Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode14

کہتے ہیں نا کہ کوئی ایک کسی ایک وقت میں کسی کے ایک لمحے میں اجنبی سے یوں آشنا بنتا ہے کہ ہمارا اور اس کا رشتہ بے نام مگر بے حد مضبوط ہوجاتا ہے …..لیکن پھر بھی وہ اجنبی رہتا ہے….مانوس اجنبی
ہالار جاذب…..مہر ماہ کیلئے مانوس اجنبی ہی رہا
یہ ان دنوں کی بات تھی جب سمعیہ اسے اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئی تھی ….مہر ماہ کی خاموش زندگی اب اور بھی خاموش ہوگئی تھی
سفیر صاحب کو ریڈیو سننا ہمیشہ سے پسند رہا تھا…..ٹی وی سے بھی زیادہ
انکی سہل اور پرسکون زندگی کا ساتھی
” مہری…یہاں آؤ”
سفیر صاحب نے اسے پکارا جو جھولے پہ اداس سی بیٹھی انہیں ہی دیکھ رہی تھی اور ہولے ہولے اپنے بیگ پہ ہاتھ پھیر رہی تھی یہ بیگ اسے آخری دفعہ سمعیہ نے لے کے دیا تھا…..سمعیہ کی نشانی….اس وقت وہ سب بچے سفیر صاحب سے پڑھتے تھے انس اور نیہا کا جھگڑا ہوچکا تھا اور انس اب ازالے کے طور پہ اسے چاکلیٹ دلانے کیلئے گیا تھا ہمیشہ کی طرح مہرماہ کو بھی اس نے آفر کیا تھا
مگر مہر ماہ نے منع کردیا تھا اس کا دل ہی نہیں کررہا تھا
” جی ماموں….”
مہرماہ انکے پاس کرسی پہ ہی بیٹھ گئی تھی
سفید فراک میں اسکے گال کا ڈمپل بھی اداس تھا
” اتنی خاموش کیوں رہتی ہو بیٹا….ہنسا بولا کرو نیہا کی طرح”
“میں نیہا کی طرح نہیں ہوں….ماموں…”
مہر ماہ نے دکھ سے پوچھا مگر کہا نہیں ہمارے غم ہمیں وقت سے پہلے ہی بڑا کردیتے ہیں
” مہری ….یہ سنو..”
سفیر صاحب نے ریڈیو کی طرف اشارہ کیا تھا
اس وقت کوئی بچوں کا پروگرام چل رہا تھا
” اس مدرز ڈے پہ ہمارے ایک ساتھی کے خوبصورت خیالات ….ماں کے نام…ہالار جاذب کی آواز میں”
یہ پہلا تعارف تھا مہرماہ کا اس سے
” ماں سوچوں تو ایک عظیم جذبہ….محسوس کروں تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا….بولوں تو شہد سے بھی میٹھا….ایسا ہے ماں کا رشتہ …ماں ایسا احساس جو گھر میں نہ ہو تو زندگی کا احساس ہی نہیں کوئی”
اور مہر ماہ اسکی اس بات پہ ایمان لے آئی تھی
” ماں ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے دنیا میں ہی جنت ہے…..ماں ایک عظیم ہستی ہمارے دکھ درد کی ساتھیوں….مگر میرے ساتھیوں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ازل سے ابد تک قائم اور دائم رہتی ہے وہ اس دنیا میں نہ بھی ہو مگر اپنی بیش بہا محبت اور احساسات ہمارے پاس چھوڑ جاتی ہے….تو اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپکی ماں نہیں تو آپکے پاس کچھ نہیں…تو ایسا کبھی نہ سوچیں ماں تو وہ عظیم ہستی ہے جو ہمیشہ آپکے ساتھ ہے آپکے پاس ہے…بس انہیں محسوس کرنے کی ضرورت ہے وہ آپکے ساتھ ہی تو ہیں آپ سےالگ ہو ہی نہیں سکتیں”
اور مہرماہ کے زخموں پہ مسیحائی کے پھائے پہلی بار کسی نے یوں رکھے تھے کہ اس کی تاثیر اسکی روح کی گہرائیوں میں اتر گئی تھی
ہالار جاذب سے اس دن جو تعارف ہو وہ ایک مانوس اجنبی رشتے میں ڈھل گیا تھا
مہرماہ کی تو پھر جیسے روٹین ہی بن گئی تھی وہ پروگرام ہر روز شام میں نشر ہوتا تھا مگر وہ انکے پڑھنے کا وقت تھا سو مہرماہ نے اپنے پڑھنے کے اوقات بدل دئیے تھے اب وہ جس وقت مامی انس اور نیہا کو اور اسے سلاتیں تھیں تب پڑھتی تھی اور جو سمجھ نہیں آتا وہ عالیہ سے پوچھ لیتی تھی یوں یہ مہرماہ کی کچی عمر میں اپنی دوپہر کی کچی نیند کی پہلی قربانی تھی
انس کو اعتراض ہوتا تھا کہ وہ انکے ساتھ
کیوں نہیں پڑھتی
جواب میں مہرماہ خاموشی سے اپنی سیاہ آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھتی تو انس خود بخود ہی ڈھیلا ہوجاتا تھا
مہرماہ نے اپنی ایک نئی دنیا بنا لی تھی جس میں میں وہ مطمئن تھی جہاں ستارے تھے تھے پھول تھے….اور ہالار جاذب کی روشن روشن باتیں
وہ مہرماہ کی نو عمری کا پہلا خواب تھا
پہلی بارش کی خواہش کی طرح تھا
کسی بن مانگی عقیدت بھری دعا کی طرح تھا
_____________________________________
وقت کے تھال میں سالوں کے سکے مزید کچھ گرے تھے نیہا اور مہرماہ دونوں میٹرک کے ایگزام دے کے فارغ ہوئیں تھی انس ائیر فورس کالج میں تھا
گھر میں اب صرف وہ دونوں ہوتیں تھیں اور عالیہ اور سفیر صاحب
عالیہ کی نگرانی میں مہرماہ اور نیہا نے گھر کے سارے کام سیکھ لئے تھے مگر سلائی کڑھائی سے نیہا کی جان جاتی تھی ….مہرماہ نے بہت دل لگا کے سلائی سیکھی تھی کیوں کہ یہ عالیہ کو پسند تھا اور اسکی زندگی میں کتنے کم لوگ تھے نا اسلئے وہ انہیں خوش دیکھنا چاہتی تھی
عالیہ نے کتنی بار برملا کہا تھا کہ نیہا سے زیادہ مہرماہ میری سنتی ہے …..میری پیاری بیٹی…عالیہ ایک نفیس مزاج کی خاتون تھیں وہ مہرماہ سے کبھی رقابت کا شکار نہیں ہوئیں تھیں
جبکہ نیہا نے اسی انسٹیوٹ میں اسکیچنگ اور ڈیزائن میپنگ کی کلاسز لیں تھی
اسے انس کو دیکھتے ہوئے انجینئر بننے کا جنون تھا
اس دن بھی جب وہ پیلے سورج کی حبس بھری دھوپ میں واپس گھر لوٹیں تھی جب ایک اور مصیبت ان پہ نازل ہوئیں تھیں عالیہ بہت بری طرح سے سیڑھیوں سے گریں تھیں گھر میں کوئی بھی نہ تھا مہرماہ اور نیہا بوکھلا گئیں تھیں ….نیہا نے بھاگ کے سفیر صاحب کو کالج کے نمبر پہ رنگ کیا تھا اور بلایا تھا سفیر صاحب ایمبولنس لے کے پہنچے تھے
بہت دیر ہوچکی تھی خون کافی بہہ چکا تھا اور چوٹیں شدید تھیں وہ بچ تو گئیں تھیں مگر چلنے پھرنے سے فی الحال معذور تھیں ڈاکٹرز نے کہا تھا ایکسرسائز اور میڈیسن سے وہ ریکور کرلیں گی
وہ سب اپنی جگہ پریشان تھے عالیہ گھر کا ایک اہم ستون تھیں اب وہ ایک جگہ کی ہوکے رہ گئیں تھیں سو صورت حال خاصی ابتر تھی
انس بھی گھر آگیا تھا مگر کب تک اس نے واپس جانا تھا اسی غم میں انکے میٹرک میں پاس ہونے کی خوشی بھی پھیکی پڑ گئی تھی
نیہا اور مہرماہ اپنی جگہ چپ تھے کہ اب کیا کریں کیوں کہ اگر وہ اب کالج جاتیں تو عالیہ اور گھر کو کون دیکھتا بھلے سے ملازم کے سر پہ بھی تو کوئی ہونا چاہئیے تھے نا
گھر کا نظام ہی ہل گیا تھا ایسے میں ہلچل نیہا کی خالہ کی آمد نے مچائی تھی
” سفیر بھائی اتنا پریشان کیوں ہوتے ہیں….نیہا ہے نا اب بچی تو رہی نہیں ہے خیر سے میٹرک کرچکی ہے اب سنبھالے سب….باقی تو پرایا دھن ہیں “
اشارہ مہرماہ کی طرف تھا عالیہ لاکھ اسکے ساتھ اچھی تھیں مگر عالیہ کے میکے والے اسکے ساتھ ایسے کبھی نہیں رہے تھے جیسے نیہا اور انس کے ساتھ تھے
نیہا کا منہ تو کھل ہی گیا تھا یہ باتیں سن کے مطلب اسکے خواب گئے بھاڑ میں
نیہا نے کچن میں آکے پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کردیا تھا …..مہرماہ جو سوپ بنا رہی تھی گھبراگئی تھی
” کیا ہوا ہے نیہا…..کیوں رو رہی ہو…مامی ٹھیک ہیں نا”
” سب ٹھیک ہے ….بس میری قسمت ہی خراب ہے سب گیا بھاڑ میں….میرے خواب میری خواہشیں….”
نیہا کا رونا ہی بند نہیں ہورہا تھا
” مجھے بتاؤ نیہا….ہوا کیا ہے….”
” خالہ نے کہا ہے کہ ابا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے….کیونکہ میں اب پڑھائی چھوڑ کے گھر سنبھالوں گی ….میں نیہا …اف خدایا….”
مہر ماہ اسکی بات سن کے کچھ سونے لگی تھی
نیہا کتنی جذباتی تھی ….مہر ماہ جانتی تھی
” تم کچھ نہیں چھوڑوگی نیہا….تم پڑھو گی …سارے خواب پورے ہوں گے تمہارے”
مہرماہ نے آنسو صاف کئے تھے اسکے
“مگر کیسے…..”
” میں ہوں گھر میں ویسے بھی میں پرائیوٹ پڑھوں گی تو میں مینج کرلوں گی… “
مہرماہ کے اندر کچھ زور سے ٹوٹا تھا ….اسکے بھی تو کچھ خواب تھے
کچھ خواہشیں تھیں….مگر مہرماہ نے اندر ہی اپنی ساری خواہشوں کا قبرستان بنا لیا تھا
” مگر تم …. نے کبھی بتایا نہیں ” نیہا حیران ہوئی تھی
” وہ میں نے سوچا تھا رزلٹ آنے کے بعد بتاؤں گی….تم فکر نہ کرو میں بات کرتی ہوں ماموں سے”
مہر ماہ اسے تسلی دے کے باہر نکل گئی تھی
” ماموں….نیہا کے ایڈمیشن کیلئے آپ نے کس کالج کا….”
” نیہا پرائیوٹ پڑھ لے گی”سفیر صاحب نے ٹی وی سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا
” آپ جانتے ہیں وہ انجینئرنگ کرنا چاہتی ہے….آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں….پرائیوٹ تو میں پڑھنا چاہتی ہوں …اور اگر آپ گھر اور مامی کیلئے پریشان ہے تو میں مینج کرلوں گی .
….لیکن نیہا کو مت روکیں..پلیز”
” تم ایسا اس لئے کہہ رہی ہو نا تاکہ نیہا کالج جا سکے….مہر ماہ وہ اسکی ماں ہے زیادہ حق اسکا ہے”
” مطلب میرا کوئی حق نہیں….کوئی فرض نہیں…وہ میری سگی ماں نہیں ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ میں کچھ نہیں کرسکتی….”
مہرماہ کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں
سفیر صاحب گھبرا گئے تھے
” نہیں مہری…..میرا یہ مطلب نہیں تھا ….کیا تم دل سے چاہتی ہو جو کہہ رہی ہو….”
” جی ماموں….”
دل میں جو قیامت کا عالم تھا اسے دبا کے اس نے کہا تھا
یوں مہرماہ نے گھر کے ابتر نظام کو سدھارنے کے ساتھ ساتھ وہ پڑھنے بھی لگی تھی عالیہ کی کئیر کرنا ….عالیہ کے دل میں اسکا مقام کچھ اور بڑھ گیا تھا
مہرماہ کی ساری زندگی ان لوگوں کو خوش کرنے میں ہی گزری تھی
بس
ایک ہالار جاذب تھا …..جس کو سننے پہ اسے دل نہیں مارنا پڑتا تھا
مگر وہ خوش تھی …..اپنی اس چھوٹی دنیا میں
_____________________________________
” ہالار….تم اور اس وقت …” مونا اسے دیکھ کے حیران ہوئیں تھیں
وہ کبھی بھی اس طرح بنا بتائے نہیں آتا تھا ….
” دادا کہاں ہیں…..” ہالار نے انکا سوال نظر انداز کرتے ہوئے کہا تھا
” وہ تو یہاں نہیں ہیں….”
” پھر …..”
” وہ ہمدان کے ساتھ لندن گئے ہیں چیک اپ کیلئے….دس پندرہ دن تو لگ ہی جائیں گے. “
مونا نے تفصیل.سے بتایا تھا
” اف…..”
ہالار پہ کوفت کا شدید دورہ پڑا تھا
وہ جس کام کو جتنا جلدی کرنا چاہ رہا تھا وہ اتنا ہی لیٹ ہورہا تھا
وہ انکا دیا ہوا کام کرچکا تھا اسکی تلاش ختم ہوگئی تھی
مگر یہ میر برفت بیٹھے بٹھائے لندن پہنچ گئے تھے
” ہالار….اب تم آگئے ہو تو سبین سے مل کے جانا…اب تم شادی کرلو”
” اماں پلیز….مجھے کسی سبین سے شادی نہیں کرنی….”
ہالار کوفت سے بولا تھا
“تو پھر کس سے کرن ہے….” مونا کے تیور تھیکے ہوئے تھے
“وہ میں دادا کو ہی بتاؤں گا….”
ہالار کا لہجہ ٹھوس تھا
” ہاں ایک تمہارا باپ اور دوسرا اسکا باپ وہی تمہارے سگے ہیں….میرا تو کوئی حق ہی نہیں تم پہ….” مونا غصے سے بولیں تھیں اور واک آؤٹ کرگئیں تھیں
ہالار جانتا تھا کہ اس وقت ان سے کچھ بھی کہنا بے کار ہے وہ سنیں گی ہی نہیں سبین کو وہ جانتا تھا اس سے شادی کا مطلب اس گھر میں ایک اور مونا کا اضافہ……
ابھی تو وہ اپنے باپ کے ناکردہ جرم کی تلافی کرنا چاہتا تھا ….
اسے آگاہی تب ہوئی تھی جب وہ انٹر کے بعد گھر آیا تھا میر برفت حسب معمول میر جاذب کو سنا رہے تھے
ہالار جو ان سے ملنے آرہا تھا اسے بہت برا لگا تھا
” اگر تم نے سمیہ کا ہمیں بتا دیا ہوتا تو ہم کونسا اسکے ساتھ کچھ غلط ہونے دیتے ….”
” آپ لوگوں کے ہوتے ہوئے جو سلوک اسکے ساتھ ہوا اسکا گواہ ہوں میں…..”
جاذب نے ناگواری سے کہا تھا
” کم ازکم ہماری بچی…ہماری پوتی تو ہماری نگاہوں کے سامنے رہتی نا”
” اوہ تو اصل فکر پوتی صاحبہ کی ہے….آپکو اسکی ماں کا کوئی احساس نہیں جو آپکی بہو بھی تھی ….”
میر جاذب کی بات پہ میر برفت کا بی پی ہائی ہوگیا تھا
ہالار نے آگے بڑھ کے انہیں سنبھالا تھا
” دادا…مجھے بتائیں آپ کس پوتی کی بات کررہے تھے “
” تم بھی آخر اپنے باپ کی اولاد ہو….ہمارا کسی کو کیا احساس ….”
میر برفت نے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا
” تمہارے باپ نے جو کیا میں اسکو کبھی معاف نہیں کروں گا….اسکی اس غلطی کیلئے تو کبھی نہیں”
” کیسی غلطی…کچھ بتائیں تو سہی”
ہالار الجھ گیا تھا
” سمعیہ یاد ہے تمہیں…”
” سیال چچا کی بیوی….”
ہالار کو وہ شفیق سے لڑکی یاد تھی بالکل ٹھنڈی چھاؤں جیسی
” ہاں…سیال نے اسے چھوڑ دیا تھا….اس سے ہماری ایک پوتی ہے…ہمارے خاندان کی اکلوتی لڑکی….جسے تمہارے باپ کی مدد سے سمعیہ نے دنیا کی بھیڑ میں غائب کردیا ہے”
میر برفت نے اسے سب بتا دیا تھا
” آپ بابا کو اب سے کچھ نہیں کہیں گے….میں میر ہالار جاذب وعدہ کرتا ہوں
..کہ آپکی پوتی آپکو واپس لا کے دوں گا …یہ ایک میر کا وعدہ ہے”
ہالار سے باپ کی بے عزتی برداشت نہیں ہوئی تھی وہ باپ سے بہت اٹیچ تھا اس لئے وعدہ کر بیٹھا تھا
جس میں آج سرخرو ہوا تھا ….
مگر
اب اسے کچھ دن اور انتظار کرنا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *