Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11
ضد اور اکھڑ پن کی اگر کوئی مجسم شکل ہوتی تو وہ میر سیال کی صورت میں ہوتی کس کا پرنخوت چہرہ اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ وہ جیتنے والوں میں سے ہے اپنی بات منوانے والوں میں سے ہے
اس وقت بھی میر برفت اس کی بات مان چکے تھے لیکن اب بھی وہ تنے تنے تاثرات کے ساتھ باپ کے سامنے بیٹھا تھا وجہ تسمیہ باپ کی شرط تھی
” تو تم یونیورسٹی جانا چاہتے ہو ایم بی اے کیلئے “
” پچھلے ایک ہفتے سے میں یہی کہہ رہا ہوں مگر آپ پھر بھی مجھ سے پوچھ رہے ہیں”
سیال نے تلخی سے کہا تھا
” میر سیال ….باپ کے سامنے بیٹھو…زرا اطمینان سے”
نغمہ بیگم نے تنبیہی لہجے میں کہا تھا وہ نہیں چاہتیں تھیں کہ جو مفاہمت کی راہ انہوں نے ہموار کی ہے کہیں وہ دونوں کی تلخ کلامی کے لپیٹے میں بند نہ ہوجائے کچھ ایسے ہی تھے وہ باپ بیٹا
” نغمہ ہم بات کررہے ہیں نا….ٹھیک ہے سیال تم جاسکتے ہو مگر ہماری ایک شرط ہے….”
میر برفت نے نیم رضامندی شرط سے مشروط کی تھی
” بانا جان ….یہ کوئی تھرل گیم نہیں جس میں ٹاسک اچیو کرنے کی شرطیں رکھیں جائیں…”فرمائیں”
سیال نے جھلا کے کہا
” ہم چاہتے ہیں تم ذمہ دار ہوجاؤ اس لئے تمہاری شادی کرلیں…”
” کیا….شادی اور وہ بھی میں….آپکو یہ خوش فہمی کیونکر لاحق ہوئی کہ میں شادی کے بعد ذمہ دار بن جاؤں گا”
سیال کو جیسے کرنٹ لگا تھا
” میر سیال….ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو یہ بات مانوگے تو ہی تمہیں اجازت ملے گی”
” آپ بھی سن لیں بابا جان…میری مرضی کے خلاف اگر میری شادی کی گئی تو یقین رکھیں نہ آنے والی سکھ میں رہے گی نہ گھر والے…اور مونا بھابھی کافی نہیں ہیں کیا آپ لوگوں کیلئے”
سیال نے بھی اپنی ہی کرنی تھی آخر کو
” سیال….تم جاؤ باہر میں بات کرتی ہوں”
بات بگڑتے دیکھ کے ہمیشہ کی طرح انہوں نے سیال کو منظر نامے سے ہٹایا تھا
” اماں…” سیال نے بولنا چاہا
” جاؤ….” اور آنکھ سے انہوں نے اسے تسلی کا اشارہ بھی دیا
سیال جانتا تھا ماں سنبھال لیں گی
” میر صاحب ….کیا کررہے ہیں “
” کیا کر رہا ہوں…اولاد جوان ہوجائے تو شادی کرنی ہی پڑتی ہے اسکی”
” آپ کی بات سولہ آنے درست ہے مگر آپ ایک صحیح بات غلط وقت پہ کررہے ہیں…”
” نغمہ….آپ حد سے بڑھ رہی ہیں. …”
میر برفت کا پارہ چڑھ گیا تھا
” گستاخی معاف مگر آپ اس بات کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھیں….وہ اول تو مانے گا نہیں اور اگر مان بھی گیا تو پھر وہ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا نہ گھر بسائے گا نا آپ کا کاروبار میں ہاتھ بٹائے گا …جاذب تو ویسے ہی ڈاکٹری پڑھ رہا ہے پھر کون سنبھالے گا یہ بزنس “
نغمہ بیگم نے طریقے سے سیچویشن ہینڈل کی تھی جس میں انکو ملکہ حاصل تھا لوگوں کی سوچ کیسے بدلنی ہے ….
” ہوں…”
میر برفت ہنکارا بھر کے رہ گئے
انکی پرسوچ خاموشی نیم رضامندی تھی
نغمہ بیگم خاموشی سے اپنی فتح مندی پہ مسکرائیں تھیں
” آپ فکر نہ کریں سیال کیلئے ہم اپنی ہم پلہ خاندانی لڑکی لائیں گے”
نغمہ نے تسلی دی تھی
اور تقدیر مسکرائی تھی
_____________________________________
آج ان سب کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا جبکہ کلاسز اسٹارٹ ہوئے دو ہفتے ہوچکے تھے
” اوہ سیال آگیا…”
دوستوں کی نظر اس پہ پڑی تھی
” اوہ میرے یار اتنی دیر سے ….”
