Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03

Bin Kahay Sunu O Yara by Farhat Nishat Mustafa Episode03

سفیر ہاؤس میں صبح روایتی انداز میں ہی ہوتی تھی مگر وہ روایتی گھروں والا شور شرابا نہ ہوتا تھا جو عام گھرانوں کا خاصہ تھا …یہاں صبح پرسکون انداز میں انگڑائیاں لیتی ہوئی بیدار ہوتی تھی
فجر کی نماز کے بعد سفیر صاحب اور عالیہ بیگم واک پہ نکل جاتے اور نیہا جھومتی ہوئی دوبارہ بستر پہ گرجاتی پڑھائی کی وجہ سے وہ رات کو دیر سے سوتی تھی ….انس کچھ دیر بعد واک کیلئے نکلتا تھا
اور مہر ماہ اپنے گوشہ عافیت یعنی ٹیرس پہ پائی جاتی تھی بالکونی کی ریلنگ پہ دونوں کہنیوں ٹکائے وہ بند آنکھوں سے دھیرے دھیرے ورد کیے جاتی پھر ٹیرس پہ موجود پودوں اور پھولوں کو پانی دینے کے بعد وہ رزق کی تلاش میں نکلے پرندوں کو دانہ ڈالتی تھی …ان پرندوں سے اسکی برسوں سے شناسائی تھی پہلے یہ کام سفیر صاحب کرتے تھے مگر اب کچھ عرصے سے یہ کام مکمل طور پہ مہرماہ نے سنبھال رکھا تھا ….ٹیرس پہ سے کام ختم ہوجانے کے بعد وہ لان میں آجاتی تھی وہاں موجود پودوں کو پانی دینا پیلے ہوچکے پتے الگ کرتی گو کہ یہ لان سفیر اور انس کی محنت کا منہ بولتا ثبوت تھا مگر مہرماہ کا بھی اس میں چھوٹا سا حصہ تھا
لان کی اوس میں بھیگی نرم سبز گھاس پہ چلنا مہرماہ کو شروع سے ہی پسند رہا تھا
آج بھی مہرماہ فجر کی نماز کے بعد بالکونی میں چلی آئی تھی پرندوں کو دانہ ڈالتے ہوئے اسکے لبوں پہ نرم سی مسکان آئی تھی ….پرندوں میں کبوتر ذیادہ ہوتے تھے مہرماہ کو سفید کبوتروں کی جوڑی بہت اچھی لگتی تھی جو نہ جانے کہاں سے ساتھ پرواز کرتے ہوئے اس کے آنگن میں اتر کے دانہ چگتے اور پھر ایک ساتھ رخت سفر باندھتے ….پرندے بھی جیسے اس سے مانوس ہوگئے تھے مہر ماہ سہولت سے انہیں اٹھا کے ہولے ہولے تھپکتی اور پھر دھیرے سے فضا میں بلند کردیتی آج بھی اسکے ہاتھ میں کبوتری تھی جب انس کی آمد ہوئی تھی
” ارے چھوٹی سی لڑکی…..جاگ گئیں” انس ٹریک سوٹ میں ملبوس جاگنگ پہ جانے کو تیار تھا
” جی ….کب سے” مہرماہ نے دھیرے سے کبوتری کے پروں کو چھوا اور مٹھی میں موجود دانہ آگے ڈالا
” نیہا ….سورہی ہے”
انس نے بھی کچھ دانے ہاتھ میں لے کے ڈالے تھے
” جی..”
” ابھی تک….”
” رات کو دیر تک پڑھتی جو ہے….”
