Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17
آسمان سر پہ ٹوٹتا کیسے ہے????
زمین پیروں تلے سے نکلتی کیسی ہے???
کیسے روح یک لخت کانپ اٹھتی ہے???
نیہا سفیر کو آج ادراک ہوا تھا ….اسے یوں لگ رہا تھا کہ اسے کسی نے اونچائی سے اٹھا کے نیچے پٹخا ہے ….نہ جانے کتنے پل وہ بولنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی
ہالار جاذب کا رشتہ آیا تھا
مہرماہ کیلئے نہیں…..نیہا سفیر کیلئے آیا تھا
میر ہالار کو محبت ہوئی
مہرماہ سے نہیں….نیہا سفیر سے
شاید اسے ہی نصیب کہتے ہیں
وہ بیوقوف سارا وقت ان دونوں کو ملانے میں لگی رہی اور تقدیر ان دونوں کو
کیا مذاق تھا یہ….!!!!!!
نیہا کو لگا کہ یہ بات کرکے ہالار نے نیہا کو ہمیشہ کیلئے مہرماہ کی نظروں میں گرا دیا ہے
بھلا وہ اور ہالار کیسے ہوسکتے ہیں….!!!
وہ تو گواہ تھی نا…..
مہرماہ کی دیوانگی کی
اسکی محبت کی
اسکی چاہت کی
پھر بھلا وہ کیسے اسکے حق پہ ڈاکا ڈال سکتی تھی
” یہ نہیں ہوسکتا…..کبھی نہیں….پاگل ہوگیا ہے یہ میر ہالار….اور یہ اماں پاپا کو کیا ہوا???یہ دونوں انکا منہ کیوں نہیں بند کرتے….اس سے پہلے کہ بابا کچھ کہیں میں جا کے صاف انکار کردیتی ہوں” نیہا نے جلد ہی اپنی کیفیت پہ قابو پا لیا تھا
” اماں….!!!!” نیہا نے اندر آتے ہوئے عالیہ کو پکارا
عالیہ نے اسکے تیور دیکھے ….نیہا کے تیور بالکل اچھے نہ تھے وہ یقینا یہاں کوئی تماشہ لگانے آئی تھی
عالیہ اسے جانتی تھیں انہوں نے سفیر صاحب کو اشارہ کیا تو سفر صاحب نیہا سے بولے
” نیہا….یہاں آؤ ….یہ میر ہالار کی فیملی ہے….اپنی باتیں ہم بعد میں کرتے ہیں پہلے مہمانوں سے ملیں ….!!!!” سفیر صاحب نے نیہا کو بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا
انکی باتوں اور انکے انداز میں چھپا پیغام نیہا کو صاف محسوس ہوا تھا
مطلب اسے انتظار کرنا تھا
نیہا کچھ دیر بیٹھ کے اٹھ گئی تھی
مہرماہ کی لٹھے کی مانند سفید رنگت اسے اتنے فاصلے سے بھی محسوس ہوئی تھی
نیہا مجرم نہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مجرم سمجھ رہی تھی
اور جس نے یہ سارا کارنامہ کیا تھا وہ انتہائی اطمینان سے سفیر صاحب سے محو گفتگو تھا
_____________________________________
لوگ اتنے ظالم بھی ہوتے ہیں کہ پل میں اپکو ساری دنیا دان کر آپ کو ملکہ بنا دیں اور دوسرے ہی پل آپ کا وجود کوڑیوں کے مول کرکے پاتال کی گہرائیوں میں اتار دیں
ابھی یہ وہی لوگ تھے نا جو مہرماہ کو سر پہ بٹھا رہے تھے اور اب انہی لوگوں نے انجانے میں ہی سہی اس چھوٹی لڑکی ساری کائنات زلزلے کی نظر کردی تھی
مہرماہ کو لگا کہ آج اسکے جسم سے جان ہی نکلی تھی
اذیت کے مارے اسکی آنکھوں میں لہو کی سرخی ٹھر گئی تھی
اس نے اٹھنا چاہا کہ کوئی گوشہ عافیت ہی مل جائے جہاں وہ اس قیامت کاسامنا کرسکے
اپنی بربادی کا ماتم کرسکے
کیا نصیب تھا اسکا میر ہالار اسکے سامنے تھا مگر اسکے ہاتھ میں نہیں
وہ اسکا نہیں نیہا کا طالب تھا
وہ نیہا جس نے مہرماہ کی سترہ سالہ محبت کو تعبیر کا رخ دینے کی کوشش کی تھی
اسکی آنکھوں میں بہت چاہت سے میر ہالار کی ہم سفری کے خواب سجائے تھے
اسکی عقیدت بھری محبت کو چاہ کی راہ سمجھائی تھی
اور اب اسی نیہا کی وجہ سے مہرماہ کے سارے خواب ٹوٹ گئے تھے
بکھر گئے تھے
اور مہرماہ کی لہو کرچی کرچی ہوگئی تھی
اسکا وجود زخم زخم تھا
پور پور لہولہان تھا
مہرماہ نے اسے شخص کو آنکھ اٹھا کے دیکھا
جو اسکے ہاتھوں میں تو تھا
مگر لکیروں میں نہیں
” ہم نیہا کو بہت خوش رکھیں گے….ہالار کو آپ پہلے سے ہی جانتے ہیں….بس اب اقرار دیجئے “
میر برفت نے کہا تھا
” یقینا….بس ہمیں کچھ وقت دیجئے….مجھے یقین ہے کچھ اچھا ہی ہوگا “
سفیر صاحب کے انداز مثبت تھا
ایک اور انی مہرماہ کے وجود میں گڑی تھی ….!!!!
اسکی جان کنی کی کیفیت کسی کو بھی نظر نہیں آئی تھی
میر ہالار جاذب کو بھی نہیں…..!!!!!
فرط درد سے میں نے انگلیوں کی پوروں پر
آنسو جب سمیٹے تھے آپ بھی تو بیٹھے تھے
_____________________________________
” واہ….واہ…کیا کہنے ہیں تمہارے میر ہالار جاذب کے ……کتنا گھنا نکلا یہ شخص نظریں کسی اور پہ اور دل کسی اور پہ …..ایسا بھی کوئی کرتا ہے کیا ????”
نیہا بھڑک کے بولی تھی
” وہ میرا نہیں نیہا…..”
مہرماہ کے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی چبھن تھی
“میرا دل کررہا ہے جاؤں اور جا کے اسکا منہ توڑ کے ہاتھ میں دے دوں جس منہ سے اسنے میرا رشتہ مانگا….” نیہا نے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں
” تو کیا ہوا….محبت کرتے ہیں وہ تم سے ….پہلی خواہش ہو تم انکی…” مہرماہ نے رشک سے کہا تھا
دل میں اٹھتی ٹیسوں کا کیا پوچھنا تھا بھلا….!!!!
” مہرماہ….تم انسان ہو….کوئی ماورائی مخلوق نہیں ….تمہیں درد نہیں ہوتا یہاں “
نیہا نے دل کی طرف اشارہ کیا تھا
“کیا شور مچا رکھا ہے نیہا…..” عالیہ اندر آتے ہوئے بولیں تھیں
“اماں….میں آپ سے صاف کہہ رہی ہوں آپ ان لوگوں کو منع کردیں مجھے کوئی شادی نہیں کرنی ….میر ہالار جاذب سے تو قطعا نہیں”
نیہا نے صاف کہا تھا
” تم مجھے دوسری انس نہ بنو….وہ تو چلولڑکا ہے….اسے کچھ نہیں فرق پڑتا ….مگر تم جسے ڈھنگ سے چلنا نہیں آتا نہ بولنا….اسکے لئے اگر میر ہالار جیسے لڑکے کا رشتہ غنیمت ہے…..” عالیہ بیگم نیم رضامند تھیں
ویسے بھی میر جاذب نے تو انکے حق میں ہمیشہ اچھا کیا تھا …..!!!!!!
” اماں…..”
نیہا کو صدمہ ہوا تھا
” آپ بھول گئیں انہوں نے سمعیہ پھوپھو کے ساتھ کیا کیا تھا…..????” نیہا نے یاد دلایا
” وہ میر جاذب نے نہیں…..کیا تھا …وہ تو سمعیہ کیلئے ہمیشہ رحمت کا فرشتہ ثابت ہوا تھا …..اور انہی کی وجہ سے مہرماہ ہمیں ملی تھی “
عالیہ نے اسکا اعتراض چٹکیوں میں میں اڑایا تھا
” جو بھی ہو…. مجھے صاف انکار ہے….” نیہا پیر پٹختے ہوئے چلی گئی تھی
” مسئلہ کیا ہے….!!!!”
عالیہ نے مہرماہ کو دیکھا
اب مہرماہ کیا بتاتی کہ مسئلہ کیا تھا ????
نہ جی پائیں نہ سہہ پائیں
قیامت ہی قیامت ہے ….!!!!
_____________________________________
” مہرماہ….تمہیں سفیر بلا رہے ہیں….”
مہرماہ کو عالیہ نے پکارا جو جھولے پہ ساکت سی بیٹھی تھی آج جھولا بھی اسکے وجود کی مانند ساکت تھا
وہ فی الحال یہیں تھیں…..میر برفت تو ساتھ لے جانا چاہتے تھے مگر سب نے کہا تھا کہ مہر ماہ کو کچھ وقت دیں …..اسکے لئے یہ جھٹکا بہت بڑا ہے
اور جھٹکا تو واقعی بہت بڑا تھا
“جی ماموں….” مہرماہ نے انکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
” مہری….میں نے تمہیں کبھی ان لوگوں کے بارے میں نہیں بتایا ….اس لئے یہ سب بہت اچانک ہے پر وہ وقت کی ضرورت تھی بچے”
سفیر صاحب اسکا چہرہ دیکھ کے سمجھے تھے کہ اسے کوئی شکایت ہے ان سے
” نہیں ماموں ….آپ نے جو کیا درست کیا….”
مہرماہ دلگرفتی سے بولی
” ہالار کو تم پہلے سے ہی جانتیں تھیں نا….”
” ہاں ایک انہی کو تو میں جانتی تھی”
مہرماہ کے دل نے دہائی دی
“مجھے ہالار پسند ہے ….بیٹی….پر نیہا انکار کررہی ہے….بچے یہ رشتہ نصیب والوں کو ملتا ہے….تم اسے سمجھاؤ اسے راضی کرو…..تم یہ کرسکتی ہو مہرماہ….پلیز….”
سفیر صاحب نہیں جانتے تھے کہ انکے یہ الفاظ مہرماہ کو بے جان کرچکے ہیں
” ماموں….. ” مہرماہ کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا
“کیا ہوا….”
” وہ..وہ…..” مہرماہ نے کچھ بولنا چاہا
“کہو نا بیٹا…..”
“نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتی….. ان لوگوں کو کیسے انکار کروں جو میرے محسن ہیں….”
مہرماہ آج بھی غلط تھی
بھلا…..انتہا پہ جا کے انسان کیسے خوش رہ سکتا ہے
چاہے وہ انتہا اچھائی کی کیوں نہ ہو…..!!!!
” میں کرلوں گی….”
مہرماہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو قبر میں اتارا تھا
_____________________________________
” میں جب صبح گئی تھی سو سب صحیح تھا….مگر شام میں تو جیسے سب سڑا ہوا کریلا بنے ہوئے ہیں ” ماوی آتے ساتھ ہی نان اسٹاپ شروع ہوئی تھی
” مجھ سے کچھ نہ پوچھو….میرا بہت موڈ خراب ہے…..” نیہا منہ پھلا کے بولی تھی
” چلو سڑی رہو……انس آپ کو پتہ ہے کچھ” ماوی نے اس سے پوچھا جو اسکے پیچھے پیچھے گھر میں آیا تھا
” انس بھائی اپنے کان اپنے ساتھ لے کے جاتیں ہیں”
نیہا نے کہا
” کیا….یہ کیا بے تکی بات ہے” انس الجھا
” آج سب ہی بے تکا ہے….انس بھائی اور تم میری بات رہنے ہی دو آج کی تازہ خبر سنو….ہماری مہرماہ کے ددھیال والے تشریف لائے تھے ” نیہا نے کہا
” کیا….مہر جی کے ددھیال والے….اتنے عرصے بعد….” ماوی حیران ہوئی تھی
” منحوس ہیں نا ہم سب کی زندگی میں زہر گھولنے کیلئے ہر پندرہ بیس سال بعد منہ اٹھا کے آجاتے ہیں….” نیہا کا لہجہ زہر بھرا تھا
” یہ تو خوشی کی بات ہے….تم کیوں کریلے چبا رہی ہو…..” ماوی نے اس سے پوچھا
” ارے جہنم میں گئی ….ایسی خوشی….اوپر سے انہوں نے میرا رشتہ مانگ لیا اپنے پوتے کیلئے…..”
نیہا نے اصل وجہ بتائی
” تم سچ میں پاگل ہو…..نیہا….اس میں خار کھانے والی کیا بات ہے…..” ماوی نے اسے ڈپٹا
” تم چپ رہو….ماوی…..جاؤ یہاں سے نیہا یہاں بیٹھو اور ساری بات بتاؤ” انس نے ماوی کو جانے کا اشارہ کیا
ماوی کیلئے انس کی ایک گھوری ہی کافی ہوتی تھی ویسے بھی اس دن کے بعد سے وہ بہت محتاط ہوگئی تھی
” بھائی کچھ…..کرو ماہ تو پرائی ہوگئی میں بھی چلی جاؤں گی….مجھے نہیں کرنی شادی…”
نیہا نے کہا
” پرائی تو وہ کب سے ہوگئی ہے نیہا…..مہرماہ تو میرے ہاتھ کی لکیروں کبھی تھی ہی نہیں…. “
انس نے سوچا
” میں دیکھتا ہوں…..” انس اسے تسلی دیتا اٹھ گیا تھا
_____________________________________
میرے ساتھ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے…..کہ ہر خواب میری آنکھ میں ٹوٹا ہوا تارا بن جاتا ہے ….مجھے نہ رشتے راس ہیں اور نہ محبتیں
مہرماہ بالکونی کے ٹھنڈے فرش پہ بیٹھی ہوئی تھی
پیلا ڈوبتا آخری تاریخوں کا چاند بھی مہر ماہ کے وجود کی طرح گھٹ رہا تھا کاسنی پھولوں والی بیل بھی چپ اپنے پھولوں کیلئے سر نیہواڑے جھکی ہوئی تھی
” میں نے آپ سے بہت محبت کی …..ہالار جاذب….اتنی کہ پھر میں میں نے نہیں رہی آپ ہوگئی…. میری باتیں میری روح….میری محبت سب آپکے نام ہیں….مہرماہ نے تب بھی آپ سے بہت محبت کی تھی جب آپ کو دیکھا نہیں تھا آپ میری نو عمری کا وہ خواب ہیں جس کی میں نے کبھی تعبیر نہیں چاہی تھی….لوگ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسی محبت ہے یہ مہر ماہ کی محبت ہے اور مہر ماہ یہ محبت آخری سانس تک نبھائی گی”
مہرماہ کے چاندی جیسے چہرے پہ سیاہ ہیروں کی طرح چمکتی آنکھوں سے موتی جیسے آنسو پھیل رہے تھے
” اس گھر کا مجھ پہ بہت قرض ہے….جو مجھے اتارنا ہے”
مہرماہ سوچ چکی تھی
پر دل کا کیا کرتی
سترہ سال کی محبت تھی اسکی…..!!!!!!
اذیت سے وہ پتھر کی ہورہی تھی!!!!!!!
ک
خواب ٹوٹ جائیں تو یونہی چبھ چبھ کے پتھر کردیتے ہیں
وہ پھولوں جیسی لڑکی
اس رات شیشوں جیسا ٹوٹی تھی
اس چھوٹی لڑکی سے اسکی کل کائنات چھن چکی تھی
_____________________________________
” کیا سوچا ہے نیہا تم نے…..ماموں ہاں کررہے ہیں”
مہرماہ نے ضبط سے کہا تھا
” تم پاگل ہو کیا وہ تمہارا ہے …..تم نے محبت کی ہے اس سے….ایسے کیسے کہہ سکتی ہو تم….” نیہا چٹخی
” مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تم سے محبت کرتے ہیں…مجھ سے نہیں…” مہرماہ نے تلخی سے کہا
” میں ابھی آتی ہوں پاپا سے بات کر کے” نیہا جلدی سے نیچے بھاگی تھی
” بابا….مجھے اس رشتے سے انکار ہے….” اس نے دھڑلے سے کہا تھا
سفیر صاحب نے اپنا چشمہ اتار کے اسے بغور دیکھا تھا
” کوئی ایک سولڈ رزن دو نیہا…..انکار کی “
اور یہیں آکے نیہا کی زبان کو تالے لگ جاتے تھے
وہ کیا کہتی کہ انکار کی وجہ کیا ہے ….کہ مہرماہ کی نوعمری کی چاہت ہے میر ہالار “
” بس مجھے پسند نہیں….”
” تو تمہیں کیوں لگا کہ میں تمہاری پسند کا انتظار کروں گا….نیہا شادی تمہاری ہماری پسند سے ہوگی …..کچھ اور کہنا ہے تو کہو نہیں تو جاسکتی ہوں….انس کو بھی رشتہ پسند ہے اور سب سے بڑھ کے میر جاذب کا ہم پہ بہت احسان ہے…..”
“تو اس احسان کے بدلے آپ اپنی بیٹی اسکی مرضی کے خلاف دے دیں…..”
” نیہا…..زبان بند کرو اور جاؤ یہاں سے ….” سفیر صاحب ناگواری سے بولے
نیہا پیر پٹختے ہوئے باہر آئی تھی
” نیہا …..پلیز شادی کرلو ہالار سے” مہرماہ کی بات پہ نیہا کو ایک اور کرنٹ لگا تھا
” تم انسان ہو اوتار نہیں…….” نیہا نے یاد دلایا.
” جانتی ہوں….”
” پھر کیوں کررہی ہو ایسا…..مرجاؤ گی…”
” کوئی نہیں مرتا نیہا…..جب ان سترہ برسوں میں نہیں مری تو اب کیسے مروں گی……تم فکر نہ کرو…” مہرماہ نے آنسو صاف کیے
” اتنا بڑا ظلم میں نہیں کرسکتی…..”
” یہ ظلم نہیں ہے….نیہا “
” ہرگز نہیں ماہ….”
” میرے لئے بھی نہیں…..”
” قطعا نہیں….تمہارے لئے ہی تو نہیں کررہی تم مرجاؤگی….جو ابھی سانس نہیں لے پارہی اس تصور سے کہ میر ہالار نے میری ہم سفری کی خواہش کی ہے…..وہ جب اسے میرے ساتھ دیکھے گی تو مرہی جائے گی نہیں ماہ….میں خود غرض نہیں ہوں…”
نیہا جذباتی ہوئی تھی
پوری دنیا کو چھوڑ کے ہالار کو ملی بھی تو کون نیہا بی بی…!!!! حد ہی ہوگئی تھی
” مر تو میں ویسے بھی جاؤں گی….”
مہرماہ کا لہجہ بہت عجیب تھا
” کیا مطلب…” نیہا الجھی
” اگر تم نے اس رشتے سے انکار کیا تو میں خودکشی کرلوں گی”
مہرماہ نے آج پہلی بار ثابت کیا تھا کہ وہ میر سیال کی اولاد ہے….
” ماہ پاگل ہوئی ہو….تم ایسا کیسے کرسکتی ہو”
” ہاں پاگل ہوگئی ہوں….یاد رکھنا میر ہالار میری طرح ناشاد نہیں رہے گا اسے اس کا پیار ملے گا….نہیں تو میں ہر حد پار کرجاوں گی’
نیہا کو وہ باؤلی لگی تھی ….وہ اسے دیکھتی رہی
پیلے چاند کی روشنی میں وہ محبت کی صلیب پہ چڑھی کوئی قیدی ہی لگ رہی تھی
“تو ٹھیک ہے مہرماہ…..تمہارا حوصلہ آزماتے ہیں….تیار ہوں میں اس شادی کیلئے بتادو بابا کو”
نیہا کے دماغ میں جھانکنا مشکل تھا
_____________________________________
” نیہا……آپ اور یہاں ‘”
ہالار حیران ہوا تھا
ابھی کل ہی تو وہ ان سے مل کے آیا تھا
” آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں…..کیوں”
نیہا کا لہجہ سپاٹ تھا
” نیہا آئی وانٹ یو بی مائی لائف اینڈ بی مائی وائف…..” ہالار ایک جذب سے بولا تھا
” تو ٹھیک ہے ہالار صاحب…..کچھ میری پسند کا بھی تو ہو”
” یقینا کہئے……”
” حق مہر…..حق مہر میری مرضی کا ہوگا…جو میں مانگوں گی آپ دیں گے”
نیہا نے کہا
” اوکے…کیا ڈیمانڈ ہے آپکی…”
” آج نہیں عقد کے دن میر ہالار …..وعدہ کریں” نیہا نے اس سے اقرار مانگا
” اوکے…..جو آپ مانگیں گی وہ آپکو ملے گا….یہ ایک میر کا آپ سے وعدہ ہے…..میر ہالار جاذب کا”
ہالار نے اسے اقرار کی نوید دی تھی
” چلتی ہوں اب میں…..” نیہا اٹھ کھڑی ہوئی تھی
بابا یا انس کو پتہ چل جاتا کہ وہ یوں منہ اٹھا کہ ہالار کے گھر گئی ہے تو یقینا وہ اسے شوٹ کردیتے
” آپ ایسے یوں اکیلی….یہ خاصا نامناسب ہے نیہا” ہالار نے دبے لفظوں میں کہا
” میں ایسی ہی ہوں ہالار صاحب…..پابند رہنا مجھے پسند نہیں….” نیہا تڑ سے بولی
” ہوں…انہیں بھی تو پتہ چلے کیا انجام ہوتا ہے یوں اندھوں کی طرح فیصلے کرنے کا”
” آپ ایڈجسٹ کرجائیں گی ڈونٹ وری…..” ہالار نے اطمینان سے کہا
نیہا ہنہ کرکے رہ گئی تھی
” کیا سوچ کے آپ مجھے اپنا رہے ہیں….مجھے تو ڈھنگ سے انڈہ ابالنا بھی نہیں آتا… مجھ سے تو اچھی مہرماہ ہے…ہر شے میں پرفیکٹ “
نیہا نے یوں ہی کچھ کھوجنا چاہا تھا
” مجھے اپنے لئے بیوی چاہئیے میڈ نہیں….اور جو بات آپ میں ہے وہ کسی میں نہیں” ہالار کچھ چڑ کے بولا تھا
“_یہ کزن تو جان کو ہی آگئی تھی ….”
نیہا مزید کچھ بولے بنا پلٹ گئی تھی میر ہالار جاذب لفظوں کا ساحر تھا اس میں کوئی شک نہیں تھا .
جاری ہے
