Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15
صبح ناشتے کی میز پہ مونا نے ایک بار پھر ہالار کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے ایک بار پھر انکار کردیا تھا
جب دل میں کوئی اور ہو اور وہ حاصل بھی ہوسکے تو پھر کیوں ایک ناپسندیدہ ہستی کے ساتھ زندگی گزاری جائے …..!!!!!
یہ ہالار نے سوچا تھا
” تم اس گھر کے بڑے بیٹے ہو تمہاری وجہ سے باقی سب بھی یوں ہی پھر رہے ہیں …..عدیل بھی اچھی خاصی عمر کا ہونے والا ہے”
” اماں جان….میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے مجھے جب کرنی ہوگی میں کرلوں گا… آپ اگر عدیل کی کرنا چاہتی ہیں تو کرلیں….مجھے دادا کا انتظار ہے ….”
ہالار نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا تھا
” نا معلوم کونسی گیدڑ سنگھی لئے بیٹھے ہو اپنے دادا کیلئے اس عمر میں….” مونا نخوت سے بولیں تھیں
ہالار خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا تھا
________________ ____________________
سفیر ہاؤس میں بھی ناشتے کی میز سجی ہوئی تھی نیہا نے آج میتھی کے پراٹھے کھانے کی فرمائش کی تھی اور اسی پہ وہ عالیہ سے باتیں سن رہی تھی
” کبھی خود بھی ہاتھ پیر ہلا لیا کرو ہر وقت ماہ کی جان مشکل میں ڈال دیتی ہو…..”
” ہیں…..ماہ سچ بتاؤ میری وجہ سے کیا تمہیں مشکل ہوتی ہے…..”
نیہا نے ماہ سے پوچھا
” ارے نہیں….اور مامی ویسے بھی نیہا صرف اتوار کو تو ہی ڈھنگ سے ناشتہ کرتی ہے اور مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ….ویسے بھی ماؤی لوگوں کیلئے اہتمام تو کرنا تھا ہی….”
مہرماہ نے انکو چائے کا کپ دیتے ہوئے کہا تھا
” ماؤی….ابھی تک سو رہی ہے اور خالو بھی….” نیہا سیدھے ہوتے ہوئے بولی تھی
ماوی نیہا کی خالہ ذاد کزن تھی اور اسلام آباد سے کراچی آئی تھی پڑھنے ….اسکے ابا اسے یہاں چھوڑنے آئے تھے
” انکل تو ماموں کے ساتھ واک پہ نکلے تھے اور ہاں….ماوی ابھی تک سو رہی ہے…”
مہرماہ نے بتایا تو نیہا سر ہلانے لگی تھی
ویسے بھی خالی پیٹ اسکا دماغ زرا کم چلتا تھا
” مابدولت جاگ گئے…..”
ماوی نے پیچھے سے آکے دونوں بازو مہرماہ کے گرد لپیٹ دئیے تھے
مہرماہ بے چاری گھبرا کے رہ گئی تھی
ماوی کسی آندھی کی طرح آئی تھی
” اف کزن….کیسی ہو….” نیہا جوش سے اس سے ملی تھی
انکا ملنا بہت کم ہوتا تھا اسلام آباد تو کتنا عرصہ ہوا وہ لوگ گئے ہی نہیں تھے نا وہاں سے یہاں کوئی آیا تھا
” سچ میں نیہا…..پتہ ہے اتنا مس کرتی تھی میں سب کو خالہ…تمہیں مہری…اور انس کو….ویسے یہ انس ہیں کہاں…”
ماوی نے یاد آنے پہ پوچھا تھا
” وہ ایسا ہے کہ تم بیٹھ کے ناشتہ کرلو پھر باقی باتیں کرتے ہیں”
مہرماہ بوجھل لہجے میں بولی تھی اسکی وجہ سے تو ہی وہ شہر بدر ہوا تھا
” انس بھائی اجکل دوسرے شہر ہوتے ہیں ….کسی کورس کے سلسلے میں…”
نیہا نے بتایا تھا
” ہاں بھئی یہ فوجیوں کے پیر میں بڑے چکر ہوتے ہیں….” ماوی نے نیہا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا تھا
” کتنے فوجیوں کا پتہ ہے تمہیں….کتنوں پہ پی ایچ ڈی ہیں محترمہ”
نیہا کو برا لگا تھا
” میں تو صرف ایک فوجی کا پتہ رکھنا چاہتی ہوں…..اور اس پہ پی ایچ ڈی تو کیا ڈی لٹ بھی….”
ماوی نے مزے سے کہا
” ہیں…..کیا!!!!”
نیہا ہونق ہوئی تھی پل میں
” کچھ نہیں یار….مہری جی ناشتہ ملے گا کیا سچ بہت بھوک لگی ہے”
ماوی نے بات پلٹ دی تھی
” لارہی ہوں….” مہرماہ نے کچن سےآواز لگائی تھی کچھ دیر میں سفیر اور ماوی کے ابو بھی آگئے تھے
عالیہ کو انس شدت سے یاد آیا تھا
” سب جمع ہیں ناشتے پہ بس ایک میرا پردیسی بیٹا نہیں ہے….”
عالیہ نے کہا تو مہرماہ چپ سی ہوگئی تھی ماحول ایک دم بوجھل ہوگیا تھا
” بھائی آ جائیں گے اماں….پانچ چھ دن میں میری کل ہی بات ہوئی ہے” نیہا نے انہیں تسلی دی تھی
” آنٹی وہ آجائیں گے ….اور ہم ہیں نا آپکی اداسی دور کرنے کیلئے… آپ فکر نہ کریں”
ماوی نے لاڈ سے کہا تھا
وہ ویسے بھی خوش مزاج سی لڑکی تھی
” ویسے تمہارے سڑو بھائی کو کوئی لڑکی ملی ابھی تک کہ نہیں….”
ماوی نیہا کے کان میں گھس کے بولی تھی
” کیا….سڑو اور میرا بھائی….ویسے تمہیں میرے بھائی کی اتنی فکر کیوں ہے… ہاں” نیہا نے اسے گھورا تھا
” لو ایویں….یار لاسٹ ٹائم وہ اسلام آباد آئے تھے ….مجھے گھر آنے میں دیر ہوگئی تھی اتنا سنایا کہ میرے کان لال ٹماٹر ہوگئے تھے اور جب میں نے کہا یہ اسلام آباد ہے یہاں ایسا ہی ہوتا ہے تو انکا منہ سڑے کریلے جیسا ہوگیا تھا” ماوی نے کہا
وہ دونوں سرگوشی میں باتیں کررہیں تھیں
” اچھا میرا بھائی کریلا اور محترمہ ٹماٹر….بیٹا تمہاری تو ایسی چٹنی بناؤں گی کہ یاد کروگی…. ٹماٹر کی بھی ایسی چٹنی نہیں بنتی ہوگی”
نیہا نے اسے گھورا تھا
” مہرماہ جی…..آپ تو بڑی مشہور ہو رہی ہیں آپکی آواز کی دھوم تو ہمارے اسلام آباد تک ہے…”
ماوی نے ایک بار پھر مہرماہ کو مخاطب کیا تھا
توبہ واقعی میں ماوی بہت بولتی تھی کان کھا جاتی تھی …..نیہا نے سوچا
” ارے یہ تو بس ….نیہا کی وجہ سے “
ماہ نے کہا
” اگر آپکو نیہا نے کہا تھا اس فیلد کا تو بہت اچھا کیا یہ فیلد اپکو سوٹ کرتی ہے میں نے دو چار مرتبہ آپکا ایوننگ ڈرائیو ٹائم سنا ہے….اٹ واز اوسم”
انکل نے بھی توصیفی لہجے میں کہا تھا
مہرماہ انکساری سے مسکرا دی تھی
” شکر ہے نیہا بی بی نے بھی کسی کو ڈھنگ کا مشورہ دیا….ورنہ اس سے پہلے تو سب کی لٹیا ہی ڈبوئی ہے” ماوی نے نیہا کو چڑایا
نیہا منہ میں نوالہ ہونے کی وجہ سے اسے صرف گھور کے رہ گئی تھی
_____________________________________
” مہرماہ….” پی ایم نے اسے پکارا
” یس میم….
” دو گھنٹے کا مزید شو کرسکتی ہو”
” ابھی….” مہرماہ نے وقت دیکھا نیلا آسمان اندھیرے کے باعث اب سیاہ پڑ رہا تھا
” ابھی نہیں نو بجے…قریبا ایک گھنٹے بعد”
پی ایم نے کہا تو مہرماہ چونک پڑی تھی
” یہ تو ہالار جاذب کے شو کی ٹائمنگ ہیں نا”
یہ تو مہرماہ کو زبانی یاد تھا
” ہاں….بٹ وہ شہر میں نہیں ہے اپنے گھر مری گیا ہے”
پی ایم نے بتایا
” اوہ ….تو ہالار کا تعلق مری سے ہے”
مہر ماہ کو ایک نئی بات پتہ چلی تھی
” اوکے ….میں گھر انفارم کرتی ہوں”
” اصل میں تمہارا انداز ہالار جاذب کی طرح بڑی بڑی باتیں چھوٹے اور خوبصورت لہجے میں کہنے کا جو فن تمہارے اور اس کے پاس ہے ….وہ کسی اور کے پاس کہاں”
پی ایم نے اسکی تعریف کی تھی
” تو اب آپ کی محبت اب میرے لفظوں اور سوچوں سے بھی جھلکنے لگی ہے”
مہرماہ نے نگاہیں جھکا کے سوچا تھا
_____________________________________
ہالار جاذب کی جگہ اسے شو کرتے ہوئے چار دن ہوئے تھے آج بھی وہ کنسول آپریٹ کرتے ہوئے اسکی جگہ بیٹھی تھی ….ہالار کو سننے والوں کی ایک بڑی تعداد تھی …اور وہ سب اسکی بے وقت غیر حاضری کا سبب جاننا چاہ رہے تھے ….اپنے سترہ سالہ کیرئیر میں اس نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا نا …
” آپ لوگوں کی محبت اور عنایت کا بہت شکریہ لسنرز…..اور آج جب میں آپ سب کی توجہ اور محبت ہالار سر کیلئے دیکھ رہی ہوں تو مجھے آج اس بات کا مفہوم پوری طرح سمجھ آگیا ہے …ریڈیو ایک جادو ایک طلسمی دنیا….فیسینٹ مگر یہ چارم ریڈیو کا نہیں ہوتا صرف بلکہ
..
Radio is powerful not because of the microphones, but the one who sits behind the microphones “
واقعی یہ سحر تو اس مائیک کا حق ادا کرنے والے شخص کا ہے ….جس میں ہم سب جکڑے جکڑے بہت دور نکل جاتے ہیں….لیکن وہ اپنی جگہ پہ ہی قائم رہتے ہیں”
مہر ماہ کھویے کھویے لہجے میں بولی رہی تھی
میر ہالار لفظوں کا ساحر تھا اور مہر ماہ اتنے برسوں سے اسکی محبت میں جکڑی ہوئی تھی
مہر ماہ نے بات پوری کرنے کے بعد سونگ پلے کیا تھا اور مائک آف کر کے نظر اٹھائی تھی تو ساکت رہ گئی تھی
میر ہالار دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا
مہر ماہ کو لگا کائنات جیسے ساکت رہ گئی ہے
” کیا واقعی….مہر ماہ اتنی تاثیر ہوتی ہے کسی کے لفظوں میں کہ ہم اسکے بے دام غلام بن جائیں”
ہالار دونوں ہاتھوں کا دباؤ میز پہ ڈالتے ہوئے اس سے بولا تھا
” یہ غلامی نہیں عقیدت مندی ہوتی ہے…بے غرض محبت”
مہرماہ نے با مشکل کہا تھا
” اور پھر کہیں یہ محبت اس زمانے کی بھیڑ میں یوں گم ہوجاتی ہے کہ مل ہی نہیں پاتی”
ہالار یک دم تلخ ہوا تھا
” جی…..” مہرماہ چونک کے بولی تھی
” میں سمجھی نہیں….. “
” آپ سمجھ بھی جائیں گی اور جان بھی جائیں گی …..” ہالار نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا
_____________________________________
مہر ماہ گھر لوٹی تھی سفیر کے ساتھ تو لاؤنج میں ہی انس مل گیا تھا
” انس ….آپ آگئے”
مہر ماہ کو اسے دیکھ کے خوشی ہوئی تھی
” واپس چلا جاؤں….”
انس کا لہجہ سرد سا تھا
” میں نے یہ تو نہیں کہا انس پلیز….آپ ایسا مت کریں”
مہرماہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
یہ اسکا وہ انس تو نہ تھا جس کو وہ جانتی تھی جو اسے دکھ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا
“کیا کررہا ہوں….تم نے کہا چھوڑ دو …تو چھوڑ دیا تمہیں….اب اور کیا کروں”
انس نے تلخی سے کہا
” انس پلیز ….آپ یوں گھر سے دور مت ہوں مامی کو ماموں کو ضرورت ہے آپکی….”
” مہر ماہ یہاں اگر میں رہا نہ تو پتہ ہے تم سکون سے نہیں رہ پاؤگی….نہ جانے کب مجھ پہ رقابت غالب ہوجائے اور تم بے سکون ہوجاؤ ایسا میں ہرگز نہیں چاہا ….ہم جن سے محبت کرتے ہیں نا اچھی لڑکی اسے خوش رکھتے ہیں چاہے خود ہی بےسکون کیوں نہ ہو جائیں “
انس گھمبیر لہجے میں بولتا ہوا اسکے پاس سے دور ہٹ گیا تھا
مہر ماہ بے جان سی صوفے پہ بیٹھ گئی تھی
” اس عورت کے کرب کا اندازہ آپ کبھی نہیں لگا سکتے …..جسے ان دو مردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو ایک وہ جسے وہ چاہتی ہے اور دوسرا وہ جو اسے چاہتا ہو….”
خلیل جبران نے واقعی کتنا درست کہا تھا
_____________________________________
” دادا…..آپ…”
ہالار میر برفت کو اپنے گھر دیکھ کے چونک اٹھا تھا
” ہاں ہم ….ہم نے سوچا میر ہالار کے گھر بھی ہو آئیں ….”
” اچھا ہوا آپ آگئے مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ….”
ہالار انکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا تھا
” کیا بتانا ہے بیٹا….” میر برفت نے غور سے اسکی شکل دیکھی تھی
” مجھے آپ سے ایک وعدہ چاہئیے….میں جو بات آپکو بتانے لگا ہوں وہ میری ترجیحات میں حائل نہیں ہوگی کیونکہ اس کا تعلق آپ سے ہے مجھ سے نہیں”
” ہالار….کیا پہلیاں بوجھوا رہے ہو….صاف بات بتاؤ”
میر برفت الجھے
” میں نے انہیں ڈھنوڈ لیا دادا….میں نے آپکی پوتی ڈھونڈ لی….”
ہالار جاذب نے دھیرے سے انکے پورے بدن سے کوئی سوئی نکالی تھی جو اتنے برس ایک پھانس کی صورت انہیں چبھتی رہی تھی
” کیا….سچ…”
میر برفت فرط جذبات سے کھڑے ہوگئے تھے
” کہاں ہے میری بچی.. مجھے اس سے ملنا ہے….اور سمیہ وہ کہاں ہے.. کہیں اس نے دوسری شادی تو نہیں کرلی”
میر برفت کو ایک نئی فکر لاحق ہوئی تھی
” وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے….آپکی پوتی یہیں اسی شہر میں اپنے ماموں کسے ساتھ رہتی ہے…”
ہالار نے ہولے سے بتانا شروع کیا
” اوہ …نہیں….سمیہ بھی چلی گئی…اور اسکا ماموں مطلب سفیر یوسف….دیکھا ہالار تم نے اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی میری پوتی یتیموں کی طرح رہتی رہی…/تمہارے باپ کی وجہ سے”
میر برفت اب بھی نہیں چوکے تھے
” پلیز دادا…..بابا نے جو کیا وہ اس وقت سب سے بہتر تھا پرانی باتیں بھول جائیں اور آپکی پوتی کوئی یتیموں کی طرح نہیں رہتی اسکے ماموں نے اسکی اچھی تربیت کی ہے اور وہ اچھے ماحول میں رہی ہے….”
ہالار کو اس دن کا منظر یاد آیا تھا جب وہ مہر ماہ کو چھوڑنے اسکے گھر گیا تھا
” تمہیں اتنا یقین کیسے ہے…جیسے تم واقف ہو ان سے. …”
میر جاذب نہ جانے کب کمرے میں آئے تھے
” جن سے تعلق رکھنا ہو انکے بارے میں سب خبریں رکھنی ہی ہوتیں ہیں…بابا…”
ہالار کا لہجہ معنی خیز تھا
” اس بات سے کیا مراد ہے تمہاری اور تم اسکے ماموں کی اتنی طرفداری کیوں کررہے ہو”
میر برفت نے کہا وہ پوتے کے رنگ ڈھنگ دیکھ رہے تھے
” میں نے آپ سے جو کمٹ منٹ کی تھی وہ پوری ہوگئی کل میں آپکو وہاں لے جاؤں گی ….پھر آپکی مرضی …جو چاہیں. “
ہالار نے انکی بات پلٹی تھی
” میر ہالار…. تمہاری کچھ کہہ رہی تھی …”
میر جاذب کو یاد آیا تو پوچھ بیٹھے
” کیا….”
ہالار نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
” تم اپنی شادی کے بارے میں ایسی کیا بات ہے جو مجھ سے اور ابا سے کرنا چاہتے ہو اور ماں سے نہیں”
میر جاذب نے پوچھا
” اماں کیلئے میرے دل میں بہت عزت ہے بابا….لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انکے مزاج سے ہم سب واقف ہیں اس لئے میں ایسی کوئی بات انہیں نہیں بتانا چاہتا جو انکے مزاج کے خلاف ہو…..لیکن یہ بات میرے لئے بہت امپورٹنس رکھتی ہے…اس لئے آپ دونوں سے کہنا ضروری ہے “
” ہالار صاف لفظوں میں کہو …”
میر برفت الجھے تھے
” سفیر صاحب کو جانتے ہیں آپ….مہرماہ کے ماموں…..ان سے متعلق ہے یہ بات”
” کیا مطلب….????” میر جاذب چونکے
” مطلب یہ کہ میں انکی بیٹی نیہا سفیر سے شادی کرنا چاہتا ہوں…..”
ہالار نے دھماکہ کیا تھا کمرے میں موجود دونوں نفوس سن بیٹھے رہ گئے تھے
” یہ کیا کہہ گیا تھا….ہالار…”
جاری ہے