” آئی ایم شور مہرماہ….رات کو تو اس نے ایک لفظ بھی نہیں پڑھا ہوگا…سنڈے کی وجہ سے یقینا کسی مووی کے چکر میں جاگی ہوگی”
” تو کیا ہوا انس بھائی….اسے بھی ریلیکس ہونے کیلئے کچھ ریلیف چاہئیے ہوتا ہے”
مہرماہ ہمیشہ اسکی طرفداری کرتی تھی
“اوہ اچھی لڑکی…ایک تو تم ہر کسی کو بچالیتی ہو”
انس نے مسکرا کے اسے دیکھا تھا …سفید چادر کے ہالے میں جگمگاتے چہرے کے ساتھ وہ لڑکی بہت خاص تھی …دل کے بہت پاس….جن کے دل صاف ہوں وہ ہمیشہ دل کے اونچے ایوانوں میں رہتے ہیں اور مہرماہ سیال تو نیک طینیت لڑکی تھی
” انس….میں کسی کو بچاتی نہیں ہوں بس جو سچ ہوتا ہے وہی کہہ دیتی ہوں…بات کو موڑ توڑ کے پیش کرنے سے اسکا اصل مطلب اور رنگ دھندلا جاتا ہے” مہرماہ نے کبوتری کو چھوڑ دیا تھا کبوتری نے مہرماہ کے سر کے اوپر سے ایک گول سا چکر کاٹا اور پھر نیچے آکے دوبارہ دانہ چگنے لگی
” یہ اتنی اچھی باتیں کرنا تم نے کس سے سیکھیں ….مہرماہ”
انس جب بہت موڈ میں ہوتا تو اسے پورے نام سے پکارتا تھا ورنہ چھوٹی اور اچھی لڑکی سے ہی کام چلاتا تھا
” ہالار جاذب سے….” مہرماہ کے دل سے ایک سرگوشی بلند ہوئی جسے مہرماہ نے صدا نہیں بننے دیا
“آپ خود اچھے ہیں انس بھائی ….اس لئے میری باتیں آپ کو اچھی لگ رہی ہیں پھر صبح کا یہ منظر اتنا پرتاثیر ہوتا ہے کہ سب اچھا لگنے لگتا ہے”
مہرماہ نے بالکونی سے نیچے جھانکتے ہوئے کہا
” سو تو ہے….واک پہ چلوگی تاکہ صبح کی سیر کا بھرپور مزہ لیں” انس نے آفر کی
“میں اپنا یہ شوق لان میں پورا کرلوں گی….ہاں آپکے ساتھ نیچے تک چل سکتی ہوں”
مہر ماہ کا کام بالکونی میں ختم ہوچکا تھا سو اب وہ لان میں جارہی تھی
“لگتا ہے نیہا نے آج پھر لمبی چوڑی فرمائش کی ہے ناشتے کیلئے”
انس کی بات پہ مہرماہ نے صرف سرہلایا تھا
” حالانکہ اسے تمہیں ریسٹ دینا چاہئیے ایک دن کا….ناشتہ تو وہ بنا ہی سکتی ہے” انس کو ناگوار گزرا تھا
” کچھ نہیں ہوتا انس بھائی….وہ ابھی پڑھائی میں بزی ہے….آپکو پتہ تو ہے انجینئرنگ کررہی ہے”
” اماں ٹھیک کہتی ہیں اسے کام چور بنا دیا ہے تم نے”
” ایسا تو مت کہیں اور اب آپ باہر جارہے ہیں….سو موڈ اچھا کریں ورنہ سارا دن بکواس ہوجائے گا ….لوگ کیا کہیں گے کہ انس میاں بیگم سے لڑکے آئیں ہیں”
” مگر میری تو بیگم ہی نہیں کوئی”
” تو پھر ایسا پوز بھی نہ بنائیں”
” ویسے آئی ایم شیور….کہ میری بیوی مجھ سے کبھی نہیں لڑے گی…وہ بالکل بہتے پانیوں جیسی پرسکون ہوگی”
انس کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ مہرماہ اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی
یہ انس بھائی کیسی باتیں کررہے ہیں….مہرماہ کو انس کی آنکھوں میں آج کچھ اور ہی رنگ دکھے تھے
ایک کانٹا بہت زور سے مہرماہ کے ہاتھ میں چبھا تھا پھولوں کی نرماہٹ محسوس کرتے ….اور شاید دل میں بھی
_____________________________________
” اف…بھائی بس اب اور نہیں….اسٹاپ ” ثمر پھولی سانسوں سے بولا اور دھپ سے گھاس پہ بیٹھ گیا تھا
” نو وے…ثمر اسٹینڈ اپ ابھی یہ راؤنڈ پورا نہیں ہوا ….اسے فنش کرو…یوں بیچ راہ میں چھوڑنا اچھی بات نہیں” ہالار نے رفتار دھیمی کرتے ہوئے کہا مگر رکا نہیں تھا
” اوہ میرے بھائی بس کردے…یہ دیکھ ہم پارک میں کھڑے ہیں ریڈیو اسٹیشن پہ نہیں بیٹھے….اور میں تیرا لسنر نہیں تیرا کزن ہوں….جسے کے سر سے یہ موٹی موٹی باتیں یوں گزرتی ہیں” ثمر نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا..
