Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa NovelR50812 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04
Rate this Novel
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode01 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode02 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04 (Watching)Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode05 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode06 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode07 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode08 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode09 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode10 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode11 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode12 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode13 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode15 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode16 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode17 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode18 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode19 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode20 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode21 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode22 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode23 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode24 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode25 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode26 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode27 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode28 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode29 Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Last Episode
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04
Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode04
ایک موم کی گڑیا ہے
ایک پریم کہانی ہے
ایک شاخ ہے نازک سی
کلیوں کی جوانی ہے
وہ بھول کی تتلی ہے
شعلہ ہے کہ پانی ہے
ہے شان سمندر کی
لہروں کی روانی ہے
کیا نام دوں اس کا
ایک موم کی گڑیا ہے
ایک پریم کہانی ہے
ہالار جاذب کی مسحور کن آواز سامعین کو مسحور کررہی تھی ہالار جاذب کی آواز ان آوازوں میں سے ایک تھی جن میں موسموں کی ساری خوبصورتی ,دکھوں کا سوز,خوشیوں کے تمام رنگ چھلکتے تھے
اسکی آواز کی ایک دنیا دیوانی تھی اور مہرماہ بھی ان میں سے ایک دیوانی تھی وہ گئے وقتوں کی داسی لگتی تھی جو اپنے دیوتا کا ایک ایک لفظ اپنے من کے صحرا میں نقش کرتی تھی
پیلی راتوں کا آدھا ادھورا چاند آسمان پہ بجھا بجھا سا تھا ہولے ہولے چلتے بادنسیم کے جھونکے ماحول کی خنکی میں اضافہ کررہے تھے ہوا چلتی تو مہرماہ کا جھولا ہولے ہولے ہلنے لگتا اور جھولے سے لپٹی کاسنی پھولوں کی بیل اپنے پھول اس پہ نچھاور کردیتی تھی مہرماہ آنکھیں بند کئے نیم دراز سی پہروں ہالار کو سنے جاتی اور من میں ہالار جاذب کی محبت کی آکاس بیل اور بڑھتی جاتی
“سامعین….محبت زندگی کے افق پہ پرواز کرتا رنگین بلبلا ہے ہاں میں اسے بلبلا ہی کہتا ہوں میں محبت کو کسی خوش نما پرندے سے تشبیہ نہیں دیتا ….نہ محبت کو موسیقی کی کوئی رمز کہتا ہوں….محبت تو وہ رنگین بلبلا ہے جسے کے سنگ راستیں سہل ہوجاتے ہیں مگر جہاں کہیں آپ نے اس بلبلے کو چھونے کی خواہش کی یہ ست رنگا بلبلا آپ کی زندگی کے افق سے یوں غائب ہوجاتا ہے جیسے کبھی تھا ہی نہیں….محبت تو وہ بارش ہے جسے چھونے کی خواہش میں ہتھیلیاں بھیگتی ضرور ہیں مگر ہاتھ ہمیشہ خالی رہتے ہیں….محبت کرنے والوں کو محبت کا احساس ہی کافی ہوتا ہے …یہی محبت کی رمز ہے اور یہ رمز جو سمجھ جائے
تو پھر محبت
چرواہوں کا گیت بن جاتی ہے
گنگناتی آبشاروں کا پانی بن جاتی ہے
سکھیوں کے سنگ ہنسے جانے والی ہنسی بن جاتی ہے
محبت بانسری کی کوئی میٹھی سی دھن بن جاتی ہے جو من مندر میں میٹھی میٹھی کوئی لے جگاتی ہے
محبت مسکراتی ہے
محبت مضبوط بناتی ہے
یہی حکایت محبت ہے….یہی رمز محبت ہے”
ہالار نے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا تھا وہ شخص محبت کو بنا غرض بنا کسی مطلب سے مبرا سمجھتا تھا …محبت بقول ہالار کے پانے اور کھونے کی تمنا سے ماورا ہوتی ہے …..محبت تو بس محبت ہے
“آپ کی محبت کا ہر رنگ ہر بات کتنی انوکھی ہے ہالار جاذب….نہ جانے اس روئے زمین پہ سب سے خوش قسمت کون ہوگی جسے آپ کے سچے من کا ساتھ ملے گا”
مہرماہ نے کاسنی پھول کی پتیوں کی نرماہٹ محسوس کرتے ہوئے سوچا تھا
رات دھیرے دھیرے بھیگ کے ڈھل رہی تھی اور مہرماہ بھی شاید پانی میں بھیگے نمک کی طرح گھل رہی تھی ….صندل کی گیلی لکڑی کی طرح اندر ہی اندر سلگ رہی تھی جس کی مہک ناگوار نہیں گزرتی بلکہ دوسروں کو ایک صندلی احساس سے ہمکنار کرتی ہے
____________________________________,
” بھائی…بھائی…تم آگے نہیں جاسکتے بس یہیں رک جاؤ”
نیہا نے بازو پھیلا کے انس کو آگے بڑھنے سے روکا تھا
” اوہ طوفان میل….اب کیا ہوا ….کیا آفت آگئی” انس نے پوچھا
” آئی نہیں مگر آ ضرور جائے گی اگر آپ مجھے اور مہرماہ کو شاپنگ پہ نہیں لے کے گئے اسکا شاپنگ کا موڈ ہورہا تھا اور آئی گیس تم بھی شاپنگ کیلئے جارہے ہو” نیہا نے اسکی تیاری دیکھتے ہوئے کہا
” یو لائر گرل….مہرماہ اپنی شاپنگ ہمیشہ خود کرتی ہے دوسرے کاموں کے ساتھ …یہ یقینا تمہارا پلان ہے مگر نام مہر ماہ کا ہے” انس نے فورا اسے پکڑا تھا
“اوہ بھائی بندہ اب اتنا بھی چالاک نہ ہو….خیر بتاؤ لے کے جارہے ہو کہ نہیں” نیہا نے کنفرم کرنا چاہا
” تمہیں نہ کرسکتا ہوں ….آجاؤ اور مہرماہ کو بھی بلا لو …مگر ہری اپ ریڈی ان فائیو منٹس …میں بھی کافی دنوں سے بزی تھا سو آج بہت مشکل سے وقت نکالا ہے”
انس ایروناٹیکل انجینئر تھا اور ائیر فورس میں تھا سو اسکی روٹین کافی ٹف تھی
” اوکے….میں ماہ کو لے کے ابھی آتی ہوں”
نیہا دو دو سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی بولی
” مہرماہ….ماہ” نیہا نے نٹنگ میں الجھی ہوئی مہرماہ کو پکارا اور زور سے اسکا کندھا ہلایا
” کیا نیہا….سارا ڈیزائن خراب ہوگیا اور یہ دھاگہ بھی الجھ گیا” مہر ماہ کی پیشانی پہ سلوٹ پڑگئی تھی
” اوہو…چھوڑو اسے انس بھائی ہمیں شاپنگ پہ لے جارہے ہیں تم بھی جلدی سے آجاؤ”
” میں نہیں جارہی ویسے بھی یہ سوئیٹر مکمل کرنا ہے مجھے….اور کسی چیز کی ضرورت بھی نہیں ہے مجھے “.
” یار ماہ…حد کرتی ہو یہ ہاتھ کے بنے ہوئے سوئیٹر کون پہنتا ہے اب بیکار کام کرنا تم سے کوئی سیکھے”.
” میں بیکار کام کرتی ہوں نیہا…مثلا کون سے بیکار کام ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے”
” کوئی ایک ہو تو تب نا…یہ بنائی کرنا,سلائی کرنا,گارڈننگ کرنا,رسالے پڑھنا اور سب سے بڑا بیکار کام ریڈیو سننا …اس سے بھی بڑا بیکار کام ہالاد جاذب کو سننا”
” شٹ اپ نیہا…ہالار جاذب کو فضول مت گھسیٹو”
“اوہو…بڑی مرچیں لگ رہی ہیں ذرا دیکھو تو مس آئس برگ کو غصہ بھی آتا ہے”
نیہا اسے آئس برگ کہتی تھی اسکے ٹھنڈے مزاج کی وجہ سے
” نیہا…جاؤ پلیز”
“اوہ میں مرگئی بھائی نے بس پانچ منٹ دئیے تھے بھائی چلاجائے گا ماہ اٹھو پلیز تمہیں پتہ تو ہے یہ فوجی بندے کتنے پنکچوئل ہوتے ہیں ….تمہارے بغیر میری شاپنگ کہاں ہوتی ہے”
نیہا نے اسے ہاتھ سے پکڑکے ذبردستی اٹھایا تھا
” حد ہوتی ہے نیہا….اگلے بندے کا موڈ تو دیکھ لیا کرو”
مہرماہ ابھی بھی دھاگوں میں الجھی ہوئی تھی
” یہ دھاگے نہ تمہاری زندگی کی طرح ہیں سلجھ کے ہی نہیں دے رہے کیوں کہ تم سلجھانا ہی نہیں چاہتیں…ایک ہی زاویے پہ ساکن ہو….یہ دیکھو”
نیہا نے ایک سر پکڑ کے کھینچا تو پورا دھاگہ کھل گیا تھا
” تھینکس…” مہرماہ نے کہا.
” چیز صحیح ہوجاتیں ہیں ماہ بس تھوڑا وقت دینا پڑتا ہے اور کوشش کرنی پڑتی ہے” نیہا نے دھاگے سمیٹے .
” آرہی ہوں میں چینج کرلوں بس” مہرماہ نے اسکی بات گویا سنی ہی نہیں تھی
چپ چاپ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
” میں ویٹ کررہی ہوں نیچے” نیہا نے ایک گہری سانس بھرتے ہوئے کہا تھا
_____________________________________
” اتنا لیٹ نیہا …..” انس نے گھڑی اسکے سامنے کی
” وہ بھائی یہ ماہ تیار ہورہی تھی”
” کونسی تیاری کی ہے مہرماہ نے جو مجھے نہیں دکھ رہی ” انس نے گلاسز کے پیچھے سے دونوں کو گھورا
یلو شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر پہ وائٹ شال لئے مہر بالکل سادی سی کھڑی تھی آنکھوں پہ گلاسز لگا رکھے تھے جو سب رنگ سب جذبے چھپا لیتے تھے
” بھائی آدھی دیر اس نے کرائی اور آدھی تم کرادو میں نے اتنی مشکل سے وقت نکالا ہے آج” نیہا چیخی
” نیہا بی ہیو پلیز…. ” مہر ماہ نے ٹوکا
“ایک تو یہ مس ہیوی ایشم….” نیہا چڑکے بولی .” نیہا کتنے نام رکھ دئیے تم نے اس اچھی لڑکی کے” انس ہنسا
” بھائی….”
” اوکے اچھا بیٹھو کار میں” انس خود بھی کار کی طرف بڑھا
شاپنگ مال پہ گاڑی پارک کرنے کے بعد انس ان دونوں سے بولا تھا
” مجھے تھرڈ فلور پہ جانا ہے تم لوگ کہاں چلوگی پہلے”
” بھئی ہم گراؤنڈ فلود سے اسٹارٹ لیں گے آپ فری ہوکے ہمیں جوائن کرلینا ٹھیک ہے” نیہا نے پلان بنایا
“اوکے مگر ذیادہ دیر نہیں کرنی”….اور خیال سے
انس نے کہا
“اوکے” نیہا نے کہا
“نیہا بس کردو کیا پورا بازار خریدنا ہے” مہر ماہ تھک چکی تھی چل چل کے ڈیڑھ گھنٹے بعد بھی نیہا بس نہیں ہورہی تھی
“بس تھوڑی دیر اور ….” نیہا نے کہا
” میں کیفے ٹیریا میں جارہی ہوں اس سے ذیادہ میں نہیں چل سکتی” مہرماہ کیفے میں اینٹر ہوچکی تھی
نیہا کے شوز ابھی باقی تھی انس اپنے کسی دوست کے ساتھ تھا ایک ہاتھ سے شاپنگ بیگ سنبھالے اور دوسرے ہاتھ سے میسج کرتی نیہا اپنے آپ مگن ہوچکی تھی تبھی کسی سے ذوردار ٹکر ہوئی تھی
” اف آدمی ہو یا پہاڑ” نیہا کے تو دیوتا کوچ کرگئے تھے
” غلطی آپکی ہے مس…آپ دنیا سے بے خبر چل رہیں تھیں…اور جو بے خبر ہوتے ہیں وہ ٹھوکر کھاتے ہیں” مقابل نے کہا تھا
” ہیں اچھا…آپ کو کیا میں دیکھ کے چلوں یا نہیں” نیہا پہ گھڑوں پانی پھرا تھا مگر ڈھٹائی سے بولی تھی
” کافی مستقل مزاج ہیں آپ” مقابل نے اسے دلچسپی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا
” لو میں موسم تھوڑی نہ ہوں جو بدل جاؤں” نیہا اسکی آواز سے متاثر ہوئی تھی اور اسکی پرسنیلٹی سے بھی
” ہالار….آ بھی جاؤ …دیر ہورہی ہے” ثمر چیخا
“آرہا ہوں…” ہالار آنکھوں پہ گلاسز چڑھا کے آگے بڑھ گیا تھا
نیہا اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی
“یہ ہالار جاذب تھا….تبھی مجھے اسکی آواز اتنی شناسا لگی”
نیہا بھی کبھی کبھی صرف مہرماہ کو تنگ کرنے کیلئے اسے سنتی تھی
” مہر ماہ….ماہ” نیہا اسکے پاس آئی تو اسکی سانس پھولی ہوئی تھی
“الہی….خیر کیا ہوا” مہرماہ پریشان ہوکے بولی تھی
” تمہیں پتہ ہے میں نے کسے دیکھا” .
” کسے…”
” میں نے ہالار کو دیکھا….ہالار جاذب کو”
” کیا….” مہرماہ ساکت رہ گئی تھی
” بکواس…. تمہیں کسے پتہ وہ ہالار تھا” مہرماہ نے پوچھا
“اسکے ساتھ کوئی تھا جسے اس نے پکارا تھا”
” ضروری ہے کہ وہ وہی ہالار ہو”
” ایک بات تم خود سوچو کتنے لوگ ہوں گے جن کا نام ہالار ہوگا اٹس رئیلی یونیک نیم انفیکٹ ہماری اپنی فیملی میں کتنے ہیں اس نام کے اور سب سے بڑی بات اسکی آواز سے میں واقف ہوں” نیہا کے دلائل بہت مضبوط تھے
“اچھا….” مہرماہ نے سر جھٹکا
“تم پوچھو گی نہیں کہ وہ کیسا دکھتا ہے”
” تم نے کیا پانچ منٹ میں اسکا پوسٹ مارٹم کرلیا”
” نہیں مگر یار اسکی پرسنیلٹی ….اف وہ تو کسی کراؤن پرنس کی طرح دکھتا ہے مہرماہ…ورنہ میں نے تو سوچا تھا کہ ہوگا کوئی گنجا موٹا جیسے ہوتے ہیں موسٹلی” نیہا اس سے متاثر ہوئی تھی
مہرماہ کو چپ لگ گئی تھی جو انس کے آنے پہ بھی نہیں ٹوٹی تھی
_____________________________________
“نیہا….نیہا” مہرماہ کو زندگی میں آج پہلی بار شدید غصہ آیا تھا اس پہ
” کیا ہوگیا” نیہا نے کہا
” یہ کیا بکواس ہے ….یہ کسی ریڈیو پروڈیوسر نے ماموں کو کال کی ہے ” مہرماہ بھڑک کے بولی
” یہ بکواس نہیں تمہارا آڈیشن ہے آرجے کیلئے ایف ایم پہ چار دن بعد” نیہا نے اطمینان سے بم پھوڑا تھا
مہرماہ اپنی جگہ پہ جھٹکا کھا کے رہ گئی تھی
________
جاری ہے
