Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19
آئس برگ جب پگھلتے ہیں نا تو آس پاس کی زندگیوں کو ہمیشہ کیلئے نگل لیتے ہیں …..اس سے پہلے نہ جانے کتنی صدیوں تک یوں ہی موسم کی شدتوں سے بظاہر بے پروس اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں مگر حقیقت یہی ہوتی کہ اندر ہی اندر وہ گھل رہے ہوتے ہیں اور وقت آنے پہ سب ختم کرڈالتے ہیں
مہرماہ سیال جسے نیہا ساری زندگی آئس برگ کی مانند سمجھتی آئی تھی جس پہ بقول اسکے کچھ اثر نہیں ہوتا تھا آج وہ آئس برگ پگھل گیا تھا
اور سیلاب بس آیا ہی چاہتا تھا……!!!!!!
مہرماہ کیلئے یہ بالکل غیر متوقع صورتحال تھی اور میر ہالار جن نظروں سے اسے دیکھتا ہوا باہر نکلا تھا
مہرماہ جیتے جی مرگئی تھی
کتنی حقارت تھی اسکے دیکھنے میں…!!!!
آج سے پہلے اگر ان آنکھوں میں اس کیلئے محبت نہ تھی تو کم از کم حقارت بھی تو نہ ہوتی تھی
نیہا نے یہ کیا کیا تھا….!!!!
کیوں تقدیر کو ہاتھ میں لیا تھا…!!!!
کتنے پل وہ یوں ہی کھڑی رہی تھی
یہ کیا ہورہا تھا????
ہمیشہ وہی کیوں????
وہ مہرماہ تھی!!!!
ایک انسان…..!!!!
کیوں اسے بھیڑ بکریوں کی طرح ٹریٹ کیا جاتا تھا
وہ جیتی جاگتی سانس لیتی مخلوق تھی اسکے بھی تو کچھ خواب تھے
کچھ امان تھے
جو ہمیشہ اس نے ان لوگوں کیلئے قربان کئے تھے!!!!!!
آج تک انہوں نے جو کہا اس نے کیا تھا
انکی خوشنودی کیلئے
انکی رضا کیلئے
وہ جھلی یہ نہیں جانتی تھی
بھلا انسان بھی کبھی جی بھر کے خوش ہوئے ہیں ….!!!!!
اور
یہ جو اب نیہا نے کہا تھا اسکی برداشت ختم ہوگئی تھی
” کیا میں اتنی گئی گزری ہوں…..!!!!!”
مہرماہ نے ایک جھٹکے سے نیچے گرے تھال کو پیچھے کیا تھا
اور نیہا کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی جو انس کے ساتھ الجھی تھی
” تم نے ابھی کیا کہا ہے نیہا….”
مہرماہ اب بھی بے یقین تھی
” تم سن چکی ہو….اور نہیں سنا تو اب سن لو تمہارا اور میر ہالار کا نکاح ہے”
نیہا نے جوش سے کہا
” نیہا…..تم یہ نہیں کرسکتیں…..تمہیں کس نے حق دیا ہے میری توہین کا”
مہرماہ غصے سے بولی تھی
انس نے آگے بڑھ کے کچھ کہنا چاہا تھا وہ پہلے ہی نیہا کی باتوں پہ الجھ رہا تھا
اور اب مہرماہ کا یہ انداز…..!!!!!!
” انس…..آپ پلیز دور رہیں….جائیں یہاں سے …مجھے نیہا سے بات کرنی ہے….”
مہرماہ اسکی طرف بغیر دیکھے بولی تھی
” ماہ…”
انس نے کہا
” پلیز….انس فار گاڈ سیک…”
مہرماہ کی رگیں ابھر آئیں تھیں
انس اسکی کیفیت سمجھ رہا تھا یہ بات جتنی ان کے لئے حیران کن تھی اتنی ہی مہر ماہ کیلئے بھی
” بولو نیہا ….کیوں کیا تم نے ایسا????” مہرماہ کی اونچی آواز آج پہلی بار اس گھر کی دیواروں نے سنیں تھیں
” مہر ماہ ….کرنے دو مجھے جو کچھ کررہیں ہوں میں یہی ایک راستہ ہے تم دونوں کو ملانے ….میں نے اس دن کا انتظار بڑی شدت سے کیا ہے….تمہیں تمہاری سترہ برس کی محبت ملنے جارہی ہے….!!!”
نیہا نے اسکے ہاتھ پکڑے
” سترہ برس کی محبت…..”
اندر آتا ہالار پل بھر کو ٹھرا تھا
” ہنہ محبت…. نیہا…تمہیں کس نے حق دیا ہے یہ ….بولو تم کیا سمجھتی ہو تم جو کہو گی میں وہی کروں گی….نہیں نیہا ایسا نہیں ہوسکتا…”
مہرماہ نے قطعیت سے انکار کیا
محبت اپنی جگہ!!!!
مگر
عزت نفس سے زیادہ نہیں….!!!!
کچھ بھی نہیں …کبھی بھی نہیں
بھیک ملے سکے تو قبول ہوسکتے ہیں….مگر محبت نہیں
” نہیں مہرماہ….نہیں….تم سے آج تک جو کہا ہے جو کچھ منوایا ہے وہ سب بہترین تھا ….اور یہ بھی ….میر ہالار کا اور تمہارا نکاح ہوگا ….یہ طے ہے….تمہاری محبتوں کا قرض ایسے ہی اتار سکتے ہیں….بدلے میں تمہاری محبت تمہیں دے کے….”
نیہا نے خلوص سے کہا تھا
” میرا قرض….میرا بدلہ….”
مہرماہ نے عجیب سے لہجے میں کہا تھا
” ہاں ماہ….تم نے جس طرح میر ہالار کو میرے لئے چھوڑا ….اپنا درد سب سے چھپایا ….تم ہی ڈیزرو کرتی ہو یہ سب….”
نیہا اپنی بات پہ زور دے کے بولی تھی
مہر ماہ نے آنسو صاف کئے اپنے
اب بات حساب کی جو آگئی تھی
” تو صرف اس ایک قربانی کے بدلے…..تم میر ہالار سے میرا نکاح کرا رہی ہو….”
” آف کورس….”
” تو نیہا سفیر….تمہیں لگتاہے کہ تم میری قربانیوں کا صلہ دے سکتی ہو….تو چلو شروع سے حساب کرتے ہیں…دے سکتی ہو نیہا سفیر تو دو….”
مہر ماہ پھٹ پڑی تھی
ایسا تازیانہ لگا تھا اسکی عزت نفس پہ کہ وہ سہہ ہی نہیں پائی تھی
نیہا ٹھٹکی تھی ….یہ مہرماہ کے تو انداز نہ تھے
” کہنا کیا چاہتی ہو ماہ…..”
” سن سکتی ہو ….تو سنو….تمہیں بہت شوق ہے نا ریورڈ دینے کا….احسان کا بدلہ دینے کا….دے سکتی ہو دو بالکل شروع….”
مہرماہ دیوانگی سے بولی تھی
” آؤ نیہا….بچپن سے حساب کرتے ہیں…اس وقت سے جب جب اپنے حصے کی چیزیں تمہیں دیں…نو عمری میں اپنے خوابوں کی تعبیر تمہیں دی….کیا میرے خواب نہ تھے….اگر تم انجینئر بننا چاہتی تھی تو کیا میں کچھ نہیں بن سکتی تھی….بن سکتی تھی کتنا بڑا خواب تھا میرا کہ میں ڈاکٹر بنوں….اے ون گریڈ تھا میرا….سفید گاؤن والے ڈاکٹرز مجھے کتنا اٹریکٹ کرتے تھے ….مگر میں نے یہ شوق بھی چھوڑ دیا تاکہ تم پڑھ سکو….تمہاری محبت میں اس گھر کی خوشی اور آرام کیلئے سب کیا….آدھی آدھی رات تک بیٹھ کے تمہاری فرمائش پہ کبھی سوٹ سیا تو کبھی کوئی ڈش بنائی….بولو نیہا دے سکتی ہو میرے ٹوٹے خوابوں کا حساب….میرے بہائے گئے آنسو کا کفارا….”
نیہا چپ کی چپ رہ گئی تھی
اور باہر کھڑے اس ساحر کی ساری جادوگری جیسے ہوا میں تحلیل ہوگئی تھی
” ماہ….اسی لئے تو میں چاہتی ہوں کہ تمہاری اور میر ہالار کی شادی ہوجائے….اسکا ساتھ تمہارے سارے درد ختم کردے گا….سارے غم ختم ہوجائیں گے…..میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتی….”
نیہا نے آگے بڑھ کے اسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی
” دیکھا کوئی جواب نہیں….کوئی بدلہ نہیں تو پھر یہ کیوں….میں ہی کیوں قربانی کا بکرا بنتی ہو….اور تم کہتی ہو کہ میر ہالار کا ساتھ میرے سارے درد مٹادے گا …نیہا سفیر….ایک بار اگر اسکی آنکھوں میں جھانک کے دیکھ لیتیں نا تم تو تمہیں پتہ چل جاتا میرا مقام اسکی زندگی میں…..اتنی حقارت…کیا تعین ہوگا اسکا میری زندگی …ایک بوجھ ایک ان چاہا وجود….”
مہر ماہ تڑپی تھی
” سب ٹھیک ہوجائے گا….کچھ وقت لگے گا…سترہ برس اس شخص سے تم نے محبت کی ہے….اسکی ایک ایک بات تمہیں آج تک یاد ہے….ماہ یہ بھی تو دیکھو”
نیہا نے کہا تھا
میں اتنا چاہا گیا ہوں….باہر کھڑا ہالار شاکڈ تھا
کیسا دن تھا یہ
” نہیں نیہا نہیں….تم مجھے مجبور نہیں کرسکتیں….ہالار سے محبت اپنی جگہ اور جن سے محبت کی جاتی ہے انہیں اپنے ساتھ باندھا نہیں جاتا….میر ہالار تمہارا نصیب ہے تمہیں ہی مبارک ہو….”
مہرماہ نے سختی سے کہا تھا
” نہیں ماہ نہیں…یہ نکاح تو تمہیں کرنا ہوگا….میں شادی افورڈ ہی نہیں کرسکتی…اس مقام پہ اور اس شخص سے تو بالکل نہیں جس کے خواب تم نے دیکھے ہیں….”
نیہا نے انکار کیا تھا
” یہ تمہارا مسئلہ ہے نیہا….مگر اب میں نہیں اور نہیں….تم ماموں اور ہالار کو اس نکاح کیلئے جیسے تیار کرسکتی ہو ویسے انکار بھی کرسکتی ہو….تم نیہا سفیر ہو جو سب کرسکتی ہے….”
مہرماہ کبیدگی سے بولی تھی
” مہرماہ میں اپنی جان پہ کھیل جاؤں گی…..” نیہا نے دھمکی دی
” شٹ اپ نیہا….اتنا اوور ریکٹ مت کرو…”
” تم بھول رہی ہو..کہ تم نے بھی مجھے اسی طرح منایا تھا”
نیہا نے یاد دلایا تھا
” میری زندگی کسی کام کی نہیں نیہا سفیر…. اگر اس زندگی کے بدلے میر ہالار کو اسکے دل کی خوشی ملتی ہے تو ایسی دس زندگیاں قربان اس پہ”
مہرماہ نے یاسیت سے کہا تھا
” واٹ…..شٹ اپ….مہرماہ…بلکہ آپ دونوں….آپ دونوں نے آج ثابت کیا ہے کہ تم عورتیں ہوتی ہی بے وقوف ہیں….مجھے سینڈوچ بنا کے رکھ دیا ہے آپ دونوں نے”
ہالار کا ضبط ختم ہوا تھا اندر آتے ہوئے وہ بولا تھا
” آپ….!!!!!” مہرماہ ٹھٹک کے رکی تھی
تو کیا ہالار سن چکا ہے سب….!!!!!!!
” یہ فیصلہ آپکا اپنا تھا ہالار صاحب میں نے نہیں کہا تھا کہ آکے مجھ سے شادی کریں….آپکو اچھی خاصی مہرماہ نطر نہیں آئی تھی “
نیہا نے جھٹ سے کہا تھا
” مس نیہا سو باتوں کی ایک بات ہے…..ہمیں جب اپنا آئیڈیل ملتا ہے تو اسکے آگے کچھ نظر نہیں آتا ….میں مہرماہ کے جذبات کی قدر تو کرسکتا ہوں مگر انکی پذیرائی نہیں….اس دل نے صرف آپ سے محبت کی ہے اور آپ نے میرے جذبات کی ناقدری کی ہے صرف اور بس…..!!!!” ہالار نے تلخی سے کہا تھا
” آپ فکر نہ کریں….ہالار صاحب میں اپکے اور نیہا کے بیچ میں نہیں آؤں گی….”
مہرماہ نے اسے تسلی دی تھی
” بیچ میں تو آپ آہی چکی ہیں مہرماہ…..انسان کو اتنا بھی کسی پہ انحصار نہیں کرنا چاہئیےکہ
وہ آپکی زندگی کا ہر فیصلہ خود کرنے لگے ….”
ہالار نے اسکی غلطی بتائی تھی
” میں نے ان لوگوں سے بہت محبت کی….انکا احسان تھا مجھ پہ “
” کیا احسان تھا….اپکو پالنا….تو ایسا کیا انوکھا تھا…ایسا تو سب کرسکتے ہیں”
ہالار بے نیازی سے بولا تھا
” مگر اس میں قصور آپکی ماں کا بھی تھا….اس رات اگر سمعیہ پھوپھو کے لئے آپکی ماں برے الفاظ نہ نکالتیں تو مہرماہ یوں ہم سب ڈپینڈ کرنے والی نہ ہوتی…جس طرح وہ آج تک کرتی رہی ہے”
نیہا چمک کے بولی تھی
” غلط کیا جو سب پہ ڈپینڈ کیا….بہت سے لوگ ہوتے ہیں دنیا میں جن کے ماں باپ نہیں ہوتے مگر وہ اپنی زندگی کی ڈوریں یوں دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دیتے ….مہرماہ کو بھی اتنا ہی حق حاصل تھا جتنا باقی سب کو”
ہالار نے کہا تھا
اسی پل انس اندر آیا تھا
” ہالار… “
” کیا ہوا….”
ہالار چونکا
” آپ زرا باہر آئیں گے…..!!!!”
انس نے کہا
پریشانی اسکے چیرے سے ہویدا تھی
” از ایوری تھنگ اوکے…..”
” نو..ایکچوئلی ناٹ آپکے دادا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے…..” انس نے بتایا تھا
ہالار باہر کی طرف دوڑا تھا
_____________________________________
دو دن ہوچکے تھے میر برفت اب تک اسپتال میں تھے
” بیٹھے بٹھائے….رنگ میں بھنگ ڈال دیا….بڑے میاں نے….میرے بچے کی خوشی برداشت نہیں ہوئی “
مونا بیگم نے میر جاذب کو سنایا تھا
” اماں جان….یہ کوئی وقت ہے ان باتوں کا….دادا جان ٹھیک ہوجائیں پھر شادی کا کیا ہے ہوتی رہے گی”
ہالار میر برفت کی فائل میر جاذب کو دیتے ہوئے بولا تھا
” ہنہ بھلے سے بڑے میاں گزر ہی جائیں ….” مونا بڑبڑائیں تھی
میر برفت کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے شادی ملتوی کردی گئی تھی
فی الحال سب کو یہی بتایا گیا تھا
گو کہ میر جاذب نے کہا تھا کہ نکاح تو کرہی لیتے ہیں ورنہ سفیر صاحب کہاں جواب دیتے پھریں گے …..مگر وہ اندر کی بات سے جو ان تینوں کے درمیان تھی اس سے ناواقف تھے
اندر ہی اندر ہالار بھی الجھ گیا تھا
کہ
کیا اس کا انتخاب درست تھا….!!!!
نیہا واقعی خوش شکل….پراعتماد لڑکی تھی
مگر اسکی اس دن کی جذباتیت نے جیسے سوالیہ نشان چھوڑا تھا
_____________________________________
” چلو یہ ٹینشن تو گئی ….” نیہا نے سکون کا سانس لیا تھا
” مطلب…..” ماوی نے پوچھا
” چھوڑو کچھ نہیں….مہرماہ کہاں ہیں…” نیہا نے پوچھا
” وہ تو انس کے ساتھ اسپتال گئی ہیں….اپنے دادا کو دیکھنے….”
ماوی نے بتایا پھر خیال آنے پہ چونکی
” آپ کیوں نہیں گئیں ….آخر کو وہ آپکے سسر کے ابو ہیں….”
” ہاں….وہ میں چلی جاؤں گی….ابھی کچھ مناسب نہیں لگا….اور سنو تم یہ انس کو بھائی کیوں نہیں بولتیں….اتنے بڑے ہیں وہ تم سے…”
نیہا نے اس پہ چڑھائی کی
” مہر ماہ جی بھی تو نہیں بولتیں نا….”
ماوی نے عجیب دلیل دی
” یہ کیا بات ہے….تمہارا اور مہرماہ کا کیا مقابلہ……”
نیہا نے کہا
” ہاں واقعی میرا اور انکا کیا مقابلہ…..”
ماوی نے عجیب سے لہجے میں کہا تھا
وہ دیکھتی تھی کہ کیسے انس کی آنکھیں چمک جاتیں تھیں مہرماہ کو دیکھ ک
محبت کرنے والوں کو تو یہ سب بہت محسوس ہوتا ہے
اس دن کے بعد سے نیہا اور مہرماہ کی بات نہیں ہوئی تھی
سفیر صاحب بھی اس سے بات نہیں کررہے تھے
نیہا کو لگ رہا تھا سب اسے ہی قصور وار سمجھ رہے ہیں
جب کہ اس نے سب کا بھلا چاہا تھا
_____________________________________
” کچھ دیر اور رک جاؤ بیٹا پھر چلی جانا….” میر جاذب نے پیار سے کہا تھا
” نہیں تایا ابو…..میں اب چلوں گی…انس کو بھی دیر ہوجائے گی” مہرماہ نے معذرت کی تھی
” تو بیٹا آپکو ڈرائیور چھوڑ آئے گا….” میر ہمدان نے کہا تھا
“نہیں…..چاچو…مناسب نہیں لگتا سفر جن کے ساتھ شروع ہو ختم بھی اگر انکے ساتھ ہو تو تشنگی کا احساس نہیں ہوتا …..” مہرماہ کا لہجہ اتنا دھیما تھا کہ با مشکل انس ہی سن سکا تھا
مہرماہ کی یاسیت اور دکھ سے واقف تھا وہ…..
_______________________,,,,,____________
“کیا سوچ رہے ہو …..” ثمر نے اسکے شانے پہ ہاتھ رکھا تھا
” کچھ بہت خاص…..” ہالار گہری سانس لیتا ہوا پیچھے ہوا
” کیا….????”
ثمر نے پوچھا
” میرے سامنے دو راستے ہیں….ان فیکٹ دو ہمسفر….ایک وہ جو مجھے پسند ہے دوسری وہ جس کی سترہ سال کی محبت ہے میرے لئے….”
ہالار نے سوچا تھا مگر کہا تو بس اتنا
” نیہا سے شادی کے بارے میں….”
” ہاں یار تو دولہا بنتے بنتے رہ گیا….اس کا مجھے بھی افسوس ہے….” ثمر نے یوں سر ہلایا جیسے کسی کی مرگ ہوگئی ہو
” ذیادہ نہیں اچھا….وہ تو دادا کی وجہ سے میں نے پوسٹ پون کیا شادی کو….وہ اسپتال سے آجائیں تو انہیں دگنی خوشی دوں گا”
ہالار نے اسے ایک دھپ لگاتے ہوئے کہا تھا
” اللّه کرے…..” ثمر نے چڑانے والے انداز میں کہا تھا
_____________________________________
” ماہ….اس دن جو بھی ہوا اس سے پریشان ہو….” انس نے گاڑی چلاتے ہوئے پوچھا تھا
” نہیں میں پریشان نہیں…. ” مہرماہ نے انکار کیا تھا
” اچھی لڑکی غلط بیانی تم پہ سوٹ نہیں کرتی……” انس نے افسوس سے سر ہلایا
” انس…..” مہرماہ نے آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا کوئی اسے نہیں سمجھ پاتا تھا
اور ایک انس تھا جو بن کہے اس کی ہربات جان جاتا تھا
مہرماہ کی سیاہ آنکھوں میں نمی پھیل گئی تھی
” کہو ماہ…..” انس نے سکون سے کہا تھا
” انس…آپ کیسے جان لیتے ہیں سب…..” مہرماہ نے پوچھا
” اچھی لڑکی….جن سے محبت کرتے ہیں ان کے بارے میں سب خبریں رکھتے ہیں…..”
انس نے جذب سے کہا تھا
” مگر میں نے تو کبھی آپکے جذبوں کی پذیرائی نہیں کی ….” ماہ نے بات ادھوری چھوڑی تھی
” مہرماہ….محبت کو بدلے کی ضرورت نہیں ہوتی بس محبت کا ہونا کافی ہے…..”
انس کا ضبط واقعی کمال کا تھا
اس نے جذبات میں آکے کبھی محبت کی دجھیاں نہیں اڑائیں تھیں آج کل کے نوجوانوں کی طرح
اس میں کچھ ہاتھ اسکی ٹریننگ کا اور سب سے بڑھ کے اسکی نیک فطرت کا بھی تھا
انس مہرماہ کے حق میں ہمیشہ اچھا رہا تھا
” انس……” مہرماہ نے دوبارہ پکارا
وہ گھر تک پہنچ گئے تھے……
” اب کیا ہوا…..” انس اسکی طرف مڑا
” انس اب آپ ….ماموں سے بات کرسکتے ہیں….مجھے مانگ سکتے ہیں میری طرف سے اجازت ہے “
مہرماہ نے جیسے کوئی اسم پھونکا تھا
انس اسے دیکھ کے رہ گیا تھا.
جاری ہے