” موٹی عقل میں کہاں سے آئیں گی یہ باتیں….فضول بکواس کرکے اصل معاملہ گول نہ کرو اور راؤنڈ پورا کرو” ہالار نے درخت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
” مجھ میں ہمت نہیں ہے اب اور….تو تھکتا نہیں ہے یار اتنا چل چل کے”
” میر ثمر….شرافت سے اٹھ جاؤ یہ لڑکیوں کی طرح نخرے نہ دکھاؤ…اور اگر کیڈٹ کالج یوں بیچ میں نہ چھوڑا ہوتا تو یوں آدھے راستے میں ڈھیر کبھی نہ ہوتے” ہالار نے اسے گھورا
“اف سبحان اللّه…. لڑکیوں کا نام وہ بھی میر ہالار جاذب کی ذبان پہ وہ بھی صبح صبح….خیر تو ہے…اور یار کیڈٹ کالج بھی اسی لئے چھوڑا تھا کہ صبح صبح آکے وہ سر پہ سوار ہوجاتے تھے ” ثمر پہ ایک زمانے میں کیڈٹ کالج کا بھوت سوار ہوا تھا
“شٹ اپ…کیوں مجھ پہ پابندی ہے لڑکیوں کا نام لینے پہ”
” ظاہر ہے تم نے آج تک کسی لڑکی سے سیدھے منہ بات کی ہے”
” تم بھول رہے ہو میری پروگرام منیجر ایک خاتون ہی ہیں …اور میری والدہ بھی اس صنف سے تعلق رکھتیں ہیں”
” واو…مسٹر ہالار ایسی سڑی ہوئی مثالیں اپنے پاس رکھو…ماں سے محبت تمہارے لہو میں ہے اور اپنی پی.ایم سے خوش خلقی سے پیش آنا تمہارے پیشے کی مجبوری….قسمے میرا دل کرتا ہے تجھے اپنی کسی لسنر سے دھواں دار عشق ہوجائے…اف کیا سماں ہوگا”
” ثمر اپنی بکواس بند کرو….اور اب اٹھ جاؤ ورنہ میں دادا سے تمہاری شکایت کردوں گا …اور لاسٹ ڈے تم شکار پہ نہ جانے کیلئے جو ڈرامہ کررہے تھے وہ بھی بتاؤں گا”
ہالار نے اسے دھمکی لگائی تھی جو خاطر خواہ اثر کرگئی تھی
” اف ہالار…اللّه پوچھے….تجھے تو نہ کسی ساس بہو والے ڈرامے میں ہونا چاہئیے ” ثمر کھڑا ہوتے ہوئے بولا
” ویسے ہالار….ایک بات بتاؤ ….تمہیں کیسے لڑکی پسند ہے”
ثمر کے سوال پہ ہالار کے دوڑتے قدم کچھ تھمے
” نہ آج تم چاہتے کیا ہو ….کیا گھر پٹ کے جانا ہے تو بتا دو ….بچپن کی طرح ایسی پٹائی کروں گا یاد کروگے”
” یاد ہالار ایک بات ہی تو پوچھی تھی…”
” وہ بھی بیکار”
“بندے کو اتنا بھی مسٹیریس نہیں ہونا چاہئیے کہ اگلے بندے کو لگے کہ وہ اسکی پہنچ سے دور ہے جیسے چاند ایک دنیا اس پہ فدا ہے مگر چاند کو پانے کی تمنا کوئی نہیں کرتا کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری دسترس سے باہر…ہماری پہنچ سے دور ہے…ہالار مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کسی دن تم کچھ ایسا اسی عادت کی وجہ سے کھو دو گے جو تمہیں بے حد عزیز ہے”
ثمر یک دم ہی سنجیدہ ہوا تھا ہالار پورے کا پورا اسکی طرف گھوم گیا
نیوی بلیو ٹریک سوٹ میں اسکی سرخ و سپید رنگت پہ پسینہ چمک رہا تھا
” واہ…ثمر تم تو بہت اچھا بولتے ہو….بٹ یہ مسٹری نہیں میری عادت ہے اور رہ گئی بات لڑکی اور شادی کی تو سب ہوجاتا ہے یہ سب زندگی کا حصہ ہے اسے سر پہ سوار نہیں کرنا چاہئیے ورنہ انسان بہت خوار ہوتا ہے”
ہالار نے اسکا شانہ تھپکتے ہوئے کہا ثمر چپ چاپ آگے بڑھ گیا تھا ہالار سے کچھ اور کہنا بیکار تھا
_____________________________________
“واو….ماہ خوشبو تو بہت مزے کی آرہی ہے کیا کیا بنا لیا” نیہا کرسی گھسیٹ کے بیٹھتے ہوئے بولی تھی
” دوسروں کے ہاتھ کے پکے ہوئے کب تک کھاؤگی…کبھی خود بھی ہاتھ ہلا لیا کرو” انس ابھی جاگنگ سے واپس آیا تھا اور اخبار بینی کے ساتھ جوس بھی پی رہا تھا
” اوہ بھائی…اچھا ہوا تم خود ہی شروع ہوگئے ..یہ کھانے کو تم چھوڑو تم نے کل میرا فون کیوں نہیں اٹھایا” نیہا کو انس کی شکل دیکھ کے کل والی بات یاد آئی تھی
” محترمہ وہ کل نہیں جمعہ تھا”
انس نے تصیح کی
” وہی کیا فرق پڑتا ہے…تم بتاؤ میرا فون کیوں نہیں اٹھایا”
“میں میٹنگ میں تھا”
” واہ آگ نہ لگی آپکی میٹنگ کو”
نیہا جل کے بولی ایک میٹنگ کی وجہ سے انس نے اسکی کال پک نہیں کی
” لگ جاتی آگ….اگر تمہاری کال پک کرلیتا ” انس کی بات پہ مہرماہ کے لبوں پہ بھی ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی
” توبہ بھائی…تم بہت برے ہو”
” نیہا یہ کیا بدتمیزی ہے بھائی سے کوئی ایسے بات کرتا ہے” عالیہ بیگم نے اسے ڈانٹا
” اماں کیا ہے…ہفتے میں ایک دن تو بھائی دیکھنے کو ملتا ہے” “
” اور اس میں بھی تم لڑنا شروع کردیتی ہو” عالیہ بیگم نے کہا
” اماں… غلطی بھائی کی ہے”
” میری کیا غلطی ہے میں فارغ تو نہیں بیٹھا ہوتا کہ محترمہ کے فون کا انتظار کروں”
” یہی جواب اپنی بیوی کو دینا پھر پوچھوں گی”
” میری بیوی تمہاری طرح ایف سولہ نہیں ہوگی”
” اچھا تمہیں بڑا پتہ ہے ….اس کا مطلب ہے بھائی تم نے کوئی تاڑ رکھی ہے”
نیہا کی بات پہ مہرماہ کے ہاتھ سے چینک چھوٹتے چھوٹتے بچی
” نیہا….بس کردو اٹھو چلو ماموں بھی آگئے ہیں….ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے” مہرماہ نے کہا
” ارے ماہ….رکو تو سہی بھائی کی لائف میں ہے کوئی مجھے پوچھنے دو “
” نیہا….رائی کا پہاڑ بنانا کوئی تم سے سیکھے چپ چاپ ناشتے کی ٹیبل پہ جاؤ اور آج دوپہر کا کھانا تم بناؤگی” انس کچھ سختی سے بولا تھا
” کیوں اسپتال جانے کا بہت دل کررہا ہے”
نیہا کو کرنٹ لگا تھا یہ بات سن کے
” نیہا….” سفیر صاحب نے اسے آواز دی تو وہ فورا بھاگی تھی انکی طرف
عالیہ بیگم.سر پیٹ کے رہ گئیں تھی خدا نے نہ جانے کیا نمونہ دیا تھا انہیں ….یہ مہرماہ بھی تو تھی نا
اسیے سلجھی ہوئی ٹھنڈی مزاج کی بچی
_____________________________________
” تمہیں کسیی لڑکی پسند ہے ہالار”
شام کی تنہائیوں میں ہالار کے ذہن کے دریچوں سے اس سوال نے جھانکا تھا
” لڑکی….مطلب اسکی شریک حیات…اسکی زندگی میں صرف اس صورت میں لڑکی کی گنجائش تھی….”
ایک موم کی گڑیا ہے
ایک پریم کہانی ہے
ایک شاخ ہے نازک سی
کلیوں کی جوانی ہے
وہ پھول کی تتلی ہے
شعلہ ہے کہ پانی ہے
ایک موم کی گڑیا ہے
ایک پریم کہانی ہے
ہالار نے دھیرے اپنی پسندیدہ نظم کے کچھ مصرعے دہرائے
اسکے تخیل میں آج تک اس خیال.کو مجسم کسی دلربا کی صورت نہیں ملی تھی
ہالار جاذب کو پراعتماد اور مہذب لڑکیاں پسند تھیں اور ایسی بہت سی تھیں بھی اسکے اردگرد مگر وہ ایک جس کیلئے دل اور دماغ دونوں متفق ہوں ہالار کو ایسی آج تک نہیں ملی تھی
” ہالار….” میر برفت کی آواز پہ اسکے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا تھا
” دادا آپ ….مجھے بلا لیتے” ہالار کھڑا ہوا
“بیٹھ جاؤ…ویسے بھی ہمارا کچھ پڑھنے کو دل کررہا تھا اور پھر تم سے ملنا بھی ضروری تھا…کل جارہے ہو”
” جی…انشاء اللّه ارادہ تو ہے “
” ہمارا کام تو یاد ہے نا”
” میں وہ کیسے بھول سکتا ہوں….مگر کچھ وقت چاہئیے دادا”
” آخر کتنا وقت چاہئیے تمہیں ہالار…اپنی آن بان کی پروا نہ ہوتی تو ہم سارے زمانے میں اشتہار لگا دیتے”
میر برفت تلخ سے ہوگئے تھے
“پلیز دادا …یہ سب اتنا آسان نہیں ہے ہمیں ہر قدم اپنے نام کی وجہ سے بہت احتیاط سے اٹھانا ہے ورنہ سارا زمانہ ہم پہ ہنسے گا”
ہالار کی بات پہ میر برفت کچھ ڈھیلے پڑے تھے زمانہ ان کیلئے بہت اہمیت رکھتا تھا اور ہالار اس سے واقف تھا
“دادا یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ پاکستان لوٹے ہی نہ ہو …نہ کینیڈا گئے ہوں…یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ کسی اور ملک میں ہوں”
ہالار نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
” وہ کہیں بھی ہوں ہالار تمہیں نے انہیں ڈھونڈنا ہے کیوں کہ تمہارے باپ کی غلطی کی وجہ سے وہ ہماری دسترس سے نکل چکے ہیں…. تمہیں انہیں ڈھونڈنا چاہئیے ساری دنیا کی خاک چھانو…مگر میرا دل کہتا ہے وہ وہیں کراچی میں ہیں اور شاید باہر کبھی گئے ہی نہیں”
میر برفت کی بات پہ ہالار یک دم ہی متضاد کیفیات کا شکار ہوا تھا باپ کے کئے کا بھگتان اسے بھرنا تھا اور دادا نے باپ کے جرم کی سزا اسے دی تھی اس پہ غصہ بھی تھا
” آپ کو شکایت نہیں ہوگا ….دادا…میں چلتا ہوں اب”
ہالار کیلئے جب مزید برداشت کرنا مشکل ہوا تو اٹھ کھڑا ہوا
“جاؤ بچے…فی امان اللّه”
” فی امان اللّه “
ہالار نے بھی جوابا کہا تھا حالات جیسے بھی ہوں اخلاقیات پہ عمل کرنا بہرحال ضروری ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *