بات ہے”
نیہا جھٹ نیچے آن پہنچی تھی اور مہرماہ کے منہ سے ہالار کا نام سن کے اس کے اندر جوش بڑھ گیا تھا کہ چلو کچھ تو مہرماہ کی گاڑی آگے بڑھی
” اوہ نو نو …..ایسا کچھ نہیں ہے اٹس اوکے ….مجھ پہ انکو ڈراپ کرنے کی ذمہ داری تھی سو وہ پوری ہوگئی”
ہالار نے کہا
” ذمہ داریاں ایسے کہاں پوری ہوتی ہیں بھلا……ویسے مہرماہ تم نے انکا تعارف نہیں کرایا”
نیہا نے مہرماہ سے پوچھا جب کہ وہ جانتی تھی کہ وہ کون تھا
“یہ…..” مہرماہ نے سوالیہ نظروں سے ہالار کو دیکھا تھا کہ ہالار کو پسند نہ تھا اپنا ہر کسی سے تعارف اور پھر نیہا کو گھورا بھی تھا مگر نیہا پہ بھلا کب اثر ہوتا ہے
“میرے خیال سے تعارف کی ضرورت نہیں ہے مس ہم پہلے مل چکے ہیں”
ہالار کو وہ چنچل سی لڑکی یاد تھی اسکی یاداشت کافی اچھی تھی
” اچھا…..کسی سے ٹکرا کے تعارف حاصل کرنے کا یہ طریقہ نیا ہے ….مسٹر”
نیہا نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں تھیں
ہالار کی گھمبیر سی ہنسی بے ساختہ گونجی تھی
“آپ بھول رہی ہیں کہ ٹکرائیں آپ تھیں”
ہالار نے یاد دلایا
“واٹ ایور….اگر آپ مزید تعارف چاہتے ہیں تو آپ ہمارے ساتھ ایک کپ چائے یا کافی جو پسند کریں پی ہی سکتے ہیں “
نیہا نے آفر کی
ہالار نے سلیقے سے معذرت کرلی تھی
” نو مسٹر …..آپ نے ہماری معصوم پری کو حفاظت سے گھر پہنچا دیا تو آپ کی میزبانی تو ہمارا فرض ہے….اور ہوسکتا ہے کسی کے بھاگ بھی جاگ جائیں”
نیہا نے آخری بات مہرماہ کو دیکھتے ہوئے کہی تھی
مہرماہ نے اسے ایک بار پھر گھورا تھا پھر ہالار سے بولی تھی
” پلیز….سر ہالار”
” ہالار…. تو یہ ہیں مشہور زمانہ ہالار جاذب ….اب تو آپ کی میزبانی بنتی ہے ویسے مہرماہ چائے کافی بہت اچھی بناتی ہے”
نیہا کی زبان پھر پھسلی تھی
” اور آپ..
.” ہالار نے بلیک شال میں لپٹی کھلے روشن چہرے والی لڑکی کو دیکھا تھا جو جب بھی ملتی تھی سارے زمانے سے انوکھی لگتی تھی
” میں….میں باتیں بہت اچھی بناتیں ہوں…اور لوگوں کے بقول پکوڑے بہت اچھے بناتی ہوں جو کہ میں ال ریڈی بنا ہی چکی ہوں ….سو اگر آپکو دو اچھی چیزیں کھانے کو ملے تو وہ کیا کہتے ہیں جیسے لکشمی کو ٹھکراتے نہیں ویسے کسی کی دعوت کو بھی نہیں ٹھکراتے”
نیہا کا انداز با کمال تھا
” ویل مس….بائے دا وے آپکا نام کیا ہے….”