ایک نے کہا
” اوہو…شیر ہمیشہ دیر سے آتا ہے اور سیال تو ہمارا شیر ہے”
دوسرے دوست نے کہا …صحیح معنوں میں بلکہ خوشامد کی تھی
اور یہ خوشامد انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی
“شیر دیر سے آتا ہے مگر یونیورسٹی نہیں جنگل میں آتا ہے….اور پڑھنے نہیں شکار کیلئے آتا ہے …چونکہ یہ یونیورسٹی ہے تو برائے مہربانی انسانوں کی طرح وقت پہ تشریف لائیں “
نسوانی مگر سپاٹ آواز پہ سب نے مڑ کے پیچھے دیکھا تھا
کالی رات جیسی چمکتے ستاروں کی مانند آنکھیں اپنے سرد گلابی چہرے پہ وہ لڑکی کھڑی تھی
” کوئی ٹیچر….”
سب کے دماغ میں پہلا یہی خیال آیا تھا
” آپ لوگ ایم بی اے کے ہیں فریشریز”
” جی….”
ایک نے ہمت کرکے کہا …کیا بارعب پرسنیلٹی تھی لڑکی کی
” روم نمبر ٹین…پروفیسر نجم کی کلاس ہے کورس 901 کی تشریف لے آئیں…ویسے بھی اقبال کے شاہین اوہ نہیں جنگل کے شیر کافی لیٹ ہوچکے ہیں….میرے خیال سے دو ہفتے کافی ہوتے ہیں”
آخری بات میر سیال کو دیکھ کے کہی تھی اس نے جو ان سب میں الگ ہی دکھ رہا تھا تھیکے نین نقش اور گرے آنکھیں …اور پھر اسکا لباس بلیک لیدر جیکٹ امپورٹڈ شوز اور رسٹ واچ کے ساتھ گو کے اس زمانے میں قسم قسم کے برانڈ نہ تھے مگر انگریزوں ,کورین اور جاپانی مال ہی برانڈڈ مانا جاتا تھا
” کون تھی یہ…..” سیال اسکے جانے کے بعد بولا کیسے دھڑلے سے وہ اسے بول کے چلی گئی تھی
” پتہ نہیں ہم تو خود ابھی آج آئیں…چل پتہ چل جائے گا بس دعا کر یہ ہماری ٹیچر نہ ہو بندہ خواہ مخواہ ہی ڈر جائے”
سیال کے سب سے بڑے چمچے عاصم نے کہا تھا
” چلو چل کے دیکھتے ہیں کتنی توپ شے ہیں محترمہ “
سیال کو اسکا نخوت بھرا انداز یاد آیا تو وہ نئے سرے سے سلگ اٹھا
کلاس میں پہنچ کے خاموشی سے انہوں نے اپنی نشست سنبھال لی تھی لیکچر جاری تھا اسکے ختم ہونے کے بعد پروفیسر صاحب انکی طرف متوجہ ہوئے تھے وہ تعداد میں پانچ تھے اور آج ہی آئے تھے
” آپ لوگ نے کافی لیٹ جوائن کیا کیوں….” .
پروفیسر صاحب نے پوچھا
” اصل میں سیال بزی تھا اس لئے….آپ تو مشہور انڈسٹریلسٹ میر برفت کو تو جانتے ہی ہوں گے انکے بیٹے ہیں”
درپردہ سیال کی اہمیت بتانے کی کوشش کی گئی تھی
” اور آپ لوگ. ….” پروفیسر نے ان چاروں سے پوچھا
” سر یہ بے چارے انکے بغیر کیسے آتے
…آپ جانتے تو ہونگے نا جہاں دیگ وہاں چمچے یہ دونوں ایک دوسرے کے بنا بیکار ہیں”
ایک لڑکی نے پاٹ دار آواز میں کہا تھا
کلاس میں صرف دو لڑکیاں تھیں اور باقی لڑکے
ایک زبردست قہقہہ پڑا تھا اس بات پہ
” اوہ یہ لڑکیاں کب سے بزنس پڑھنے لگ گئیں …چولہا چوکی تو ان سے سنبھلتا نہیں”
میر سیال نے سیدھا وار کیا تھا
” جب سے اقبال کے شاہین جنگل کے شیر بن گئیں ہیں….اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوگئے ہیں اور ہم لڑکیاں جب زمین کا سینہ چیر کے بیج لگا کے پودا پروان چڑھا سکتیں ہیں تو ایم بی اے کیوں نہیں…..”
دوسری لڑکی نے مڑ کے کہا تھا
” ارے یہ تو وہی ہے….” سب چونک پڑے تھے
ایک بار پھر اس نے انکی طبیعت ہری کی تھی
” سمعیہ یوسف…..کام ڈاؤن…..اور بوائز ڈونٹ مس بی ہیو ٹائم بدل رہا ہے آپ لوگ کمپرومائز کریں”
پروفیسر صاحب نے تحمل سے کہا تھا
سمعیہ نے سب کی طبیعت ہری کردی تھی پہلے دن سے ہی وہ دبنگ قسم کی لڑکی ثابت ہوئی تھی اور اسکی واحد فیمیل کلاس فیلو شینا تھی کرنل افتخار کی لاڈلی ٹام بوائے دونوں کے مزاج بہت جلد مل گئے تھے
” سمعیہ یوسف…..” سیال نے نام ایسے لیا جیسے کڑوا کریلا چبایا ہو
اور یہ کڑوا کریلا اسے کتنی مٹھاس دینے والا تھا وہ نہیں جانتا تھا
_____________________________________
” استاد….ہماری تو صحیح بینڈ بجائی اس نے “
اشارہ سمعیہ کا تھا عاصم کا
” سنا ہے بہت توپ چیز ہے….خوبصورتی کے ساتھ ذہانت اسکا پلس پوائنٹ ہے “
ایک نے بتایا
” ورنہ عموما خوبصورت لڑکیاں بیوقوف ہوتیں ہیں”
سیال نے کہا
” سنا ہے پٹھے پہ ہاتھ بھی نہیں دھرنے دیتی آتی جاتی بھائی کے ساتھ ہے اور باپ اسکول ہیڈ ماسٹر “
عاصم کے پاس مکمل رپورٹ تھی
” ہمارا شیر ہے نا اس اتھری گھوڑی کو لگام ڈالنے کیلئے”
کسی نے کہا تھا
سیال کو خواہ مخواہ کا ہی غصہ آیا تھا
” آئندہ کے بعد کوئی شیر ویر نہیں کرے گا…اور اس معاملے سے دور رہو لڑکی دیکھی نہیں دماغ خراب ہونا شروع”
سیال لائبریری سے نکلتی سمعیہ کو دیکھ کے بولا
جو درخت کے نیچے کھڑے سفیر کے پاس جارکی تھی جو بائیک پہ اسکا انتظار کررہا تھا
” لو دیکھو ان محترمہ کی شرافت…کیسے جا کے کھڑی ہے اس لڑکے کے پاس ان لڑکیوں کو یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے کیلئے بھیجتے ہیں کیا “
منور نے کہا تھا سیال کی گرے آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی
” اوئے….وہ اسکا بھائی ہے” عاصم نے منور کو ڈپٹتے ہوئے کہا
” زرا شرم ہے تم لوگوں میں نہیں کہ نہیں کل کو تمہاری بہنوں پہ کسی نے ایسے کہا تو…..دشمنی میں بھی انسان کو اخلاقیات نہیں بھولنی چاہئیے”
سیال تلخی سے بولا تھا نظریں اب بھی سمعیہ پہ تھیں
کچھ تو بہت الگ تھا اس لڑکی میں……!!!!!
کیا….یہ نہیں معلوم تھا!!!!!!
_____________________________________
” کیا بات ہے کیا ڈھونڈ رہے ہو. ..پورے کمرے کا حشر کررکھا ہے “
ثمر نے ہالار کو کچھ ڈھونڈتے دیکھ کے کہا تھا
” اس وقت ثمر میری نظروں کے سامنے سے چلے جاؤ میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا”
ہالار غصے سے بولا تھا دماغ تپتی ہوئی بھٹی بنا ہوا تھا اوپر سے ثمر کی سی آئی ڈی
” ثمر برے برے منہ بناتا ہوا چلا گیا تھا
” کہاں چلی گئی لاسٹ ٹائم یہیں تو رکھی تھی ” ہالار نے ایک فائل بند کرتے ہوئے سوچا
” اوہ یہ رہی….” کافی دیر بعد اسے یہ ملی تھی
” تو مہر ماہ تم ہی ہو وہی جس کی مجھے تلاش تھی….جو میرے باپ کی نادانستگی میں کی گئی غلطی کی وجہ سے ہم سے دور ہوگئیں “
ہالار نے تصویر میں موجود لڑکی کی کالی سیاہ رات جیسی تصویر دکھتے ہوئے کہا تھا
کتنی مماثلت تھی دونوں کی آنکھوں میں…..
جاری ہے