” آئی ایم نیہا سفیر”
نیہا نے اپنا تعارف کرایا مہرماہ اس پورے منظر میں خاموش ہی کھڑی تھی
” ویل نیہا….اپکی آفر بہت اچھی ہے سو لیٹس گو دیکھتے ہیں آپ باتیں بہت اچھی بناتی ہیں یا پکوڑے”
ہالار نے اسکی باتیں انجوائے کیں تھیں
” اماں پاپا کو آپکی کمپنی پسند آئے گی یو نو پاپا کو انٹیلیکچوئل بہت لوگ بہت پسند ہیں اور اماں کو سلجھے مزاج کے لوگ اور آپ میں یہ دونوں کوالٹیز موجود ہیں “
نیہا نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا بارش اب پھوار کی صورت میں برس رہی تھی
” ماموں آج جلدی آگئے اور تم بھی…”
مہرماہ نے پوچھا
” اتنے حسین موسم میں کون کافر یونی میں رہتا ہے اس لئے میں پاپا کے ساتھ گھر آگئی اور پاپا کو اماں کو لے کے ڈاکٹر کےہاں جانا تھا “
نیہا انہیں اندر لاتے ہوئے تفصیل سے بولی مہرماہ سر ہلاتے ہوئے سوچنے لگی اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم دونوں گھر پہ ہو تو یوں ہالار جاذب کا احسان نہیں اٹھانا پڑتا
نیہا ہالار کو لے کے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی
” ایک منٹ مس نیہا…. آپ اور مہرماہ سسٹرز نہیں ہیں”
“شی از مائی کزن….مگر سگی بہنوں سے بڑھ کے ہے وہ میری اتنی کئیر اور پروا کرتی ہے کہ شاید ہی کوئی کرتا ہے”
نیہا نے خلوص دل سے کہا تھا مہرماہ کے لئے وہ ایسے ہی تھی
” نائس….تو مہرماہ کے پیرنٹس…”
ہالار نے پوچھا
” وہ اس دنیا میں نہیں ہیں…”
نیہا نے آہستگی سے کہا تھا
” ایم سوری….”
ہالار نے کہا
” اٹس اوکے….آپ بتائیں ریڈیو کیلئے آپ اور کیا کرتے ہیں”
نیہا نے اب کام کی بات کرنی شروع کی تھی
“بزنس….”
یک لفظی جواب حاضر تھا
” اور آپ….”
ہالار نے مزید انٹرویو سے بچنے کی خاطر پوچھا
” جہاں سوال کے بدلے سوال ہوتا ہے
وہیں محبتوں کا زوال ہوتا ہے”
نیہا نے برملا شعر پڑھا تھا
” آئی سی …تو یہ شوق بھی ہے آپکو…”
ہالار امپریس ہوا
” ویل یہ شوق تو کچھ بھی نہیں آپ مہرماہ کے شوق دیکھیں نہ تو آپکو پتہ چلے”
نیہا نے بات کا رخ پھر مہرماہ کی جانب موڑا آخر ہالار کے سارے راستے مہرماہ تک ہی جانے تھے
“ویسے میں انجینئرنگ کررہی ہوں….”
نیہا نے بتایا
” کس فیلڈ میں….”
“ٹیکسٹائل..”
” اوہ..میں نے سول انجئنیرنگ کی ہے “
ہالار نے بتایا
” واو…آپ انجینئر بھی ہیں گریٹ”
نیہا بے ساختہ ہی خوش ہوئی تھی
” آپ پلیز بیٹھیں ….میں ابھی آتی ہوں”
نیہا نے کہا اور باہر آگئی تھی
” ماہ کی بچی….کچن میں گھسی ہوئی کیا کررہی ہو اتنا گولڈن چانس ہے…پاپا کو بتایا” “
نیہا نے ایک ساتھ دو سوال کئے
” وہ آرہے ہیں….اور میں تمہارے مشہور زمانہ پکوڑے ڈھونڈ رہی ہوں جو مجھے مل نہیں رہے”
مہرماہ نے طنز کیا
” وہ یہاں ہیں….”
نیہا آرام سے بولی
” یہ….”
مہرماہ نے باؤل اٹھا کے پوچھا حیرت سے جہاں صرف آمیزہ بنا ہوا تھا
” ہاں یہ”
” انہیں فرائی کیا جاتا ہے غالبا”
مہرماہ نے شرم دلائی
” معلوم ہے….وہ تم کروگی نا میں جب تک ہالار جاذب کو تمہاری طرف موڑتی ہوں”
نیہا کی بات پہ مہرماہ کو غصہ آگیا تھا
” تم ال ریڈی بہت فضول بول چکی ہو اب اور نہیں ….”
مہرماہ نے وارننگ دی
” ارے میری جان تم فکر ہی نہ کرو….کچے دھاگے سے بندھے چلے آئیں گے ہالار جاذب ہر بار”
نیہا کی بات پہ تقدیر مسکرائی تھی
کیا تھا تقدیر کے جلو میں آسمان سے برستے قطرے بھی انجان تھے
_____________________________________
سفیر اور عالیہ دونوں کو ہی ہالار سے مل کے خوشی ہوئی تھی انہوں نے کھل دل سے ہالار کو ویلکم کیا تھا نیہا یہی سب سے ذیادہ بول رہی تھی تبھی ہالار نے اس سے کہا تھا
” مس مہرماہ…..آپ تو بولتیں ہی نہیں حالانکہ ریڈیو پہ کام کرنے والوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت بولتے ہیں”
نیہا کو تو موقع مل گیا تھا جھٹ بولی تھی
” ارے ہماری ماہ لوگ تھوڑی نا ہے….یہ تو اپنی طرز کا انوکھا اور منفرد پیس ہے کوائٹ یونیک یہ بولتی ہے باتیں کرتی ہے مگر خود سے “
” خود سے…..”
ہالار کچھ حیران ہوا تھا
” خود سے کا مطلب یہ نہیں ہالار صاحب کہ اس کا ذہنی توازن کچھ خراب ہے “
نیہا نے جیسے صفائی دی
” دماغ مہرماہ کانہیں تمہارا خراب ہے جو نجانے کیا کیا بولتی ہو….ارے ہالار بیٹا تم اسکی بیکار کی باتوں پہ دھیان مت دو”
عالیہ بیگم نے نیہا کو ڈپٹا
” اماں…..” نیہا ٹھنکی
” کیا نیہا…..کچھ مہرماہ سے ہی سیکھو اتنی اچھی بچی ہے نصیب والوں کوہی ملتی ہے”
عالیہ بیگم نے کہا
” نوٹ کریں ہالار صاحب….نصیب والوں کو میرے خیال سے آپ بھی کافی خوش نصیب ہیں”
نیہا نے ڈھکے چھپے لفظوں میں کہا تھا مہرماہ کی تو جان ہی نکل گئی تھی یہ کیا بول گئی نیہا ماموں بھی بیٹھے ہوئے تھے مگر شاید انکا دھیان نہیں تھا اس طرف وہ موبائل میں الجھے ہوئے تھے
” ویسے مہرماہ کیسی اسٹوڈنٹ ہے”
نیہا نے اماں کے گھورنے پہ بات پلٹی تھی ہالار کچھ الجھا تھا مگر پھر نیہا کی اگلی بات پہ متوجہ ہوا تھا
” اسٹوڈنٹ کیسی…..”
” بھئی یہ آپ سے ٹریننگ لے رہی ہے….مین سیکھ رہی ہے یعنی آپکی اسٹوڈنٹ “
نیہا نے وضاحت دی
” شی از گڈ….”
ہالار نے تعریف کی تھی
” ہم کیسے مانیں مہرماہ ڈیمو دکھاؤ….” نیہا نے فرمائش کی
” نیہا….کیا ہوجاتا ہے تمہیں…”
مہرماہ الجھی
” ہاں بچے سناؤ زرا ہم بھی تو سنے یہ موا ریڈیو اور اس پہ کام کرنے والے کیسے سیکھتے ہیں” عالیہ بیگم نے بھی کہا
” کم ان ….مہرماہ….لیٹس اسٹارٹ آج تو موسم بھی بہت دلنشین ایسے میں تو خود بخود ہی دل کو چھو جانے والے احساسات دلکش الفاظ کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں”
ہالار نے بھی کہا تو مہرماہ تیار ہوگئی تھی آخر وہ ہالار کو کیسے نہ کرسکتی تھی
” اور آواز اگر ہماری ماہ کی ہو تو کیا کہنے پھر ….اس موسم کو تو چار چاند لگ جائیں گے”
نیہا نے بھی ہمت بڑھائی
مہرماہ نے کچھ سوچا اور پھر جیسے آنکھیں بند کرکے کہنے لگی
How beautiful is the rain
After the dust and heat
In the broad and fiery street
In the narrow lane
اتنے سالوں کے انتظار کی دھول میں ہالار جاذب کا تصور مجسم صورت ہوا تھا
اب وہ محسوس ہوتا تھا
دکھائی دیتا تھا
How beautiful is the rain
How it clatters along the roof
Like the tramp of hoofs
اسے بھی تو ہالار جاذب کی آواز ٹپ ٹپ برستی بارش کی بوندوں کی طرح اپنی سماعتوں میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھی کسی انوکھے ساز کی طرح بہتے جھرنے کی طرح
How it gushes and struggles out
From the throat of the over flowing spout
Across the window pane
It pours and pours
And swift and wide
With a muddy tide
Like a river down the greater roars
The,the welcome rain
اتنے برس وہ ہالار کی آواز کے جادو میں بھیگ کے خیالوں کے بہتے پانی میں اسکا تصور جیسے کھڑکی پہ پھسلتی بارش پہ تراشتی رہی تھی
مگر اب اس برسات میں ہالار کی آواز اس کی صدا کے ساتھ اسکا ساتھ ملا اسکا خیال اور احساس ملا
سو
ایسی ہزار بارشوں کو ویلکم کہنے کو تیار تھی مہرماہ سیال
“واو….اٹس رئیلی بیوٹی فل” نیہا نے تعریف کی تھی ریڈیو کی تربیت نے اسکے الفاظ اور لہجے کو بے حد خوبصورت بنا دیا تھا اور اگر سامع ہالار جاذب ہو تو پھر مہرماہ کے لہجے میں تو موسم کی ساری دلنشینی آنی ہی تھی
ہالار بھی جیسے کھو گیا تھا کہیں .
واقعی نیہا نے درست کہا تھا مہرماہ واقعی یونیک تھی
” واپس آجائیں ہالار صاحب….آپ جیت گئے مان گئے آپکو “
نیہا نے اسکے آگے ہاتھ لہرایا تھا
” یس….ہالار جاذب کبھی ہارتا بھی نہیں مس نیہا”
ہالار نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا
” رئیلی…. یہ کچھ ذیادہ نہیں ہے”
نیہا نے ابرو اچکائے
” اٹس رئیلٹی….اینی ہاؤ مس مہرماہ بیسٹ آف لک آپ نے واقعی بہت اچھے طریقے سے نظم کا حق ادا کیا “
مہرماہ اسکی تعریف پہ مسکرائی تھی
” آپ سے ہی سیکھا ہے”
” ویسے یہ زیادتی ہوگی اگر ہالار جاذب ہمارے درمیان ہوں اور ہمیں کچھ سنائیں بھی نا”
نیہا نے فرمائش کی
“کیا سننا پسند کریں گی آپ”
ہالار نے پوچھا
” بس کھری کھری نہیں وہ اماں سنا دیتی ہیں … ویسے آپ ماہ سے پوچھ لیں اسے تو آپکے سارے انداز پتہ ہیں”
نیہا نے جھٹ سے کہا
” تم کھری کھری کے ہی لائق ہو ….” مہرماہ نے کہا
” میرے خیال سے بدیسی تو بہت سنا لیا مہرماہ نے آپ زرا اردو شاعری سے فیضیاب ہوتے ہیں”
سفیر صاحب نے اپنا خیال پیش کیا
” یہ بالکل ٹھیک ہے چلیں ہالار صاحب….”
نیہا نے کہا
ہالار نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر اپنے مخصوص گھمبیر دل کو چھو جانے والے لہجے میں کہنے لگا
ہر کسی کے چہرے میں
ایک ضیا سی ہوتی ہے
رخ کے ایک حصے میں
حسن کے علاقے میں
ایک اداسی ہوتی ہے
اس کو میں نے دیکھا تھا گرم خو مہینوں میں
ایک طرف کھڑے تنہا
جس طرف کو رستے تھے
جن کے ساتھ گلیاں تھیں
جن میں لوگ بستے تھے
بے کشش مکانوں میں
جیسے چاند راتیں تھیں
اس کے سرد چہرے پر
کیا خوشگوار آنکھیں تھیں
مہرماہ جسے کھو سی گئی تھی ہوا کے دوش پہ اس نے ویسے تو کئی بار اسے سنا تھا مگر آج یوں روبرو وہ پہلی بار سنا رہا تھا
” ویسے آپس کی بات ہے ہالار صاحب کسے تنہا کھڑے دیکھا تھا آپ نے”
نیہا نے سرگوشی میں پوچھا تھا ابھی سنتیں ناں تو چپل کھینچ کے ایک لگاتیں
” ہر بات بتانے کی نہیں ہوتی”
ہالار نے کہا
” ہر بات چھپانے کی بھی نہیں ہوتی”
نیہا نے حساب برابر کیا
” ویسے نیہا آپ بھی اس طرف دھیان دیں آپ میں ٹیلنٹ ہے” ہالار نے تجویز دی
” یو مین صدا کاری”
نیہا نے کہا
” یس…”
” رہنے دیں مجھے تو یہ نری بیکاری لگتی ہے”
نیہا نے بیزاری سے کہا
” نیہا….” مہرماہ نے تنبیہی آواز میں کہا
” اچھا بھئی نہیں کرتی میں گستاخی…”
نیہا نے کان پکڑے
” بائے دا وے بہت وقت ہوگیا ہے میں اب چلتا ہوں”
ہالار وقت دیکھ کے کھڑا ہوگیا
” ارے بچے اب ڈنر کرکے جانا” عالیہ بیگم نے کہا
” نو تھینکس…آنٹی اب مجھے جانا ہے تھینکس فار سچ ہائی ٹی اور نیہا آپکے پکوڑے” .
ہالار نے خاص طور سے پکوڑے پہ زور دیا عالیہ بیگم کو اچھو ہی لگ گیا
” بیٹا یہ ہل کے پانی نہیں پیتی تو پکوڑے دور کی بات”
” اماں حد ہے…..بس تلے مہرماہ نے ہیں میں نے مکسچر بنایا تو تھا”
نیہا نے منہ بسورا
” بڑا احسان کیا تھا”
” ویل جنٹیلمین….تھینکس اگین آپ نے ہماری بچی کو ذمہ داری سے پہنچایا”
سفیر صاحب نے کہا
” جاؤ….جاؤ اسے سی آف تو کرکے آؤ”
نیہا مہرماہ کے کان میں گھسی
” شٹ اپ….” مہرماہ پہلے سے چڑی ہوئی تھی
” کیوں اب رومال کے بعد جیکٹ بھی ہتھیانی ہے”
نیہا نے کہا تو مہرماہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
” تمہیں کیسے پتہ….”
” عشق اور مشک چھپتے نہیں اب جاؤ” نیہا نے لہک کے کہا
” تھینکس مت کہیں انکل…..ناؤ شی از پارٹ آف اور چینل تو یہ ہمارا فرض تھا”
ہالار نے اجازت لیتے ہوئے کہا اور پورچ کی طرف نکل آیا
سفیر صاحب عالیہ کو لے کے ڈاکٹر کی طرف کیلئے نکل گئے
” ہالار صاحب….”
دھیمی آواز پہ ہالار پلٹا
“جی مس مہرماہ کچھ اور کہنا ہے …”
” وہ یہ اپکی جیکٹ….”
مہرماہ نے اسکی طرف جیکٹ بڑھائی
” آپ رکھ سکتیں ہیں”
ہالار نے آفر کی
” نو ….تھینکس ….آپ نے ہماری میزبانی قبول کی نیہا کی باتوں پہ دھیان مت دیجئے گا وہ تھوڑی سادہ مزاج ہے”
مہرماہ نے کہا
” میرے خیال سے نیہا کی باتیں قابل غور ہیں مس مہرماہ….آپ فکر نہ کریں اسکی شی از آؤٹ اسٹینڈنگ”
ہالار نے کھلے دل سے تعریف کی تھی اور سی یو کہتا کار میں بیٹھ گیا
مہرماہ کا دل نہ جانے کیوں ایک دم خالی ہوا تھا
“____________________________________
” بھائی…آگیا…”
نیہا انس کو دیکھ کے چیخی
“السلام علیکم”
انس نے والدین کو سلام کرتے ہوئے اسے گھورا
” وعلیکم السلام …..بچے اتنے اتنے دن بعد کیوں شکل دکھاتے ہو” .عالیہ بیگم نے شکوہ کیا
” اماں بس کام ہی کچھ ایسا ہے….اور آپ ٹھیک رہیں”
انس نے ماں کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا .
“اماں تو بالکل ٹھیک ہیں بھائی کچھ ہمارا بھی پوچھ لو”
نیہا نے شکوہ کیا
” تم تو ہٹی کٹی ہی ہو”
انس نے اسے تپایا.
” جاؤ بھائی…تم تو نہ بس بات ہی نہ کرو”
” ابھی تو آیا ہوں کہاں جاؤں”
” جہنم میں”
نیہا کو انس کی مسکراہٹ زہر لگی تھی
وہ دھپ دھپ کرتی مہرماہ کے پاس چلی آئی تھی
” کیا ہوا ہے تمہیں…. “
مہرماہ نے پوچھا
” بھائی واپس آگیا ہے “
” اوہ ….کب ” .مہرماہ چونکی .
” ابھی…..اور آتے ساتھ ہی میری شامت بھی”
نیہا چڑگئی تھی
مہرماہ چپ سی ہوگئی تھی پھر سر جھٹکتے ہوئے کھڑی ہوگئی تھی
انس آگیا تھا تو اب شام کیلئے اسکا کام بڑھ گیا تھا سو وقت سے پہلے کچن میں حاضری ضروری تھی
” کدھر….” نیہا نے پوچھا
” کچن” مہرماہ نے سنجیدگی سے کہا .
” رکو میں بھی چلتی ہوں”
نیہا نے بھی آج کچن کا نام لیا تھا مقام حیرت ہی تھا ..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *